Saturday, May 18, 2024

Waris Tu Mil Gaya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ملوک میری والدہ کے پاس رہتی تھی۔ وہ ہمارے ایک مزارع کی بیٹی تھی۔ اس کے والدین وفات پا گئے تو اماں جان نے اسے مستقل اپنے گھر رکھ لیا۔ ان دنوں اس کی عمر تیرہ برس تھی۔ بہت صابر اور فرمانبردار لڑکی تھی۔ میں پندرہ برس کی تھی، لہٰذا وہ میری خدمت پر مامور ہوگئی۔
ہم عمری کے سبب ہماری خوب بنتی تھی۔ خادمہ نہیں بلکہ ایک طرح سے وہ میری ہم جولی تھی۔ اس کے ہوتے تنہائی محسوس نہ کرتی۔ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہا کرتی تھیں۔ میری ماں بھی یتیم بچی کا خیال رکھتیں اور اسے اچھے اچھے جوڑے بنا کر دیا کرتیں تاکہ اسے ماں باپ کی کمی کا احساس نہ ہو۔
سترہ برس کی عمر میں میری شادی ہوگئی۔ میں اپنے چچا زاد ابصار کے ساتھ بیاہ کر لاہور آگئی۔ ابصار نے مقابلے کا امتحان پاس کیا تھا۔ وہ لاہور میں آفیسر تعینات ہوگئے۔ میں لاہور آکر بہت خوش تھی۔ ہمارے گائوں کی نسبت یہ شہر پیرس جیسا تھا۔ خوبصورت تاریخی عمارتیں، بے شمار گل رنگ پارک اور ہرے بھرے باغات۔ رات کو درختوں پر چراغاں کا سماں ہوتا تھا۔ جبکہ اب تو دھول اڑاتی پگڈنڈیوں پر قدم دھرنے کو جی نہیں کرتا۔
شوہر کے پاس آکر ان کا انمول پیار اور ہر طرح کا آرام میسر آگیا۔ تاہم ملوک کی یاد کبھی کبھی اداس کردیتی تھی۔ یہاں اس جیسی خادمہ نہیں مل سکتی تھی۔ اس بار میکے جانا ہوا تو اسے بھی افسردہ پایا، اماں نے بتایا۔سدرہ… جب سے تم بیاہ کر گئی ہو، اس نے تو کھانا پینا ہنسنا بولنا چھوڑ دیا ہے۔ اب اس کا ہمارے یہاں دل نہیں لگتا۔ تبھی میں نے کہا۔اماں مجھے بھی لاہور میں اس جیسی خدمت گار نہیں ملتی، اس کو میرے ساتھ بھیج دیں۔ یہ سن کر ملوک کھل اٹھی۔ والدہ نے اس کو میرے ہمراہ روانہ کردیا۔
لاہور آکر وہ بہت خوش تھی، گرچہ میں اسے پہلی جیسی توجہ نہ دے پاتی تھی تاہم وہ میری خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتی۔ جیسے اس کو میرے پاس آکر سکون مل گیا ہو۔ مجھے بھی ملوک کے آجانے سے بہت آرام ملا… وہ اور ملازمائوں جیسی نہ تھی۔ دل سے سارے کام کرتی تھی، میری مزاج شناس تھی۔ الماری ٹھیک کرکے رکھنا، کپڑے استری کرکے اس میں ہینگ کرنا اور کاسمیٹک اشیاء کو سنبھالنا۔ حتٰی کہ میرے مزاج کی چائے بنا کر دینا، میرے ذاتی کام اس سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ جب احساس ہوتا وہ بور ہورہی ہے، اپنے ہمراہ گھمانے پھرانے بھی لے جاتی۔ اس نے مجھے اتنا سکھ دیا ہوا تھا کہ ابھی تک اس کو خادمہ نہیں اپنی چھوٹی بہن سمجھتی تھی۔ میری کوئی بہن نہ تھی اور وہ بھی اپنے مرحوم والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ یہ کمی میری توجہ اور محبت سے پوری ہوجاتی تھی۔
اسے میرے پاس آئے چار سال بیت گئے۔ کبھی کبھار امی کے پاس کچھ دنوں کو گائوں جاتی پھر واپس آجاتی۔ کئی بار اس کی شادی کا خیال آیا مگر کوئی مناسب رشتہ اس کے لئے اس وجہ سے شاید ڈھونڈ نہ پائی کہ اس میں میری خود غرضی شامل تھی۔ وہ میرے آرام کا بہت زیادہ خیال جو رکھتی تھی، اس جیسی کوئی دوسری باندی تو مجھ کو مل ہی نہ سکتی تھی۔
وقت بیتتا گیا یہاں تک کہ میری شادی کو آٹھ برس کا عرصہ گزر گیا۔ ہم میاں بیوی کو اللہ نے ہر نعمت عطا کی مگر اولاد کی نعمت سے محروم رکھا۔ میں نے بہت قابل ڈاکٹروں سے علاج کرایا۔ یہی ثابت ہوا کہ میں اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ تھی۔ ابصار کے والد زمیندار تھے اور یہ اپنے والدین کے اکلوتے فرزند تھے، انہیں اب یہی فکر کھائے جاتی تھی کہ ان کا وارث کون ہوگا۔
جب بھی گائوں جاتے، چچا چچی ان پر دبائو ڈالتے کہ تم دوسری شادی کرلو اور ابصار خاموش ہوجاتے، انہیں میرا لحاظ تھا۔ اسی وجہ سے دوسری شادی کی جرأت نہ کر پاتے تھے۔ مجھے بھی اولاد کی شدید آرزو تھی مگر کھل کر اس بات کا اظہار نہ کرسکتی تھی۔ جوں جوں ان کے عہدے میں ترقی ہوتی گئی، ابصار کی مصروفیات بھی بڑھتی گئیں۔ وہ اب اکثر بیرون ملک دورے پر چلے جاتے۔ تب ملوک ہی میری تنہائی کی ساتھی ہوتی۔ اس سے باتوں میں وقت اچھا گزر جاتا تھا۔
انہی دنوں ہمارا ڈرائیور اور اس کی بیوی گائوں چلے گئے، یہ ہمارے خاندانی ملازم تھے اور والدہ نے گائوں سے بھجوائے تھے، اب میرے پاس ڈرائیور نہ رہا۔ ابصار کو تو دفتر سے یہ ملازم میسر تھے مگر گھر کے لئے کسی قابل اعتبار ڈرائیور کی ضرورت تھی۔ جس کی تلاش کا کام انہوں نے اپنے آفس کے ایک ملازم کے ذمے لگا دیا۔ چند روز بعد وہ اپنا کزن لے آیا جس کا نام گل خان تھا۔ وہ خوبصورت مگر قابل ڈرائیور تھا، ابصار نے بات چیت کے بعد اسے رکھ لیا اور سرونٹ کوارٹر بھی رہنے کے لئے دے دیا۔
جب میں نے گل خان کو دیکھا قدرت کی فیاضی پر دنگ رہ گئی۔ اس کا حسن مثل ِیوسف تھا۔ نیلی آنکھوں اور گلاب جیسی رنگت والا یہ غربت کا مارا پشاور کے ایک گائوں کا رہنے والا تھا۔ گل خان نے اپنے نیک رویے کی بدولت جلد ہی ہمارے دل میں عزت پالی۔ میں اس پر اتنا بھروسہ کرنے لگی کہ ملوک کو کئی بار اس کے ہمراہ والدہ کے پاس بھجوا دیا، وہ اسے گائوں سے واپس بھی لے آتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اگر راضی کرسکی تو ملوک سے اس کی شادی کی کوشش کروں گی تاکہ شادی کے بعد بھی یہ دونوں ہمارے پاس رہتے رہیں۔
گل خان کو آئے ڈیڑھ سال ہوچکا تھا۔ اس نے ایک روز بھی ہم کو شکایت کا موقع نہ دیا، بہت شریف طبع تھا۔ ایک دن میں نے محسوس کیا کہ اس کو دیکھ کر ملوک کی نگاہوں میں چمک سی آجاتی ہے تاہم وہ ایک باحیا لڑکی تھی اور میں اس سے توقع نہ کرسکتی تھی کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائے جس پر ہم معترض ہوں۔
انہی دنوں میں بیمار پڑگئی اور اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ میرے لئے آپریشن تجویز ہوا۔ پندرہ دن اسپتال میں رہی۔ اس دوران ملوک، گل خان کے ہمراہ مجھے سوپ اور کھانا وغیرہ پہنچانے آتی تھی۔ جب صحت یاب ہوکر گھر آئی، اس نے میری ایسی تیمار داری کی کہ سگی بہن ہوتی تو نہ کرپاتی۔ میں اس سے خوش تھی لیکن اب وہ اداس اداس سی لگتی تھی۔ گم صم اور پریشان رہنے لگی۔ سمجھ نہ پائی تھی کہ اچانک اسے کیا ہوگیا ہے۔ جیسے کسی حادثے کا شکار ہوگئی ہو۔
دو تین ماہ گزرگئے۔ ایک روز ملوک میرے لئے باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھی کہ اچانک اس کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ چکرا کر گر گئی۔ اس وقت میری دوسری ملازمہ کہ جو صفائی کرنے آتی تھی، وہاں موجود تھی۔ وہ دوڑی ہوئی آئی اور بتایا کہ ملوک کچن میں گر کر بے ہوش ہوگئی ہے۔ میں نے کہا۔ ماریہ، ابصار تو دورے پر گئے ہیں تم ایسا کرو کہ جلدی سے چوکیدار اور ڈرائیور کو بلائو تاکہ وہ ملوک کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالیں۔ اس کو اسپتال لے جانا ہوگا۔
یہ پہلی بارہوا تھا۔ میرے تو ہاتھ پائوں پھول رہے تھے تاہم اسے ایمرجنسی لے جانا ہی تھا۔ اتفاق کہ وہاں ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر میری واقف تھی۔ اس نے بتایا کہ یہ ماں بننے والی ہے۔ اس انکشاف پر میں دنگ رہ گئی۔ گھر آئی تو دماغ چکرا رہا تھا۔
اس راز سے میرے سوا کوئی واقف نہ تھا۔ میرا شک گل خان پر گیا کہ اس کے سوا کوئی اور ملازم ایسا نہ تھا، جس سے اس کا واسطہ پڑتا تھا۔ اس سلسلے میں تنہا کوئی قدم اٹھانا میرے بس کی بات نہ تھی۔ ابصار کا انتظار کرنے لگی… ملوک نے تو لب سی لئے تھے۔ ڈانٹ ڈپٹ کی تو بے ہوش ہوگئی۔ تبھی میں نے حوصلے سےکام لیا۔ گل خان سے پوچھ گچھ نہ کی کہ ابصار کے آنے تک اس سے کوئی بات کرنا مناسب نہ تھا۔ وہ بھاگ جاتا تو پھر اس کا گرفت میں آنا مشکل تھا۔
خود کو قصور وار سمجھنے لگی کہ کیوں ملوک کے بارے میںنہ سوچا۔ خود غرض کیوں بنی رہی۔ اپنے آرام کی خاطر اس کو باندی
بنائے رکھا۔ جبکہ گھر بسانا اور زندگی کی خوشیاں حاصل کرنا اس کا بھی حق تھا۔ وہ ایک لاوارث اور یتیم لڑکی تھی۔ خود تو اپنے مستقبل کی خوشیاں حاصل نہ کرسکتی تھی۔
گزری غلطی کو پیٹنے کا مطلب لکیر کو پیٹنا تھا۔ اب تو کوئی بہتر حل نکالنا تھا۔ ابصار کو آتے ہی پریشانی سے آگاہ کیا۔ وہ تعلیم یافتہ اور سمجھ دار تھے۔ پہلے ٹھنڈے دل سے بات سنی پھر کہا کہ یہ سب تمہاری غفلت کا نتیجہ ہے، کیوں اتنے برس اس کو اپنے پاس رکھا اور اس کی شادی کا نہ سوچا۔ اس بات پر دھیان نہ دیا کہ اس لڑکی کی بھی کچھ آرزوئیں ہوں گی، کہا تھا گائوں بھجوا دو تم نے نہ بھجوایا اور اب مصیبت میں ڈال دیا ہے مجھے۔ ملازمت کی اور ذمہ داریاں تھوڑی ہیں مجھ پر… اب ایسے الٹے سیدھے معاملات نمٹاتا پھروں کہ جس میں ہماری اپنی رسوائی کا بھی خطرہ ہے۔
میں دم سادھے ان کی ڈپٹ سنتی رہی، خاموشی کے سوا چارہ کیا تھا۔ وہ بولے۔ اچھا گل خان سے بات کرتا ہوں… وہ مان گیا تو اسی سے نکاح کرا دیتا ہوں۔ وہ گل خان کے پاس چلے گئے۔کچھ دیر بعد آکر مجھے بتایا کہ بات کرلی ہے۔ فکر نہ کرو کوئی حل نکل آئے گا۔ اگلے روز وہ ملوک اور گل خان کو لے کر اسلام آباد چلے گئے… چار روز بعد واپس آئے اور آگاہ کیا کہ دونوں کا نکاح کرا دیا ہے۔ فی الحال میرے دوست نے گل خان کو ڈرائیور رکھ لیا ہے اور دونوں اس کے سرونٹ کوارٹر میں رہیں گے جب تک کہ گل خان کے والدین ملوک کو اپنی بہو قبول کرنے پر راضی نہیں ہوجائیں۔
ابصار کی باتوں پر اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی تاہم ملوک کے بارے میں پریشان ضرور تھی کہ نہ جانے یہ لوگ اس کے ساتھ کیا برتائو کریں۔ ایک بار ابصار سرکاری کام سے اسلام آباد گئے۔ واپس آئے تو بتایا کہ گل خان کے والدین نے ملوک کو بہو ماننے سے انکار کردیا ہے کیونکہ اس کا نکاح پہلے ہی اس کی چچازاد سے ہوچکا ہے۔ وہ اس کے ہونے والے بچے کو بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ملوک بچے کی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں کرسکے گی، وہ کسی کے کوارٹر میں بطور ملازمہ رہ رہی ہے۔ جبکہ گل خان پشاور چلا گیا۔ ادھر میرے والدین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔ وہ میرے پیچھے پڑے ہیں کہ دوسری شادی کرلو جو کہ میں تمہاری خاطر کرنا نہیں چاہتا… اب اگر تم راضی ہوجائو اور ملوک کا بچہ ہم گود لے لیں تو وارث کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور ملوک بھی اپنی زبان ہمیشہ کے لئے بند رکھے گی کہ یہ ہمارا بچہ نہیں ہے۔
میں نے یہی مناسب جانا کہ ملوک کا ہونے والا بچہ گود لے لوں۔ تاکہ میرے سر پر جو سوتن کے آنے کی تلوار لٹک رہی ہے، اس کا خوف باقی نہ رہے۔ میں نے اپنے شوہر کی تجویز کو قبول کرلیا اور تین ہفتوں کے بعد انہوں نے ملوک کا نوزائیدہ بچہ لاکر میرے حوالے کردیا۔ بتایا کہ گل خان واپس آیا ہے اور اس نے ملوک کی ذمہ داری بطور شوہر قبول کرلی ہے۔ اس کو بھی بچہ ہمارے گود لینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ غریب لوگ ہیں انہوں نے محنت کرکے پیٹ پالنا ہوتا ہے اور اکثر بچے ان کے لئے بوجھ ہی ہوتے ہیں۔ خیر مجھے کیا… ملوک کے دل پر جو بھی گزری ہو مجھ کو تو بچہ مل گیا تھا اور اب میں بانجھ نہیں بلکہ ماں کہلانے لگی تھی۔ میں تو گل خان کو ہی قصوروار جانتی تھی، یہ بھی نہ سوچا کہ اس نے اپنا بچہ ہم کو دے دینے پر کیوں اعتراض نہ کیا… یہ تو بہت بعد میں سمجھ میں آیا کہ حقیقت کچھ اور تھی۔ ملوک میرے ساتھ رہا کرتی تھی کبھی اکیلی کہیں نہ گئی۔ یہ گمان مجھے کیوں نہ گزرا کہ گل خان بے چارا بے قصور بھی تو ہوسکتا ہے اور گھر کا بھیدی لنکا ڈھا سکتا ہے۔ اس کے بعد ملوک کو کبھی ابصار ہم سے ملانے نہ لائے۔ اس کا میکہ تو ہم ہی لوگ تھے، وہ گائوں جاتی تو کس کے پاس؟ امی جان وفات پا گئیں، وہاں بھی اسے یاد کرنے والا کوئی نہ رہا۔ میں جب گھر جاتی اور کوئی اگر پوچھ لیتا کہ ملوک کہاں ہے کیسی ہے تو میں یہی جواب دیتی تھی کہ وہ شادی شدہ ہوگئی ہے اپنے گھر میں خوش ہے۔ لاہور میں ہی اس کی شادی کردی ہے، کبھی کبھی مجھ سے ملنے آجاتی ہے حالانکہ… پورے دس برس وہ مجھے نہ مل سکی اور نہ میں اس کو دیکھ پائی۔ ابصارکہتےتھے، ۔میں نے خود گل خان کو روکا ہے کہ ملوک کو ہمارےگھر نہ لائے۔ اپنا بچہ دیکھے گی تو خوامخواہ سویا زخم جاگ پڑے گا۔ رنجیدہ ہوجائے گی یا پھر ممتا کی ماری آئے دن شوہر کو مجبور کرے گی، ہمارے گھر آنے کے لئے ضد کرے گی۔ میں سمجھتی تھی ابصار بالکل ٹھیک سوچتے ہیں، وہ صحیح کہتے ہیں۔ اسے ایک بارصبر آگیا ہوگا، بار باربچے سے ملنے سے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔ میں نے کبھی کسی کو نہ بتایا کہ فیروز ہمارا بچہ نہیں ہے سبھی کو یہی کہا کہ ہمارا بیٹا ہے، ہماری دولت جائیداد کا وارث اور بڑھاپے کا سہارا… کبھی فیروز کو بھی یہ علم نہ ہوسکا کہ وہ ہمارا لخت جگر نہیں ہے۔
میں نے بہت ناز و نعم سے اس کی پرورش کی اور جب وہ چار برس کا تھا اسکول جانے لگا۔ دس برس کا ہوگیا تو ہم اسے گھمانے پھرانے مری لے گئے۔ وہاں سے پشاور گئے تھے کچھ سامان خریدنا تھا۔ اتفاق سے میری ملاقات ملوک سے ہوگئی، وہ بازار میں مجھے ملی۔ ایک شخص ساتھ تھا میں نے خیریت پوچھی۔ اس نے بتایا کہ ٹھیک ہوں ،شوہر اچھا انسان ہے، زندگی گزر رہی ہے۔ اس کے تین بچے تھے جنھیں وہ ساتھ نہیں لائی تھی۔ میں نے اپنا فون نمبر لکھ کر دیا اور کہا کہ مجھ سے رابطہ کرنا اور جب کبھی ابصار دورے پر ہوں گے تم سے فون کرکے باتیں کروں گی۔ اس کا شوہر ہم سے کچھ دور کھڑا رہا۔
فون پر وہ کبھی کبھار باتیں کرتی مگر اپنے بیٹے کا نہ پوچھتی۔ میں بھی نہ بتاتی کہ اس کا دل نہ اداس ہوجائے۔ مجھے لگتا تھا کہ اپنے جگر کا ٹکڑا ہم کو سونپ کر وہ خوش اور مطمئن ہے۔ اسے کوئی فکر نہیں ہے کہ اس کا لخت جگر ایک امیر گھرانے کا چشم و چراغ اور محفوظ ہاتھوں میں تھا۔
دس برس اور گزر گئے، فیروز بیس برس کا ایک خوبصورت نوجوان ہوگیا لیکن اس کے نقوش اپنے باپ پر نہ تھے وہ ہو بہو ماں کی تصویر تھا۔ ملوک بھی کم خوبصورت نہ تھی۔ ملوک کا مطلب نازک ہوتا ہے جیسی وہ نازک چھوئی موئی سی تھی، فیروز بھی ویسا ہی نازک اور دبلا پتلا تھا۔
ایک روز ابصار سرکاری دورے پر گئے تو دوران سفر انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ زندہ واپس نہ لوٹ سکے۔ ان کی وفات کا غم شاید میں برداشت نہ کرسکتی اگر فیروز میرے جیون کا سہارا میرے پاس نہ ہوتا، جوان بیٹے کی موجودگی سے شوہر کا غم برداشت کرلیا۔ کچھ عرصہ گزرا کہ ایک روز ملوک کا فون آیا۔ نہ جانے کیسے اسے علم ہوگیا تھا کہ ابصار اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اس نے پوچھا کہ ابصار بخیریت ہیں؟ میں نے بتایا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ افسردہ لہجے میں بولی، اچھا ہوا کہ انہوں نے اپنا بیٹا لے لیا تھا، آج ان کا نام لیوا تو ہے۔
تمہارا اس بات سے کیا مطلب ہے ملوک… وہ کہنے لگی۔یہ انہی کا خون ہے، ان کا حقیقی وارث جو تمہارے پاس ہے۔ گل خان سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے اور میری شادی بھی گل خان سے نہیں ہوئی بلکہ کسی اور شخص سے ابصار صاحب کے دوست نے کروا دی تھی جوکہ ان کا ڈرائیور تھا۔ یہ انکشاف میرے لئے ایٹم بم سے کم نہ تھا مگر شکوہ کس سے کرتی کہ شکوہ جس سے کرنا تھا وہ تو اس دنیا سے چلا گیا تھا، اپنی امانت مجھےسونپ کر۔ (س… جام پور)

Latest Posts

Related POSTS