Wada Khilafi Ki Saza

789
Wada Khilafi Ki Saza – Kids Corner Story
ملک قازقستان کے ایک شہر نورپور کے لوگ مزے کی زندگی بسر کررہے تھے کہ اچانک ان کے شہر میں شدید بارشیں شروع ہوگئیں ،جس کی وجہ سے شہر کے مکانات گر گئے کیونکہ بارش پورے بیس دن لگا تار ہوتی رہی تھی۔ لوگوں کے مکانات ٹوٹ ٹوٹ کر مٹی کے بڑے بڑے ڈھیروں میں تبدیل ہوگئے۔ پورے شہر کی صفائی کی گئی لیکن انہوں نے شہر کا سارا ملبہ شہر ہی کے ایک حصے میں گرا دیا۔ (پہلے زمانے میں پورے شہر کے گرد ایک دیوار ہوا کرتی تھی اور ایک بہت بڑا دروازہ ہوتا تھا) لہٰذا انہوں نے سارا گند دیوار کے پیچھے گرا دیا۔
دن گزرتے گئے اور سال بیت گئے۔ اس ڈھیر میں چوہے پیدا ہونا شروع ہوگئے اور روز بروز ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ پھر تو چوہوں نے شہر میں داخل ہونا شروع کردیا اور پورے شہر میں چوہے ہی چوہے ہوگئے۔ چوہوںنے پورے شہر میں ہلچل مچا دی، جو تباہی کا باعث بن گئی۔ چوہے دکانوں کی دکانیں اور گودام کے گودام کھا گئے۔ اب تو شہر والے بہت پریشان ہوگئے۔ انہوں نے لاکھ جتن کئے، زہریلی دوائیاں ڈالیں مگر کچھ نہ ہوا۔ اگر ایک دن پچاس چوہے مرتے تو اگلے دن سو چوہے اور پیدا ہوجاتے۔
ایک دن ایک بانسری بجانے والا اس شہر میں آیا۔ اس نے دیکھا کہ ہر جگہ چوہے ہی چوہے ہیں، سارا بازار ویران پڑا ہے، دکانیں خالی ہیں۔ اس نے شہر والوں سے کہا کہ وہ انہیں ان چوہوں سے چھٹکارا دلا دے گا اور یہ کام اپنی جادو کی بانسری سے کرے گا۔ اس کے عوض وہ دو تھیلیاں سونے کے سکوں کی لے گا۔ شہری بہت پریشان تھے، اس لئے انہوں نے سونے کے سکوں کی تھیلیاں دینے کی حامی بھر لی۔ بانسری بجانے والے نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے صبح ہی صبح یہاں آئے گا اور انہیں چوہوں سے چھٹکارا دلا دے گا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ لوگ بے تابی سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ آخرکار ہفتے کے دن بانسری والا صبح ہی صبح وہاں پہنچ گیا اور اس نے شہر کے بیچ کھڑے ہوکر اپنی جادو کی بانسری بجانی شروع کی۔ سارے چوہے کونوں کھدروں سے نکل کر اس کے پاس جمع ہونا شروع ہوگئے اور انہوں نے ناچنا شروع کردیا ،بانسری والا انہیں لے کر شہر کے دروازے کی طرف چلنے لگا، سارے چوہے جوں ہی شہر کے دروازے سے باہر گئے، انہوں نے دروازہ بند کرلیا۔ بانسری بجانے والا ایک ندی کے پاس رک گیا۔ اس نے ایک خاص اشارہ کیا تو سارے چوہے اچھلتے کودتے ندی میں چلے گئے اور ڈوب گئے۔ جب آخری چوہا بھی ندی میں چلا گیا تو بانسری بجانے والے نے شہر کی راہ لی۔ شہر والے چوہوں سے نجات پربہت خوش تھے۔ بانسری والے نے کہا۔’’ میں نے تمہارا کام کردیا، اب مجھے اشرفیاں دے دو۔‘‘
انسان کی فطرت ہوتی ہے کہ جب اس کا کام ہوجائے تو وہ کام کرنے والے کو پہچاننے سے انکار کردیتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ بانسری والا زیادہ مزاحمت کرنے لگا تو انہوں نے سپاہیوں کے ذریعے اسے شہر سے باہر پھنکوا دیا۔ جس پر بانسری والے نے کہا۔ ’’کوئی بات نہیں، تم لوگوں نے وعدہ خلافی کی ہے۔ اگلے ہفتہ میں آئوں گا اور تم لوگوں کو سزا دوں گا۔‘‘ چنانچہ وہ اگلے ہفتہ آیا اور اپنی بانسری کی دھن پر نئی دھن بجائی۔ دھن کی آواز سنتے ہی شہر کی ساری بھیڑ بکریاں اور اونٹنیاں اس کے پاس جمع ہونا شروع ہوگئیں اور اس کے ساتھ چلنا شروع کردیا۔ شہر والے چیختے چلاتے رہ گئے لیکن جانوروں نے ایک نہ سنی اور اس کے ساتھ چلے گئے اور اس نے انہیں ایک غار میں بند کردیا۔
لوگوں نے کہا۔’’ تم اپنی سکوں کی تھیلیاں لے لو اور ہمارے جانوروں کو چھوڑ دو۔‘‘ کیونکہ ان جانوروں سے ہی ہمیں پینے کو دودھ اور کھانے کو گوشت ملتا ہے۔
بانسری والے نے کہا۔’’ نہیں! تم لوگوںنے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا اور یہ تم لوگوں کی سزا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بانسری والے نے اپنا راستہ لیا۔
دیکھا بچو! وعدہ خلافی کا انجام، ہم جب بھی کسی سے وعدہ کریں تو اسے ضرور پورا کریں۔