Umarya Nikli Jae | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1800
ملک صاحب سے دادا جان کی دوستی اس زمانے سے تھی جب وہ ایک ساتھ اسکول جایا کرتے تھے۔ ملک صاحب کا پورا نام صاحب داد تھا اور وہ آٹھ مربع زمین کے مالک تھے جبکہ دادا جان کی زرعی اراضی تھوڑی سی تھی لیکن ان دنوں دوستی کے لئے برابری کی شرط نہیں تھی۔ ملک صاحب نے کچھ عرصے سرکاری محکمے میں آفیسری بھی کی تھی، تبھی گائوں میں سب ان کو ڈپٹی صاحب کہتے تھے۔
ڈپٹی صاحب کا علاقے میں بڑا رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ گائوں کے سب سے معزز آدمی تھے، انصاف پسند تھے۔ گائوں والے اپنے فیصلے ان سے ہی کراتے تھے۔ شہر میں ان کا آبائی مکان تھا مگر ان کا دل وہاں نہ لگتا، کچھ دن شہر میں رہ کر گائوں پلٹ آتے اور دادا جان سے کہتے۔ اپنے گائوں کی کیا بات ہے، ڈیرے پر لوگوں کی خوب رونق رہتی ہے، شہر کے ڈرائنگ روم میں ایسی کچہری نہیں جمتی۔ یار! تم اگر شہر آجائو تو جینے کا مزہ آجائے، تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے۔
ان دنوں میرے ابو شہر کے کالج میں پڑھاتے تھے اور وہاں کرائے کے مکان میں رہتے تھے، اسی کارن ہم بچوں سے دوری اختیار کی ہوئی تھی۔ امی جان چاہتی تھیں کہ ہم لوگ بھی شہر چلے جائیں اور اپنے والد کے ساتھ رہیں لیکن رہائش کا بڑا مسئلہ تھا۔
ڈپٹی صاحب اور دادا جان کی گاڑھی چھنتی تھی۔ دوست کے اصرار پر دادا ہمیں شہر لے آئے اور ہم یہاں اقامت پذیر ہوگئے۔ ان کو زرعی اراضی فروخت کرنی پڑی اور انہوں نے ڈپٹی صاحب کے آبائی مکان کے پاس ہی گھر خرید لیا تاکہ دوست سے قربت رہے اور رہائش کا مسئلہ بھی حل ہوجائے۔
ان دنوں ہم چاروں بہن، بھائی چھوٹے تھے اور اسکول نہیں جاتے تھے۔ ڈپٹی صاحب کے بڑے صاحبزادے وقار احمد میرے ابو کے کلاس فیلو تھے۔ وہ بھی شادی شدہ اور چھ بچوں کے باپ تھے۔ دو بیٹے اور چار لڑکیاں تھیں۔ ان کی دوسری لڑکی میری ہم عمر تھی جس کا نام عظمیٰ تھا۔ میری اس کے ساتھ دوستی تھی۔
بچپن میں ہم سب بچے ڈپٹی صاحب کے گھر کے آنگن میں کھیلتے تھے لیکن جب بڑے ہوگئے اور اسکول جانے لگے تو یہ آنا جانا کم ہوتا گیا۔
ہمارے والدین میں بھی اس وقت تک بے تکلفی رہی جب تک بزرگ زندہ رہے۔ دادا، دادی کی وفات کے بعد امی ابو نے ڈپٹی صاحب کے ہاں جانا کم کردیا کیونکہ ان کی بہو جن کو ہم سارہ آنٹی کہتے تھے، عجب مزاج کی خاتون تھیں۔ کبھی بہت اپنائیت سے ملتیں اور کبھی سرد مہری اختیار کرلیتیں۔
شہر میں تو دیہاتوں ایسی فرصت نہیں ہوتی، یہاں سبھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ امی کبھی کبھار آنٹی سارہ کے پاس چلی جاتی تھیں کیونکہ برسوں سے بزرگوں کے آپس میں دیرینہ مراسم رہے تھے اور اسی تعلق کا امی، ابو کو پاس تھا۔
یہ گھرانہ محلے میں سب سے زیادہ صاحب حیثیت اور مالدار تھا۔ دولت کی ریل پیل، گاڑیاں، نوکرچاکر غرض خوب ٹھاٹھ باٹ تھے۔ ہم لوگ تو کیا کوئی بھی ان کی برابری نہ کرسکتا تھا۔ اپنی برتری کا آنٹی سارہ کو احساس تھا۔ وہ جب جی چاہتا کسی کو منہ لگاتیں، موڈ نہ ہوتا تو بات نہ کرتیں۔ اپنے اسی موڈ کی وجہ سے محلے بھر میں مغرور مشہور ہوگئیں۔
وقار انکل کے دونوں بیٹے خوبصورت تھے۔ ایک کا نام فہد اور دوسرے کا احد تھا اور چاروں لڑکیاں بھی خوش شکل تھیں۔ ان کے ہاں لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کا رواج نہ تھا لہٰذا بیٹیوں کو آٹھویں جماعت سے آگے نہ پڑھایا اور بیٹوں نے بھی بس میٹرک تک ہی پڑھا۔
والد صاحب کا تعلیم سے تعلق تھا لہٰذا انہوں نے اپنے بچوں پر تدریس کے دروازے بند نہ کئے۔ ہم نے اسکول کے بعد کالج میں بھی تعلیم حاصل کی۔ گویا شہر آبسنے کا پورا فائدہ ہم لوگوں کو ہوا تھا، تبھی امی جان کو دادا کی زرعی اراضی بک جانے کا کوئی ملال نہ تھا، جس کے بدلے ہم کو تعلیم ایسی دولت سے سرفراز ہونے کا موقع میسر آگیا تھا۔
آنٹی سارہ اکثر آہ بھر کر کہتی تھیں۔ کاش! میرے سسر ہمیں شہر نہ لاتے تو آج میری بچیوں کے رشتے ہم پلہ گھرانوں میں ہوچکے ہوتے۔
ان کی بچیوں کے لئے آس پاس کے گھرانوں سے کئی رشتے آئے لیکن سبھی کو کورا جواب مل گیا کیونکہ آنٹی سارہ جس احساس برتری میں مبتلا تھیں، اس کی وجہ سے ان کی اپنے قریبی رشتے داروں سے نہیں بنتی تھی۔ رفتہ رفتہ ان رشتے داروں نے بھی ان کے گھر آنا چھوڑ دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جب لوگ اپنی برادری سے کٹ جاتے ہیں تو بچوں کے رشتوں کا معاملہ ٹیڑھی کھیر جیسا ہوجاتا ہے۔ غیروں پر یہ بھروسہ نہیں کرتے اور جوڑ کا رشتہ بھی مطلوب ہوتا ہے۔ یہ بھی اپنے جوڑ کا رشتہ چاہتے تھے جبکہ ان کے برابر والے اپنے سے اوپر والوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ بالآخر ڈپٹی صاحب کی پوتیوں یعنی عظمیٰ اور مومنہ کی عمر پکے سن میں ڈھلنے لگی۔ ایک روز پتا چلا آنٹی سارہ بیمار ہیں، اچانک گردے میں تکلیف کی وجہ سے ان کو ایمبولینس میں اسپتال لے گئے تھے۔ چار روز بعد جب وہ اسپتال سے واپس آئیں تو امی ان کی عیادت کو گئیں، تبھی باتوں باتوں میں آنٹی نے کہا۔ بھابی! دراصل میں بچیوں کے رشتوں کی فکر میں گھل رہی ہوں، اگر گائوں میں ہوتے تو اب تک ان کے رشتے ہوچکے ہوتے، اب تم ہی کچھ تعاون کرو تاکہ اچھی جگہ ان کی شادیاں ہوجائیں۔
میری والدہ سیدھی سادی، بھولی بھالی تھیں۔ وہ سمجھیں کہ یہ اشارتاً ہم سے رشتہ جوڑنے کو کہہ رہی ہیں۔ انہوں نے گھر آکر ابو سے مشورہ کیا اور اگلے روز میرے بھائی طارق کے لئے ان کی بڑی بیٹی عظمیٰ کا ہاتھ مانگ لیا۔ مدعا سنتے ہی آنٹی کے ماتھے پر بل پڑ گئے، ان کا موڈ خراب ہوگیا ،جیسے کوئی نازیبا بات امی نے کہہ دی ہو۔ امی پھر بھی نہ سمجھیں کہ یہ کیوں جزبز ہوگئی ہیں۔ دوبارہ بات کو دہرایا، بس پھر غضب ہی ہوگیا۔ ڈپٹی صاحب کی بہو اس قدر چراغ پا ہوئیں کہ امی بیچاری منہ تکتی رہ گئیں۔
آپ نے خود ہی تو رشتے کا تذکرہ کیا تھا، میں سمجھی کہ شاید آپ بزرگوں کے دیرینہ مراسم کو مزید مضبوط دیکھنا چاہ رہی ہیں کیونکہ ہم ایک ہی دیہات کے رہنے والے ہیں، محلے کے لوگ تو آپ کے بقول سبھی ایرے غیرے ہیں۔
ہاں! سبھی ایرے غیرے ہی ہیں کیونکہ ہم خاندانی زمیندار گھرانے سے ہیں اور آپ لوگوں کی بھی حیثیت کیا ہے، زمین کا ایک ٹکڑا تو ہے نہیں آپ کے پاس۔ آپ کے شوہر بھی بس معمولی سے استاد ہیں۔ کیا سوچ کر میری بیٹی کا ہاتھ مانگنے چلی آئیں۔ میں نے تم سے بچیوں کے رشتے کو یوں کہا کہ تمہارے میاں اچھے اور معزز گھرانوں کے لڑکوں کو پڑھاتے ہیں، وہ اس سلسلے میں ہمارے ہم پلہ لوگوں سے ملاقات کا وسیلہ بن سکتے تھے۔ میں نے یہ تو نہ کہا تھا کہ تم اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آجائو جس کے پاس اپنی گاڑی تک نہیں ہے۔
امی اس مغرور کی باتیں سن کر روتی ہوئی گھر آگئیں، پھر اس واقعہ کو چھ برس گزر گئے۔ طارق کی شادی ایک اچھے گھرانے میں ہوگئی، میرے بعد چھوٹی بہن بھی اپنے گھر کی ہوئی، مگر آنٹی سارہ کی بیٹیاں بن بیاہی رہیں۔ عظمیٰ اب 37؍برس اور مومنہ 35؍سال کی تھی، جب یہ واقعہ ہوا۔
ایک روز جبکہ میں سسرال سے میکے آئی عجب خبر سنی کہ ڈپٹی صاحب کی بڑی پوتی گھر سے بھاگ گئی ہے اور وہ بھاگی بھی کس کے ساتھ اپنے ڈرائیور کے بیٹے کے ساتھ جو باپ سے ملنے دیہات سے آیا تھا۔ ایسی بات تو سوچی بھی نہ جاسکتی تھی لیکن ایسا ہوچکا تھا۔
وقار صاحب نے عظمیٰ اور عباس کی تلاش میں دن رات ایک کردیئے، ان کا سراغ نہ مل سکا مگر اس تلاش بسیار میں ان کی عزت خاک میں مل گئی۔ دونوں بھائیوں نے قسم کھائی کہ جب بھی عظمیٰ اور عباس کو پایا، زندہ نہ چھوڑیں گے۔
وقت گزرتا رہا، وہ عظمیٰ کے غم میں گھلتے رہے مگر یہ نہ سوچا کہ دوسری کی عمر ڈھل رہی ہے، اس کا رشتہ کردیں حالانکہ اس واقعے کے بعد بھی دو چار اچھے رشتے اس لڑکی کے لئے آئے تھے مگر وہ خواب غفلت میں ہی سوتے رہ گئے۔ اس پر ستم یہ کہ ان بچیوں کو کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ سہیلیاں تھیں ان کی کہ جن سے جی بہلتا۔ ان کے بنگلے کے اوپر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا لیکن نوکر چاکر آزادانہ گھر کے اندر آجاسکتے تھے کیونکہ یہ ان کے آبائی نوکر ہوتے تھے، جن کے بغیر یہ اپاہج ہوجاتے تھے۔
جب محلے والوں کی باتیں آنٹی سارہ کے کانوں تک پہنچیں تو انہوں نے شہر کی سکونت ترک کرکے گائوں واپس جانے کا فیصلہ کرلیا اور کچھ ماہ بعد گائوں والی حویلی میں چلے گئے۔
ڈپٹی صاحب کی اس حویلی کے عقب میں ایک باڑہ تھا۔ گھر کی ضرورت پوری کرنے کے لئے جہاں دودھ دینے والے جانور گائے، بھینسیں وغیرہ رکھے جاتے تھے۔
شیر علی نامی نوجوان ان کے باڑے کا رکھوالا تھا۔ یہ 30؍برس کا جواںسال شخص تھا۔ ان کی گائے بھینسوں کو چارہ ڈالتا اور دودھ دوہتا تھا۔ یہ نوجوان کھلی فضائوں میں پلابڑھا تھا، خوب لمبا تڑنگا اور بے حد خوبرو تھا۔ بلاشبہ اس کی صورت کسی امیر زادے ایسی تھی، حالانکہ ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ سیدھا سادہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص تھا۔ کبھی کسی نے اس کے بارے کوئی ایسی ویسی بات نہیں سنی تھی۔
اچانک ایک روز گائوں میں شور اٹھا کہ ڈپٹی صاحب کے پوتے فہد نے شیر علی اور مومنہ کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ بعد میں باڑے کے چھوکرے فضل دین نے میرے بھائی کو بتایا تھا کہ مومنہ بی بی خود باڑے میں آتی تھی جبکہ شیر اسے منع کرتا تھا لیکن وہ اس سے باتیں کرنے بیٹھ جاتی۔ اس روز بھی جب بڑے ملک صاحب اور فہد دونوں شہر گئے ہوئے تھے، مومنہ باڑے میں آگئی تبھی اچانک فہد بھی آگیا۔ اس کے ہاتھ میں رائفل تھی، دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر گولیاں مار دیں۔
گائوں والوں کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ فہد نے تو غیرت کی وجہ سے قتل کیا ہے۔ انہوں نے باڑے میں رنگے ہاتھوں اپنی بہن اور رکھوالے کو پکڑا تھا تبھی ان کو ختم کردیا۔
بیٹی کے دکھ کی وجہ سے آنٹی سارہ بستر سے لگ گئیں اور پانچ برس تک بستر پر ہی پڑی رہیں۔ انہیں فالج ہوگیا تبھی خاوند نے گائوں کی ایک نوعمر دوشیزہ سے دوسری شادی کرلی اور فہد کو جیل ہوگئی۔
احد نے اس وجہ سے شادی نہ کی کہ اس نے قسم کھالی تھی جب بھی عظمیٰ اور عباس پکڑے گئے، وہ ان کو ضرور بھاگ کر شادی کرنے کا مزہ چکھائے گا۔ بڑے بھائی کو سزا ہوجانے کے باوجود احد اپنے ارادے سے باز نہ آیا۔ وہ عظمیٰ کی تلاش میں سرگرداں رہا۔
ایک روز اسے اطلاع ملی کہ اس کی بہن ایک پہاڑی گائوں میں چھپی ہوئی ہے اور اس کا شوہر بلوچستان میں ٹرک چلاتا ہے۔ وہ ہفتہ میں صرف ایک دن کے لئے گھر آتا تھا۔
لڑکی ساس کے ساتھ رہتی ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ یہ اطلاع دینے والا احد کا ایک دوست اسی علاقے کا باسی تھا۔ احد نے اس سے تعاون کی درخواست کی تو اس نے کہا کہ میں تم کو تمہاری بہن کے گائوں تک پہنچا دوں گا، آگے کسی فعل میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہوں گا۔ ورنہ رواج کے مطابق تم ہمارے علاقے کے سردار کے پاس چلو۔ احد میدانی آدمی تھا، اسے پہاڑی رسم و رواج سے کوئی سروکار نہ تھا، اسے تو بس اپنے انتقام کی آگ بجھانی تھی۔ مجھے تم اس جگہ تک لے چلو جہاں میرے شکار چھپے ہیں، آگے کا کام میں خود اپنے ہاتھوں سرانجام دوں گا۔
ولی محمد اس کو گائوں لے گیا جہاں اس کی بہن نے پناہ لی ہوئی تھی۔ گویا کہ والدین کی عزت کو دھبہ لگا کر وہ اب اپنے گھر میں خوش و خرم آباد تھی۔ یہ سوچ کر احد کا خون کھول رہا تھا۔
جب احد نے دروازے پر دستک دی تو عظمیٰ نے یہ سمجھ کر در کھول دیا شاید اس کا شوہر آگیا ہے کیونکہ آج اس کی گھر واپسی کا دن تھا۔ سامنے بھائی کو دیکھا تو حواس گم ہوگئے۔
مجھے معاف کردو بھائی! وہ لرزتی ہوئی ہاتھ جوڑ کر اپنے ماں جائے کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ مجھ پر نہیں تو ان معصوموں پر ترس کھا لو۔ اتنے برسوں تک دیوانوں کی طرح اسے ڈھونڈنے والا اس پر ترس کھانے نہیں آیا تھا۔ اس نے آنافاناً تین چار فائر کئے، بہن اور دونوں بھانجوں کو خون میں نہلا کر وہ باہر آگیا۔ گائوں والے دھماکوں کی آواز سن کر نکل آئے، انہوں نے احد کو گھیرے میں لے لیا اور پولیس کو اطلاع کردی۔
تھوڑی دیر بعد پولیس کا ایک دستہ وہاں آگیا اور انہوں نے احد کو پکڑ لیا۔ غیرت کے نام پر قتل کی سزا ان دنوں تین سال ہوتی تھی لیکن احد کو بہن اور دو معصوم بھانجوں کے قتل میں عمر قید ہوگئی۔
ملک قادر بیٹوں کے لئے غمزدہ رہتے تھے مگر زندگی کا سفر بھی جاری تھا۔ اب وہ اکثر وقت اپنی زمینوں کی دیکھ بھال میں گزارتے جبکہ عمر رسیدگی میں بھی وہ دو اور بیٹوں کے باپ بن گئے تھے جو ان کی دوسری بیوی کے بطن سے ہوئے۔
عورت ہو یا مرد، ساتھی کی خواہش تو ایک فطری چیز ہوتی ہے۔ دو بڑی بیٹیوں کے عبرتناک انجام سے بھی ملک وقار اور ان کی بیوی نے کوئی سبق نہ لیا۔ ان کی دو اور بیٹیاں زارا اور ماریہ اب جوان تھیں اور ان کی شادی کی عمریں نکلی جاتی تھیں لیکن یہ غافل ان کی شادی کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔ ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ ہماری بیٹیوں کے لئے جب تک ہم پلہ رشتے نہیں آئیں گے، ان کی شادیاں نہیں کرسکتے۔ اب ایرے غیروں سے تو بیاہنے سے رہے۔
بلند و بالا چار دیواری میں بند یہ لڑکیاں اپنی فطرت سے مجبور تھیں۔ ہزار پابندیوں کے باوجود جب موقع ملتا، چھت پر چڑھ جاتیں اور وہاں سے باہر کی دنیا کو دیکھنے کی کوشش کرتیں۔ اپنی دو بڑی بہنوں کے انجام سے بے پروا کسی خوش شکل جوان کو دیکھ کر ان کے من کے گلاب کھل اٹھتے تھے۔
خبر نہیں ان کی بربادی میں قصور کس کا تھا۔ باپ کا جو اپنی دنیا اور اپنی زندگی کی نئی خوشیوں میں مگن رہتا تھا یا پھر ماں کا جو نک چڑھی اور مغرور تھی۔ نخوت سے اس کی گردن تنی رہتی تھی۔ احساس برتری نے جسے اپنی قریبی عزیزوں تک سے دور کردیا تھا۔
ہم پلہ گھرانوں کے نہ سہی کچھ کم کے رشتے تو آتے ہی تھے۔ اس میں کیا حرج تھا، اگر وہ بیٹیوں کا رشتہ پسند کرتے وقت گھرانے کی شرافت اور تعلیم و تہذیب کو وقعت دیتے تو ان کی بچیاں گھر سے نہ بھاگتیں، ان کی عزت پر بٹہ لگتا اور نہ ان کے دو بیٹے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔
امی اور میں ایک روز آنٹی سارہ کو دیکھنے گائوں گئے تھے۔ وہ بستر پر بے حس و حرکت پڑی تھیں۔ خادمائیں ان کو کروٹ دلاتیں، پانی منہ میں ڈالتیں اور ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ وہ بول بھی نہیں سکتی تھیں۔ ہم کو دیکھ کر ان کی ماند سی آنکھوں میں پہچان کے دیئے روشنی دینے لگے، پھر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ امی دیر تک ان سے باتیں کرتی رہیں اور وہ بے بسی سے سنتی رہیں۔ جواب دینا چاہتی ہوں گی مگر نہیں دے سکتی تھیں۔ چہرے کے تاثر سے البتہ اس قدر اندازہ ضرور ہوا کہ وہ میرے بھائی طارق کو رشتہ نہ دے کر نادم تھیں۔ طارق ایک تعلیم یافتہ نوجوان تھا اور اب فوج میں آفیسر تھا۔ اس کے پاس عزت اور زندگی کی ہر سہولت موجود تھی، گاڑی اور بنگلہ بھی تھا جس کی خواہش ہر لڑکی کرتی ہے لیکن جب وہ زیرتعلیم تھا، اس وقت آنٹی سارہ کو ہمارے بھائی کا رشتہ ہم پلہ نظر نہیں آیا تھا۔ میرے دونوں بھائی شادی شدہ تھے، ورنہ امی جان ضرور سارہ آنٹی کا دکھ بانٹنے کی ایک بار پھر کوشش کرتیں اور ان کی دونوں چھوٹی لڑکیوں میں سے کسی ایک کا رشتہ مانگ لیتیں۔
ان کی بھی شادی کی عمر نکلی جارہی تھی۔ گھر کا سارا کام تو خادمائیں کرتی تھیں، ان کے پاس کوئی اور مشغلہ دل بہلانے کا نہیں تھا پھر کیا کرتیں۔ چھتوں سے جھانک کر دل بہلانے کا بس ایک مشغلہ ہی رہ گیا تھا۔ وہ شاید باپ سے نہیں ڈرتی تھیں کہ جن کی عزت کو پہلے ہی بٹہ لگ چکا تھا۔ بھائیوں سے البتہ ان کی جان جاتی تھی مگر بھائی تو ان دنوں …دونوں ہی جیل میں تھے پھر خوف کس کا تھا۔
گھر آکر میں نے امی سے کہا۔ دعا کریں زارا اور ماریہ کی شادیاں ہوجائیں اور خدا ان کو محفوظ رکھے اور ویسے انجام سے بچا لے جیسا انجام ان کی بڑی بہنوں کا ہوا ہے۔ یہ بات میں نے اس وجہ سے کہی تھی کہ جب ہم ان کے گھر سے نکل کر اپنے گھر کی طرف آرہے تھے تب بھی وہ چھت کی دیوار سے لٹکی ہوئی جھانک رہی تھیں، شاید وہ ہمیں جاتے ہوئے دیکھ رہی ہوں مگر گائوں والوں کی ہزار نظریں تھیں، وہ بھی تو ان کو دیکھ رہی ہوں گی۔ (ک… مظفر گڑھ)