Tumhe Bhula Nahe Sakte | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1272
کہتے ہیں عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ بات کھلی، گلی گلی عام ہوئی، پہلے غیروں، پھر اپنوں کو خبر ہوگئی کہ ہمارے پڑوسی انکل صابر کی دختر کا سلسلہ فراز کے ساتھ چل رہا ہے۔ میں اُسے سمجھاتی رہ گئی کہ باز آ جائو کہیں یہ عشق کا بھوت تمہاری جان ہی نہ لے لے۔ وہ جواب دیتی۔ میں تو باز آ جائوں پر کیا کروں یہ دل نہیں مانتا۔
تیرا مرنا پھر یقینی ہے نوری… میں جل کر کہہ دیا کرتی بعد میں پچھتاتی کہ نور کو میں نے ایسا کیوں کہہ دیا۔ امی کہا کرتی تھیں ہمیشہ اچھی بات منہ سے نکالنی چاہئے، کوئی گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے کہ منہ سے نکلی بات پوری ہو جاتی ہے۔ میں نے کسی ایسی ہی گھڑی میں یہ کلمات لبوں سے نکالے ہوں گے کہ میری پیاری سہیلی نور اس کی زد میں آ کر اس جہاں سے چلی گئی، اگر یہ جانتی کہ وہ اس دُنیا سے چلی جائے گی تو کبھی ایسا نہ کہتی۔
پھر سوچتی میرے کہنے نہ کہنے سے کیا فرق پڑتا تھا۔ اس نے پر پرزے جو نکال لئے تھے۔ اپنی اوقات سے بڑھ کر اُڑان بھرنے کا جو نتیجہ ہوتا وہی ہوا۔ سولہ برس کی عمر تھی۔ وہ اتنی بے خوف ہوگئی تھی کہ اردگرد کی پروا کئے بغیر سارا دن کبھی بالکونی اور کبھی چھت سے جھانکتی تھی۔ فراز کی بس ایک جھلک دیکھنے کے لئے۔
فراز کے لاہور سے آ جانے کی خبر مجھے نور نے ہی دی تھی۔ شروع میں فراز کے ذکر پر میں نے کان نہ دھرے لیکن جب نور کے لبوں پر اُسی کا نام رہنے لگا تو میرے کان کھڑے ہوگئے۔
خدا خیر کرے تم ہر وقت فراز کی مالا کیوں جپتی رہتی ہو۔ قصہ کیا ہے آخر؟
دیکھو سحر… چاہے جانے کی خواہش تو سب کو ہوتی ہے، میں نے کون سا گناہ کیا ہے۔
گناہ ثواب کی بات نہیں ہے… بات یہ ہے کہ تمہارے والد نے اگر تمہیں فراز سے بات کرتے دیکھ لیا تو اگلے دن قبرستان میں تمہارا ٹھکانہ ہوگا۔
مجھے ڈرائو مت سحر۔ میں کسی سے ڈرنے والی نہیں۔ اب قدم رکھ دیئے ہیں اس وادیٔ پرخار میں تو پیچھے ہٹنا جواں مردی نہیں۔
مجھے لگا کہ مذاق کر رہی ہے، میں ہنس دی۔ وہ ایسی ہی پرلطف باتیں کیا کرتی اور میں سنا کرتی۔
ہماری روز ملاقات رہتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس نے مجھ سے ملنا کم کر دیا اور اس کے دل میں فراز کی محبت کا جذبہ شدت اختیار کرتا گیا۔ بالآخر ایک روز اس کے والد کو محلے والوں نے چوکنا کر دیا کہ بیٹی کا دھیان رکھو۔ اس سے پہلے کہ بات بہت آگے نکل جائے۔ یوں ماہ نور پر پابندیاں لگ گئیں۔
ایک روز انکل صابر نے بیٹی کو فراز کی بالکنی کی طرف خط اُچھالتے دیکھ لیا تو اُس کا چھت پر جانا بند کر دیا اور خوب نور کی پٹائی کی۔ اس کی آوازیں ہمارے گھر تک آنے لگیں۔ اس واقعہ کے بعد کئی دن تک وہ اپنے آنگن میں بھی نظر نہ آئی۔ متعدد بار اپنی چھت سے اس کے صحن میں جھانکا کہ نور نظر آئے تو اس کا حال پوچھ لوں گی۔ ہمارے اور ان کے مکان کے درمیان ایک دیوار تھی۔ پریشان تھی۔ کیسے نور سے بات کروں کچھ دن صبر کیا مزید صبر نہ ہوا تو اُس کے گھر چلی گئی۔
وہ اپنے کمرے میں بستر پر اوندھے منہ پڑی تھی۔ بدن پر ابھی تک چوٹ کی وجہ سے نیل کے نشان تھے۔ نور کے والد نے لکڑی سے اُسے بے تحاشا مارا تھا اور اب وہ مجھ سے ہی نہیں ساری دُنیا سے ناراض تھی۔
میرے سلام کا جواب نہ دیا تو میں اس کے پاس بیٹھ گئی اور پیار سے کہا۔ نور… کیا مجھ سے بھی خفا ہو۔ میں نے کئی بار سمجھایا تھا۔ تم نہ سمجھیں، اسی لئے منع کرتی تھی کہ فراز سے اشاروں میں بھی باتیں نہ کیا کرو۔ محلے والوں نے دیکھ لیا تو تمہارے والد کو خبر کر دیں گے… وہی بات ہوگئی نا۔
نور نے میری بات کا جواب نہ دیا۔ بستر سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ ذرا دیر خاموش رہی پھر اُسی نے خاموشی کو توڑا۔ میں ڈرنے والی نہیں کسی سے۔ اچھا چھوڑو… اس قصے کو… چائے پیو گی۔
کسی اور دن پی لوں گی۔ آج تمہاری خیریت پوچھنے آئی تھی، تم میرے گھر تو آئو گی نا یا ہماری طرف آنے پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔
آئوں گی تمہارے گھر۔ مجھے کسی پابندی کی پروا نہیں ہے۔ بخار آ گیا تھا تبھی صحن میں نہیں نکلی۔ چھت سے جب آواز دوں تو تم بھی اُوپر آ جانا۔ باتیں کریں گے۔
انکل صابر کے آنے کا وقت ہوگیا تھا۔ نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھ پر شک کریں۔ میں جلدی گھر آ گئی۔ بہت سی باتیں کرنے کو تھیں وہ رہ گئیں۔ چند دن خاموشی رہی۔ پھر ایک دن
شور ہوا۔ جیسے نور کو مار پڑ رہی ہو۔ گویا وہ باز نہیں آئی تھی۔ اللہ جانے اس لڑکی کے سر میں کیا سودا سما گیا تھا کہ وہ مار کھا کر بھی باز نہ آ رہی تھی۔
سوچتی تھی پتا نہیں کب اسے عقل آئے گی، سبھی کہتے تھے کہ فراز اچھا لڑکا نہیں ہے۔ نجانے کب یہ سلسلہ بند ہوگا شاید لیلیٰ مجنوں میں سے کسی ایک کی موت کے بعد۔ اب نور کا گھر سے نکلنا بھی اس کے بھائیوں نے محال کر دیا تھا، وہ مجھ سے ملنے کیونکر آ سکتی تھی۔ وہ باقاعدہ بہن کا پہرہ دینے لگے تھے۔
نور اپنے کمرے کی کھڑکی سے گلی میں جھانک سکتی تھی نہ چھت پر جا سکتی تھی اور نہ ہی کسی سہیلی سے مل سکتی تھی۔ انہوں نے فراز کو بھی تنبیہ کر دی تھی کہ اگر تم اپنی بالکونی یا ہمارے گھر کے آس پاس نظر آئے تو جان سے جائو گے۔
میں اکثر اس ٹوہ میں چھت پر جاتی کہ دیکھوں یہ سلسلہ ختم ہوگیا کہ نہیں۔ فراز بھی مجھے کہیں نظر نہ آتا تھا۔ گویا وہ نور کے بھائیوں کی دھمکیوں کے باعث کہیں دُبک گیا تھا اور نور نے اپنے آپ کو کمرے میں قید کر لیا تھا، میں اس کی ایک جھلک آنگن میں دیکھنے کو ترس گئی تھی۔
جب کافی دنوں تک امن رہا تو سمجھا کہ گھر والوں کے سمجھانے پر وہ سمجھ گئی ہے اور فراز کی عقل بھی ٹھکانے آ گئی ہے۔ میں انکل صابر کے گھر گئی۔ نور اپنے کمرے میں پڑی تھی چہرہ زرد اور صورت اُجڑی ہوئی تھی۔ دیکھ کر دُکھ ہوا۔
تم نے یہ کیا حالت بنا لی ہے نور… تم تو بڑی بہادر ہو لیکن حالات نے تمہیں کیسا بے حال ہی نہیں نیم جان کر کے رکھ دیا ہے۔ خدارا ہوش سے کام لو۔ خود کو سنبھالو، برسوں کی بیمار نظر آ رہی ہو۔ ایسا بھی کیا عشق؟ لگتا ہے کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہے۔
ہاں سارا سارا دن بھوک پیاس نہیں لگتی۔ میری دوست تم ہی کچھ کرو۔ اس نے بالآخر میرے سامنے سپر ڈال دی۔
کیا کروں؟ میرا بس چلے تو سارے زمانے کی خوشیاں تمہارے قدموں میں ڈال دوں لیکن جو تم چاہتی ہو ممکن نہیں ہے۔ میں تمہارا خط یا کوئی پیغام فراز تک پہنچا سکتی ہوں اور نہ تمہیں اس سے ملوا سکتی ہوں۔ تم میری امی کو سمجھائو کہ وہ ابو کو منا لیں۔ جلد از جلد فراز سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
سمجھائوں کیونکر نادان اول تو میری وہ سنیں گی نہیں، اگر سن بھی لی تو یہی کہیں گی کہ ہمارا فراز کا کوئی جوڑ نہیں۔
وہ مایوسی سے میرا منہ تکنے لگی، جیسے خاموش نگاہوں سے شکوہ کر رہی ہو کہ کچھ نہیں کر سکتیں تو مجھے جھوٹی تسلی ہی دے دو۔ میں نور کو جھوٹی تسلی کیسے دے سکتی تھی آزردہ ہو کر گھر آ گئی۔ دیر تک سوچا کہ اس مسئلے کا کوئی حل کیوں کر نکل سکتا ہے، لڑکا لڑکی راضی تھے مگر والدین راضی نہ تھے۔ دونوں گھرانے ایک دوسرے کو ناپسند کرتے تھے پھر بات کیسے بنتی۔
ایک روز پتا چلا کہ نور مر گئی ہے، میں سناٹے میں آ گئی۔ یہ کیسے ممکن تھا وہ غمزدہ ضرور تھی مگر ایسی بیمار نہ تھی کہ آناً فاناً مر جاتی۔ نور کے والدین جو داستان اس بارے میں لوگوں کو بیان کر رہے تھے وہ بھی کھوکھلی لگتی تھی کہ رات اچھی بھلی سوئی اور صبح سو کر نہ اُٹھی۔ محلے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ لوگ سامنے کچھ نہ کہتے تھے دبی زبانوں سے شک کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ وہ طبعی موت نہیں مری۔
میں نے فراز کو بھی کافی دنوں سے نہ دیکھا تھا۔ نجانے کہاں غائب ہوگیا تھا اس کے پالتو پرندے بھی غائب تھے، جن کو وہ چھت پر آ کر دانہ ڈالا کرتا تھا۔ نور پہلے اتنی سرکش نہ تھی، وہ نرم خو اور سیدھی سادی تھی۔ فراز سے تعلق کے بعد یکسر بدل گئی تھی۔ اُوپر سے والد کی مار پیٹ نے اُس میں غصہ بھر دیا تھا۔ وہ سرکش ہوگئی تھی اور مجھے اس کی سرکشی سے خوف آنے لگا تھا۔ جب بھی اُسے سمجھانے کی کوشش کی اُس نے کہا سحر میں بزدل نہیں ہوں اپنے ارادے کی پکی اور قول کی سچی ہوں، اب مجھے اپنا حق لینا ہے۔
پہلے اس نے کچھ دن خود کو مقید رکھا پھر پابندیوں کے باعث فراز سے ملنے کی نئی ترکیبیں سوچ لیں۔ وہ چوبارے کی جالیوں میں رسہ باندھ کر رات کی تاریکی میں گلی میں اُتر جاتی اور مجھے کہتی دروازہ کھلا رکھنا میں فراز سے ملنے جا رہی ہوں۔ واپسی میں تمہاری سیڑھیوں سے اپنی چھت پر جائوں گی نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اپنا دروازہ کھلا رکھنا پڑتا، اس خوف سے کہ واپسی پر اس کے گھر کا در تو بند ہوگا کیسے گھر کے اندر جائے گی۔ کیا رات بھر باہر کھڑی رہے


گی۔
ایک روز ہماری چھت پر آہٹ سن کر ابو کی آنکھ کھل گئی۔ وہ دبے قدموں اُوپر گئے تو انہوں نے وہاں فراز کو دیکھا۔ انہوں نے دو جوتے اس کو مارے اور پوچھا۔ تم یہاں کیا کرنے آئے تھے۔
نور سے ملنے۔ اس نے جواب دیا۔
والد نے آدھی رات کو شور مچانا مناسب نہ سمجھا۔ اُس کو دروازے سے گلی میں نکال دیا اور کہا کہ صبح تیرے باپ سے بات ہوگی۔ فی الحال دفع ہو جا کہ میرا بھی گھر بیٹیوں والا ہے۔
صبح کو والد اس کے باپ سے ملے اور مجبور کیا کہ اپنے لڑکے کو یہاں سے کہیں اور بھیج دو ورنہ میں اُسے پکڑ کر حوالۂ پولیس کر دوں گا۔ آج پڑوسی ہونے کے ناتے لحاظ کیا ہے، آئندہ نہیں کروں گا۔ تبھی فراز کے والد نے اُسے اپنے برادر نسبتی کے پاس لاہور بھیج دیا، لیکن نور جو اپنی نادانی کے ہاتھوں ایک بڑی مصیبت میں پھنس چکی تھی، اُس کا راز گھر والوں پر افشا ہوگیا جس کا نتیجہ اُس کی موت کی صورت میں نکلا۔ کسی نے دُکھ کیا، کسی نے باتیں بنائیں۔ فراز کے گھر والے بھی محلہ چھوڑ کر کوچ کرگئے۔ مگر نور کی موت کا معمہ حل نہ ہوا۔
اس واقعہ کو چار سال بیت گئے اس دوران میری شادی ہوگئی مگر میں نور کو نہ بھلا سکی۔ بھابی جان کے ہاں بیٹا ہوا تو ان کی دیکھ بھال کے لئے ایک خدمت گار خاتون کی ضرورت تھی۔ امی نے ایک جاننے والی سے ذکر کیا، اگلے روز وہ ایک اُدھیڑ عمر عورت کو لے آئیں اور کہا کہ یہ نفیسہ ہے ہمارے محلے میں رہتی ہے ضرورت مند ہے اسے رکھ لیں۔
نفیسہ صبح نو بجے آ جاتی اور دو بجے دوپہر تک بھابی اور ان کے نوزائیدہ کے تمام کام نمٹا دیتی۔ بچے کی مالش، نہلانا کپڑے بدلوانا اور بھابی کے لئے پانی گرم کرنا ان کا ہاتھ منہ دُھلوانا۔ کپڑے دھونا غرض زچہ و بچہ کے سبھی کام نمٹا جاتی تھی۔
چھٹی کا دن تھا بہروز گھر پر تھے۔ میں نے کہا۔ آج امی کی طرف جانا ہے۔ بھابی کی خیریت دریافت کرنی ہے اور ان کے بچے کو دیکھنا ہے وہ بولے۔ تیار ہو جائو شام کو مجھے کسی کام سے جانا ہے۔ میں نے جلدی جلدی تیاری کرلی اور ہم امی کے گھر آ گئے۔ صبح کا وقت تھا، ایک عورت بھابی جان کے کام کرتی دکھائی دی۔ جس کو دیکھ کر میرے شوہر ٹھٹک گئے امی سے پوچھا۔ یہ عورت یہاں کیسے۔
بہو کی خدمت کے واسطے بلوائی ہے۔ کیا تم اسے جانتے ہو۔
ہاں یہ پہلے قریبی گائوں کے ہیلتھ سینٹر میں تھی وہاں سے اسے نکال دیا گیا تھا۔
میرے شوہر اسی ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹر تعینات رہے تھے، وہ مجھ سے بولے۔ ٹھیک عورت نہیں ہے۔ میں نے ان دنوں اسے تمہارے پڑوسی صابر صاحب کے گھر ایک دو بار آتے جاتے دیکھا تھا۔ جن دنوں ان کی بیٹی کی ڈیتھ ہوئی تھی مجھے یہ بات یاد ہے اچھی طرح ان دنوں میں تمہارے بھائی سے ملنے آیا کرتا تھا۔
بہروز میرے چچازاد تھے۔ وہ شادی سے قبل بھی ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا ہیلتھ سینٹر میں تعینات لیڈی ڈاکٹر کے پاس بیگم صابر گئی تھیں۔ ان کی لڑکی نور کی حالت ٹھیک نہ تھی اور وہ چاہتی تھیں کہ لیڈی ڈاکٹر ان کی مدد کرے، جب انہوں نے اپنی بیٹی کا تفصیلی حال بتایا تو ڈاکٹر نے ان کی مدد سے انکار کر دیا کیونکہ حالات غیرمعمولی تھے۔ تب یہ دایہ نفیسہ ان کے ہمراہ چلی گئی تھی۔
بہرحال اس بچاری لڑکی کا انتقال ہوگیا۔ غالباً نور کی والدہ نے اپنے گھرانے کو بدنامی سے بچانے کے لئے اس اناڑی عورت کا سہارا لیا ہوگا۔
ان لوگوں کی عزت تو بچ گئی مگر یہ لڑکی کو نہ بچا سکی۔ نفیسہ نے یہ بات ایک ہیلتھ ورکر کو بتائی تو اس کی شکایت اُس نے ڈاکٹر سلیمہ سے کر دی یوں اس عورت کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ حوالۂ پولیس اس وجہ سے نہ کیا کہ کیس بن جانے کی صورت میں ایک شریف خاندان کی عزت مٹی میں مل جاتی۔ جب میں نے نفیسہ سے اس بات کی تصدیق چاہی تو اس کا رنگ فق ہوگیا اور وہ جلدی سے اپنی چادر اوڑھ کر امی کے گھر سے چلی گئی، تب میری سمجھ میں آ گیا کہ معاملہ کیا تھا نور کی موت کا معمہ حل ہوگیا۔
دُعا ہے اللہ تعالیٰ نور جیسی ناسمجھ لڑکیوں کو فراز جیسے نوجوانوں سے بچائے۔ ورنہ نفیسہ جیسی عورتیں ان کی زندگیوں سے کھیلتی رہیں گی۔ آج نفیسہ بھی اس دُنیا میں نہیں ہے لیکن انسان کو مرنے کے بعد اپنی خطائوں کا حساب تو دینا ہوگا۔ (ک۔ر… گوجرانوالہ)