Monday, May 20, 2024

Wattey Sattey Ki Aag | Teen Auratien Teen Kahaniyan

شادی کے وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ والدین اتنی کم عمری میں مجھے شادی کے بندھن میں باندھنا نہیں چاہتے تھے۔ ابھی تو میں نے میٹرک کا امتحان بھی نہیں دیا تھا لیکن حالات کے ہاتھوں مجبور ہوگئے۔ حالات یہ ہوئے کہ ہمارے پڑوس میں انہی دنوں ایک نیا کنبہ آکر آباد ہوا۔ یہ اجنبی لوگ تھے۔ والدین نے زیادہ میل جول نہ بڑھایا، یہ سوچ کر کہ پہلے پتا تو چلے کہ کس قماش کے لوگ ہیں۔
کنبہ مختصر تھا۔ ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔ ماں، باپ ادھیڑ عمر تھے اور خوشحال گھرانہ تھا۔ کچھ عرصہ خاموشی سے وقت گزرا۔ انہوں نے ملنے کی کوشش کی اور نہ کوئی ہماری جانب سے آیا گیا۔ اب میرے والدین سوچنے لگے کہ پڑوسیوں سے بالکل کوئی واسطہ نہ رکھنا بھی ایک طرح کی بداخلاقی ہوتی ہے۔ ’’ہمسایہ ماں جایہ‘‘ ایسے تو نہیں کہتے۔ دکھ سکھ میں قریبی لوگ ہی کام آتے ہیں۔
امی سوچ ہی رہی تھیں کہ کسی دن پڑوسن سے جاکر دعاسلام کرلیں تبھی ایک روز دروازے پر بیل ہوئی۔ میں نے دیکھا سامنے ایک خوش شکل، ادھیڑ عمر خاتون کھڑی تھیں۔ ان کے ہمراہ جواں سال بیٹی بھی تھی جو خاصی خوبصورت اور فیشن ایبل تھی، یہ دروازہ کھلنے کی منتظر تھیں۔
ہم پڑوس سے آئے ہیں، سوچا آپ لوگوں سے ملاقات کریں۔ جی ہاں اندر آجایئے۔ میں نے خوش دلی سے کہا اور ان کو ڈرائنگ روم میں لا بٹھایا۔ امی کو بتایا کہ برابر والے گھر سے ماں، بیٹی ملنے آئی ہیں۔ امی نے مجھے چائے لانے کو کہا اور خود ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں۔ خاطرمدارات کے بعد وہ کچھ دیر بیٹھ کر چلی گئیں۔ والدہ کو خاتون نے کافی متاثر کیا تھا۔ بیٹی بھی بااخلاق اور تمیزدار تھی مگر اس کے قدرے فیشن ایبل ہونے پر والدہ کو اعتراض تھا۔ تبھی میں نے کہا۔ امی جان! زمانہ بدل گیا ہے، آج کل سبھی لڑکیاں بن سنور کر رہتی ہیں تو بھلا آپ کو کیا اعتراض ہے۔ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے، شنیلا آپ کی بہو تو نہیں ہونے جارہی جو آپ کو اس کی سج دھج کھل رہی ہے۔ اس پر امی جان کھسیا کر رہ گئیں۔ کہنے لگیں۔ اری لڑکی! تو تو بس ذرا سی بات پر جرح شروع کردیتی ہے۔ ہاں بھئی جو جیسا پہناوا پہنے، ہم کو کیا۔
خیر اس کے بعد پڑوسیوں کا ’’ہوّا‘‘ ختم ہوا اور ہمارا ان کے ہاں کبھی کبھار کا آنا جانا ہونے لگا۔ ان دنوں میرے بھائی نے ایم بی اے کرلیا تھا اور ان کو نوکری کی تلاش تھی۔ میں دسویں میں تھی اور شنیلا بی۔اے میں پڑھ رہی تھی۔ ایک روز وہ ہمارے گھر آئی اور امی سے استدعا کی کہ اسے انگریزی گرامر میں دشواری ہوتی ہے، اگر ریان تھوڑی سی مدد کردیا کریں تو بہت احسان مند ہوں گی۔ امی نے کہا۔ بیٹی! میں ریان سے کہوں گی، وہ ضرور پڑھائی میں تمہاری مدد کردے گا۔ پہلے تو بھائی راضی نہ ہوتا تھا کہ مجھے کسی لڑکی سے سر نہیں کھپانا ہے، پھر منت سماجت پر راضی ہوگیا کیونکہ شنیلا سے میری اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی۔ روز شام کو وہ بھائی سے انگلش گرامر پڑھنے آنے لگی۔ ایک ماہ یہ سلسلہ چلا پھر والد صاحب نے اعتراض کیا کیونکہ یہ ان کے آفس سے واپسی کا ٹائم ہوتا تھا۔ تبھی امی جان نے ریان سے کہا کہ بیٹا تم شنیلا کے گھر جاکر اسے ٹیوشن دے دیا کرو، تمہارے ابو کو اسے یہاں روز تمہارے ساتھ بیٹھ کر پڑھائی کرتے دیکھ کر الجھن ہوتی ہے۔ ریان نے امی کی بات مان لی۔
اب وہ روزانہ شنیلا کے گھر جاکر اسے پڑھانے لگا۔ کہتے ہیں کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، پس اس کے بعد کیا کہانی شروع ہوئی، نہیں معلوم لیکن ایک دن اس کہانی کا رزلٹ یہ سامنے آیا کہ میرے بھائی نے والدہ سے ضد شروع کردی کہ وہ شنیلا کا رشتہ طلب کرنے جائیں۔ بھائی کی نئی نئی نوکری لگی تھی اور ملازمت بھی اچھی تھی۔ والدہ چاہتی تھیں کہ کسی اچھے گھرانے سے بہو لائیں مگر کہتے ہیں نا کہ رشتے آسمانوں پر بن جاتے ہیں تبھی میرے بھیا کی نگاہوں میں شنیلا کی صورت سما گئی۔ لاکھ سمجھانے پر بھی اس نے کسی کی بات نہ مانی اور امی جان کو پڑوسن کے گھر جاکر شنیلا کا رشتہ مانگنے پر مجبور کردیا۔
امی شنیلا کو بہو بنانا نہ چاہتی تھیں، ریان کی خوشی کی خاطر وہاں گئیں اور رشتے کی بات کی تب انہوں نے انوکھی شرط رکھ دی کہ آپ اپنی بیٹی دانیہ کا رشتہ ہمارے بیٹے راحیل کو دیں گے تو ہی ہم اپنی بچی کا رشتہ دیں گے ورنہ یہ رشتہ ممکن نہیں ہے۔ والدہ نے بہت کہا کہ میری بیٹی کی عمر ابھی شادی کی نہیں ہے، وہ دسویں میں پڑھ رہی ہے، کم ازکم میٹرک کرلے لیکن خالہ رضیہ نہیں مانیں اور صاف انکار کردیا۔ اب یک نہ شد دو شد والا معاملہ ہوگیا۔ وہاں سے بہو لینا نہ چاہتی تھیں کہ بیٹی دے کر ایک ناپسندیدہ لڑکا بطور داماد قبول کرنا پڑگیا۔ حقیقت ہے کہ بیٹے کی خوشی کیلئے اکثر بیٹی کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ سو میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بھائی کی خوشی کی خاطر مجھے قربانی کا بکرا بنا دیا گیا حالانکہ والد صاحب وٹے سٹے کی شادی کے سخت خلاف تھے۔ انہیں راحیل تو بالکل پسند نہ تھا کیونکہ اس نے محض بی۔اے کیا تھا اور ٹیکنیکل تعلیم یافتہ بھی نہ تھا۔ وہ ابھی برسرروزگار بھی نہ ہوا تھا، وہ عمر میں مجھ سے بارہ برس بڑا ہوگا۔ انہی وجوہ کے باعث ابو یہ رشتہ کرنا نہ چاہتے تھے مگر بھائی نے ہمیشہ کیلئے گھر چھوڑ جانے کی دھمکی دی تو انہوں نے ہار مان لی۔
امی بہت خائف تھیں کہ ان لوگوں کو نہیں جانتے تھے۔ نامعلوم کون لوگ تھے، کس خاندان سے تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ غرض وہ ساری احتیاط جو کہ رشتہ طے کرتے وقت ملحوظ خاطر رکھنی ہوتی ہیں، پس پشت ڈال کر والدین نے ریان کی خوشی کو مقدم رکھتے ہوئے وٹے سٹے کا یہ سودا طے کرلیا اور یوں میری شادی راحیل سے جبکہ اس کی بہن شنیلا کی شادی میرے بھائی ریان سے ہوگئی۔ گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ امی ابو نے شنیلا کو کسی شے کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ والدہ بہو کا پورا پورا خیال رکھتی تھیں۔ اس کے برعکس بھابی کے والدین مجھ سے قطعی بیگانہ سے رہتے تھے، اپنائیت کا احساس تو درکنار وہ تمام دن بات تک نہ کرتے۔ راحیل صبح کہیں چلے جاتے اور شام کو گھر آتے تو ان کا موڈ سخت آف ہوتا۔ کہتے سارا دن نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہوں، تھک جاتا ہوں تو بیزار ہوجاتا ہوں۔ غرض نئی دلہن سے انہوں نے کبھی خوشگوار موڈ میں بات نہیں کی۔ اس پر ساس نے میکے آنے جانے پر بھی پابندی لگا دی کہ ہمارے یہاں بہویں روز روز میکے نہیں جاتیں، اس بات کو معیوب خیال کیا جاتا ہے۔
میں سسرال میں ہر زیادتی سہنے لگی۔ یہ سوچ کر امی کو کچھ نہ بتاتی تھی کہ کہیں میری بدنصیبی میرے بھائی ریان کی ازدواجی زندگی میں زہر نہ گھول دے۔ ادھر میری ساس جھگڑالو مزاج کی عورت تھی۔ خدا کی کرنی انہی دنوں ریان بھائی کی ملازمت جاتی رہی، اب تو مجھ پر مصیبت ہی آگئی۔ دن، رات ساس مجھے میرے بھائی کی بیروزگاری کے طعنے دینے لگی حالانکہ ان کا اپنا بیٹا بے روزگار تھا اور دوسرا لڑکا بھی ابھی پڑھ رہا تھا تاہم سسر اچھا کماتے تھے لہٰذا گھر میں خوشحالی تھی۔ جب بھائی بیوی کے ہمراہ آتے، مجھے ناخوش دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتے لیکن وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتے تھے، اسی وجہ سے صبر کے گھونٹ پی کر خاموش رہ جاتے تھے کہ کسی طور بیوی سے بدمزگی اور علیحدگی نہ چاہتے تھے۔ بھابی کی گھریلو زندگی میرے بھائی کی عارضی بیروزگاری کے باوجود قابل رشک تھی مگر جب میں آنکھوں میں آنسو لئے والدین کے گھر جاتی تو ان کے پُرسکون خوشیوں بھرے گھر میں ہلچل سی مچ جاتی حالانکہ باربار کریدنے کے باوجود میں ماں کو اپنے دکھوں کے بارے میں نہیں بتاتی تھی کہ خاوند اور سسرال والوں کا سلوک مجھ سے کتنا ظالمانہ ہے۔ کمسنی میں بھی مجھے یہ عقل تھی کہ اگر میں نے خاوند یا سسرال کا شکوہ والدین سے کیا تو لازم ہے کہ میرے بھائی کا گھر برباد ہوجائے گا لیکن پھر وہی ہوا جو اکثر وٹے سٹے کی شادیوں میں ہوتا ہے۔ میری ناخوش زندگی کے اثرات ریان اور شنیلا کی زندگی پر حاوی ہوگئے۔ امی جان جب ہمارے گھر آتیں، مجھے روتا پاتیں۔ وجہ پوچھتیں اور میں بات چھپا جاتی، پھر صورت حال کچھ اس طرح کشیدہ ہوتی گئی کہ ایک سال بعد ہی دونوں لڑکیاں اپنے اپنے والدین کے گھر بیٹھ گئیں۔ یہ سچ ہے کہ شنیلا کو ریان سے بہت محبت تھی۔ اسے میرے والدین سے بھی کوئی شکایت نہ تھی مگر جب اَنا کا معاملہ درپیش ہوگیا تو اسے بھی اپنے والدین کا کہا ماننا پڑا اور نہ چاہتے ہوئے خاوند کا گھر چھوڑ کر میکے آنا پڑا۔ ان دنوں وہ امید سے تھی اور ہرگز اپنے خاوند سے علیحدہ رہنا نہ چاہتی تھی۔
شنیلا کو جب اس کے ماں، باپ زبردستی اپنے گھر لے گئے تو ریان بھائی کو بہت دکھ ہوا۔ وہ اس قدر صدمے سے دوچار ہوا کہ کھانا پینا ترک کردیا اور دیر تک گھر سے باہر رہنے لگا۔ بیوی کے بغیر بھراپرا گھر بھی اسے خالی خالی ہی لگتا تھا۔ گھر کے چپے چپے سے درودیوار سے اسے بیوی کا ہنستا مسکراتا چہرہ جھانکتا نظر آتا تھا۔ احساس تنہائی نے اس کے دل کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ شنیلا، ریان کی روح میں بس گئی تھی، وہ میرے بھائی کی کمزوری بن چکی تھی۔ اگر کچھ دن اور وہ گھر میں رہتا تو شاید والدین سے بغاوت ہی نہیں سخت گستاخی کرجاتا، اسی میں بہتری سمجھی کہ گھر سے چلا گیا۔
ریان کی گمشدگی نے ہمارے گھر کے برے حالات پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔ چار ماہ کے اندر اندر ادھر طلاق کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اس کے ایک دوست کو پتا تھا کہ وہ کراچی میں کہاں ہے۔ اس نے فون کیا، واپس آجائو، یہاں یہ لوگ تمہاری بہن کو طلاق دے رہے ہیں۔ تبھی ریان کی نظروں میں ماں، باپ کے رنجیدہ چہرے گھوم گئے اور وہ لوٹ کر گھر آگیا۔ والدین دل شکستہ تھے۔ بیٹے کو دیکھ کر نہال ہوگئے۔ پتا چلا کہ وہ باپ بن چکا ہے لیکن سسرال والوں نے بچی کی پیدائش کی اطلاع تک نہ دی۔ آٹھ روز بعد ایک پڑوسن کی زبانی پتا چلا کہ بچّی ہوئی ہے۔ والدین بچی کیلئے کچھ تحفے لے کر گئے مگر انہوں نے سیدھے منہ بات نہ کی اور تحفے بھی واپس کردیئے۔ ریان کو بچی کی پیدائش سے جتنی خوشی ہوئی تھی، وہ ان لوگوں کی سرد مہری نے مٹا دی۔ میری خالہ اور ممانی کے اصرار پر امی دوبارہ ان کے گھر بچی کو دیکھنے گئیں مگر میرے ساس، سسر نے پہلے سے بدتر سلوک کیا اور کہا کہ بچی کی صورت تبھی دکھائیں گے جب بغیر کسی شرط کہ ہمارے بہو کو بھیج دو۔ میرے والدہ نے کہا خاندان کے بزرگ کو بلا کر یہ بات سب کے سامنے کہہ دو، پھر بزرگ جو فیصلہ کریں گے، ہم کو منظور ہوگا۔
اس پر وہ مشتعل ہوگئے، والدہ صاحبہ کی بے عزتی کی کہ یہاں سے دفع ہوجائو۔ والدہ گھبرائیں، گھر آئیں تو غصے سے کانپ رہی تھیں۔ بھائی کی خوشی کی خاطر میں تو سب رنجشیں درگزر کرنے پر تیار ہوگئی مگر یہاں معاملہ سنورنے کے بجائے اور بگڑ گیا، ان لوگوں نے طلاق کا مطالبہ پیش کردیا۔ والد صاحب نے کافی سوچ بچار کے بعد میری طرف سے طلاق مانگ لی۔ انہوں نے کہلوا بھیجا ہم اسی صورت میں آپ کی بیٹی کو طلاق دیں گے جب پہلے ریان ہماری بیٹی شنیلا کو طلاق دے۔ ریان ان باتوں سے کترانے کو کراچی چلا گیا، لوٹا تو صورت حال پہلے سے بدتر ہوچکی تھی۔ وہ اپنی بچی کو دیکھنے کیلئے بے چین تھا۔ ساس، سسر کی بے رخی نے اس کی دیوانگی اور بڑھا دی۔ ریان کی حالت امی، ابو سے چھپی نہیں تھی لیکن وہ مجبور تھے۔ اس نے اپنے طور پر حالات کے سنوارنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ اکیلا ہی اپنے سسرال چلا گیا۔ نوزائیدہ بچی کو دیکھنے کا ارمان اور بیوی سے دو باتیں کرنے کی آرزو اسے ان کے در تک لے گئی لیکن شنیلا کی ماں نے داماد کو دروازے پر کھڑا پا کر در ہی بند کردیا۔ اندر سے بولیں۔ میاں! اب تم اس گھر کیلئے غیر ہو، طلاق دو اور طلاق لو، یہ ہمارا قطعی فیصلہ ہے۔ اگر بیٹی کو دیکھنا ہے تو بہن کو ساتھ لے آئو اور وہ ہمارے بیٹے کا گھر بسائے۔
جذبات کی دیوانگی نے میرے بھائی کو مجبور کردیا کہ کچھ کر ڈالے۔ زندہ رہے نہ رہے مگر ایک بار اپنی بیٹی کی صورت ضرور دیکھ لے۔ محلے کے چند معزز لوگوں نے اسے سنبھالا۔ گھر آیا تو سب پریشان تھے۔ اس نے مجھے بلا کر کہا۔ اب میری خوشی تیرے ہاتھ میں ہے، تو میرے ساتھ چل بس ایک بار مجھے اپنی بیٹی کی صورت دیکھ لینے دے، پھر بے شک واپس آجانا۔ میں نے وہاں جانے سے انکار کردیا۔ یہ ساری سزائیں ریان کو محض اس وجہ سے مل رہی تھیں کہ میں اپنے سسرال اور شوہر کے برے سلوک سے ناخوش تھی جبکہ وہ لوگ ہر صورت میں مجھے واپس گھر میں بسانا چاہتے تھے۔ جب سمجھوتے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی تو خاندان والوں کی موجودگی میں طلاق ہوگئی۔ ان دونوں بہن، بھائیوں نے ہم دونوں بہن، بھائیوں سے ہمیشہ کیلئے علیحدگی قبول کرلی۔ اس وقت میرے سسرال والوں کا رویہ بدلا ہوا تھا۔ وہ ہر ممکن طریقے سے دونوں گھر بسانا چاہتے تھے۔ اس کیلئے انہوں نے میری منت سماجت کی کہ مان جائو، طلاق نہ لو، گھر چلو تاکہ ہماری بیٹی شنیلا بھی اپنے گھر بس جائے گی۔ آخری حربہ یہ استعمال کیا کہ تحریری طور پر بیان لکھوانا چاہا کہ بچی سے تاحیات ریان کا کوئی تعلق نہ رہے گا۔ اگر اس نے ہماری بیٹی کو آج طلاق دے دی۔ ریان بھائی اس بیان کو لکھنے پر قطعی راضی نہیں تھے مگر اپنے والد کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر ان کی عزت کی خاطر کپکپاتے ہاتھوں سے ریان نے یہ تحریر لکھ کر دے دی مگر صاف ظاہر تھا کہ وہ لمحے میرے بھائی کے دل پر صدیوں سے زیادہ بھاری گزرے تھے۔ کاش مجھے اس وقت احساس ہوجاتا اور بھائی کی خوشیاں بچانے کو واپس سسرال جانے پر راضی ہوجاتی۔ یہ بیان لکھنے کے بعد کاغذات پر دستخط ہوئے تو جن قدموں سے ریان پنچایت سے اٹھ کر باہر آیا، وہ دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو لے آئے۔ میری تو دکھوں سے جان چھوٹ گئی مگر میرا بھائی اجڑ گیا۔ اب اداسی اور بیزاری ریان کی طبیعت میں گھل مل گئی۔ یار دوستوں نے غم بھلانے کے جو نسخے بتائے، ان میں مے نوشی بھی شامل تھی۔ ہر وقت مے نوشی سے وہ بیمار پڑ گئے۔ اب تو والدین بھی چھپ چھپ کر روتے تھے۔ مجھے اب شدید احساس ہوا کہ میری وجہ سے میرے بھائی کی زندگی تباہ ہوئی ہے تبھی میں نے خودکشی کرنا چاہی مگر ماں نے بروقت آکر مجھے بچا لیا۔ ادھر ہماری رنجیدگی کی خبریں ان لوگوں کو مل رہی تھیں تبھی انہوں نے ہم کو جلانے کیلئے پہلے راحیل کی اور پھر شنیلا کی شادی کردی۔ اب وہ محلے بھر سے کہتے پھرتے تھے کہ ہم نے تو اپنے دونوں بچوں کے گھر دوبارہ بسا لئے ہیں، برباد تو دانیہ اور ریان ہوگئے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ ان کے گھر کب بستے ہیں۔
یہ باتیں جب والدین سنتے تو ریان کو سمجھاتے کہ بیٹا! اب تم بھی دوبارہ شادی کیلئے راضی ہوجائو تاکہ تمہارا جی بہل جائے اور دشمن بھی خوشی نہ مناتے رہیں مگر ریان کے اندر جیسے بغاوت جاگ اٹھی تھی۔ وہ امی، ابو سے کہتا تھا کہ گویا میں تو آپ لوگوں کیلئے کھلونا ہوگیا، دوسروں کی خوشی کی خاطر جب چاہے مجھے دولہا بنا دیا، جب چاہا طلاق دلوا دی اور میری اپنی خوشیوں کا تو جیسے کسی کو احساس ہی نہیں ہے۔ مجھے امی، ابو نے سمجھایا کہ ہماری خاطر تم دوبارہ شادی کیلئے راضی ہوجائو تو میں نے یہی جواب دیا۔ جب بھائی دوسری شادی کرلے گا، اس کے بعد میں کروں گی کیونکہ اس کا گھر میری وجہ سے اجڑا ہے۔ جب تک ریان دوبارہ گھر نہ بسائے گا، میں شادی کا نام نہ لوں گی۔ میری شرط بھی ریان کو شادی پر آمادہ نہ کرسکی۔ گویا اک آگ تھی جس نے بھائی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
ریان چاہتا تھا کسی بھی طرح اپنی بیٹی کو حاصل کرلے۔ خبر ملی شنیلا اپنی دوسری شادی سے خوش نہیں ہے۔ ایک امید جاگ گئی۔ ریان چھپے چوری انے سسر سے ملا کہ اگر میری بیٹی کی وجہ سے شنیلا کی ازدواجی زندگی متاثر ہورہی ہے تو بیٹی مجھے دے دو۔ بڑے میاں بپھر کر بولے۔ میاں! تم اسے پوری زندگی حاصل نہیں کرسکتے، چاہے وہ یہاں پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے۔ اس کے چند روز بعد ریان نے شنیلا کو ایک خیراتی اسپتال میں دوا کی شیشی پکڑے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس کے قدم وہاں ہی رک گئے۔ اس نے ریان بھائی کو دیکھ کر پردہ کرلیا اور تیز قدموں کے ساتھ اسپتال کے اندر چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک تیرہ، چودہ سال کی لڑکی ایک چھوٹی سی کمزور بچی کو اٹھائے لائی بولی۔ شنیلا بھابی نے بھیجا ہے، پوچھ رہی ہیں آپ اس بچی کو پہچانتے ہیں؟ یہ آپ کی بیٹی صبا ہے۔ ریان بھائی نے بے تابی سے جھپٹ کر بچی کو سینے سے لگا لیا۔ بخار سے اس کا ننھا سا وجود تپتا انگارہ ہورہا تھا، ان کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو بہہ نکلے۔ سوچ رہے تھے کہ میں بھی کتنا بدنصیب باپ ہوں جو بچی کو پہلی بار دیکھ رہا ہے، وہ بھی اس حال میں کہ اس کی ماں اس کیلئے ایک اجنبی عورت بن چکی ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے اسے خیراتی اسپتال علاج کرانے لائی ہے۔ ریان نے شنیلا سے کہلا بھیجا۔ خدا کیلئے مجھ سے جس قدر پیسہ چاہو لے لو مگر بچی کا علاج کسی اچھے ڈاکٹر سے کرائو۔ شنیلا نے جواب دیا کہ اس پر اب آپ کا کوئی حق نہیں رہا، اگر اتنا ہی پیار تھا تو طلاق کے کاغذات پر دستخط کیوں کئے تھے؟
اس روز وہ بچی کو ماں کے حوالے کرکے تھکے ہارے قدموں سے واپس گھر آگئے تھے۔ سوچا کئے کہ سرراہ ملنے والی اجنبی خاتون تجھے اس سوال کا کیا جواب دوں۔ اگر تو دل کی شوریدہ سری جانتی تو تجھے بتاتا کہ میرے دل و دماغ پر تیرا ہی راج آج بھی ہے۔ تو نے تو اپنا گھر بسا لیا مگر میں کرب کے جس دور سے گزر رہا ہوں، خدا دشمن کو بھی وہ درد نہ دے۔ سچ ہے کہ والدین کی جھوٹی انا نے میرے بھائی کی خوشیوں کو ڈس لیا اور بہن کی خاطر اس نے اتنی بڑی قربانی دی کیونکہ میں راحیل کے ساتھ کسی طور رہنا نہ چاہتی تھی پھر ہم بڑوں کی ضد نے ایک معصوم بچی سے باپ کا پیار ہمیشہ کیلئے چھین لیا۔ نانا، نانی نے بھی انتقام کی آگ میں معصوم جان کو ہی جھونکا تو کیا اس سے ان کو سکون مل گیا۔ یہ بھی نہ سوچا کہ اگر بچی مر گئی تو کچھ دن رو کر بے بس باپ کو تو قرار آہی جائے گا مگر ماں عمر بھر تڑپتی رہے گی۔ شاید کہ انہوں نے اسی لئے بچی کو میرے بھائی سے جدا کیا کہ وہ ساری عمر کرب میں مبتلا رہے اور اس کی جدائی میں تا زندگی سلگتا رہے۔ اف بعض لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں، اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے کسی معصوم زندگی کو ایندھن بنا کر اس آگ میں جھونک دیتے ہیں اور ان کو اپنے اس ظالمانہ رویئے پر ذرا سی بھی ندامت نہیں ہوتی۔ بالآخر وہ معصوم پھول کہ جس کا نام صبا تھا، ایک دن سوتیلے باپ کے سخت رویئے کی تاب نہ لا کر ہمیشہ کیلئے مرجھا گئی۔
(م۔ ع … کراچی)

Latest Posts

Related POSTS