Tujh Ko Parai Kiya Pari | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1606
صائمہ اور آئمہ دونوں بہنیں خوبصورت تھیں۔ فیشن کی دل دادہ، روز نِت نئے لباس میں گھر سے نکلتیں۔ اسی وجہ سے محلّے کے آوارہ لڑکے ان پر بُری نظریں جمانے لگے۔ انکل رحمت مدت سے ہمارے پڑوس میں رہ رہے تھے۔ صائمہ اور آئمہ سے میری دوستی بھی اتنی ہی پرانی تھی جتنی ہماری عمریں تھیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہم ان لوگوں سے کہیں زیادہ خوشحال تھے مگر اپنے آپے میں تھے جبکہ مالی حالات مخدوش ہوتے ہوئے بھی یہ لڑکیاں آپے سے باہر ہوئی جاتی تھیں۔ والدہ میرا ان کے گھر آنا جانا ناپسند کرنے لگی تھیں۔ صائمہ اور آئمہ مجھ سے ملنے آتیں تو والدہ ان کے ساتھ پہلے کی طرح خوش دلی سے کلام نہ کرتیں۔
ایک روز میں نے امّی کو سمجھایا۔ امّی جان زمانہ بدل گیا ہے اور آپ پرانے وقتوں کی ریتوں کو لیے بیٹھی ہیں۔ فیشن بدلتا رہتا ہے۔ فیشن کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ہر انسان کا حق ہے کہ اپنی پسند کا لباس پہنے۔ نئے زمانے کے مطابق لڑکیوں کے پہناوے بھی نئے ہو جاتے ہیں۔ صائمہ اور آئمہ کی جدت پسندی پر برا نہ مانا کریں۔ پھر لباس کی جدت سے کچھ فرق نہیں پڑتا، کردار کے لحاظ سے تو یہ بُری نہیں ہیں۔
یہ بات درست ہے بیٹی لیکن تب وہ باشعور نہ تھیں۔ اب بڑی ہو گئی ہیں اور محلّے میں ہر قماش کے لڑکے ہوتے ہیں اگر یہ بڑا سا دوپٹہ لے کر اپنا سر ڈھانپ کر باہر نہیں نکلیں گی، بال کھلے ہوں گے، میک اَپ ہو گا تو یہ نوجوان لڑکیوں سے راہ و رسم بڑھانے کی خاطر ہر حربہ آزمائیں گے۔ بیٹی لڑکیوں کے اطوار درست ہوں۔ وہ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں اور نکلیں تو خود کو ڈھانپ کر نکلیں تو اسی میں ان کی عافیت اور خاندان کی بھلائی ہوتی ہے۔ مجھے اس سے مطلب نہیں کہ وہ کیا انداز اپناتی ہیں، مجھے فکر تمہاری ہے۔
میں امّی کی بات سمجھ گئی، ان لوگوں سے ملنے اور ان کے گھر آنے جانے سے گریزاں ہو گئی۔ جب انہوں نے مجھے گریزاں دیکھا تو وہ بھی ہمارے گھر آنے سے کترانے لگیں۔ میرا ایک بھائی تھا۔ وہ مجھ سے تین سال بڑا تھا۔ انٹر کے بعد ماموں کے پاس پڑھنے چلا گیا تھا کیونکہ ہمارے شہر میں کوئی اچھا کالج نہیں تھا۔ جب وہ تعلیم مکمل کر کے لوٹا تو ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔ کبھی فارغ ہوتا تو محلّے کے لڑکوں کے پاس گپ شپ کرنے چلا جاتا کیونکہ ان میں سے اکثر اس کے بچپن کے ساتھی تھے۔
ایک شام وہ دوستوں سے مل کر آیا تو کچھ رنجیدہ سا تھا۔ میں نے پوچھا۔ کلیم بھائی! کیا بات ہے۔ کیا کسی سے لڑائی ہو گئی ہے۔ کہنے لگا۔ نہیں نصرت! یہ بات نہیں ہے۔ پھر کیا بات ہے، بتائیں تو سہی۔ آئمہ اور صائمہ کی بات ہے، اس نے جھجھکتے ہوئے کہا۔ کیا ہوا ہے انہیں۔ لڑکے ان کے بارے میں غلط باتیں کرتے اور بری سوچ رکھتے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر مجھے دکھ ہوتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ امّی سے کہوں کہ ان کی والدہ کو بتا دیں۔ ایسا نہ ہو کسی دن یہ آوارہ مزاج لڑکے ان کی بچیوں کو نقصان پہنچا دیں۔ بات میرے دل کو لگی، کیونکہ میری دوستی رہ چکی تھی۔ وہ بُری لڑکیاں ہرگز نہ تھیں بس تھوڑی سی آزاد خیال ضرور تھیں۔ ٹھیک ہے میں کسی طرح انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔
اتفاق کہ اس بات کو ہوئے دو دن گزرے تھے کہ آئمہ اور صائمہ ہمارے گھر آ گئیں۔ کافی عرصے بعد آئی تھیں۔ امّی جان سو رہی تھیں۔ مجھے ان سے باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ شکوہ کیا کہ تم لوگوں نے تو بالکل آنا جانا ترک کر دیا ہے۔ کہنے لگیں۔ ہم بیوٹی پارلر کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس لیے بیوٹیشن کا کورس کرنے جاتی ہیں۔ اس لیے وقت نہیں ملتا۔ امّی نے آج نیاز دلوائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جا کر دے آئو۔ وہ زردہ لے کر آئی تھیں۔ میں نے پلیٹ خالی کر کے دے دی اور کہا۔ تم لوگوں سے ملنے کا سوچ رہی تھی۔ اچھا ہوا آج وہ بات کہنے کا موقع مل گیا جو کہنا چاہ رہی تھی۔ ہاں کہو۔ وہ ہمہ تن گوش ہو گئیں۔ تمہیں پتا ہے کہ کلیم، ماموں کے گھر پڑھنے گیا ہوا تھا۔ اب تعلیم مکمل کر لی ہے۔ آج کل فارغ ہوتا ہے تو محلّے کے پرانے دوستوں کے پاس چلا جاتا ہے۔ وہاں تم دونوں بہنوں کے بارے میں لڑکوں سے کچھ غلط قسم کی باتیں سن کر آیا تو پریشان تھا۔ مجھ سے کہا کہ تم جا کر صائمہ اور آئمہ کو بتا دو کہ کچھ برے لڑکے ان کے بارے بُری سوچ رکھتے ہیں اور بدنام کرنے کے لیے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ انہیں باخبر کر دو کہ محتاط رہیں۔ کوئی خط وغیرہ لکھے تو ہرگز جواب نہ دیں اور اگر روز گھر سے نکلنا ضروری ہے تو سادہ لباس میں بڑا دوپٹہ لے کر نکلا کریں بغیر میک اَپ کے۔ یہ لڑکے اسی وجہ سے انہیں غلط نظروں سے تکتے ہیں۔
میری بات سن کر پریشان ہونے کی بجائے صائمہ اور آئمہ کو ہنسی آگئی۔ کہنے لگیں۔واہ کیا بات ہے۔ ہم کوئی مٹی کا مادھو ہیں یا ہمارے پیروں میں جوتے نہیں ہوتے۔ کوئی غلط حرکت کر کے تو دیکھے۔ سر راہ سینڈل سے ٹھکائی نہ کی تو ہمارا نام نہیں۔ ہم کیوں میک اَپ نہ کریں اور نت نئے انداز کے بال نہ بنائیں۔ ہم اسی کا تو کورس کر رہے ہیں۔ میں صائمہ کا میک اَپ کرتی ہوں اور بال بناتی ہوں اور وہ میرا۔ بیوٹی پارلر میں ہماری ٹرینر ہمیں سکھاتی ہیں۔ ہم روز ماڈل کہاں سے لائیں۔ ایک دوسرے پر تجربہ کر کے سیکھتے ہیں۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن لڑکوں نے ضرور کچھ ایسی باتیں کی ہیں جو کلیم بھائی نے پریشان ہو کر مجھے آگاہ کیا ہے، ورنہ وہ کیوں کہتے کہ تم لوگوں کو ہوشیار کر دوں۔ ہم پہلے ہی کافی ہوشیار ہیں، تم فکر مت کرو۔ انہوں نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور چلی گئیں۔ میں سمجھ رہی تھی کہ وہ اس بات کا خاطر خواہ اثر لیں گی مگر انہیں قطعاً پروا نہ ہوئی۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم ان کی فکر میں گھلنا چھوڑ دو۔ ہمیں کیا پڑی ہے پرائی آگ میں جلیں، وہ جانیں ان کا کام جانے۔ گھر میں ان کا بڑا بھائی ہے۔ ان کے والد بھی موجود ہیں۔ جب وہی منع نہیں کرتے ہم منع کرنے والے کون؟ کلیم میری بات سن کر خاموش ہو رہا۔
جوں جوں وقت گزرنے لگا… صائمہ اور آئمہ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا گیا، کیونکہ انہوں نے بیوٹیشن کا کورس مکمل کر لیا تھا اور ایک بیوٹی پارلر میں جاب کرنے لگی تھیں۔ وہ شوخ و شنگ رنگوں کے کپڑے پہن کر نکلتیں۔ بالوں کی تراش خراش دل موہ لینے والی ہوتی۔ محلّے کے آوارہ لڑکے ان کے بارے میں نہایت بے ہودہ کلمات کہتے اور کلیم بھائی مفت میں اپنا خون جلاتے رہتے۔
ایک روز پارک میں بیٹھنے والے ان لڑکوں نے آئمہ اور صائمہ کے بارے میں نہ جانے کیا منصوبہ بنایا کہ کلیم بھائی سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے اپنی طرف سے خط میں کچھ لکھ کر گلی سے گزرتی صائمہ کو دے دیا کہ وہ اس منصوبے سے آگاہ ہو کر ہوشیار ہو جائیں۔ اس بار انہوں نے مجھے بھی آگاہ نہ کیا۔ کہیں میں منع نہ کر دوں کہ اس معاملے میں نہ پڑیں۔ اگلے دن صائمہ ہمارے گھر آئی اور مجھے ایک لفافہ دے کر چلی گئی۔ لکھا تھا۔ کلیم صاحب! میں آپ کو شریف اور سیدھا سادہ سمجھتی تھی لیکن آپ تو چھپے رستم نکلے۔ مگر آپ کا بھی کچھ قصور نہیں۔ یہ سب آپ کے انہی آوارہ دوستوں کا پڑھایا ہوا سبق ہے جن کے پاس بیٹھ کر آپ ہمارے بارے میں باتیں سنتے ہیں۔
خط پڑھ کر مجھے غصّہ آیا۔ انہوں نے میرے نیک نیت بھائی پر الزام لگا دیا تھا حالانکہ انہوں نے انہیں بدنامی سے بچانے کی خاطر محتاط رہنے کی ہدایت کی تھی۔ بہرحال خط میں نے کلیم کو دیا تاکہ آئندہ وہ خود محتاط ہو جائیں اور ایسے خط دوبارہ کسی کو نہ لکھیں۔
اگلی صبح، ان کا بھائی احمر جو اپنے چچا کے گھر دوسرے شہر گیا ہوا تھا، پارک میں ان اوباش قسم کے لڑکوں کے درمیان بیٹھا نظر آیا۔ کلیم بھائی پڑوسی ہونے کے ناتے احمر سے سلام دعا رکھتے تھے۔ آج بھی قریب جاکر سلام کیا تو اس نے بے دلی سے جواب دیا۔ جس پر کلیم کو حیرت ہوئی کہ اسے کیا ہوا ہے جو بے دلی سے بات کر رہا ہے۔ دوسرے روز بھائی کا ایک دوست شمس جو ہمارے محلّے میں رہتا تھا، کلیم کے پاس آیا۔ شمس نے بھائی سے پوچھا۔ کیا تم نے صائمہ کو کوئی خط لکھا تھا۔ کل احمر تمہارا لکھا ہوا خط لایا تھا اور اس نے مجھے دکھایا کہ دیکھو کلیم میری بہنوں کو خط لکھتا ہے۔ اسے سمجھائو۔ محلّے کی بات ہے ورنہ سب لڑکے مل کر اس کی ٹھکائی کر دیں گے۔
بھائی یہ سن کر حواس باختہ ہو گیا اور اس شام پارک نہ گیا۔ اگلے دن وہ ڈرتے ڈرتے گھر سے نکلا ہی تھا کہ احمر گلی میں مل گیا مگر اس نے بھائی سے کچھ نہ کہا تو کلیم نے شکر ادا کیا کہ بات غلط رخ میں نہیں گئی ہے ورنہ ضرور ان لڑکیوں کا بھائی اپنے غصّے کا اظہار کرتا۔ کلیم بھائی رات بھر نہ سوئے تاہم ان کا ضمیر مطمئن تھا کہ وہ بے گناہ تھے۔ کسی کی عزت کی خیر خواہی کے لیے یہ سب کیا تھا۔ ان لڑکوں کی الٹی سیدھی باتیں پڑوسی کی بچیوں کے بارے میں سن کر تکلیف پہنچی تو ان سے نہ رہا گیا اور انہیں آگاہ کرنے کے لیے خط لکھ دیا۔ مجھے خبر ہوتی تو کلیم بھائی کو اپنی تحریر دینے سے منع کرتی کہ بعض اوقات سادہ دلی بھی انسان کو پھنسا دیتی ہے۔
میں نے بھائی کو ہمت دلائی کہ احمر سے ڈرو مت۔ وہ ملے تو ساری بات بتا دینا۔ بھائی نے ایسا ہی کیا اور کہا آپ مجھ پر شک نہ کریں۔ آپ لوگوں کی عزت پر کوئی حرف نہ آ جائے۔ اس آگہی کی خاطر خط تحریر کیا تھا۔ اس نے کہا۔ میں تحریر کو پڑھ چکا ہوں۔ بے شک ایسی ہی بات ہے۔ تاہم یہ بات آپ کی والدہ، بہنوں کو کہنی چاہیے تھی یا آپ مجھ سے کہتے، یہ لکھ کر آئمہ، صائمہ کو دینے کی کیا ضرورت تھی۔ بہرحال آپ کا شکریہ۔ آئندہ کوئی ایسی بات سنی یا دیکھی تو میں خود ان لوگوں سے نمٹ لوں گا۔
اس واقعے کے بعد احمر اور کلیم میں دوستی ہو گئی اور عید سے ایک روز پہلے شام کو آئمہ، صائمہ بھی مجھ سے ملنے ہمارے گھر آگئیں۔ اس وقت میں کلیم کو پرچے پر عید کی خریداری کے لیے کچھ اشیاء لکھ کر دے رہی تھی۔ کلیم کو لڑکیوں نے سلام کیا۔ اس نے جواب دیا۔ مجھ سے فہرست لے کر اس پر ایک نظر ڈالی اور کہا۔ تم ایک اہم چیز لکھنا بھول گئی ہو۔ وہ کیا بھائی! ہمیشہ عید پر اپنے لیے چوڑیاں منگواتی ہو اس بار نہیں لکھیں۔ میرے پاس خاصے سیٹ جمع ہو گئے ہیں، ان میں سے کوئی پہن لوں گی۔ اس لیے نہیں لکھیں کہ ذرا بچت ہو جائے۔ اتنی بھی بچت نہ کرو۔ میں نیا سیٹ لے آئوں گا۔ میں نے آئمہ، صائمہ کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھیں۔ اچھا پھر لیتے آنا۔ اپنی دونوں سہیلیوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
کلیم بھائی سمجھے کہ چوڑیوں کا ذکر کر دیا ہے تو ان کے لیے بھی لانی پڑیں گی۔ وہ ایک نہیں تین سیٹ لے آئے۔ میں نے پوچھا یہ کیا۔ کہنے لگے۔ تم میری جانب دیکھ رہی تھیں، میں سمجھا کہ آئمہ، صائمہ کے سامنے ذکر کیا ہے تو ان کے لیے بھی لانی ہیں۔ ٹھیک ہے۔ لے آئے ہو تو اب میری طرف سے جا کر دے بھی آئو، کیونکہ کل عید ہے۔ بھائی نے چوڑیوں کا ڈبا اٹھایا اور پڑوسی کا در بجایا۔ صائمہ دروازے پر آگئی۔ بھائی نے اسے ڈبا تھما دیا۔ وہ فوراً ہی اندر چلی گئی۔ ذرا دیر گزری تھی کہ اس کا چھوٹا بھائی ہمارے گھر آیا اور اس نے ڈبا لا کر مجھے دیا۔ بولا۔باجی نے واپس کر دیا ہے۔ کہا ہے کہ ہمیں نہیں چاہئیں۔ مجھے بہت غصّہ آیا کہ سہیلیاں بھی بنتی ہیں اور عید کا تحفہ بھی واپس لوٹا دیا۔ مجھے توہین کا احساس ہوا اور دکھ سے آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
اگلے روز عید تھی۔ دوپہر کو خالہ جی سویاں لے کر آئیں تو میں نے رنجیدگی کا اظہار کیا۔ کہنے لگیں۔ کیوں خفا ہو…آپ کی بیٹیوں نے عید کا تحفہ واپس کر دیا۔ میں نے چوڑیاں بھجوائی تھیں۔ تم نے بھجوائی تھیں؟ مگر صائمہ نے تو کہا کہ کلیم نے یہ تحفہ دیا ہے۔ تب میں نے کہا کہ واپس کر دو۔ یہ بات ہے تو مجھے دو…میں جا کر دیتی ہوں اور اس کی غلط فہمی دور کرتی ہوں کہ چوڑیاں تم نے بھجوائی تھیں۔
خالہ جی جب میں کلیم کو بازار بھیج رہی تھی۔ چوڑیوں کا ذکر آپ کی بیٹیوں کے سامنے کیا تھا، تب ہی ان کے لیے بھی منگوا لیں۔ صائمہ کو کم از کم مجھ سے تو پوچھنا چاہیے تھا۔ ٹھیک ہے بیٹی! میں جا کر اسے ڈانٹتی ہوں۔ خالہ چوڑیوں کا ڈبا لے کر چلی گئیں۔ اس روز میں نے مان لیا کہ یہ لڑکیاں اس قدر سادہ و معصوم نہیں ہیں کہ جس قدر میں انہیں سمجھتی ہوں۔ انہیں زمانے کی ہوا لگ چکی تھی۔
شام کو احمر، بھائی سے عید ملنے آیا۔ گرم جوشی سے گلے ملا۔ بھائی نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور مجھے چائے بنانے کو کہا۔ احمر چپ چپ تھا۔ بھائی نے سوال کیا۔ دوست کچھ پریشان لگتے ہو۔ ہاں بہنوں کی وجہ سے پریشان ہوں۔ چاہتا ہوں جلد ان کے رشتے ہو جائیں لیکن اچھے رشتے مشکل سے ملتے ہیں، بڑا مسئلہ ہے۔ جس گھر میں لڑکیاں ہوں وہاں یہ مسئلہ تو ہوتا ہے۔ فکر نہ کرو اللہ بہتر کرے گا۔ فکر کیوں نہ کروں، میں فکر نہ کروں گا تو اور کون کرے گا۔ تلاش میں ہوں، کوئی تم جیسا لڑکا مل جائے۔ مجھ جیسا؟ کلیم بھائی سوچ میں پڑ گئے۔ہاں یار! تم دوست ہو اگر ہماری آپس میں رشتے داری بھی ہو جائے تو کیسا رہے گا۔ امّی سے تذکرہ کروں گا۔ صائمہ بڑی ہے پہلے اس کی فکر ہے۔ احمر نے اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔
کلیم بھائی اس دن سے گم صم رہنے لگے۔ میں سمجھ گئی کہ احمر سے بلا وجہ گاڑھی نہیں چھن رہی۔ پوچھا۔ بھائی کوئی بات ہے تو مجھے بتائو تاکہ امّی سے بات کی جائے۔ بھائی نے بتایا کہ احمر اس طرح کا اشارہ دے گیا ہے۔ امّی سے بات کر کے دیکھو۔ کیا تمہیں صائمہ پسند ہے۔ خوبصورت تو ہے اور تم خود کہتی ہو کہ انہیں بچپن سے جانتی ہو۔ دونوں بہنوں میں کردار کے لحاظ سے کوئی خرابی نہیں ہے۔ پرانے پڑوسی ہیں۔ شریف لوگ ہیں۔ ٹھیک ہے بھیا، امّی کو راضی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
احمر کو ملازمت مل گئی تھی۔ اس کا تبادلہ نزدیکی شہر ہو گیا اور وہ چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی محلّے کے آوارہ لڑکوں کی چنڈال چوکڑی پھر سے اکٹھی ہو گئی اور وہی الٹی سیدھی باتیں ان لڑکیوں کے بارے میں کرنے لگے۔ ایک روز ان میں سے ایک لڑکا راشد، کلیم بھائی کے پاس آیا کہنے لگا۔ تمہارے پڑوسی انکل رحمت کی بیٹی صائمہ بہت خوبصورت ہے۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن پہلے اس کے ساتھ ایک ملاقات ضروری ہے۔ تم میری اس سلسلے میں مدد کرو۔ بھائی کو غصّہ آ گیا۔ کہنے لگے۔ شرم کرو، وہ میرے دوست کی عزت ہے۔ احمر تمہارا دوست ہے میرا نہیں۔ راشد نے کہا تو کلیم بھائی نے اسے آنکھیں دکھائیں، زیادہ کچھ نہ کہا کہ اس لڑکے سے الجھنا نہ چاہتے تھے۔ صائمہ کا معاملہ نازک تھا۔ احمر خود صائمہ کے رشتے کی پیشکش کر چکا تھا۔ اگر ہم لوگ صائمہ کا رشتہ مانگتے وہ یقیناً انکار نہ کرتے۔ تب ہی بھائی نے راشد سے کنارہ کر لیا۔
کچھ دن امی ابو میں مشورے ہوتے رہے پھر بیٹے کی خوشی کو مدّنظر رکھتے ہوئے انہوں نے صائمہ کو بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے بھی اس بارے میں بھرپور طریقے سے اپنے بھائی کا ساتھ دیا تھا اور صائمہ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ والدہ جب رشتہ طلب کرنے گئیں، صائمہ کی ماں نے کہا۔ ہم سوچ کر جواب دیں گے۔ دو ماہ گزر گئے انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ احمر واپس آیا۔ بھائی نے اسے بتایا کہ امّی رشتے کے لیے گئی تھیں مگر آپ کے والدین نے ہاں نہیں کی۔ اس نے کہا کہ رشتوں کے معاملات میں پہلے ایسا ہی جواب دیا جاتا ہے۔ فکر مت کرو۔ وہ ضرور ہاں میں جواب دیں گے۔
انکل رحمت بیروزگار تھے۔ گھر کا سارا بوجھ احمر پر تھا اور اسی مجبوری کے کارن صائمہ اور آئمہ نے بھی کورس مکمل کر کے بیوٹی پارلر میں ملازمت کر لی تھی۔ وہ صرف میٹرک پاس تھیں۔ زیادہ بہتر ملازمت ان کو نہیں مل سکتی تھی۔ احمر چند روز رہ کر دوبارہ نوکری پر چلا گیا۔ دو بار آیا مگر ہمیں ہاں میں جواب نہ مل سکا۔ تب ہی میں نے سوچا کہ شاید صائمہ اس رشتے پر راضی نہیں ہے۔ میں نے بھائی سے اپنا خدشہ بیان کیا۔ اس نے پھر ایک اور غلطی کر ڈالی۔ ایک روز تحریر لکھ کر صائمہ کو بھجوا دی کہ شاید آپ مجھ سے شادی پر راضی نہیں ہیں۔ ہماری طرف سے رشتہ مانگنے پر جواب نہیں ملا جبکہ اس بات کو چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو آگاہ کر دو، میں آپ کی راہ سے ہٹ جائوں گا۔
بھائی کو امید تھی کہ صائمہ یہ راز فاش نہ کرے گی مگر اس نے یہ خط احمر کو دے دیا۔ وہ بہت ناراض ہوا اور اس نے کلیم بھائی کو خوب لعن طعن کی کہ میں تو تمہیں شریف آدمی سمجھتا تھا۔ جانتا نہ تھا کہ تم بھی دوسرے لوفر لڑکوں جیسی حرکت کرو گے۔ میری بہن کو خط تحریر کرو گے۔ بھائی یہ سن کر شرم سے پانی پانی ہو گئے۔ سوچا نہ تھا کہ یہ ذلت اٹھانی ہو گی۔ احمر کی ناراضگی بجا تھی، بھلا کون بھائی یہ برداشت کر سکتا ہے کہ کوئی اس کی بہن سے خط و کتابت کرے۔ بہرحال بھائی نے معافی مانگی اور اس نے بے دلی سے معاف کیا مگر وہ پہلے جیسی دوستی اور بات نہ رہی۔
اس بات کی ہمارے گھر والوں کو خبر نہ تھی اور نہ صائمہ کے والدین کو پتا تھا سوائے احمر اور صائمہ کے۔ سو میرے والدین دوبارہ انکل رحمت کے پاس گئے اور رشتے کی بات کی۔ اس بار انہوں نے ہاں کر دی اور ہم خوشی خوشی مٹھائی لے کر ان کے گھر گئے۔ صائمہ بہ ظاہر خوش نظر آئی۔ مجھ سے تپاک سے ملی۔ امّی نے رسم منگنی کی تاریخ مانگی، انہوں نے کہا کہ منگنی چھوڑیئے، پہلے ہی بہت وقت گزر چکا ہے، نکاح کی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔ رواں ماہ بعد رخصتی دے دیں گے۔ میرے والدین خوش ہو گئے کہ مرحلہ جلد حل ہو گیا تھا۔ وہ نکاح کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ کلیم بھائی کی خوشی بھی دیدنی تھی۔
جس روز نکاح تھا، اس سے ایک رات پہلے صائمہ اور آئمہ دونوں بہنیں اچانک گھر سے غائب ہو گئیں۔ ان کے والدین بیچارے جیتے تھے نہ مرتے تھے۔ شام کو نکاح تھا، اسی دن صبح انکل رحمت ابو کے پاس آئے اور بتایا کہ لڑکیاں غائب ہیں۔ آدھی رات کو شاید گھر سے چلی گئی ہیں کیونکہ میں دروازے کی کنڈی لگا کر سویا تھا۔ صبح بیرونی در کی کنڈی کھلی ہوئی تھی اور لڑکیاں زیور بھی ساتھ لے گئی ہیں۔
وہ رو رہے تھے۔ والد صاحب نے دلاسا دیا کہ رونے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ان کے بارے میں تحقیق کرنی چاہیے کہ کہاں اور کس کے ساتھ گئی ہیں۔ اسی دوپہر احمر بھی آگیا تھا۔ اس نے پارک میں بیٹھنے والوں میں سے ایک لڑکے کو اعتماد میں لیا تو پتا چلا کہ راشد اور اس کا ساتھی منیر دونوں نے ان بہنوں سے رابطہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی اور آئمہ، صائمہ کو بالآخر جال میں پھنسا لیا۔ دونوں نے ان ہی کے ساتھ گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کر لی ہے۔
ہم خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ ابو، امی نے خدا کا شکر ادا کیا کہ آگ میں جلنے سے بچے۔ کلیم بھائی بھی حیران و ہکا بکا تھے۔ ہمیں جو زخم لگا ایسا نہ تھا کہ مندمل نہ ہوتا لیکن انکل رحمت اور ان کی بیوی جیتے تھے مگر مردہ لگتے تھے۔ بالآخر انہیں صبر کرنا پڑا، کیونکہ جو گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کر چکی تھیں وہ کب لوٹنے والی تھیں۔ انکل رحمت اپنا گھر فروخت کر کے ہمارے محلّے سے چلے گئے۔ انکل کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے تھے اور صائمہ، آئمہ… اللہ جانے وہ کس حال میں ہیں۔ کیسی زندگی جی رہی ہیں۔ یہ تو وہی جانیں یا اللہ جانے کیونکہ ہمارا ان سے اب نہ کوئی رابطہ ہے نہ واسطہ اور نہ میل جول رہا ہے۔
میری شادی کے دو سال بعد کلیم بھائی کی شادی ہماری ماموں زاد سے ہو گئی۔ بھابی اگرچہ معمولی شکل و صورت کی ہیں مگر سلیقہ شعار اور خوبصورت دل کی مالک ہیں۔ صد شکر کہ ہم غلط پھنسنے سے بچ گئے۔ صحیح کہتے ہیں کہ تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔
(مسز قریشی، ڈیرہ غازی خان)