Saturday, July 13, 2024

Tum Yad Ate Ho | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میری شادی ایک امیر گھرانے میں ہوئی۔ میرے سسر میرے والد کے واقف کار تھے، لیکن ہم ان کے گھر کبھی نہیں گئے تھے ، والد صاحب کی میرے سسر سے دوستی تھی۔ وہ ان کے کلاس فیلو رہے تھے۔ ایک روز پاپا نے انکل رشید سے میرے رشتے کے لئے فکرمندی کا اظہار کیا تو انکل بولے… میں اپنے بیٹے کے لئے لڑکی دیکھ رہا ہوں، تم نے اچھا کیا مجھ سے ذکر کردیا۔ کل ہم لوگ تمہارے گھر آتے ہیں۔ بیگم کوآپ کی بچی پسند آگئی تو میں منصور کے لئے رخسانہ بیٹی کا رشتہ لے لوں گا۔
اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی کہ ہم بچپن کے دوست رشتے دار بن جائیں گے۔ ضرور بھابھی کوہمارے گھر لاؤ۔ والد نے گھر آکر امی سے کہا کہ کل کچھ خاص مہمان آئیں گے، کھانے کا اہتمام کرو۔ میرے دیرینہ دوست کی فیملی ہے ہماری رخسانہ کے رشتے کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ امی نے گھر کی صفائی ستھرائی کرائی اور بہت عمدہ کھانا بھی بنوایا۔ انکل اور ان کی بیگم اپنے صاحبزادے منصور کے ہمراہ شام پانچ بجے تشریف لے آئے۔
امی سے ان کی بیگم ملیں، بہت ملنسار اور خوش اخلاق لگیں۔ انہوں نے ایک نظر میں مجھے پسند کرلیا۔ امی ابو کوبھی منصور پسند آگیا۔ یوں یہ رشتہ پہلی ملاقات میں طے ہوگیا کہ دونوں اطراف سے دیکھے بھالے لوگ تھے، چھان بین کی ضرورت نہ تھی۔ جلد ہی شادی کی تاریخ طے ہوگئی اور میں بیاہ کر ایک اوسط درجے کے مکان سے محل جیسے گھر میں آگئی۔ سبھی اچھے لوگ تھے، خاص طور پر منصور تو بہت اعلیٰ اخلاق اور محبت کرنے والے تھے، سسرال میں پیار ملا تو میں خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی، خود کو خوش قسمت کیوں نہ سمجھتی جب لمبی سی قیمتی گاڑی پر میکے جاتی تو محلے کے بچے گاڑی کے گرد جمع ہوجاتے اور پڑوس کی لڑکیاں میری قسمت پر رشک کرتیں۔
چند دن شادی کی خوشی میں سسرال والوں کے گھر اور ماحول کا صحیح اندازہ نہ ہوا، سبھی نندیں پیار سے رہتی تھیں۔ ماحول بھی پرسکون تھا، رفتہ رفتہ کچھ بھید کھلنے لگے۔ میری چھ نندیں اور ایک دیور تھا، دو بڑی نندیں بیاہی جاچکی تھیں، چار بن بیاہی تھیں، ان میں سے تین خوبصورت تھیں، ایک نند جس کا نام کومل تھا، وہ کچھ سانولی سی تھی اور شکل بھی باقی بہنوں سے الگ تھی۔
مجھے یہاں ایک بات کھٹکنے لگی کہ میری وہ نند جس کا نام کومل تھا۔ کچھ خاموش خاموش رہتی تھی۔ وہ اتنی بااعتماد نہ تھی جتنی اس کی دوسری بہنیں تھیں۔ کومل کچھ دبی دبی، بجھی بجھی رہتی تھی، لگتا تھا جیسے یہ اس گھر کی بچی نہیں ہے۔ لے پالک ہے یا پھر بطور مہمان رہنے آئی ہے۔
ماں کے ساتھ بھی اتنی زیادہ گھلتی ملتی نہ تھی جتنی باقی بیٹیاں ہماری ساس سے بے تکلف تھیں۔ فرمائشیں کرتیں، لڑتی جھگڑتیں یہ چپ رہتی لیکن ماں جس کام کا کہتی ملازمہ کی مانند دوڑ کر کرتی۔ کوئی فرمائش بھی نہ کرتی میں سوچتی یہ کیسی لڑکی ہے۔ اس کی عجیب طبیعت ہے، دوسری بہنوں سے کتنی مختلف ہے۔ سسر کومل کا بہت خیال رکھتے تھے، ساس اس کو اکثر نظر انداز کرجاتیں۔ بہنوں میں تین توکومل سے اچھا برتاؤ رکھتی تھیں، لیکن ایک جو کومل سے چھوٹی تھی وہ اس سے خار کھاتی، اکثر اس کے ساتھ الجھ بھی پڑتی تھی۔ تب تیسرے نمبر والی جس کانام آسیہ تھا وہ ناصرہ کو سمجھاتی کہ تم ایسا نہ کیا کرو ہر وقت کومل کا دل دکھاتی رہتی ہو۔ وہ ہماری بہن ہے تواسے اپنی بہن ہی سمجھو جواب میں وہ کہتی ۔ اونہہ … بڑی آئی ہماری بہن اور یہ جملہ مجھے چونکا دیتا میں اس جملے کا مطلب سمجھ نہ پاتی تھی۔
جس گھر میں لڑکیاں ہوں وہاں رشتے تو آتے ہی ہیں۔ میری نندوں کے بھی رشتے آتے تھے۔ ہماری ساس کوکومل کے سوا باقی تینوں لڑکیوں کو بیاہنے کی بہت فکر تھی، جو رشتہ آتا وہ اپنی ان تین بچیوں کوبنا سنوار کر دکھاتیں لیکن کومل کی جانب کوئی توجہ نہ دیتیں جیسے اسے بیاہنا ہی نہ ہو، تب میں منصور سے کہتی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ امی جان باقی بیٹیوں کے رشتوں کے لئے تردد کرتی ہیں لیکن کومل کے لئے چپ سادھ رکھتی ہیں وہ بالکل پریشان نہیں ہیں، جیسے اس کو بیاہنا نہیں ہے … آخر ایسا کیوں ہے۔ وہ کہتے ارے بھئی وہ گھر سنبھالتی ہے، تمام کام کرتی ہے، امی کواس سے آرام ملتا ہے۔ امی یہ چاہتی ہیں کومل کا رشتہ آخرمیں طے ہو۔ اگر کومل کو پہلے
بیاہ دیاتو کام کون سنبھالے گا؟ گھر الٹا ہوجائے گا، امی اب کمزور ہوگئی ہیںوہ اتنا کام نہیں کرسکتیں۔
منصور لیکن کومل آخری دوبہنوں سے بڑی ہے۔ اس کی باری پہلے آنی چاہئے ورنہ عمر زیادہ ہوجائے گی وہ صورت میں بھی ذرا دبتی ہوئی ہے۔ امی جان کو چاہئے کہ پہلے اس کے رشتے کی کوشش کریں۔
ہاں، ہوناتو ایساہی چاہئے۔ میرے شریک حیات ٹوٹے ہوئے دل سے جواب دیتے۔ تمام نندوں سے کومل سب سے زیادہ پیار کرنے والی اور نیک طبیعت تھی۔ وہ بہت اچھے مزاج کی مالک تھی، خاص طور پر میرا اور منصور کا بہت خیال رکھتی اور میرے کام کرکے خوشی محسوس کرتی، ہماری عزت کرتی، تبھی مجھے بھی اس کا خیال سب سے بڑھ کرتھا اور میں اسے تمام نندوں پر فوقیت دیتی تھی۔ جب بازار جاتی سب سے اچھی چیز اس کے لئے لاتی، جس پر اس کی باقی بہنیں خوشی محسوس نہ کرتیں، لیکن میں پروانہ کرتی۔
سسرال سے کوئی شکایت نہ تھی بس ایک دکھ تھا کہ تمام گھر والوں کا رویہ کومل کے ساتھ محبت بھرا نہیں تھا سوائے منصور کے…حالانکہ میری نظر میں یہ سب سگے بہن بھائی تھے اور اللہ کادیا بہت کچھ تھا۔ کسی شے کی کمی نہ تھی، سارے بہن بھائی خوبصورت تھے اور میں سمجھ رہی تھی کہ اسی کارن یہ کومل کونظر انداز کرتے ہیں کہ وہ معمولی صورت کی ہے۔
اکثر گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ جوبچہ کم شکل ہو باقی بہن بھائی، رشتے دار حتیٰ کہ ماں باپ بھی اسے کم اہمیت دیتے ہیں۔ مجھے اب کومل کی فکر رہنے لگی، میں چاہتی تھی اس کی شادی جلد ہوجائے۔ اس کے رشتے کے لئے اس کی ماں سے زیادہ میں فکرمند رہنے لگی۔ نماز کے بعد دعا کرتی تھی۔ اے اللہ اس کے لئے غیب سے کوئی اچھا رشتہ بھیج دے۔ کومل کی قسمت کھل جائے۔
میری دعا قبول ہوگئی، ہمارے سسرالی رشتے داروں کی ایک شادی میں ہم سب مدعو تھے۔ وہاں ایک خاتون کو کومل اتنی پسند آئی کہ وہ ہماری ساس کے پیچھے پڑگئیں کہ مجھے اپنے بیٹے کے لئے آپ کی بیٹی کا رشتہ درکار ہے… یہ خاتون ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیوی تھیں… گویا دولت توان کے گھر کی باندی تھی۔
جب ہمارے سسر کوعلم ہوا تو انہوں نے ان لوگوں کو اپنے گھر مدعو کیا۔ ساس کا خیال تھا کہ ان کی باقی لڑکیاں چونکہ زیادہ خوبصورت ہیں ہوسکتا ہے کہ کومل کی بجائے ان میں سے کوئی، لڑکے کی ماں کو پسند آجائے اور اس کا نصیب کھل جائے۔ انہوں نے خاتون اور ان کے گھر والوں کی بڑی آؤبھگت کی لیکن جس کا نصیب کھلنا ہوتا ہے اسی کی جھولی میں مرادوں کے پھول گرتے ہیں۔رشتے کے لئے آنے والی خاتون مصر ہوگئیں کہ ہمیں کومل پسند ہے اور اسی کا رشتہ چاہئے۔ قسمت نے یاوری کی اور اس طرح اس کی شادی مل مالک کے بیٹے ناظم سے ہوگئی۔
کومل کے بھاگ کھل گئے… لیکن ناصرہ کی امیدوں پر اوس پڑگئی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی شادی ناظم سے ہو کیونکہ لڑکا دیکھ کر وہ پہلی نظر میں اس پر فدا ہوگئی تھی۔ ناظم، کومل کی قسمت میں تھا اسے مل گیا۔ شادی بھی اتنی دھوم دھام سے ہوئی کہ باقی ساری بہنوں کی شادیاں اس کے آگے ماند پڑگئیں۔ انکل رشید کو لڑکے والوں کی حیثیت کے مطابق ہی سب کچھ کرنا تھا۔
باقی بہنوں نے کومل کوخوش پاکر اس کی تقدیر پر سمجھوتہ کرلیا لیکن ناصرہ نہ کرسکی، وہ جلتی کڑھتی رہتی کہ قسمت آخرکیوں کراس کالی چڑیل پر مہربان ہوگئی۔ جبکہ وہ اتنی حسین بھی نہ تھی۔
جب وہ ایسی باتیں کرتی اس کی باقی بہنیں سن کر ہنس دیتیں، کہتیں۔ ارے بھئی اب جلنا چھوڑو جس کی جو قسمت میں ہوتا ہے اسے مل جاتا ہے، تم پاگل ہوگئی ہو۔ کومل سے جلنے کڑھنے کی بجائے اپنے لئے دعا کرو کہ اللہ تمہیں اس کے شوہر سے زیادہ امیر کبیر اور خوبصورت جیون ساتھی عطا کرے ۔ اس کے خزانے میں کیا کمی ہے… وہ خاموش ہوگئی جیسے خاموشی کی زبان میں کہہ رہی ہو کہ دنیا کے سارے خزانے بھی مل جائیں تو وہ ناظم کا بدل نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ پہلے روز سے میرے دل میں بس گیا تھا۔ اور اب اس تصویر کواپنے دل سے کیوں کر مٹاؤں، نہیں مٹاسکتی۔
جب کومل اپنے شوہر کے ساتھ میکے آتی ناصرہ کا چہرہ ماند پڑجاتا۔ ایک روز میں نے اسے اپنے کمرے میں بلاکرکہا۔ کیا تم اپنی بہن کی شادی سے خوش نہیں ہو ناصرہ…؟ ہاں میں خوش نہیں ہوں۔ کیوں خوش نہیں ہو آخر۔یہ سوچ کرکہ کالی کلوٹی لڑکیوں کوبھی راجکمار مل جاتے ہیں۔ اس بات پر مجھے ہنسی آگئی اور میں نے ناصرہ سے کہا۔ میں
کومل کے لئے اس راج کمار کے لئے دعا کی تھی، اب تمہارے لئے کروں گی دیکھ لینا تمہیں بھی ایسا ہی راجکمار مل جائے گا۔
میرے شوہر نے کینیڈا کی امیگریشن کے لئے عرصہ سے اپلائی کیا ہواتھا، ان کا ویزا آگیا اور ہم کینیڈا چلے آئے، اب مجھے کومل کی خبر نہ رہی۔ میں اسے فون نہیں کرسکتی تھی، ان دنوں فون اتنے عام نہ تھے لہٰذا خط لکھتی اور وہ جواب دیتی تھی۔ اس کے خطوط سے پتا چلتا کہ وہ بڑی خوش ہے۔
ایک دن مجھے کومل کا خط ملا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ آگئی ہے کچھ عرصہ بعد پتا چلا کہ ناصرہ نے بھی امریکہ کی ایک یونی ورسٹی میں داخلہ لے لیا اور وہ پڑھنے کے لئے وہاں جارہی ہے۔ کومل اور اس کے شوہر نے اس کے داخلہ اور اس کو امریکہ بلوانے میں مدد کی تھی۔ یہ خبر میرے لئے باعث راحت تھی۔ سوچا شکر ہے کہ کومل کی نیک نیتی نے کام کردکھایا، اب ناصرہ خوش ہوجائے گی کہ کومل نے اس پر احسان کیاتھا ، دل سے اس کے لئے ساری نفرتیں اور رنجشیں بھلادے گی کہ اس کی وجہ سے اس پر اعلیٰ تعلیم کے در کھلے تھے۔
چھ ماہ بعد ایک دن کومل کی پڑوسن کا فون آیا کہ کومل بہت بیمار ہے، آپ آکر اسے دیکھ جائیے۔ میں نے منصور کو راضی کیا اور ہم نیویارک چلے گئے۔ وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ چھٹیاں گزارنے ناصرہ ان کے گھر ٹھہری ہوئی تھی اور اس وقت بیمار بہن کو چھوڑ کر وہ ناظم کے ساتھ ایک میوزک کنسرٹ انجوائے کرنے گئی ہوئی تھی۔
کومل کی حالت دیکھ کرمیں ٹھٹھک گئی۔ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ اور برسوں کی مریضہ دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہوا تمہیں کومل۔ وہ میرے گلے لگ کررونے لگی، بڑی مشکل سے اس نے بتایا… بھابھی میں ان لوگوں کی سگی بہن نہیں ہوں اور نہ لے پالک ہوں… بلکہ اس بدنصیب کی بیٹی ہوں جوان کی پھوپھی تھی۔ اس پھوپھی سے کوئی خطا ایسی ہوئی کہ میں نے اپنی ماں کی شادی سے قبل اس دنیا میں جنم لیا… ماں تونہ بچ سکی مگر میں زندہ بچ گئی… سب لوگ مجھے مارنے کے درپے تھے کہ میرے باپ کا کوئی نام نہ جانتا تھا لیکن میری نانی نے اپنے بیٹے کے پاؤں پکڑ لیے التجا کی کہ اس بچی کو موت کی نیند سلانے جیسا پاپ کرنے کی بجائے اس کواپنانام دے دو اور اس کی جان بچالوکیونکہ یہ معصوم اور بے قصور ہے اور اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ اس کو جنم دینے والی تو کچھ کھاکر موت کی نیند سوگئی ہے۔
آپ کے سسر یعنی میرے ماموں نے اپنی ماں کی التجا پر مجھے زندہ رہنے دیا اور اپنا نام دے دیا۔ بیوی سے کہا کہ تم کسی پر یہ ظاہر نہ کرو کہ یہ میری بدنصیب بہن کے گناہ کی نشانی ہے، شاید اللہ تعالیٰ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے، ہمیں ایسا ظلم نہ کرنا چاہئے… بیوی نے یہ بات مان لی اور مجھے گود میں بھرلیا، مگر ماں کا پیار نہ دے سکیں ان کی پہلے ہی تین بیٹیاں تھیں چوتھی میں کہلائی، مجھے پہلے نانی نے پالا۔ ان کے انتقال کے بعد ماموں کی خاندانی ملازمہ نے پرورش کی۔
جب میںدس برس کی تھی تب ملازمہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ یہ راز بچپن میں مجھ سے پوشیدہ رکھاگیا تھا لیکن ملازمہ نے اپنے انتقال سے چند روز قبل مجھے میری اصل حقیقت سے آگاہ کردیاتھا کیونکہ امی جان کی بے رخی اور سرد رویے سے میں پریشان اور کشمکش کا شکار رہتی تھی اور ملازمہ چھمیابی چاہتی تھیں کہ میں اس کشمکش کے بھنور سے نکل جاؤں۔
اب مجھے ناصرہ کی نفرت اور اپنی ساس کا سرد رویہ سمجھ میں آنے لگا تھا۔ میں نے کومل کو تسلی دی کہ تم فکر مت کرو… اگر تمہارے ساتھ زندگی کا یہ المیہ جڑا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اعلیٰ سسرال اور اچھا شوہر دے دیا ہے۔ عورت کی زندگی میکے سے زیادہ سسرال اور شوہر سے جڑی ہوتی ہے، بس میکے کوبھلا دو اور ایک گھر اور شوہر کی محبت میں گم ہوجاؤ۔
یہ سن کر وہ رونے لگی ۔ بولی بھابھی… کیا بتاؤں ان دنوں کس قدر پریشان ہوں… اللہ جانے ناصرہ نے میرے شوہر پر کیسا جادو کردیا ہے، وہ اس کے دیوانے ہوگئے ہیں۔ دونوں مجھے نظرانداز کرکے ایک دوسرے میں کھو گئے ہیں۔ ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور ساتھ گھومتے پھرتے ہیں۔ میں نے اس بات کا ناصرہ سے شکوہ کیا تو وہ بولی کہ مجھے کیا کہتی ہو… سنبھال سکتی ہو تو اپنے شوہر کو سنبھالو… روک سکتی ہوتواسے روکو… جب سے یہ میرے گھر آئی ہے سخت اذیت میں مبتلا ہوں اور اسی دکھ کی وجہ سے میری ایسی حالت ہوگئی ہے۔ آپ کو اسی لئے
بلوایا ہے کہ آپ ناظم کو روکیں اور منصور بھائی کوتمام صورت حال بتاکر ان سے کہیئے کہ وہ اپنی بہن کو روکیں… بے شک میںان کی سگی بہن نہیں ہوں لیکن میں نے ہمیشہ انہیں سگا بھائی سمجھا ہے اور انہوں نے بھی مجھے سگی بہن جیسا پیار دیا ہے۔
میں نے رات کومنصور کوتمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صبح ناظم سے بات کی تو وہ بے حیائی سے بولا۔ بھائی صاحب میں اس دن کا منتظر تھا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی آجائے تو اپنا مسئلہ بیان کروں۔ میں کومل کے ساتھ خوش نہیں ہوں مزید زندگی جبر سے نہیں گزار سکتا…چاہتا ہوں آپ کی موجودگی میں اسے طلاق دے دوں تاکہ آپ اسے ساتھ لے جائیں۔ میں ہر صورت ناصرہ سے نکاح کرناچاہتا ہوں، کیونکہ وہ بھی ایسا چاہتی ہے، مجھے امید ہے کہ آپ اپنی پھوپھی زاد کی خاطر اپنی سگی بہن کی خوشیوں کو برباد نہ کریں گے، ورنہ ہم عاقل وبالغ ہیں اپنی مرضی کی شادی کرسکتے ہیں، اگر میں پاکستان میں ہوتا تو کومل سے نکاح کی موجودگی میں ناصرہ سے نکاح کرلیتا چونکہ کومل ناصرہ کی سگی بہن نہیں ہے، میرے نکاح میں بہ یک وقت دونوں رہ سکتی ہیں لیکن یہ امریکہ ہے مجھے کومل کو خیرباد کہنا پڑے گا، ہاں اگر ناصرہ اپنی خوشی سے آپ کے ہمراہ جانا چاہے تومیں نہ روکوں گا۔
منصور سخت پریشان ہوگئے۔ انہوں نے اپنے والد کوفون کرکے آگاہ کیا وہ بھی آگئے۔ ناصرہ کو سمجھایا مگر وہ کسی صورت نہ مانی، وہ مکمل طور پر باغی ہوچکی تھی۔ ہم سب اس کی ڈھٹائی کے سامنے بے بس تھے۔
ناظم نے کومل کوطلاق دے دی، میں اور منصور اسے اپنے ہمراہ لاناچاہتے تھے لیکن وہ ہمارے ساتھ آنے پر راضی نہ ہوئی، وہ میرے سسر کے ساتھ پاکستان چلی گئی۔
وہاں بھی اس کی حالت ٹھیک نہ ہوئی۔ ہر وقت روتی تھی جیتی تھی نہ مرتی تھی… ہماری ساس کوبھی ناصرہ کی اس حرکت کا رنج تھا۔ کومل نند کے گناہ کی نشانی تھی، مگر اب وہ گناہ گار بھی اس دنیا میں نہ رہی تھی۔ سزا بچی کو ملی۔ انسان کتنا بھی سنگدل ہو خوف خدا توہوتا ہے۔ ہماری ساس کو خوف خدا تھا۔ انہوں نے کومل کو گلے لگایا پیار کیا اور کہا۔ بیٹی… تم جان چکی ہو ہماری بیٹی نہیں ہو لیکن ہوتو ہمارا خون۔ میں نے ہمیشہ تمہیں بیٹی سمجھا، تمہارے دکھ پر میرا دل روتا ہے۔ زیادہ غم مجھے اس بات کا ہے کہ تمہارا گھر میری بیٹی نے اجاڑا ہے۔ اگر آج ناصرہ میرے سامنے ہوتی تو میں ضرور اس کو دھکے دے کر اپنے گھر سے نکال دیتی۔
اس واقعہ کے بعد سے سسر اور ساس نے کومل کو ماں باپ جیسا بھرپور پیاردیا، جس کے لئے وہ ترسا کرتی تھی، خاص طور پر ہماری ساس اب کومل کی بہت دل جوئی کرتی تھیں اور اس کا اس قدر خیال رکھتی تھیں کہ اس کی ممتا کے لئے ترستی روح کو سکون مل گیا اور وہ اپنے شوہر کی بے وفائی کو بھلا کران کی بانہوں میں سمٹ گئی۔
اس کے بعد جتنے دن آنٹی زندہ رہیں کومل نے ان کا بہت خیال رکھا۔ اتنی خدمت کی کہ سگی کسی بیٹی نے بھی نہ کی تھی۔ اس نے بیٹی کہلوانے کا حق ادا کردیا۔ آج بھی کومل یاد آتی ہے تو آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔ وہ جب پینتالیس برس کی تھی ایک روز اچانک اس کا بلڈ پریشر ہائی ہوا اور وہ دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئی ۔ اللہ اس کی اور اس کی والدہ کی بخشش کرے اور ان دونوں کوجنت الفردوس میں جگہ دے۔
( مسز قادر…کراچی)

Latest Posts

Related POSTS