Wafa Ki Dastaan | Teen Auratien Teen Kahaniyan

995
سیداں خالہ ہمارے برابر میں رہتی تھیں۔ یوں تو اخلاق کی بہت اچھی تھیں، پاس پڑوس سے بھی بنی ہوئی تھی لیکن اپنے یتیم بھانجے سے ان کا سلوک کچھ اچھا نہ تھا۔
اس لڑکے کا نام مظفر تھا۔ ان کی سگی بہن کا بیٹا تھا۔ جب مظفر کی ماں فوت ہوئی اس کی عمر نو سال تھی اور چوتھی میں پڑھتا تھا۔ ذہین اور محنتی تھا اور بہت تابعدار قسم کا تھا۔ اسی باعث رشتہ داروں کے کہنے پر خالہ نے اسے اسکول سے نہیں نکالا بلکہ اس کی تعلیم جاری رکھی اور یہ ان کا بڑا احسان اس بچے پر ہوا۔
بہن کی وفات پر خالہ مظفر کو گھر لے آئیں کیونکہ بہن بیوہ تھی اور اب اس لڑکے کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔ کچھ دن تو پیار سے رکھا پھر رویّہ بدلنے لگا۔ اسکول سے آتے ہی اسے بمشکل کھانا کھانے کی مہلت دیتیں اور گھر کے کام پر لگادیتیں۔ باہر کے سودے بھی لانا اسی کے ذمے تھا۔ غرض کہ وہ بھانجا کم اور ان کا نوکر زیادہ لگتا تھا۔ برتن دھلوانا اور گھر کی صفائی وغیرہ بھی اس سے کرواتی تھیں۔ محلے کی عورتیں دیکھتیں تو مظفر پر ترس کھاتیں کہ بیچارا کتنا شریف اور سادہ سا ہے۔ صبر سے خالہ کے تمام احکام بجالاتا ہے۔
خیر کوئی کیا کرسکتا تھا۔ ایک یتیم بچے کو پالنے کی ذمہ داری بڑی ہوتی ہے۔ لوگ برائیاں تو نکال لیتے ہیں اچھائی کوئی نہیں دیکھتا۔
خالہ کی اپنی بھی تین بیٹیاں تھیں۔ سب سے بڑی بیٹی سدرہ کی انہوں نے اس وقت شادی کردی تھی جب وہ ابھی پندرہ برس کی تھی۔ دلہا عمر میں اس سے بیس برس بڑا تھا مگر بہت امیر اور صاحب جائیداد تھا۔ خالہ نے دولت دیکھ کر ہی اس کم سِن کو عمررسیدہ سے بیاہا تھا۔ ان کے خیال میں لڑکی کے لئے دولت مند بَر زیادہ بہتر تھا کہ لڑکی عمر بھر عیش کرے گی۔
اللہ تعالیٰ نے سدرہ کو شادی کے تین سال بعد یکے بعد دیگرے دو بچوں سے نواز دیا۔ بیٹی کا نام ستارہ اور بیٹے کا حسن رکھا۔
شومئی قسمت، شادی کے نو سال بعد سدرہ کا شوہر ہارٹ فیل ہوجانے سے چل بسا۔ وہ جوانی میں بیوہ ہوگئی مگر شوہر کی جائیداد اسے ملی تو بیوگی کا غم کم ہوگیا کیونکہ بچوں کو کم از کم یتیمی کے دکھ نہیں دیکھنے پڑے۔
سدرہ اکیلی کوٹھی میں نہ رہ سکتی تھی لہٰذا وہ دونوں کم سِن بچوں کو لے کر خالہ کے گھر آگئی اور اپنی کوٹھی کرائے پر اٹھا دی۔ ستارہ اور حسن کے آجانے سے مظفر کا دل لگ گیا۔ کیونکہ معصوم بچے اس سے کھیلتے اور باتیں کرتے تو وہ اپنے غم بھول جاتا تھا۔ ساتھ ہی رات کو جاگ کر پڑھتا رہتا۔ اس نے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرلی۔ اس کی پڑھائی کے اخراجات سدرہ نے اٹھائے اور آگے پڑھانے میں مدد دی کیونکہ اس کے پاس روپے پیسے کی تو کمی نہ تھی، اور وہ دل کی بھی اچھی تھی۔ اکثر ماں سے کہتی تھی اماں یہ بیچارہ یتیم ہے اور تمہاری سگی بہن کا بیٹا ہے۔ اس کے ساتھ نرمی کا سلوک روا رکھا کرو۔ بہرحال جب مظفر نے تعلیم مکمل کرلی تو خوش قسمتی سے اسے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اچھی جاب مل گئی۔ چونکہ محنتی اور دیانت دار تھا اور اپنے افسران کی تابعداری کرتا تھا۔ جلد ترقی کرنے لگا اور تنخواہ بھی اچھی ملنے لگی۔
وہ روزِ اوّل سے اپنی ساری تنخواہ لاکر خالہ کے ہاتھ پر رکھ دیتا تھا اور خود ان سے ذاتی اخراجات کے لئے تھوڑی سی رقم لیتا تھا۔ کہتا تھا۔
خالہ جان میری دو بہنیں عالیہ اور صالحہ ہیں۔ یہ رقم ان کے بیاہ اور جہیز میں کام آئے گی۔ خالہ کی منجھلی بیٹی اب جوان ہورہی تھی اور ان کو بیٹی کے بیاہ کی بہت فکر تھی۔
جب مظفر خوب کمانے لگا تو خالہ کا رویّہ بھی اس کے ساتھ بہت اچھا ہوگیا۔ اب وہ اس کے آرام اور کھانے پینے کا بہت خیال رکھتی تھیں، اور گھر میں رفتہ رفتہ اس کی حیثیت وی آئی پی جیسی ہوگئی۔
اس تبدیلی کو مظفر نے بھی محسوس کیا کہ دنیا پیسے کی ہے۔ مگر وہ خالہ کا پھر بھی احسان مند تھا کہ انہوں نے پال پوس اور پڑھا لکھا کر اس کی زندگی بنادی تھی ورنہ شاید آج وہ کسی یتیم خانے میں ہوتا۔
وقت گزرنے لگا۔ مظفر کا تبادلہ دوسرے شہر ہوگیا۔ اب وہ صرف چھٹیوں میں گھر آتا۔ بچے اس کی آمد پر خوشی سے اچھلنے لگتے۔ عالیہ اور صالحہ بھی کھل اٹھتیں بھائی جان آگئے۔ بھائی جان آگئے کی آوازوں سے گھر گونجنے لگتا۔ اس بار جب وہ گھر آیا۔ سدرہ کے دونوں بچے اس کی طرف لپکے۔ اس کی ٹانگوں سے لپٹ کر خوشی سے چلانے لگے۔ مظفر بھائی آگئے۔ وہ مظفر بھائی کی رٹ لگاتے تھکتے نہیں تھے۔ سارے گھر والوں کو پتہ چل گیا کہ مظفر گھر آگیا ہے۔ خالہ بھی دوڑی گئیں اور سدرہ نے آگے بڑھ کر خوش آمدید کہا۔ صالحہ تو خوشی سے کھل اٹھی لیکن عالیہ نہیں آئی۔ حالانکہ وہ سب سے زیادہ منتظر ہوتی تھی اور بے تابی سے آکر ملتی تھی۔
مظفر نے سب سے ملنے کے بعد کسی کی کمی محسوس کی اور وہ عالیہ تھی۔ اس کی نگاہیں عالیہ کو ڈھونڈنے لگیں۔
کیا وہ گھر پر نہیں ہے؟ گھر ہوتی تو یقیناً دوڑی آتی اور آکر ملتی ہمیشہ کی طرح…
عالیہ کہاں ہے؟ اس نے صالحہ سے سوال کیا۔ بھائی جان وہ اپنے کمرے میں ہے۔ تھوڑی دیر پہلے اس کی سہیلی آئی تھی۔ اس سے بھی نہیں ملی۔ کئی دنوں سے کمرے میں بند رہتی ہے۔ کہتی ہے کمپیوٹر پر ضروری کام کررہی ہوں۔ عجیب بات تھی مظفر کی آواز سنتے ہی جو لڑکی بے تاب ہو کر کمرے سے نکل آتی تھی، جو اس سے اتنا پیار کرتی تھی۔ سارے گھر میں شور مچا اور اسے خبر نہ ہوئی کہ وہ آگیا ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا۔ کیا مجھ سے ناراض ہے لیکن ایسی ناراضگی بھی نہ تھی… مظفر کو سوچتے پاکر صالحہ بہن کے کمرے کی طرف گئی اور دروازہ بجانے لگی۔
آپی باہر آئو مظفر بھائی آئے ہیں۔ وہ بادلِ ناخواستہ اٹھی اور باہر آگئی۔ مظفر سے کہا،اچھا آپ آگئے۔ کب آئے مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ اس کی مُردہ آواز سن کر وہ سوچ میں پڑگیا۔ جو لڑکی ذرا سا شور سن کر سمجھ جاتی تھی کہ مظفر بھائی آگئے۔ وہ آج بے خبر کیسے رہ گئی۔ اس کی گمبھیر خاموشی پر سارے گھر میں سناٹا چھاگیا۔ اس گمبھیرتا کو توڑنے کے لئے مظفر نے ہی ہلچل مچائی۔ ارے بھئی تم لوگوں نے تو پوچھا نہیں کہ میں تم سب کے لئے کیا کیا لایا ہوں۔ اس نے سوٹ کیس کھولا۔ بچوں کو چاکلیٹ اور خالہ زاد بہنوں کو ان کے مرتبے کے مطابق چھوٹے چھوٹے تحفے دیئے۔ سبھی نے بخوشی تحفے اٹھائے مگر عالیہ نے تحفے کو قبول کرکے شکریہ کہا اور میز پر رسٹ واچ رکھ کر چلی گئی۔ شاید جاتے ہوئے اٹھانا بھول گئی تھی۔ اس بات پر مظفر کو اور زیادہ حیرانی ہوئی۔
خالہ نے میز پر کھانا لگایا اور سب کھانے بیٹھ گئے ۔ خالہ نے ستارہ سے کہا جاکر عالیہ سے کہو کھانا لگ گیا ہے۔ سب اس کا انتظار کررہے ہیں، جلدی سے آجائے۔ ستارہ نے در کھٹکھٹایا تو عالیہ بھڑک اٹھی۔
دفع ہوجائو یہاں سے مجھے سکون سے کام کرنے دو ، دیکھ نہیں رہی ہو کام کررہی ہوں۔ ستارہ آئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جانے آپی کو کیا ہوگیا ہے۔ کبھی آج تک انہوں نے مجھ سے اس طرح بات نہیں کی۔ ہمیشہ پیار سے بات کرتی ہیں۔
خالہ بولیں مجھے خود فکر ہورہی ہے آخر اسے ہو کیا گیا ہے۔ آج تک تو اونچی آواز اس کی کسی نے نہیں سنی تھی ایک ہفتے سے اسی طرح کررہی ہے۔ ہر وقت دروازہ بند کرکے کمرے میں رہتی ہے۔ مجھے تو کچھ بتاتی نہیں ہے۔ کہتی ہے کالج کا کام کررہی ہوں کمپیوٹر پر، مجھے ڈسٹرب نہ کریں۔ کسی کو اپنے کمرے میں آنے نہیں دیتی۔
میں عالیہ سے بات کرتا ہوں ایسا کونسا کام ہے جو سارا سارا دن کرنے سے بھی پورا نہیں ہوتا۔
کھانا لے کر عالیہ کے کمرے کا در کھٹکھٹایا تو اندر سے اس کے بڑبڑانے کی آواز آئی اُف اللہ… سکون سے جینے نہیں دیتے… میں ہوں مظفر دروازہ کھولو عالیہ… ناچار اس نے اٹھ کر در کھولا اور بولی سوری۔ آپ سے اس طرح بات کی بہت پریشان ہوں۔
کیا بات ہے مجھ پر بھروسہ کرو، مجھے اپنی پریشانی بتائو۔ میں ضرور کوئی نہ کوئی حل نکال لوں گا۔
ہمت کرکے عالیہ نے اپنی پریشانی بتادی۔ اس نے کہا۔ مظفر بھائی میں نے فیس بک پر اپنی آئی ڈی بنائی تھی اور اپنے بارے سب کچھ بتادیا تھا۔ فوراً ہی ایک لڑکے کا میسج آگیا۔ اس طرح میں بھی اس کو جواب دینے لگی۔ روزانہ ہماری بات ہونے لگی۔ ایک روز اس نے ضد کی اپنی تصویر بھیجو، اپنی آئی ڈی پر، میں نے دوستی کا بھروسہ کرکے فوراً تصویر سینڈ کردی۔ اس کے بعد اس لڑکے نے پروپوز کیا اور مجھے ملنے کے لئے بلایا۔
میں اسے ملنے کی گئی تو وہاں اس نے میرے ساتھ زبردستی کی اور میری تصویر بنالی۔ اب وہ مجھے بلیک میل کررہا ہے۔ اگر تم مجھے ملنے نہ آئیں تو میں یہ لیک کردوں گا۔ اگر اس نے وہ لیک کردیا تو میری زندگی برباد ہوجائے گی۔ مظفر نے اسے بہت تسلی دی اور ایک جگہ بتائی کہ تم اسے ملنے جانا جب وہ تمہارے ساتھ زیادتی کی کوشش کرے گا، عین وقت پر ہم اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیں گے۔ عالیہ کو نجات اسی میں نظر آئی۔ وہ مظفر کے ساتھ وہاں گئی۔ مظفر نے اپنے دوستوں کو کہہ کر اس کو پکڑنے کا بندوبست کرلیا تھا۔ مگر وہ لڑکا بھی ہوشیار تھا، اس نے عالیہ کو کچھ نہ کہا مگر ایم ایم ایس کو لیک کردیا اسی کے سامنے اور خود پچھلے دروازے سے نکل گیا۔
جب عالیہ کے مس کال دینے پر مظفر اندر آیا وہ صدمے سے نڈھال تھی۔ اس کے ساتھ بڑی مشکل سے گھر آئی اور روتے ہوئے بولی تمہارے احمقانہ مشورے پر عمل کرکے میں برباد ہوگئی۔ اپنی عزت سرِ راہ نیلام کرادی وہ مجرم بنا سر جھکائے تھا۔ رات بھر وہ روتی رہی اور کمرہ بند رکھا۔ رات کو نجانے کونسی مضرِ جان لیوا دوا پی لی کہ صبح بیہوش پڑی تھی۔ کھڑکی توڑ کر گھر والے اندر گئے وہ نیلی ہو چکی تھی، جان نہ بچ سکی اور صدمے سے موت کے منہ میں چلی گئی۔
مظفر سخت نادم تھا وہ خود کو مجرم سمجھ رہا تھا اور خالہ نے بھی اسی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ لعن طعن کی کہ تم کو اسے ایسا مشورہ نہ دینا چاہئے تھا۔
چھٹی ختم ہونے پر وہ واپس لوٹ گیا۔ ایک ماہ بعد آیا اور خالہ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ رو رو کر معافیاں مانگتا رہا۔ آخر سدرہ کے کہنے پر خالہ نے کہا۔ اچھا جو اللہ کو منظور تھا وہ ہوگیا۔ میں نے تو سوچ رکھا تھا کہ تمہاری شادی عالیہ سے کروں گی تاکہ ساری عمر تم ساتھ رہو اور کبھی جدا نہ ہو۔ جو دوسری لڑکی آئے گی وہ تو ضرور ہم کو جدا کر ہی دے گی۔
وہ گھر جو خوشیوں بھرا تھا اس پر اب ہر وقت اداسی کے بادل چھائے رہتے تھے، اور سب کے پھول سے چہرے مرجھاگئے تھے۔ ستارہ اور حسن بھی ہر وقت آپی عالیہ کی کمی محسوس کرتے۔ سدرہ تو ایک کونے میں جاکر رو لیتی، جب جی بھر کے رولیتی تو پھر گھر کے کاموں میں لگ جاتی۔
خالہ کی حالت گرچہ بُری تھی مگر حوصلے سے کام لیا، سب کو انہوں نے ہی سنبھالنا تھا۔ خاص طور پر ان کو صالحہ کی بے حد فکر تھی جو اب بڑی ہورہی تھی اس کو بیاہنا تھا۔ عالیہ کی اس طرح کی موت نے اس کے مستقبل پر اثر ڈالا تھا، کچھ افسوس کرنے والے تو کچھ سو طرح کی باتیں کرنے والے، زمانہ بڑا خراب ہے یہ مرنے والوں کو بھی نہیں بخشتا۔ صالحہ کے علاوہ خالہ کی دو اور بھی ذمہ داریاں تھیں۔ سدرہ کی فکر الگ ، ستارہ کی الگ ، وہ بوڑھی جان کمر جھک گئی غم سے نڈھال رہنے لگیں۔ مظفر خالہ کی ایسی حالت دیکھ کر بہت کڑھتا تھا اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیسے ان کا غم بانٹ لے۔
سدرہ کے چند رشتے آئے مگر سب دولت کے لالچ میں کہ امیر بیوہ ہے کسی طرح دولت ہتھیالیں۔ خالہ زمانے کی رمز کو خوب سمجھتی تھیں۔ سوچ سمجھ کر اس کی زندگی کا فیصلہ کرنا چاہتی تھی کیونکہ بچوں کا مستقبل بھی ساتھ وابستہ تھا۔
ایک روز بہت سوچ سمچھ کر مظفر نے خالہ سے کہا… ایک بیٹی تو کھوچکی ہیں اب دوسری کی زندگی کیوں برباد کررہی ہیں۔ کل آپ کی آنکھ بند ہو جائے تو سدرہ کا کون ہے ، صالحہ کی شادی تو ہو ہی جائے گی اس کی اٹھتی عمر ہے مگر سدرہ آپا اور ان کے بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھنے والا کون ہے۔ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ایک بات کہنا چاہوں گا۔ میں سدرہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ خالہ کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ تم جانتے ہو کیا کہہ رہے۔
جی خالہ میں اپنے ہوش و حواس میں یہ بات کررہا ہوں۔ میں اس کو آپ کی امانت سمجھ کر اچھا رکھوں گا۔ ان کے بچوں کو باپ کی شفقت اور تحفظ دوں گا۔ اب ان کو کسی مضبوط تحفظ کی ضرورت پڑے گی۔ یہ بڑے ہونے والے ہیں۔ سدرہ کے یا آپ کے قابو میں نہ آئیں گے۔
مگر وہ تم سے دس گیارہ سال بڑی ہے اور بیوہ ہے۔ تم ایک اعلیٰ افسر ہو ، ایک سے ایک اچھی لڑکی کا رشتہ تم کو مل سکتا ہے۔
چھوڑیئے یہ باتیں اپنوں کے دکھ سمیٹنے ہوں تو ایسی باتیں نہیں سوچنی چاہئیں۔ آپ مجھے داماد کے روپ میں دیکھنا چاہتی تھیں نا۔ عالیہ کی زندگی نے وفا نہ کی میرے ہاتھوں نادانی میں آپ کے دل کو زخم لگا ، اب میں اس زخم پر مرہم رکھ کر دکھائوں گا۔ دیر تک خالہ سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھی رہیں پھر کہا… سدرہ سے بات کرلو۔
مظفر نے سدرہ سے بات کی وہ کسی طور راضی نہ ہوتی تھی، کہا کہ تم کو چھوٹا بھائی سمجھتی ہوں۔ میرے بچے تم کو ماموں کہتے ہیں۔ تو کیا ہوا۔ میں آپ کا سگا بھائی تو نہیں ہوں۔ خالہ زاد ہوں۔ یہ رشتہ ازدواج میں بدل سکتا ہے۔ اس میں خالہ کے لئے سُکھ اور آپ کے بچوں کی بھلائی ہے۔ لوگوں کی آپ کے شوہر کی جائیداد پر نظر ہے جو خالصتاً آپ کے بچوں کا حق ہے۔ اس طرف میں کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھوں گا، یقین کیجئے آپ کی جائیداد سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ سوائے اس کے کہ میں دیکھ بھال کروں اور آپ کے بچوں کے حق کا تحفظ کروں۔
سدرہ نے کچھ دن سوچا اور آخرکار مظفر نے اسے قائل کرلیا۔ وہ خود بھی اب اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے فکرمند تھی۔
مظفر کو یتیمی میں جس خالہ نے سہارا دیا تھا ، پالا اور پڑھایا ، آج وہ اس حق کو ادا کرنا چاہتا تھا۔ سو اس نے ادا کردیا۔ اس کی رگوں میں شریف ماں باپ کا خون تھا اور وفا کرکے اس نے یہ حق ادا کیا۔
سدرہ اس کی شریکِ حیات بنی تو بہت خوبی سے یہ رشتہ نبھایا۔ اس کا ہر طرح خیال رکھا۔ اس کی جائیداد کی حفاظت کی اور جب بچے بالغ ہوگئے تو ان کے باپ کا اثاثہ ان کے حوالے کردیا۔ خود اپنی کمائی سے بیوی کا نان نفقہ پورا کیا اور بچوں کو پڑھایا۔ پھر ایک اچھا رشتہ دیکھ کر صالحہ کی شادی کردی۔
بڑھاپے میں خالہ کو ایک اچھا داماد ہی نہیں فرمانبردار بیٹا میسر آگیا۔ یہ ان کی کوئی نیکی تھی جو کام آئی۔ بڑھاپا سکون سے گزرا۔ آج بھی وہ زندہ ہیں، ہر وقت مصلّے پر بیٹھے مظفر کو دعا دیتی ہیں۔ اس کی روزی میں برکت اور اس کی سلامتی اور طویل عمری کی۔ یہ حق اور فرض کی ایک ایسی داستان ہے جو سنہرے حروف میں لکھی جانی چاہئے۔
(ن… قصور)