Uljhan | Complete Story

1120
کچھ لوگ خاص قسمت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ جس شعبے میں بھی ہوتے ہیں کامیابی سے اس طرح ہمکنار ہوتے ہیں کہ دیکھنے سُننے والے ان پر رشک کرتے ہیں۔ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور ان کی پہچان سب سے الگ ہوتی ہے۔ جمشید ہمایوں کا بھی شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا تھا۔
جمشید ہمایوں کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی۔ اس کا رنگ صاف، آنکھیں پُرکشش جن پر ہر وقت فریم لیس چشمہ ٹکا رہتا تھا۔ سر کے بال سیاہ اور سفید تھے جس سے اس کی شخصیت مزید جاذبِ نظر لگتی تھی، جو لباس پہنتا اس پر اچھا لگتا۔ جمشید ہمایوں ایک بڑا فکشن رائٹر تھا۔ کوئی پرچہ اس کی کہانیوں کے بغیر نہیں چھپتا تھا۔ وہ کئی کتابوں کا مصنف تھا اور اب ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ہاٹ کیک بنا ہوا تھا۔
جمشید ہمایوں کی خوبصورت بیوی اور تین بچّے تھے۔ وہ ایک مطمئن اور آسودہ زندگی گزار رہا تھا۔ گھر کی اُوپر والی منزل پر اس نے ایک کمرا اپنے لکھنے اور پڑھنے کے لیے مختص کر لیا تھا۔ اس کمرے میں ایک دیوار سے دُوسری دیوار تک کتابیں دکھائی دیتی تھیں جو قرینے سے رکھی تھیں۔ ایک بڑی میز، اس کے پیچھے گھومنے والی کرسی موجود تھی۔ جب وہ لکھنے کے لیے کمرے میں چلا جاتا تو پھر یوں لگتا جیسے وہ گھر میں موجود نہیں ہے۔ وہ کئی کئی گھنٹے کمرے میں بند رہتا تھا۔
جمشید ہمایوں کی بیوی خوبصورت اور تعلیم یافتہ تھی۔ اس کے باوجود حسن پرست تھا۔ وہ خوبصورت خواتین سے باتیں کرنا پسند کرتا تھا۔ اس سے اس کے دل کو تسکین بھی ملتی تھی اور کوئی نہ کوئی مواد بھی مل جاتا تھا۔
ان دنوں جمشید ہمایوں کے ساتھ ڈرامہ انڈسٹری کی ایک بڑی کمپنی میٹنگ کے لیے وقت مانگ رہی تھی۔ اپنی مصروفیت کی وجہ سے وہ ان کو وقت نہیں دے پا رہا تھا۔ ایک بڑے رسالے میں اس کا ناول مکمل ہونے کے قریب تھا اور شہر کے ایک بڑے پبلشر نے بڑی مشکل سے اس ناول کو شائع کرنے کے حقوق حاصل کیے تھے۔
جمشید ہمایوں کی کبھی اس پبلشر سے نہیں بنی تھی۔ اس پبلشر کا نام عارف حسین تھا۔ جانے کیا وجہ تھی کہ وہ اسے پہلی ملاقات میں ہی پسند نہیں آیا تھا۔ وہ اسے ناول دینا پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ اپنا ناول کسی اور پبلشر کو دے دیتا تھا اور اسے ٹال جاتا تھا۔ بڑی تگ و دو کے بعد عارف کسی نہ کسی طرح جمشید ہمایوں کے سلسلے وار ناول کو کتابی شکل میں شائع کرنے کے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ جمشید نے اس سے منہ مانگے پیسے لیے تھے۔ عارف نے پیسے دینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔
ایک شام جمشید ہمایوں کو ڈرامہ بنانے والی کمپنی کی طرف سے فون آیا کہ وہ اس کے ساتھ ایک ڈرامہ سیریل کے لیے میٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔ جمشید ہمایوں نے کہا۔ ’’اس شدید گرمی میں میٹنگ کرنے کا کیا مزہ آئے گا۔ اگر میٹنگ ہی کرنی ہے تو کسی پُرفضا شہر میں چلتے ہیں، وہاں اطمینان سے میٹنگ کرتے ہیں۔‘‘
دُوسری طرف سے کمپنی کے منیجر نے کہا۔ ’’آپ جہاں چاہیں ہم میٹنگ کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
’’ایسا کریں آپ مری یا بھوربن میں میٹنگ کا شیڈول بنا لیں۔ ہوٹل میں کمرہ بک کرا کے مجھے اطلاع کر دیں میں اسی دن وہاں پہنچ جائوں گا۔‘‘
’’جی بہتر… میں آپ کو کل ہی اطلاع کرتا ہوں۔‘‘
’’مجھے انتظار رہے گا۔‘‘ جمشید ہمایوں نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔ اسی وقت عارف کا فون آ گیا۔
’’میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟‘‘ عارف نے پوچھا۔
’’جب میرا فون اوپن ہو تو سمجھ لیں کہ میں فری ہوں، اس لیے ڈسٹرب ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ جمشید ہمایوں نے جواب دیا۔
’’دراصل ناول کا سرورق بن گیا تھا۔ میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا تاکہ اگر کوئی کمی بیشی ہو تو آپ کے مشورے سے اسے دُور کیا جا سکے۔‘‘ عارف نے کہا۔
’’اچھا سرورق تیار ہوگیا۔‘‘
’’جی ہاں… اور سرورق بنانے میں بڑی محنت کی گئی ہے۔ ایک بڑے رائٹر کا ناول ہے تو ہر چیز پر توجہ دینا میری ذمے داری ہے۔‘‘ عارف بولا۔
’’ظاہر ہے محنت سے ہی پھل ملتا ہے۔ کب دکھائیں گے آپ سرورق؟‘‘ جمشید نے پوچھا۔
’’جب آپ حکم کریں۔‘‘
’’آپ ایسا کریں کل دن میں گیارہ بجے مجھے فون کر لیں۔ پھر میں آپ کو بتا دوں گا کہ آپ کس وقت میرے پاس آسکتے ہیں۔‘‘ جمشید نے کہا۔
’’جی بہتر… میں کل گیارہ بجے آپ کو کال کروں گا۔‘‘ عارف نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
جمشید دروازے پر ہونے والی ہلکی دستک پر چونکا اور اس نے اس طرف دیکھا تو اس کی بیوی مائرہ کھڑی مسکرا رہی تھی۔
’’اپنی کسی کہانی کا کردار سمجھ کر مجھ سے بھی بات کر لیا کریں۔‘‘ مائرہ بولی۔
جمشید ہمایوں ہنسا۔ ’’ارے واہ… تمہارے اس جملے نے تو مجھے چونکا دیاہے۔ کہیں تم نے بھی تو لکھنا شروع نہیں کر دیا۔‘‘
’’میں آپ کے دل کی دھڑکنوں پر اپنے پیار کی کہانی لکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔‘‘ مائرہ قریب ہو کر بولی۔
’’آپ کی لکھی ہوئی اس پیار کی کہانی کا ایک ایک لفظ میری سانسوں میں بسا ہوا ہے۔‘‘ جمشید نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
’’آپ ایک رائٹر ہیں، لفظوں کے جادوگر۔ میں آپ سے باتوں میں نہیں جیت سکتی۔‘‘
’’آپ کے آگے میرا ہر لفظ بے جان ہے۔‘‘ جمشید اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔
مائرہ ہنسی۔ ’’میں نے وہ جملہ آپ کی کہانی میں پڑھ کر بولا تھا۔ آپ تو آبشار ہیں، میرے پاس کہاں الفاظ اور کہاں باتیں۔‘‘
’’آپ کو دیکھتا ہوں تو میری کہانی کی تخلیق ہوتی ہے۔‘‘ جمشید اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
مائرہ پھر ہنسی۔ ’’یہ جملہ آپ کئی بار مجھ سے کہہ چکے ہیں۔‘‘
’’اچھا… پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ ٹھیک ہے آئندہ کچھ اور کہوں گا۔‘‘ جمشید بھی ہنسا۔ ’’بات سنو۔ مجھ سے ایک ڈرامہ کمپنی ڈرامہ سیریل لکھوانا چاہتی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے مری میں میٹنگ رکھی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو لیکن بچوں کے امتحان سر پر ہیں اس لیے میں تم لوگوں کو ساتھ نہیں لے جا سکتا۔ ویسے بھی دو دن کے لیے جانا ہے۔‘‘
’’میں ابھی کہیں جانا نہیں چاہتی۔ آپ چلے جائیں۔‘‘ مائرہ نے کہا۔ ’’اپنا خیال رکھیے گا۔ وقت پر کھانا کھایئے گا اور سگریٹ کم کیے ہیں تو اب کم ہی رہیں… بڑھ نہ جائیں۔‘‘ مائرہ سمجھانے والے انداز میں بولی۔
’’آپ کی ہر بات پر عمل ہوگا۔ آپ کی ہدایت کے خلاف کوئی کام نہیں ہوگا۔‘‘ جمشید نے سر کو خم کرتے ہوئے کہا۔
مائرہ کو سیر و سیاحت سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اسے اپنے گھر اور بچوں سے عشق تھا۔ وہ ان کے درمیان رہنا چاہتی تھی ورنہ وہ جمشید کے ساتھ جانے کے لیے فوراً تیار ہو جاتی اور بچوں کے امتحانات کو بھی نہ گردانتی۔
٭…٭…٭
دُوسرے دن جمشید کو اطلاع مل گئی کہ اس کا کمرہ بُک ہو چکا ہے، اتفاق سے ڈرامہ کمپنی کے مالکان بھی اسلام آباد میں تھے۔ انہیں جیسے ہی علم ہوا کہ جمشید ہمایوں کچھ وقت گزارنے کے ساتھ میٹنگ بھی کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے فوراً اس کی سیاحت کا بندوبست کر دیا۔ جمشید ہمایوں کو تین بجے جہاز کے ذریعے اسلام آباد کے لیے نکلنا تھا۔
ٹھیک گیارہ بجے عارف کا فون آگیا۔ جمشید ہمایوں نے کہا۔ ’’آپ ایسا کریں ابھی میرے پاس آ جائیں۔ مجھے تین بجے کی فلائٹ پکڑنی ہے۔‘‘
’’میں ابھی آیا۔‘‘ عارف نے کہا اور فون بند کر دیا۔
عارف، جمشید ہمایوں کے گھر آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا۔ دس منٹ انتظار کے بعد جمشید ہمایوں نے اسے اپنے اسٹڈی روم میں بلا لیا۔
’’میرے پاس وقت کم ہے اس لیے آپ مجھے وہ سرورق دکھا دیں جو آپ نے بڑی محنت سے بنوایا ہے۔‘‘ جمشید ہمایوں کو جانے عارف سے کیا عداوت تھی، وہ کیوں اسے ناپسند تھا، اس کی وجہ خود جمشید ہمایوں کو بھی معلوم نہیں تھی۔ اس نے عارف کو چائے کا پوچھنے کی بجائے سرورق کی بات اس انداز میں کی جیسے وہ اس کا تمسخر اُڑا رہا ہو۔
عارف نے بھی ایک عمر گزاری تھی۔ اس نے لفظوں میں ہوش سنبھالا تھا۔ اس نے جمشید ہمایوں کے لہجے کی کاٹ کو فوراً محسوس کر لیا تھا لیکن اپنے چہرے سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا۔
’’مجھے آپ کے قیمتی وقت کا احساس ہے۔‘‘ عارف مسکراتے ہوئے بولا اور ایک خاکی لفافے سے سرورق نکال کر جمشید ہمایوں کی طرف بڑھا دیا۔
جمشید ہمایوں سرورق کو بغور دیکھنے لگا۔ سب سے اُوپر اس کے ناول کا نام لکھا تھا اور نیچے ایک لڑکی کی تصویر تھی۔ وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی، اس کے بال سُنہری تھے، غزالی آنکھیں اور گداز سُرخ ہونٹ۔ تصویر میں لڑکی کا ایک کان دکھائی دے رہا تھا اور کان کی لَو پر ایک سیاہ تل واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک آدمی کی تصویر تھی۔ اس کی آنکھوں میں سُرخی اور چہرہ درشت تھا، وہ ہنس رہا تھا اور ہنسی میں بھی سفّاکی ہی جھلک رہی تھی اور ایک دانت جو سونے کا تھا، صاف دکھائی دے رہا تھا۔ تیسری تصویر ایک نوجوان کی تھی جس کے ہاتھ میں ریوالور تھا اور اس کی نگاہیں کہیں دُور مرکوز تھیں۔ سرورق میں ایک گاڑی بھی دکھائی دے رہی تھی جس کا نمبر سڑسٹھ تھا۔
سرورق پر واقعی محنت کی گئی تھی۔ کلر اسکیم بہت عمدہ تھی اور سرورق جاذبِ نظر تھا۔ جمشید ہمایوں نے بہت دیر تک اس پر نگاہیں جمائے رکھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اس میں کوئی ایسا نقص نکالے کہ عارف اس پر پھر کام شروع کر دے لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا نقص نکالے چنانچہ اس نے سرورق کو لفافے میں رکھتے ہوئے کہا۔ ’’میرا ذہن سفر میں اُلجھا ہوا ہے۔ میں اسے جہاز میں بیٹھ کر اطمینان سے دیکھوں گا۔‘‘
’’میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ آپ اطمینان اور سکون سے اس سرورق پر غور کریں تاکہ کوئی خامی نہ رہ جائے۔‘‘ عارف نے کہا۔
’’پھر یہ میں اپنے پاس رکھ لوں؟‘‘ جمشید ہمایوں نے پوچھا۔
’’یہ آپ کے لیے ہی ہے… میرے پاس کمپیوٹر میں یہ سرورق محفوظ ہے۔‘‘ عارف نے کہا۔
’’ٹھیک ہے پھر میں آپ سے رابطہ کروں گا۔‘‘ جمشید ہمایوں نے لفافہ ایک طرف رکھ دیا۔ اور اس کے لہجے سے صاف عیاں تھا کہ اب وہ چاہتا ہے عارف اُٹھ کر چلا جائے۔
’’ابھی ہمارے پاس دو ماہ ہیں۔ دو ماہ کے بعد آپ کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے۔ تب ہم کتابی شکل میں اسے مارکیٹ میں لے کر آئیں گے۔ آپ اطمینان سے سرورق دیکھ لیں۔‘‘ عارف اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ جمشید ہمایوں نے سردمہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا جیسے وہ کچھ تلاش کر رہا ہو، مگر وہ کچھ تلاش نہیں کر رہا تھا وہ محض عارف کو نظرانداز کر رہا تھا۔
عارف نے جمشید ہمایوں کی طرف دیکھا اور پھر اجازت لے کر مسکراتا ہوا چلا گیا۔
٭…٭…٭
جمشید ہمایوں جہاز میں بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں عارف کا دیا ہوا سرورق موجود تھا۔ اُس کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ عارف بہت ذہین ہے۔ اس نے ایسا سرورق بنوایا ہے جو واقعی جاذبِ نظر اور پُرکشش ہے۔ وہ اس کے منہ پر اس کی تعریف نہیں کر سکا تھا لیکن اس وقت اسے دل ہی دل میں داد دے رہا تھا۔
جمشید ہمایوں نے سرورق لفافے میں ڈال کر اپنے بیگ میں رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ موبائل فون کے ساتھ مصروف رہا اور اسی طرح اس کا سفر گزر گیا۔
ایئرپورٹ پر اسے کمپنی کی طرف سے ڈرائیور لینے کے لیے آیا تھا۔ وہ سیدھا اسے ہوٹل میں لے گیا۔ ایک شاندار اور کشادہ کمرا اس کا منتظر تھا۔ کمرے میں جا کر اس نے کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر باہر کا نظارہ کیا اور منہ ہاتھ دھونے باتھ روم میں چلا گیا۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد انہوں نے میٹنگ کی۔ بہت سی باتیں طے ہوگئیں اور جمشید ہمایوں ان کی ڈرامہ سیریل لکھنے کے لیے رضامند ہوگیا۔
رات کا ڈیڑھ بج گیا تھا جب جمشید ہمایوں اپنے ہوٹل پہنچا۔ وہ سیڑھیوں کے ذریعے اُوپر جانے لگا تو ایک لڑکی تیزی سے سیڑھیاں اُترتی ہوئی آئی اور جمشید سے ٹکرا گئی۔ اس نے بمشکل اپنے آپ کو سنبھالا اور ساتھ ہی اس نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیڑھیوں سے نیچے گرنے سے بچایا۔ لڑکی نے سنبھل کر ایک نظر جمشید ہمایوں کی طرف دیکھا اور بولی۔ ’’شکریہ… شکریہ آپ نے مجھے گرنے سے بچا لیا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں… شاید آپ بہت جلدی میں ہیں۔‘‘ جمشید ہمایوں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی مجھے جلدی ہے۔ ایک بار پھر آپ کا شکریہ۔‘‘ لڑکی عجلت میں کہہ کر تیزی سے سیڑھیاں اُترنے لگی۔ جمشید ہمایوں کچھ دیر وہاں کھڑا مسکراتا رہا۔ پھر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے کوٹ اُتار کر ایک طرف رکھا اور باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے قدم اسی جگہ رُک گئے۔ اس کے چہرے سے مسکراہٹ معدوم ہوگئی وہ متحیر ہو کر سوچنے لگا۔ پھر وہ تیزی سے اپنے بیگ کی طرف بڑھا اور اس نے زِپ کھول کر لفافہ نکالا اور ناول کا سرورق غور سے دیکھنے لگا۔ اس کی نگاہیں لڑکی کے چہرے پر مرکوز تھیں اور وہ حیرت سے زیرِ لب کہہ رہا تھا۔ ’’ناقابلِ یقین… ناقابلِ یقین…‘‘
جمشید ہمایوں کی آنکھوں کے سامنے اس لڑکی کا چہرہ تھا جسے اس نے سیڑھیوں سے گرنے سے بچایا تھا۔ اس وقت اس نے اس طرف توجہ نہیں دی تھی اور اب اچانک اسے خیال آیا تھا کہ اس لڑکی کا چہرہ سو فیصد اس لڑکی جیسا ہے جو سرورق پر بنی ہوئی تھی۔ سرورق پر بنی لڑکی کو دیکھ کر جمشید ہمایوں کا ابہام دُور ہوگیا تھا، اس لڑکی کی شکل بالکل اسی لڑکی جیسی تھی۔
جمشید ہمایوں نے سرورق بیڈ پر چھوڑا اور کمرے سے باہر نکل کر تیزی سے سیڑھیاں اُترنے لگا۔ رات کے اس پہر لابی میں چند افراد خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ان میں دو خواتین بھی تھیں۔ جمشید نے ان کے چہروں کو غور سے دیکھا اور پھر اس کی متلاشی نگاہیں دائیں بائیں گھومنے لگیں۔ وہ لڑکی کہیں دکھائی نہیں دی۔ جمشید باہر تک گیا۔ جب اسے وہ لڑکی نہ ملی تو وہ واپس کمرے میں آ گیا۔ جمشید بیڈ پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔ نہیں یہ میرا وہم ہے۔ میں اس سرورق میں اتنا کھویا رہا تھا کہ شاید وہ لڑکی میرے شعور میں بس گئی ہے۔ اس لیے مجھے لگا جیسے وہ لڑکی اس سرورق پر بنی لڑکی جیسی ہے۔ جمشید نے خود ہی اپنے خیال کو رَدّ کر دیا اور اسے اپنا واہمہ قرار دے کر باتھ روم میں چلا گیا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ لباس تبدیل کر کے آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹا تھا۔
٭…٭…٭
ناشتے سے فارغ ہو کر جمشید ہمایوں نے کپڑے تبدیل کیے۔ جمشید ابھی آئینے میں اپنا جائزہ لے رہا تھا کہ دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔ جمشید نے آنے کی اجازت دے دی۔ اس کی دانست میں ویٹر تھا جو ناشتے کے برتن لینے آیا ہوگا۔ لیکن اس وقت وہ حیرت سے چونک پڑا جب اس نے دروازے پر اُسی لڑکی کو دیکھا جو رات اس سے ٹکرائی تھی۔
’’میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں بالکل نہیں۔‘‘ جمشید کی نگاہیں اس کے چہرے پر تھیں اور اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’آپ کے کمرے سے چار کمرے چھوڑ کر میرا کمرا ہے۔ رات جب آپ نیچے سے اُوپر آ کر اپنے کمرے میں جا رہے تھے تو میں اس وقت اپنے کمرے میں داخل ہو رہی تھی اور اپنا دروازہ بند کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا تھا۔ دراصل میرا آنے کا مقصد یہ تھا کہ میں آپ کا شکریہ ادا کر دوں… رات اگر آپ میرا ہاتھ نہ پکڑتے تو میں بُری طرح گرتی اور پھر شاید میں اس وقت اسپتال میں ہوتی۔ ایک بار پھر آپ کا بہت بہت شکریہ۔‘‘ وہ لڑکی بولی۔
’’اس میں شکریے کی کوئی بات نہیں۔‘‘ جمشید کی نگاہیں ابھی تک اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
’’میرا نام ناعمہ ہے۔ میں ٹیکسی میں اپنا بیگ بھول گئی تھی۔ مجھے جونہی یاد آیا میں نیچے بھاگی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ٹیکسی والا استقبالیہ پر کھڑا میرا بیگ دے رہا تھا۔‘‘ اس نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا۔
’’مجھے جمشید ہمایوں کہتے ہیں۔‘‘
’’فکشن رائٹر… جمشید ہمایوں…؟‘‘ ناعمہ ایک دَم چونک کر اپنی شہادت کی اُنگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خوشگوار حیرت سے بولی۔
’’آپ فکشن پڑھتی ہیں؟‘‘
’’بہت زیادہ… آپ کی ہر کہانی، ہر ناول میں نے پڑھا ہے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ آپ میرے سامنے موجود ہیں۔ اوہ خدایا میں اتنے بڑے رائٹر سے ٹکرائی تھی، اتنے بڑے رائٹر نے میرا ہاتھ پکڑا تھا… مجھے یقین نہیں آ رہا۔‘‘ ناعمہ کی خوشی قابل دید تھی۔
ایک لکھنے والے کو جب اس کا قاری مل جائے اور وہ اس سے مل کر خوش بھی ہو تو لکھنے والے کا اَنگ اَنگ خوشی میں ڈُوب جاتاہے۔ ایسا ہی حال جمشید ہمایوں کا بھی تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے سب کچھ بھول کر بولا۔ ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ میری اتنی بڑی قاری اس ہوٹل میں موجود ہے۔‘‘
’’یہ تو میری خوش نصیبی ہے۔ سر آپ مجھے اپنا فون نمبر دیں گے۔‘‘ ناعمہ نے پوچھا۔
’’ایک شرط پر فون نمبر دوں گا۔‘‘
’’شرط کیا ہے؟‘‘
’’آپ مجھے سر نہیں… جمشید ہمایوں کہہ کر مخاطب کریں۔‘‘
’’آپ کو میں سر کہہ کر ہی مخاطب کروں گی، نام لیتی اچھی نہیں لگوں گی۔‘‘ ناعمہ مسکرائی۔
جمشید نے جیب سے اپنا کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ میرا کارڈ ہے اور آپ مجھے جمشید صاحب کہہ لیا کریں… سر بہت بڑا لفظ ہے اس کا میں ابھی اہل نہیں ہوں۔‘‘ جمشید کی نگاہ اچانک اس کے کان پر چلی گئی۔ وہ چونک گیا۔ اس کے کان کی لَو پر سیاہ تل تھا۔ بالکل ویسا ہی تل جیسا سرورق کی لڑکی کے کان پر تھا۔ جمشید نے متانت سے پوچھا۔ ’’آپ کے خاندان میں کوئی آرٹسٹ ہے؟‘‘
’’میرے خاندان میں کوئی آرٹسٹ نہیں۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں سر؟‘‘ ناعمہ بولی۔
’’آپ کسی ایسے آرٹسٹ سے ملی ہیں جو تصویریں بناتا ہو؟‘‘
’’آج تک ایسا اتفاق نہیں ہوا۔‘‘ ناعمہ نے کہا۔ اچانک اس کا فون بجا اور اس نے فون کی اسکرین کی طرف دیکھتے ہی کہا۔ ’’مجھے جانا ہوگا۔ سر آج دوپہر کا کھانا آپ میرے ساتھ کھا سکتے ہیں۔‘‘
’’اس تکلّف کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں…‘‘
’’پلیز سر انکار مت کریں۔ آج دوپہر اسی ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں… پلیز پلیز سر۔‘‘
جمشید ہمایوں زیادہ انکار نہیں کر سکا۔ اس نے ہامی بھر لی اور مری جانے کا ارادہ فی الحال ملتوی کر دیا۔ ناعمہ شکریہ ادا کر کے چلی گئی اور جمشید ہمایوں نے ایک بار پھر وہ سرورق نکال لیا۔ تصویر اور لڑکی میں کوئی فرق نہیں تھا… بالکل کوئی فرق نہیں تھا… جمشید ہمایوں سوچنے لگا، یہ اتفاق ہے یا آرٹسٹ نے اسے کبھی دیکھا تھا اور اس نے اس کی تصویر بنا دی؟ معاملہ کیا ہے؟
٭…٭…٭
جمشید ہمایوں نے سیاحت کا اِرادہ ترک کر دیا اور ناعمہ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کا پروگرام ترتیب دے دیا۔ اسے ناعمہ اچھی لگی تھی۔ وہ اپنے شہر اور بیوی بچوں سے دُور تھا اس لیے اسے کوئی خوف لاحق نہیں تھا۔
جمشید ہمایوں نے بہترین سوٹ زیب تن کیا اور ابھی وہ آئینے میں اپنا جائزہ لے رہا تھا کہ اس کے موبائل فون پر ایک نمبر عیاں ہوا۔ اس نے فون کان سے لگایا تو دُوسری طرف سے ناعمہ کی آواز آئی۔ ’’سر آپ لنچ کے لیے آ رہے ہیں نا؟‘‘
’’آپ نے اصرار ہی اتنا کیا تھا کہ انکار کی اب کوئی وجہ نہیں رہی۔‘‘ جمشید ہمایوں نے جواب دیا۔
’’آپ کے نام پر میز ریزرو کرا دی ہے سر۔ میں اپنی ایک دوست کی طرف گئی تھی، ٹیکسی میں بیٹھی سیدھی ہوٹل آ رہی ہوں۔‘‘
’’میں ڈائننگ ہال میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘ جمشید بولا۔
’’اُصولی طور پر تو مجھے انتظار کرنا چاہیے تھا لیکن ایک ایمرجنسی ہوگئی تھی۔ آئی ایم سوری سر! میں بس پہنچ رہی ہوں۔‘‘ ناعمہ کے لہجے میں ندامت تھی۔
’’آپ کا انتظار کرنا مجھے اچھا لگے گا۔‘‘ جمشید نے مسکرا کر کہا اور رابطہ منقطع کر دیا۔
تھوڑی دیر کے بعد جمشید ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں چلا گیا۔ وہاں خوب گہما گہمی تھی۔ جمشید نے استقبالیہ کی میز پر جا کر اپنی ریزرو میز کے بارے میں پوچھا تو ایک ویٹر اسے مؤدبانہ انداز میں میز تک لے گیا۔ جمشید کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا موبائل فون نکال کر میز پر رکھ دیا۔
جمشید ہمایوں کا اِرادہ تھا کہ وہ کھانا کھانے کے بعد ناعمہ کو اپنے کمرے میں لے جائے گا اور اپنے ناول کا سرورق دکھائے گا جس میں اس جیسی لڑکی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ وہ اسے تصویر دکھا کر حیران کر دے گا۔ ناعمہ اس کے نئے ناول کے سرورق پر اپنی تصویر دیکھ کر یقیناً خوش ہوگی۔ وہ اس کے اور بھی قریب آ جائے گی۔ جمشید سوچ کر خود مسکرا دیا۔
اچانک ایک ہلکی اور مؤدبانہ آواز اس کی سماعت میں پڑی۔ ’’ایکسکیوز می سر…‘‘
جمشید یک دم چونکا اور اس نے سر اُٹھاکر اپنے قریب کھڑے نوجوان کی طرف دیکھا۔ ’’جی۔‘‘
’’آپ جمشید ہمایوں ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’جی۔‘‘ جمشید اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’میرا نام احمر ہے۔ کیا میں کچھ دیر آپ کے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں۔‘‘ اس نے اجازت چاہی۔
جمشید ہمایوں اسے بیٹھنے کی اجازت دینے کی بجائے بُری طرح چونک کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی اور اس کی خیرہ نگاہیں نوجوان کے چہرے پر مرکوز تھیں، کیونکہ یہ وہی نوجوان تھا جس کی تصویر اس کے ناول کے سرورق پر بنی ہوئی تھی۔ پہلے وہ لڑکی اور اب لڑکا بھی اس کے سامنے آ گیا تھا۔ جمشید کی آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی تھیں۔ یہ وہی نوجوان تھا… بالکل وہی چہرہ۔
’’کیا ہوا آپ گھبرا کیوں گئے ہیں۔‘‘ نوجوان نے پوچھا۔
جمشید کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ وہ ٹکٹکی باندھے احمر کی طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا، لڑکی کی تصویر اتفاقیہ مماثلت ہو سکتی تھی لیکن یہ لڑکا اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔ سرورق پر بنی تصویروں سے اس کا سامنا ہو رہا تھا۔ وہ حیران تھا کہ یہ سب حقیقت میں دیکھ رہا ہے، یا کوئی خواب ہے؟
’’کیا ہوا سر… آپ اس طرح سے کیا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ احمر نے پھر پوچھا۔
’’میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘ جمشید ہمایوں یہ کہہ کر آگے بڑھا۔
احمر نے اس کا بازو پکڑ کر آہستہ سے کہا۔ ’’سر میں آپ کو یہ بتانا چاہتا تھا آپ کی جان کو خطرہ ہے۔‘‘
جمشید نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’میری جان کو کیوں خطرہ ہے؟‘‘
’’آپ کو کوئی قتل کرنا چاہتا ہے۔‘‘ احمر نے انکشاف کیا۔
جمشید کے چہرے پر حیرت گہری ہوگئی۔ ’’مجھے کوئی کیوں قتل کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔‘‘
’’میں آپ کو یہ تفصیل یہاں نہیں بتانا چاہتا۔ آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘ احمر نے کہا۔
’’میں تمہارے ساتھ کیوں چلوں؟‘‘
’’سر… میرا تعلق خفیہ پولیس سے ہے۔ میں آپ کی حفاظت کے لیے آیا ہوں۔ پلیز آپ میرے ساتھ چلیں۔‘‘ احمر نے دھیمے لہجے میں کہا۔
جمشید ہمایوں کی اچانک دروازے کی طرف نظر پڑی تو اس نے دیکھا ناعمہ اسی طرف آ رہی تھی۔ وہ قریب آتے ہی بولی۔ ’’سوری سر میں ٹریفک کی وجہ سے لیٹ ہوگئی۔ آپ کو انتظار کی کوفت سے گزرنا پڑا…‘‘ اس کے ساتھ ہی اس کی نظر احمر پر پڑی تو اس نے کہا۔ ’’آپ یہاں… سر سے ملنے آئے ہیں؟‘‘
’’آپ انہیں جانتی ہیں؟‘‘ جمشید نے پوچھا۔
’’یہ احمر ہیں۔ خفیہ پولیس میں ہوتے ہیں۔ ان کے ابو میرے ابو کے دوست ہیں۔‘‘ ناعمہ نے بتایا۔
’’یہ کہہ رہے ہیں میری جان کو خطرہ ہے۔‘‘ جمشید بولا۔ اس کے لہجے سے پریشانی اور خوف مترشح تھا۔
جمشید کی بات سُن کر ناعمہ نے احمر کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ ’’یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘
’’میں ساری بات یہاں نہیں بتا سکتا۔ ان کو ابھی میرے ساتھ چلنا ہوگا۔ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔‘‘ احمر نے ڈائننگ ہال کے داخلی اور خارجی دروازے کی طرف دیکھ کر کہا۔ جمشید مزید پریشان ہو گیا۔
’’سر… بہتر ہے آپ ان کے ساتھ چلے جائیں۔ احمر بہت ذمہ دار افسر ہیں۔‘‘ ناعمہ نے مشورہ دیا۔
’’آپ بھی ساتھ چلیں۔‘‘
’’میں بھی چلی چلتی ہوں۔ میرے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ ناعمہ بولی۔
’’جلدی چلو۔‘‘ احمر کہتا ہوا دروازے کی طرف چل پڑا۔ اس کے پیچھے ناعمہ اور جمشید بھی چلنے لگے۔ بے فکر زندگی میں اچانک تلاطم آ گیا تھا۔ تفکرات اور اندیشوں نے اُسے گھیر لیا تھا۔ اچانک اس پر خوف مسلط ہو گیا تھا۔
’’وہ سامنے گاڑی کھڑی ہے اس طرف چلیں۔‘‘ ہوٹل سے باہر نکلتے ہی احمر نے ایک گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔
تیز تیز چلتے ہوئے جمشید نے گاڑی کی طرف دیکھا تو جیسے اس کا سر چکرا گیا… کیونکہ گاڑی کا
نمبر سڑسٹھ تھا اور اس نمبر کی گاڑی سرورق میں دکھائی گئی تھی۔ جمشید سے چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ سرورق پر موجود کردار اس کے سامنے جیتے جاگتے رُوپ میں آتے جارہے ہیں۔
احمر نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی جبکہ جمشید اور ناعمہ پچھلی سیٹوں پر براجمان ہوگئے۔ احمر نے کسی ماہر ڈرائیور کی طرف گاڑی بیک کی اور پھر آگے بڑھا دی۔ اس کار کے ٹائر چیخے اور سڑک پر جاتے ہی کار برق رفتاری سے بھاگنے لگی۔
’’آپ بتائیں گے مجھے کون اور کیوں قتل کرنا چاہتا ہے؟‘‘ جمشید نے اپنی ہمت کو جمع کر کے پوچھا۔
’’اطلاع ہے کہ آپ کو کچھ لوگ مارنا چاہتے ہیں۔ میرے آدمی اس کا کھوج لگارہے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ کے شہر سے یہاں تک آپ کا تعاقب کیا گیا تھا۔ جس فلائٹ میں آپ نے سفر کیا اس فلائٹ میں بھی ان کا آدمی موجود تھا۔ وہ لوگ آپ کو کسی پبلک مقام پر قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ احمر نے گاڑی چلاتے ہوئے بتایا۔
’’مجھے لگتا ہے آپ لوگوں کی اطلاع غلط ہے، مجھے کوئی کیوں مارنا چاہے گا۔ میری کسی سے کوئی دُشمنی نہیں ہے۔ میں لکھنے پڑھنے والا آدمی ہوں۔‘‘ یہ بات کہہ کر جمشید نے جیسے اپنے آپ کو حوصلہ دیا تھا۔
’’اللہ کرے ہماری اطلاع غلط ہو اور ایسی کوئی بات نہ ہو لیکن جب تک بات واضح نہیں ہو جاتی اور ہماری تسلی نہیں ہو جاتی ہم آپ کے تحفظ کے لیے ہر قدم اُٹھائیں گے۔ آپ ہمارا سرمایہ ہیں۔‘‘ احمر نے کہا۔
جمشید ہمایوں کی ایک بار پھر توجہ سرورق پر چلی گئی اور اس نے ان دونوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اپنے آپ سے کہا۔ وہ اسی نمبر کی گاڑی میں بیٹھا ہے جس نمبر کی گاڑی سرورق میں دکھائی دے رہی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے دونوں کیا انسان ہی ہیں، یا کوئی ایسی مخلوق جن کا انسانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے؟ اس خیال نے جمشید کو مزید پریشان کر دیا۔
گاڑی جس سڑک پر جا رہی تھی اس سڑک پر زیادہ رش نہیں تھا۔ دائیں بائیں درخت اور سبزہ تھا۔ اچانک گاڑی جھٹکے کھانے لگی۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ ناعمہ نے پوچھا۔
’’گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا ہے۔‘‘ احمر نے بتایا۔
’’شِٹ… گاڑی کا پٹرول بھی اس جگہ ختم ہونا تھا جہاں ویرانی زیادہ ہے۔ اس جگہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ ناعمہ بولی۔
جمشید نے متوحش نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ مزید خوف زدہ ہو گیا تھا۔
’’کہتی تو تم ٹھیک ہو۔‘‘ احمر بولا۔ اس کی گاڑی سڑک کے ایک طرف کھڑی ہوگئی تھی۔
’’آپ کچھ اور پولیس والے بلا لیں۔‘‘ ناعمہ نے کہا۔
’’میں ایسا نہیں کر سکتا۔ یہ بات بہت محدود لوگوں کے علم میں ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہیں پولیس میں بھی کچھ ایسے لوگ نہ ہوں جو ان کے ساتھی ہوں اور ان کو نقصان پہنچ جائے۔‘‘ احمر نے کہا۔
’’ہم نے جانا کہاں ہے؟‘‘ جمشید نے پوچھا۔
’’یہاں سے سات آٹھ کلومیٹر دُور ایک محفوظ جگہ ہے، بس وہاں تک جانا ہے۔‘‘ احمر نے بتایا۔ ’’آپ لوگ اس جگہ رُکیں آگے دس منٹ کے فاصلے پر پٹرول پمپ ہے میں پٹرول لے کر آیا۔‘‘ احمر باہر نکلا اور ڈکی سے ایک کین نکال کر بھاگتا ہوا چلا گیا۔
’’مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی کچھ ہو جائے گا۔‘‘ ناعمہ نے سامنے دیکھتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں کہا۔ اسی وقت ایک تیز رفتار کار پیچھے سے آئی اور ان کے آگے کھڑی ہوگئی۔ جمشید اور ناعمہ کی نگاہیں سامنے مرکوز ہوگئیں۔
پہلے اس کار کا دروازہ کھلا، پھر ایک پیر باہر نکلا اور اس کے بعد وہ آدمی باہر نکلتے ہی ان کی جانب گھوما۔ وہ مضبوط جسم کا مالک نوجوان تھا۔ وہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور جمشید کے ساتھ ساتھ ناعمہ بھی ڈر سے سمٹی جا رہی تھی۔ ’’یہ … یہ کون ہے؟‘‘
’’معلوم نہیں… آپ کو بھاگ جانا چاہیے۔ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔‘‘ ناعمہ خوف زدہ لہجے میں بولی۔
اس سے پہلے کہ جمشید اپنی طرف کا دروازہ کھولتا، وہ نوجوان سر پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے جھک کر جمشید کی طرف دیکھا اور اپنی اُنگلی سے شیشہ بجایا۔ جمشید خوف سے ناعمہ کی طرف کھسکتا جارہا تھا اور ناعمہ اس سے بھی زیادہ خوفزدہ تھی۔
باہر کھڑے نوجوان نے کہا۔ ’’شیشہ نیچے کیجئے رائٹر صاحب…‘‘ یہ کہہ کر ہنسا تو جمشید کے دل کی دھڑکن خوف سے بے ترتیب ہوگئی۔ وہ اتنا ڈر گیا کہ اسے لگا اس کا دِل رُک جائے گا کیونکہ جب وہ نوجوان ہنسا تھا تو اس کے منہ میں ایک سونے کا دانت عیاں ہوگیا تھا۔
جمشید ہمایوں کے سرورق کے تینوں کردار اس کے سامنے اکٹھا ہوگئے تھے۔ اس کے لیے یہ سب ناقابل یقین تھا۔ اچانک ناعمہ نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور جمشید کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ کر چلّائی۔ ’’سر… آپ بھاگیں!‘‘
جمشید ہمایوں کو جیسے اچانک ہوش آگیا۔ وہ کار سے باہر نکلا اور درختوں کی طرف بھاگنے لگا۔ وہ نوجوان سفاکی سے ناعمہ کی طرف بڑھا اور اسے غصّے سے ایک طرف دھکا دے دیا۔ ناعمہ ایک طرف گر گئی۔ وہ نوجوان، جمشید ہمایوں کے پیچھے بھاگنے لگا۔
٭…٭…٭
جمشید ہمایوں زندگی میں کبھی اتنا نہیں بھاگا تھا جتنا اسے اب اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑ رہا تھا۔ اس کی سانس پھول چکی تھی اور اس کے لیے مزید بھاگنا دوبھر ہو رہا تھا۔ وہ بھاگتے بھاگتے گر گیا۔ اس کے اردگرد درختوں کے جھنڈ تھے۔ سورج کی روشنی بھی پوری طرح سے اس جگہ نہیں پہنچ رہی تھی۔
جمشید نے اُٹھنے کی کوشش کی لیکن اس سے اُٹھا نہیں گیا۔ اس عمر میں اتنی تیز رفتاری سے بھاگنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی جیسے ابھی اس کا دل پھٹ جائے گا۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
اچانک اس نوجوان کی آواز اس کی سماعت میں گونجی۔ ’’کہاں ہو مسٹر رائٹر… میں آپ کو تلاش کر رہا ہوں… میرے سامنے آ جائو پلیز۔‘‘
اس کی آواز قریب سے ہی آ رہی تھی۔ جمشید خوفزدہ تھا۔ وہ زمین پر لیٹے لیٹے اپنے جسم کو حرکت دینے لگا اور گھسیٹتا ہوا ایک درخت کے پیچھے چلا گیا۔ اس کی متلاشی نگاہیں جہاں تک جا سکتی تھیں، اس نوجوان کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ نظروں سے اوجھل تھا۔
’’مسٹر رائٹر سامنے آ جائو پلیز… ضرغام خان کا وقت ضائع مت کرو۔‘‘ اس کی پھر آواز آئی۔ ’’میں نے تمہیں ختم کرنے کے پیسے لیے ہیں۔‘‘
’’ضرغام خان۔‘‘ جمشید نے زیرِ لب اس کا نام لیا۔ اس کے چہرے پر حیرت مزید پھیل گئی تھی۔ وہ پھر زیرِ لب بولا۔ ’’ضرغام خان، ناعمہ، احمر… یہ تو اسی ناول کے کردار ہیں جس ناول کا سرورق اس کے پاس ہے۔‘‘ جمشید نے ان ناموں پر غور کیا تو اسے اپنے لکھے کردار یاد آ گئے۔ ’’او خدایا… میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میرے ناول کا کردار ضرغام تو بہت ظالم ہے، وہ کسی کو بھی مار دیتا ہے، اسے پیسہ چاہیے… یہ مجھے بھی مار دے گا۔‘‘
’’مسٹر رائٹر… کہاں ہو؟‘‘ اس بار اس کی آواز اس کے بالکل پاس سے آئی تھی۔
اچانک جمشید نے سر اُٹھایا تو اس کا خوف سے بُرا حال ہوگیا۔ ضرغام اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے دانتوں میں لگا سونے کا دانت صاف عیاں تھا۔ اس کے چہرے کی سفاکی بتا رہی تھی کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
’’مجھ سے چھپنا بہت مشکل ہے۔‘‘
’’تم… تم مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو؟‘‘ جمشید خوف سے بولا۔
’’میں نے تمہیں ختم کرنے کے پیسے لیے ہیں۔‘‘
’’بولو کتنا پیسہ چاہیے، میں تمہیں پیسہ دیتا ہوں۔ میری جان بخش دو۔‘‘ جمشید نے جلدی سے کہا۔
ضرغام اس کے پاس ہی بیٹھ گیا اور دھیمے لہجے میں بولا۔ ’’میں ڈیل پر ڈیل نہیں کیا کرتا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ ہنسا اور پھر بولا۔ ’’ایسا ہی تم نے اپنے ناول میں میرے بارے میں لکھا تھا نا۔‘‘
اس کی بات سُن کر جمشید چونک گیا۔ یہ جملہ تو وہی تھا جو اس نے اپنے ناول میں لکھا تھا۔
ضرغام نے پستول نکال کر جمشید کے ماتھے پر رکھ دیا۔ پستول کی نال جونہی اس کے ماتھے سے ٹکرائی جمشید کی رگوں میں خون منجمد ہوگیا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ کانپنے لگا۔ اچانک احمر بھاگتا ہوا آیا اور اس نے ضرغام پر جست لگا دی اور اسے لیتا ہوا دُور جا گرا۔ ناعمہ بھی اس جگہ پہنچ چکی تھی۔
’’سر آپ ٹھیک ہیں… بھاگیے… جلدی بھاگیے…‘‘ ناعمہ نے کہا۔
جمشید اُٹھا اور بھاگنے لگا۔ اس کے ساتھ ناعمہ بھی بھاگ رہی تھی۔ وہ جمشید کو جس طرف جانے کا کہہ رہی تھی اُس کا رُخ اُدھر ہو جاتا تھا۔ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی اور ناعمہ کے ساتھ ساتھ جمشید کے قدم بھی رُک گئے۔ جمشید ہانپ رہا تھا۔ دونوں اس طرف دیکھ رہے تھے جس طرف سے گولی چلنے کی آواز آئی تھی۔ احمر اور ضرغام آپس میں گتھم گتھا تھے اب معلوم نہیں تھا کہ کس نے کس کو گولی مار دی تھی۔
’’ہمیں یہاں سے بھاگ جانا چاہیے… پتا نہیں کس نے کس کو مارا ہے۔‘‘ ناعمہ نے سامنے دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’میں پولیس کو بلاتا ہوں۔‘‘ جمشید نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا موبائل فون جیب سے نکالنا چاہا لیکن جیب میں موبائل فون نہیں تھا۔ اسے یاد آیا کہ اس نے اپنا موبائل فون کھانے کی میز پر رکھا تھا اور آتے ہوئے اس نے فون نہیں اُٹھایا تھا۔
اسی وقت انہوں نے دیکھا کہ ضرغام مسکراتا ہوا چلا آرہا ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں پستول تھا، اسے دیکھتے ہی ناعمہ کے منہ سے انتہائی خوف ناک انداز میں نکلا۔ ’’اوہ خدایا… اس نے احمر کو مار دیا۔‘‘
جمشید مزید خوف زدہ ہوگیا۔ ضرغام ان کے قریب آ گیا تھا۔ اس نے اپنے پستول کا رُخ جمشید کی طرف کر دیا تھا۔ جمشید کا جسم کانپ رہا تھا۔ وہ خوف میں مبتلا تھا۔
’’مار دیا اسے… اب تیری باری ہے۔‘‘
’’مجھے مت مارو… مجھے مت مارو۔‘‘ جمشید گڑگڑانے لگا۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ خوف اور ڈر سے اس کی جان نکل رہی تھی۔ اس وقت جمشید کو مزید حیرت کا جھٹکا لگا جب اس نے دیکھا کہ ضرغام کے عقب سے احمر صحیح سلامت ہاتھ میں رسی پکڑے آ رہا ہے۔ وہ قریب آیا تو وہاں خاموشی چھا گئی۔
جمشید متوحش نگاہوں سے باری باری تینوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ تینوں ایک دَم ہنسنے لگے۔ اور ایک ساتھ جمشید کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ جمشید ان تینوں کو دیکھے جا رہا تھا۔
احمر بولا۔ ’’ہم تینوں ایک ہیں۔ تمہیں اس جگہ لانا چاہتے تھے۔ یہ ویران جگہ ہے، یہاں کوئی نہیں آتا، البتہ اندھیرا ہوتے ہی مختلف جانور ضرور نکل آتے ہیں۔ خطرناک اور زہریلے سانپ یہاں عام ہیں۔‘‘
’’اب ہم تمہیں باندھ دیں گے۔ منہ میں کپڑا ٹھونس دیں گے اور چلے جائیں گے۔ رات کو کوئی سانپ، بچھو اور ایسی ہی کوئی زہریلی چیز تمہیں ڈس لے گی اور تم مر جائو گے۔‘‘ ضرغام بولا۔
’’اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ یہاں بہت خطرناک سانپ ہیں۔ تمہارا بچنا ناممکن ہے۔‘‘ ناعمہ نے کہا۔
’’تم لوگ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو۔‘‘ جمشید کی رگوں میں خون جم رہا تھا۔
تینوں میں سے کسی نے اس کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اسے پکڑ کر ایک درخت کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا۔ اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ جمشید ہمایوں کا پورا جسم خوف سے پسینے میں شرابور تھا۔ وہ کانپ رہا تھا اور اس کا دل ڈُوب رہا تھا۔
جب وہ اسے باندھ چکے تو احمر نے کہا۔ ’’ہمیں ہدایت تھی کہ جب ہم تمہیں باندھ کر موت کے حوالے کر دیں تو حقیقت سے پردہ ضرور اُٹھا دیں تاکہ تمہارے دل میں یہ حسرت نہ رہے کہ تمہیں اس طرح کیوں مارا گیا ہے۔‘‘
’’تم بہت بڑے رائٹر ہو۔ سب کے ساتھ کام کرتے ہو۔ ہر پبلشر کو اپنا ناول دے دیتےہو، سب کی عزت کرتے ہو لیکن عارف صاحب کو تم ہمیشہ اپنی تضحیک کا نشانہ بناتے ہو، انہیں کمتر سمجھتے ہو۔ ان پر طنز کے تیر برساتے ہو۔ وہ اس شہر کے بڑے پبلشر ہیں انہیں اپنی تضحیک پسند نہیں تھی۔‘‘
ناعمہ بولی۔ ’’عارف صاحب نے کوشش کر کے آپ سے نیا ناول لے لیا اور ہماری تصویروں سے اس کا سرورق بنایا۔ پھر ہم باری باری آپ کے سامنے آنے لگے اور آپ کو حیران کرنے لگے۔ اور یہاں تک لے آئے۔ اب آپ کو باندھ دیا ہے۔ یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ آپ موت کے منہ میں چلے جائیں گے یہ عارف صاحب کی تضحیک کا بدلا ہے، انہوں نے آپ کو بتا دیا ہے کہ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں، وہ کمزور نہیں ہیں۔ ابھی اندھیرا پھیلنے لگے گا اور پھر آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے گا۔‘‘
’’اس جگہ سے آپ کا بچنا ناممکن ہے لیکن اگر آپ بچ بھی گئے جس کا کوئی چانس نہیں ہے تو آپ کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہوگا جس سے آپ عارف صاحب پر کوئی الزام عائد کرسکیں۔‘‘ احمر نے کہا۔
وہ تینوں ہنسے اور ہاتھ ہلا کر جمشید کو بائے بائے کہا اور ایک طرف چل دیے۔ جمشید کا جسم بن پانی مچھلی کی طرح متحرک تھا۔ وہ بولنا چاہتا تھا لیکن منہ میں کپڑا اور اُوپر ٹیپ لگی ہوئی تھی۔ ہاتھ پیر، درخت کے ساتھ مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے۔ وہ ناچار، بے بس خوف میں ڈُوبا ہوا تھا۔
٭…٭…٭
تین دن گزر گئے تھے۔
جمشید ہمایوں کی کوئی خبر نہیں تھی۔ جہاں اسے باندھا تھا اس طرف کوئی نہیں گیا تھا۔ جمشید ہمایوں کی گمشدگی کی بھی کوئی خبر کہیں سے نہیں آئی تھی۔ جو جمشید ہمایوں کو جنگل تک پہنچانے والے تھے وہ اپنی جگہ مطمئن تھے کہ سب ٹھیک ہے۔ جمشید ہمایوں اگر کسی زہریلے جانور کے کاٹے سے نہیں تو دہشت، خوف اور بھوک پیاس سے ختم ہو چکا ہوگا۔ وہاں کوئی ایسا نشان بھی نہیں چھوڑا گیا تھا کہ کوئی قانون کی گرفت میں آ سکتا۔
عارف اپنے آفس میں براجمان اس سرورق کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ پھر اس نے سرورق ایک طرف رکھا اور طنزیہ انداز میں بولا۔ ’’جمشید ہمایوں تم کیا سمجھتے تھے۔ تم میری بے عزتی کرو گے اور میں کچھ نہیں کروں گا۔‘‘ عارف یہ کہہ کر پھر مسکرایا۔
اسی وقت دروازے پر ہلکی دستک ہوئی اور ساتھ ہی دروازہ کھلا۔ جونہی آنے والے کی طرف عارف نے دیکھا اس کے اوسان خطا ہوگئے۔ آنے والا جمشید ہمایوں تھا۔ جو بالکل ٹھیک، تر و تازہ، خوش پوش اور چہرے پر مسکراہٹ لیے ہوئے تھا۔ عارف اس کی طرف خوف زدہ نگاہوں سے دیکھے جا رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جمشید اس کے سامنے موجود ہے۔ بالکل سلامت اور زندہ؟
جمشید اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے مسکراتے ہوئے عارف کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’تم نے میرے مرنے سے پہلے مجھ پر اپنے آدمیوں کے ذریعے حقیقت کھول دی تھی تاکہ میرے دل میں کوئی حسرت نہ رہ جائے۔ تم اب جیل چلے جائو گے میں بھی حقیقت کھول دیتا ہوں کہ تمہارے آدمی گرفتار ہو چکے ہیں اور تمہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس باہر موجود ہے۔‘‘
’’تم زندہ ہو…؟‘‘ عارف کے منہ سے حیرت میں ڈُوبے الفاظ نکلے۔
’’مارنے والے سے بچانے والا بہت زیادہ طاقت والا ہے۔ وہ جب مدد کرنے پر آتا ہے تو دُشمنوں کو مددگار بنا دیتا ہے جیسے اندھیرا ہوتے ہی میرے ہاتھ پائوں کھولنے کے لیے وہ آیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ مجھ سے معافی مانگی اور گواہ بننے کو تیار ہوگیا۔ جانتے ہو وہ کون ہے؟‘‘
’’کک… کون؟‘‘
جمشید ہمایوں اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا۔ ’’وہ ناعمہ ہے، جس کے دل میں رحم پیدا ہوا اور اس نے مجھے آزاد کردیا۔‘‘ جمشید ہمایوں یہ کہہ کر اپنی جگہ سے اُٹھا اور دروازہ کھول کر اشارہ کیا۔ پولیس، عارف کو گرفتار کرنے اندر آ گئی۔
(ختم شُد)