Thursday, February 22, 2024

Unchay Saiyban Talay

والد صاحب کو ریٹائرمنٹ کے بعد جو رقم ملی ، انہوں نے اس سے ایک متوسط علاقے میں چھوٹا سا گھر خرید لیا۔ رقم خطیر نہ تھی لہٰذا کوارٹر نما گھر ہی ملا- صرف پانچ مرلے رقبہ تھا- امی نے اپنی جنّت کہ کر اسی پر شکر کیا کہ کراۓ کے گھر سے تو نجات مل گئی تھی- اتفاق سے یہ متوسط علاقے کا آخری مکان تھا جو سرخ اینٹوں سے بنا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پوش علاقہ شروع ہوتا تھا جہاں بنگلے بنے ہوئے تھے اور شاندار کوٹھیاں قطار در قطار سر بلند کئے کھڑی تھیں ۔ گویا ان پر شکوہ بنگلوں کے پہلو میں ہمارا غریب خانہ ہم کو اپنی غریبی کا ہر وقت احساس دلایا کرتا۔ میں اپنے صحن سے اور کبھی چھت سے ان عالی شان گھروں کو حسرت سے تکتی۔ سوچا کرتی یا اللہ یہ امیری اور غریبی کی تفریق اس قدر زیادہ کیوں ہے کہ کہیں تو جھونپڑیاں اور کہیں سر چھپانے کو ہم جیسے تنگ اور کم حیثیت مکان کہ جو غربت کا اشتہار نظر آتے ہیں- جب فارغ ہوتی اپنی چھت پر جا کر برابر والے بنگلے کا نظارہ کرتی جس کا لان اور وسیع برآمدے ہماری چھت سے نظر آتے تھے۔ افسوس یہ بنگلہ خالی پڑا تھا۔ نجانے اس کے مکین کہاں چلے گئے تھے۔ دعا کرتی تھی کبھی تو اس کے مکیں پل بھر کو آ جائیں اور اس جگہ کو آباد اور پر رونق کر دیں۔ کبھی تمنا ہوتی کہ یہ بنگلہ اندر سے دیکھوں کہ کیسا بنا ہوا ہے۔ حسرت کرنے لگتی کاش ایک بار اس کے اندر جا سکتی۔ ابوسرکار کے معمولی ملازم ریٹائر ہوئے تھے۔ عمر بھر ایک چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں رہے تھے۔ قسمت نے اب اپنا گھر دیا بھی تو پانچ مرلہ کا کوارٹر جیسا ہی تھا۔ بنگلے کو اندر سے دیکھنے کی تو حسرت ہی رہی۔ دن گزرتے گئے ، نیا محلہ اب نیا نہ رہا تھا مگر برابر والا خوبصورت بنگلہ ابھی تک میرے لئے اجنبی تھا، یہ آباد بھی نہ تھا کہ اندر جانے کا موقع ملتا۔ ایک روز اچانک خوشی ملی۔ چھت پر گئی تو بنگلے میں لوگ چلتے پھرتے دیکھے۔ خالی مسکن آباد ہو گیا تھا۔ میری ہم عمر ایک لڑکی غالباً اپنی بڑی بہن کے ساتھ برآمدے میں کھڑی نظر آئی۔ ان کی ماں لان میں کرسی پر بیٹھی تھی۔ میری ہم عمر لڑ کی کی نظر یکبارگی ہماری چھت کی جانب اٹھ گئی۔ مجھے جھانکتے پایا تو مسکرادی اور ہاتھ کے اشارے سے کہا۔ آجاؤ! میری باچھیں کھل گئیں، خوشی سے نہال ہو گئی۔ گویا دیرینہ آرزو بر آئی تھی۔ اب میں اس حسین مکین گاہ کے اندر جا سکتی تھی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد ابا زیادہ تر بیٹھک میں لیٹے دینی کتب کا مطالعہ کرتے اور امی گھر کے کام کاج میں مصروف رہتیں۔ میں نے امی کو خوشخبری دی کہ برابر میں لوگ آگئے ہیں۔ وہ بولیں ۔ تم تو ایسے خوش ہو رہی ہو کہ جیسے ہمارے واقف لوگ آگئے ہوں۔ ارے بھئی وہ بنگلے میں رہنے والے اور ہم اس چھوٹے سے کم حیثیت مکان کے مکین ۔ ان سے ہماری برابری کہاں ۔ وہ اپنی حیثیت کے لوگوں سے ملیں گے، ہم کو کیوں منہ لگانے لگے۔ ماں کی بات سن کر میرا دل بجھ گیا ، مزید بات آگے کی نہ بتا سکی۔ حیرت اس دن ہوئی جب ہمارا در بجا اور ساتھ والوں کے گھر کی ملازمہ نے آکر بتایا کہ آپ کے نئے پڑوسی ملنا چاہتے ہیں ۔ کل شام انہوں نے آپ لوگوں کو چائے پر بلایا ہے۔ اگلے روز ہم خوش خوش ان کے گھر گئے ۔ واقعی شاندار گھر بنا ہوا تھا اندر سے جی چاہا خوب گھوم پھر کر دیکھوں مگر لحاظ سے جہاں انہوں نے بٹھایا تھا، بیٹھی رہی کہ دوبارہ آنا ہوگا تو گھر دیکھ لوں گی۔ ابھی تو ان لوگوں سے دوستی کرنا اور ان کو اپنا بنانا تھا۔ شاندار بنگلے میں رہنے والے یہ لوگ سیدھے سادے تھے۔ بہت خوش مزاج اور ملنسار گھل مل گئیں ۔ دوبارہ آنے کو کہا۔ تب امی نے بھی کو ان کو اپنے گھر مدعو کیا۔ وہ بولیں۔ ضرور کسی موقع پر آجائیں گے۔ دراصل ہم سادات فیملی سے ہیں، پردے کی وجہ سے عورتوں کو گھر سے نکلنے کی کم ہی اجازت ملتی ہے۔ ان بچیوں کا گھر میں پابند رہ کر دل گھبراتا ہے۔ مجھے بھی گھر کی چار دیواری میں رہنے کی عادت ہوگئی ہے۔ میرے شوہر نے ان کو آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دی، کہیں آنا جانا نہیں ہے۔ جہاں پہلے رہتے تھے وہاں بھی محلے میں سے خواتین ملنے آجاتی تھیں لیکن ہم نہیں جاتے تھے۔ بس سبھی لوگ ہماری مجبوری کو سمجھ جاتے ہیں تو خود آکر مل جاتے ہیں۔ میں تو ہر ہفتے کسی نہ کسی محلے والی کو چائے وغیرہ پر بلا لیا کرتی ہوں تا کہ تنہائی محسوس نہ ہو۔ آپ کی بچی کو چھت پر دیکھا تو میری بچیوں نے کہا۔ ان کو بلائیے سب سے نزدیکی گھر ہے۔ یہ ہمارے قریب ترین ہمسایہ ہیں ، آنا جانا رہے گا تو رونق ہو گی۔

امی خوش ہو گئیں کہ اچھے لوگ ہیں ، ہمسائے اچھے ہوں تو زندگی میں آدھی پریشانیاں ماند پڑ جاتی ہیں کہ بہر حال میں بھی اکیلی اکلوتی تھی۔ تنہائی مجھے بھی تنگ کرتی تھی۔ میں نے اپنی ہم عمر نور سے دوستی کر لی۔ وہ اپنے نام کی طرح اجلی اور نیک سیرت تھی۔ اس کی بڑی بہن کا نام کائنات تھا۔ ان دونوں بہنوں نے اپنی سادگی اور خلوص کی وجہ سے امیری غریبی کے سارے فاصلے ختم کر دیئے۔ وہ میرا اور میں ان کا دل و جان سے خیال رکھنے لگی۔ نور سے میری اُنسیت بڑھتی گئی۔ ہماری دوستی اتنی گہری ہوگئی کہ لوگ ہم کو سگی بہنیں سمجھنے لگے۔ ان کے والد تو بہت بڑے رئیس اور زمیندار تھے۔ ان کے پاس زندگی کی ہر سہولت تھی ، سوائے اس کے کہ کہیں آنے جانے اور گھومنے پھرنے کی آزادی نہ تھی۔ والد یا کسی قریبی عزیز کے ہمراہ ہی یہ اپنی گاڑی میں کبھی کبھار باہر نکلتی تھیں۔ تاہم جو میں تصورات میں سوچتی تھی ، ان کے پاس ہر وہ چیز تھی۔ ان کے قریب رہتے ہوئے میں نے ان کے گھر میں خوشی نام کی کوئی چیز نہ دیکھی۔ تب میں امی سے کہتی ۔ امی آخر ان لوگوں کی حیات اس قدر بے رونق، بدمزہ اور زندگی عاری کیوں ہے؟ نور کے والد بھی کبھی کبھار گھر آتے ہیں، وہ نجانے کہاں رہتے ہیں۔ جب آتے ہیں ان کی بیٹیاں خوشی اور شوخی سے چہکتی بھی نہیں بلکہ ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔

امی نے کہا۔ ہاں بیٹی کسی کو خدا دولت دیتا ہے اور کسی کو دل کی خوشیاں، دل کی خوشیاں دولت سے نہیں ملتیں۔ دیکھو ہم غریب ضرور ہیں مگر ہمارے گھر میں کتنا سکون ہے۔ ہم اپنی خوشی سے جیتے ہیں۔ ایسے گھٹ گھٹ کر جل جل کر نہیں مرتے۔ ہم کو اللہ نے ایسی شاندار نعمتوں سے نوازا ہے جس کا کوئی مول نہیں ہے۔ اماں کا فلسفہ گہرا تھا مگر میری سمجھ سے باہر تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ میں اکثر نور کے پاس جاتی۔ اس کے والد تو بس ہفتہ میں ایک مقررہ دن آتے لہذا مجھے وہاں آنے جانے میں کوئی حجاب نہ تھا۔ ان کا کوئی بھائی بھی نہ تھا۔ ایک روز اچانک پتہ چلا کہ نور کے والد وفات پاگئے ہیں اور ان کی تدفین ان کے بیٹے کریں گے جو کہ دوسری بیوی سے تھے۔ اب معماحل ہو گیا کہ وہ کہاں رہتے تھے اور کیوں کم کم گھر آتے تھے۔ وہ دراصل اپنی دوسری بیوی اور اس کے بچوں کے ساتھ رہتے تھے اور یہاں بس ہفتے میں ایک پھیرا لگا جاتے تھے۔ اسی وجہ سے اس گھر میں سناٹا براجمان تھا جیسے ان سے خوشیوں نے منہ پھیر لیا ہو۔ کچھ دنوں بعد نور کی والدہ نے امی کو بتایا کہ اس کے شوہر اپنے بیٹوں کے نام ساری جائیداد اور زمین کر گئے ہیں۔ بیٹیوں کو صرف بنگلہ دے گئے ہیں کیونکہ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں اور اراضی کے مالک تو بیٹے ہوتے ہیں۔ یہ سن کرامی کو دکھ ہوا کہ یہ شخص اپنی بچیوں سے نا انصافی کر گیا ہے۔

نور کی سوتیلی ماں اچھی عورت نہ تھی۔ وہ تنگ نظر ، تنگ دل تھی تبھی اس کے بیٹے بھی اپنی ان سوتیلی بہنوں سے نہیں ملتے تھے۔ اس نے ان کے ذہنوں میں بچپن سے ہی نفرت بھر دی تھی۔ باپ کی وفات کے بعد ان لوگوں نے بہنوں سے کوئی ناتا واسطہ نہ رکھا تھا اور نہ ہی باپ کے چھوڑے ہوئے سرمائے سے کچھ دیا، ہر شے پر قبضہ کر لیا۔ یہ وقت ان ماں بیٹیوں پر کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ ایک بنگلہ ضرور تھا جو ان کے سر چھپانے کا آسرا تھا جس میں یہ رہتی تھیں اور شوہر نے نور کی ماں کے نام دو دکانیں بھی کر رکھی تھیں جن کا کرایہ آتا تھا۔ اس کرایہ پر ان کی گزر اوقات ہوتی جبکہ کروڑوں کی جائیداد پر دوسری بیوی حقدار ٹھہری۔ نور کی والدہ حیات بی بی بہت شریف، نیک صابر و شاکر اور خاندانی عورت تھیں ۔ ہم نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ہمت اور جرات کے ساتھ شوہر کے بغیر انہوں نے حالات کا مقابلہ کیا۔

نور نے تعلیم کو خیرباد کہ دیا تھا۔ باپ کی وفات کے بعد اسے ماں نے ہمت دلائی اور کالج میں داخل کرا دیا جبکہ اس کی بڑی بہن جو میٹرک پاس تھی ، وہ گھر بیٹھ گئی تھی۔ میرے والد صاحب کا محکمہ صحت میں کافی اثر و رسوخ تھا۔ انہوں نے کوشش کر کے کائنات کو ہیلتھ وزیٹر کا کورس کرا دیا تا کہ وہ ماں اور بہن کی کفالت کر سکے۔ پہلے جو سہولتیں میسر تھیں، ایک ایک کر کے ختم ہو گئیں۔ نوکر ڈرائیور سب ساتھ چھوڑ گئے۔ میں نے ان کی زندگی کے بدلتے مناظر سے بہت کچھ سیکھا اور سبق حاصل کیا ۔ اونچے اور شاندار گھر کے اندر بھی وہ رویا اور سسکا کرتی تھیں اور ان کے آنسو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ نور نے ایف اے کے بعد بیوٹی پارلر کا کورس کیا اور گھر میں پارلر کھول لیا تا کہ تیز رفتار وقت کا ساتھ دے سکے۔آنٹی کی اب یہ خواہش تھی کہ ان کی دونوں بیٹیوں کی کسی اچھی جگہ شادیاں ہو جائیں لیکن کہیں میل ملاپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچیوں کے رشتے خود تلاش کرنے سے قاصر تھیں۔ انہوں نے محلے کی ایک خاتون سے ذکر کیا اور اس عورت نے ایک رشتہ کرانے والی کو ان کے پاس بھجوادیا۔ اس عورت کے توسط سے ایک رشتہ آنٹی کو بہتر لگا۔ لڑکا وکیل تھا اور اچھا خاصا کما لیتا تھا۔ لوگ تو اجنبی تھے مگر انہوں نے آنٹی کو دل موہ لینے والی باتوں سے اپنا بنا کر شیشے میں اتار لیا۔ یوں ایاز خان سے آپی کی شادی ہوگئی۔

آنٹی کی مجبوری یہ تھی کہ ہر حال میں بچیوں کا رشتہ انہوں نے سادات گھرانے میں کرنا تھا۔ ان لوگوں نے خود کو سادات بتایا تھا مگر وہ سادات نہ تھے انہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ دراصل انہیں آنٹی کے شاندار بنگلے نے لبھا لیا تھا جس کی وارث یہ دونوں بہنیں تھیں ۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ دونوں بہنوں سے دو بھائیوں کا ناتا جوڑ لیں گے تو سارا بنگلہ ہمارا ہو جائے گا۔ شادی سے پہلے کرائے کا بنگلہ لے کر انہوں نے اسے اپنا ذاتی گھر ظاہر کیا۔ آنٹی بیچاری کہاں سے تصدیق یا جانچ پڑتال کرتیں، وہ تو گھر سے قدم بھی نہ نکالتی تھیں۔ انہوں نے ان کی ہر بات کا اعتبار کر لیا ۔ جلد ہی وکیل صاحب نے رنگ دکھانے شروع کر دیئے۔ پہلے گھر داماد بن گئے ۔ آنٹی کو اعتماد میں لیا۔ بنگلے کا جائیداد ٹیکس، دکانوں کا کرایہ غرض ہر مرحلے پر مدد کرتے اور تمام کام اپنے ذمے لے لئے۔ اس کے بعد انہوں نے دھوکے سے کوٹھی کے کا غذات ہتھیا لئے اور بیوی کو کچھ مسئلے مسائل بتا کر کا غذات پر دستخط کرالئے، جس کا علم آنٹی کو نہ ہو سکا۔ انہوں نے کوٹھی اپنے نام کرالی اور ایک دن بیوی سے جھگڑا کر کے ان کو گھر بدر کرنے کے درپے ہو گئے ۔ آنٹی اور ان کی بیٹیاں روتی ہوئی ابو کے پاس آئیں اور تمام احوال بتایا۔ والد صاحب نے کہا۔ فی الحال ہمارے پاس رہیئے ۔ داماد نے کوٹھی پر تالا لگا دیا تھا۔ بہرحال ابو نے وکیل کرا دیا اور خود مقدمے کی پیروی اپنے ہاتھ میں لے لی، پانچ سال کیس چلتا رہا اور آنٹی بیچاری بچیوں کے ساتھ در بدر رہیں ۔ آخر کار کیس جیت گئیں ۔ اس نابکار داماد سے چھٹکارا ملا۔ بیوی کو اس نے طلاق دے دی لیکن دونوں لڑکیوں کے زیور، کار اور گھر کا سارا سامان لے گیا۔ خالی کوٹھی اور طلاق یافتہ بچیاں ان کے پاس باقی رہ گئیں۔ آنٹی نے جس داماد کو بیٹا جان کر آس لگائی تھی اس نے ناگ بن کر ڈس لیا۔

نور کی رخصتی نہ ہوئی تھی۔ ایاز نے اپنے چھوٹے بھائی سے محض نکاح کیا تھا۔ وہ لڑکا نور کو طلاق نہ دینا چاہتا تھا مگر کیس میں الجھ کر اسے بھی طلاق دینی پڑی۔ یوں یہ دونوں بہنیں اپنے شاندار بنگلے کے پیچھے خوار ہوئیں اور گھر بھی آباد نہ ہو سکے۔ دنیا میں لالچی لوگوں کی کمی نہیں۔ خدا ایاز جیسے چالباز انسانوں سے ہر شریف لڑکی کو بچائے۔ سچ ہے سر پر اپنے مرد کا سایہ نہ ہو، زمانے کی دھوپ ایسے ہی جھلسا دیتی ہے۔ آج بھی نور اور کائنات اسکول ٹیچنگ پر گزارا کرتی ہیں جبکہ ان کی ماں اب اس دنیا سے اور دنیا کے دکھوں سے نجات پا چکی ہے۔

Latest Posts

Related POSTS