Weham Ka Elaaj Nahe | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2481
چچا صدیق میرے والد کے بچپن کے دوست تھے۔ دونوں میں سگے بھائیوں جیسا پیار تھا۔ ایک اسکول میں پڑھا، نوکری بھی ایک ساتھ کی مگر اللہ کی رضا چچا تھوڑی زندگی لے کر آئے تھے۔ ایک روز دفتر میں کام کرتے ہوئے سینے میں درد محسوس کیا اور چند منٹوں میں دنیا سے چلے گئے۔ والد صاحب کو اپنے پیارے دوست کی وفات کا بہت صدمہ ہوا۔ ان دنوں چچا کے بچے کمسن تھے۔ ان کا بیٹا اختر ہمارے بھائی طاہر کے برابر تھا۔ دونوں ایک کلاس میں پڑھتے تھے۔ والد جس قدر اپنے بیٹے سے پیار کرتے تھے، اتنا ہی اختر کو چاہتے تھے۔
جس وقت چچا کا جنازہ اٹھا، اختر بہت رو رہا تھا۔ وہ نو برس کا تھا۔ ابو نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا، تسلی دی۔ بولے۔ تمہارے والد دنیا میں نہیں رہے مگر تمہارا تایا ابھی زندہ ہے۔ جب تک زندگی ہے، تمہیں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دوں گا۔ چچا صدیق کی بیوی خالہ شائستہ، امی کی کزن کی بیٹی تھیں۔ دونوں میں بہنوں جیسا پیار تھا۔ ان کا کوئی بھائی، چچا اور تایا نہ تھا جو اس بیوہ کا پرسان حال ہوتا۔ ان کا تو گھر بھی ذاتی نہ تھا۔ شوہر کے مرتے ہی بیچاری خالہ شائستہ پر گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ والد صاحب تقریباً روز جاتے، سودا سلف پہنچاتے، شائستہ بی بی اور ان کے بچوں کی خبر گیری کرتے تھے۔ والدہ بھی ہفتے میں دو بار چلی جاتی تھیں۔ امی جان کو ان کی زیادہ فکر رہتی تھی۔
ایک روز ابو سے بولیں۔ اگر تم برا نہ مانو تو شائستہ کو اپنے نکاح میں لے لو۔ ہمارے گھر کا اوپر والا حصہ خالی ہے، ان لوگوں کے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ مالک مکان نے گھر سے نکال دیا تو یہ کہاں جائیں گے؟
امی کی تجویز سن کر والد ہکابکا رہ گئے۔ بے شک وہ اپنے مرحوم دوست سے محبت کرتے تھے، ان کے بچوں کی دادرسی بھی کرنا چاہتے تھے، لیکن کسی لالچ کے بغیر…! وہ خوف خدا کی وجہ سے بیوہ اور اس کے بچوں کی مدد کررہے تھے۔ حیران ہوں تم دنیا کی واحد عورت ہو جو اپنے شوہر کو دوسری شادی کے لئے اکسا رہی ہو، جبکہ میں نے دوسری شادی کا تصور بھی نہیں کیا اور نہ کرنا چاہوں گا۔ تم ٹھیک کہتے ہو لیکن مجبوری ہے۔ میں کہہ رہی ہوں۔ دیکھو ڈاکٹر شفیقہ نے میرے ٹیسٹ کروائے ہیں، کینسر تشخیص ہوا ہے۔ میں نے سوچا ایک دو روز میں آپ کو بتا دوں گی اور ابھی کل تو ڈاکٹر شفیقہ نے بتایا ہے۔
ڈاکٹر شفیقہ دراصل امی کی خالہ زاد تھیں اور لندن سے کینسر اسپیشلسٹ ہوکر آئی تھیں۔ والد صاحب ان کے پاس گئے اور تصدیق چاہی۔ صائمہ صحیح کہتی ہیں۔ باجی کا آپریشن ہوگا، اللہ سے امید اچھی رکھنی چاہئے کہ وہ آپریشن کے بعد صحت یاب ہوجائیں گی۔ والد صاحب اس خبر سے ازحد پریشان تھے۔ اب ان کے لئے سب سے بڑا مرحلہ یہ تھا کہ ہمیں صدمہ نہ ہو۔ ظاہر ہے اگر ابو دوسری شادی کرتے تو ہم لوگ کا ڈسٹرب ہوجانا لازمی تھا۔ وہ دوسری شادی کسی صورت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ امی نے ان کو شائستہ سے نکاح پر مجبور نہ کیا، شاید انہوں نے اپنی اس بیوہ کزن سے بات کی ہوگی، کیونکہ عدت پوری ہوچکی تھی اور مکان کے لئے جو مہلت لی تھی، وہ بھی پوری ہوگئی تھی۔ والدہ اپنی کزن کو ان کے بچوں سمیت گھر لے آئیں اور مکان کا اوپر والا حصہ انہیں رہنے کو دے دیا۔
اللہ تعالیٰ نے امی کی قسمت میں شفا نہ لکھی تھی۔ ایک ماہ بعد آپریشن ہوا تو صحت یاب ہونے کی بجائے طبیعت بگڑتی چلی گئی اور تین ماہ بعد وہ ہمیں داغ مفارقت دے گئیں۔ ہمارے لئے یہ غم کسی سانحے سے کم نہ تھا۔ آخری وقت میں امی نے شائستہ سے قول لیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم اس گھر کو سنبھالنا۔ میرے بچوں کو ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دینا اور اپنے دل کو میرے شوہر سے نکاح پر راضی کرلینا ورنہ یہ دنیا تمہیں جینے نہ دے گی۔ تم یہاں بغیر نکاح عمر بھر نہیں رہ سکو گی۔
ہم سبھی والدہ کی وفات پر غم سے نڈھال تھے۔ سچ بات ہے میری دور اندیش ماں اپنے ہوتے سوتن کو منتخب نہ کر جاتیں تب جانے ہمارا کیا حال ہوتا۔ خالہ شائستہ نے بیماری میں جیسے امی کی تیمارداری کی، شاید کوئی سگی بہن کرتی۔ ہم تو کم عمر اور نادان تھے۔ ان کی دونوں بیٹیاں ہم سے بڑی تھیں، انہی لوگوں نے گھر اور ہمیں سنبھالا۔ قدرت کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ یوں وہ ابو سے نکاح پر راضی نہ ہوتیں لیکن اللہ نے انہیں اور ان کے بچوں کو چھت اور مالی آسرا دینا تھا جس کے لئے میرے والد سے بہتر کوئی شخص نہ تھا۔
کچھ دنوں بعد جب والد صاحب نے اپنی مرحومہ بیوی کا پیغام شائستہ کو سنایا۔ وہ راضی ہوچکی تھیں۔ انہیں بھی گھر اور یتیم بچوں کے لئے سہارا درکار تھا۔ ان کے بچے ہمارے گھر پہلے سے رہ رہے تھے۔ والد سے مانوس ہوچکے تھے۔ شائستہ خالہ کا بھرپور پیار اور توجہ پا کر امی کے صدمے کو ہم نے رفتہ رفتہ بھلا دیا۔ وہ ہمارے زخموں کا مرہم بن گئیں۔ جتنا پیار اپنے بچوں سے کرتی تھیں، اتنا ہی انہیں ہم سے تھا۔ والد نے بھی ان کی اولاد کو اپنی اولاد کی مانند رکھا۔ ہمارا گھر سکون کا گہوارہ تھا، سکون کا گہوارہ ہی رہا۔ میری دو بہنیں تھیں عتیقہ اور مائرہ…! مائرہ باجی ہم سے بہت پیار کرتی تھیں۔ وہ سارا دن مجھے اور طاہر کو ساتھ رکھتیں کہ وہ چھوٹا اور ہمارا اکلوتا بھائی تھا، جبکہ بڑی آپی چھوٹی امی کے ساتھ کام میں مشغول ہوتیں۔
اختر اور طاہر کی دوستی ایک گھر میں رہنے کی وجہ سے مزید پکی ہوگئی۔ دونوں ساتھ اسکول جاتے تھے۔ پہلے میرا ایک بھائی تھا، اب دو ہوگئے۔ طاہر کو بھی بھائی مل گیا۔ ہر وقت ساتھ رہتے، ساتھ پڑھتے، باہر اکٹھے جاتے غرض اختر کی رفاقت نے طاہر کے دل سے امی کی جدائی کے درد کو ہلکا کردیا۔ جن دنوں اختر اور طاہر نویں میں گئے، میری دونوں بہنوں عتیقہ اور مائرہ کا رشتہ ہوگیا۔ شائستہ خالہ نے دونوں بہنوں کے رشتے پہلے ہونے دیئے تاکہ ہمیں اپنی والدہ کی کمی محسوس نہ ہو۔ آپی کے لئے والد نے اپنے کزن کے بیٹے کا رشتہ پسند کیا اور مائرہ کے لئے اپنے دفتر میں ساتھ کام کرنے والے شخص فیاض کے لڑکے کو منتخب کرلیا۔ چھوٹی امی جنہیں ہم ابھی تک خالہ ہی کہتے تھے، فیاض کے گھر ان کا رہن سہن دیکھنے گئیں۔ رہن سہن ٹھیک تھا۔ لوگ بھی صحیح لگے مگر نجیب ان کو پسند نہ آیا۔ گھر آکر ابو کو سمجھایا کہ مجھے لڑکا صحیح نہیں لگا۔ بہتر ہوگا کہ ہم مائرہ کا رشتہ یہاں طے نہ کریں، کسی اور بہتر رشتے کا انتظار کرلیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔
دفتر کے ایک دو کولیگز نے بھی میرے باپ کو اشارتاً منع کیا کہ نجیب کی سوسائٹی ٹھیک نہیں ہے، آپ رشتہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر کریں۔ والد صاحب کو مگر فیاض نے کچھ اس طرح شیشے میں اتارا کہ انہوں نے اپنا ارادہ نہ بدلا۔ وہ کہتے تھے کہ فیاض ٹھیک ہے تو اس کا بیٹا بھی ٹھیک ہوگا۔ میں نے زبان دے دی ہے، اب زبان سے نہیں پھروں گا۔ نجیب کی منگنی باجی مائرہ سے ہوگئی، مگر وہ خوش نہ تھیں کیونکہ چھوٹی امی کی زبانی سن چکی تھیں۔ نجیب اچھا لڑکا نہیں ہے۔ وہ آخر وقت تک اس رشتے کی مخالفت کرتی رہی تھیں۔ ابو نے ان کی ایک نہ سنی۔ ہمارے خاندان میں رشتے والدین طے کرتے تھے۔ لڑکیوں کو بولنے کا حق نہ تھا۔ آپی عتیقہ کے رشتے پر سبھی خوش اور مطمئن تھے۔ ددھیال والوں میں سے بھی کسی نے اعتراض نہ کیا کیونکہ راحیل بھائی کو سبھی پسند کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کسی چھان بین کی ضرورت نہ تھی۔ وہ بااخلاق، باادب اور سب سے پیار کرنے والے انسان تھے۔
ہم نے کبھی نجیب کو نہیں دیکھا تھا۔ غیر لوگ تھے، بس اس کا باپ فیاض والد کا پرانا کولیگ تھا اور ابو اسے جانتے تھے، مگر گھروں کا آنا جانا نہیں تھا۔ وہ دن بھی آگیا جب میری بہنیں دلہن بن گئیں۔ والد صاحب نے دونوں بچیوں کی شادی ایک ساتھ رکھی تاکہ گائوں سے آنے والے رشتے داروں کو دوبارہ آنے کی تکلیف نہ ہو اور شادیوں کا خرچہ بھی کم ہو۔ طاہر اور اختر نے مل کر آپی اور باجی کی شادی میں کام کیا۔ آپی کی رخصتی کے وقت ان کے ساتھ کوئی نہ گیا کہ اپنے لوگ تھے لیکن باجی مائرہ کی ڈولی کے ہمراہ چھوٹی امی نے جانے پر اصرار کیا۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئیں۔ وہ شہر سے ذرا دور گائوں میں بیاہی گئی تھیں۔ باجی کی ساس نے ہم دونوں کو ایک کمرے میں ٹھہرایا۔ ہمیں ان لوگوں کے طورطریقے ذرا مختلف لگے۔ وہ ہلاگلا کررہے تھے، الٹا سیدھا مذاق کررہے تھے۔ چھوٹی امی کو ان کے رشتے دار لڑکے اور لڑکیوں کے کھلے انداز پر ناگواری محسوس ہورہی تھی کیونکہ ہمارے گھر کا ماحول پاکیزہ تھا۔
جلد ہی معلوم ہوگیا کہ باجی کے سسرال والے پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں، تبھی ان کو ادب و آداب سے واقفیت نہ تھی۔ کچھ دقیانوسی سوچ کے اور کچھ بے لگام سے تھے۔ چھوٹی امی نے گھر آکر ابو کو حال احوال دیا۔ وہ بولے۔ ہمیں ان کے رشتے داروں سے کیا لینا دینا، ہمارا واسطہ تو نجیب کے گھر والوں سے ہے اور وہ ٹھیک لوگ ہیں۔ شادی کے کچھ دنوں بعد عتیقہ آپی ایک دن رہنے کے لئے میکے آئیں لیکن نجیب بھائی مائرہ باجی کو ملانے نہ لائے، تبھی چھوٹی امی نے کہا۔ طاہر اور اختر تم لوگ جائو اور بہن کو لے آئو۔
میرے دونوں بھائی باجی کے گھر گئے، فیاض گھر پر تھے۔ انہوں نے دونوں کو اندر بٹھایا اور باتوں باتوں میں پوچھا کہ تم آپس میں کیا لگتے ہو؟ ہم دونوں بھائی ہیں۔ مجھے جہاں تک علم ہے مختیار صاحب کا ایک ہی بیٹا ہے۔ پہلے میں ایک تھا، اب ہم دو ہیں۔ تبھی باجی کے سسر اختر سے مخاطب ہوئے۔ بیٹا! تمہارا پورا نام کیا ہے؟ اختر صدیق! اس نے جواب دیا۔ اچھا! تم صدیق مرحوم کے لڑکے ہو، وہ میرا بھی دوست تھا۔ اچھا میں سمجھ گیا۔ میرا بہنوئی نجیب بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے کہا مگر میں نہیں سمجھا۔ تب ان کے والد نے اشارہ کیا۔ بعد میں سمجھا دوں گا۔ فیاض کو یہ تو معلوم تھا کہ ابو نے دوسری شادی کی ہے، مگر یہ معلوم نہ تھا کہ صدیق کی بیوہ سے نکاح ثانی کیا ہے اور ان کا بیٹا طاہر کے ہم سن ہے۔
انہوں نے باجی کو ہمارے ساتھ بھیج دیا مگر جب بہنوئی مائرہ کو لینے آئے تو نجیب بھائی نے اختر کو ترچھی نظروں سے دیکھا۔ والد صاحب نے داماد کے تیور دیکھ کر کہا۔ دیکھو بیٹا…! اختر کو میرا ہی بیٹا سمجھنا۔ یہ میرے دوست کا بیٹا ہی نہیں، میرا بھی بیٹا ہے۔ اس کی والدہ سے میں نے نکاح کیا ہے۔ اختر میرے بچوں کے ساتھ پلا بڑھا ہے۔ یہ سب آپس میں بہن، بھائی ہیں۔
اس دم تو نجیب خاموش رہا لیکن باجی کو گھر لے جاکر بولا۔ اختر آئندہ میرے گھر نہیں آئے گا اور تم اختر سے بات
نہ کرنا ورنہ کبھی تمہیں میکے جانے نہ دوں گا۔ وہ تمہارا سگا بھائی نہیں، سوتیلی ماں کے پہلے شوہر کا بیٹا ہے۔ تمہارے لئے نامحرم ہے۔ عتیقہ آپی کا جب جی چاہتا، آجاتیں مگر مائرہ باجی پر سخت پابندی لگ گئی۔ کئی ماہ گزر جاتے اور وہ نہ آتیں۔ والد لینے جاتے تب کہیں نجیب بھائی انہیں بھیجتے لیکن شام کو خود لینے آجاتے۔ بیوی کو رات کو ہمارے گھر رکنے نہ دیتے تھے۔ جب اختر کو پتا چلا اسے سخت صدمہ ہوا۔ نجیب بھائی کا اس سے سامنا ہوتا تو وہ اختر کے سلام کا جواب دیتے اور نہ اس سے کلام کرتے بلکہ منہ پھیر لیتے۔
طاہر نے بھی بہن کے گھر جانا چھوڑ دیا اور بہنوئی سے ترک کلام کرلیا۔ اختر کے ساتھ راحیل بھائی بہت پیار سے ملتے تھے اور عزت سے بات کرتے۔ آپی عتیقہ بھی اسے گھر بلاتیں، اس کی خاطر مدارات کرتیں۔ ان کے سسرال والے اختر کے آنے کا برا نہ مانتے۔ نجیب چاہتا تھا کہ ابو جان اختر کو گھر سے نکال دیں۔ جب اس کی یہ آرزو پوری نہ ہوئی تو اس نے غصہ میری بہن پر نکالا۔ والد اس کے بس میں نہ تھے مگر ہماری بہن اس کے بس میں تھی۔ اس نے مائرہ سے کہا۔ اگر میں نے تمہیں کبھی اختر سے کلام کرتے دیکھ لیا تو شوٹ کردوں گا۔ ایک شرط پر میکے جاسکتی ہو کہ جب وہاں جائو اختر سے پردہ کرنا ہوگا۔ چھوٹی امی کو پتا چلا تو بہت دکھی ہوئیں۔ بے شک میں اس روز نجیب کو گھر سے کہیں بھیج دیا کروں گی جس روز مائرہ آئے گی، مگر نجیب مائرہ کو میکے آنے دے۔ اس شرط پر نجیب نے بیوی کو ہمارے گھر بھیجنا قبول کرلیا کہ اس روز اختر گھر نہیں رہے گا جس دن مائرہ میکے میں ہوگی۔
اب جب مائرہ دکھ سکھ میں یا پھر ملنے آتیں تو پہلے کہلوا دیتیں اور چھوٹی امی اختر کو ہماری پھوپی کے گھر بھیج دیا کرتی تھیں۔ یہ بات سب کو بہت توہین آمیز لگتی، مگر مجبور تھے۔ مائرہ کو بھی ہمیشہ کے لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ خود اختر نے کہا۔ بے شک دن میں گھر نہ آئوں گا، میری بہن تو آسکے گی۔ مجھے مائرہ باجی کی خاطر یہ بات گوارا ہے۔ مجھے برا نہیں لگتا گھر سے چلے جانا تو آپ لوگوں کو کیوں برا لگتا ہے۔ دراصل وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے ہمارا جھگڑا باجی کے شوہر سے ہو یا مائرہ کا گھر برباد ہو۔
ایک روز میرے بڑے بہنوئی آئے، وہ مٹھائی ساتھ لائے تھے۔ بولے۔ اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا ہے۔ ہم سب خوش ہوگئے تبھی راحیل بھائی نے کہا کہ مائرہ کے گھر بھی مٹھائی پہنچانی ہے۔ اختر اور طاہر جاکر دے آتے ہیں۔
اختر جانے سے جھجکا تو طاہر نے کہا کہ تم باہر گاڑی میں بیٹھے رہنا، میں اندر جاکر مٹھائی دے کر آجائوں گا۔ اس دن راحیل بھائی نے اتنا اصرار کیا کہ ان دونوں کو جانا پڑا۔ جب باجی کا گھر نزدیک آگیا، طاہر نے گاڑی سڑک کنارے رکوا دی اور اختر کو گاڑی میں بیٹھے رہنے کو کہا جبکہ خود مٹھائی دینے کے لئے اتر گیا لیکن ان کے دروازے پر ٹھہر گیا اور ایک بچے کو مٹھائی دی کہ جاکر میری بہن کو دینا اور کہنا کہ طاہر نے دی ہے۔ عتیقہ آپی کو اللہ نے بیٹا دیا ہے۔ وہ خوشی سے دروازے پر آگئیں۔ اصرار کرنے لگیں کہ اندر آئو۔ انہوں نے غورنہ کیا کہ گاڑی میں اختر بیٹھا ہے۔ اسی وقت اس کا شوہر باہر سے آیا۔ اس نے باجی کو دروازے پر دیکھ لیا۔ وہ شوہر کو دیکھتے ہی گھر کے اندر چلی گئیں۔ طاہر الٹے قدموں لوٹ آیا کہ جب اختر سے بہنوئی سیدھے منہ بات نہیں کرتا، میں اس کے گھر کے اندر کیوں جائوں۔ اسے اپنے بہنوئی کے رویئے پر بہت غصہ تھا۔ جانتا تھا کہ باجی اختر کو سگے بھائی کی طرح چاہتی ہیں، ہرگز سوتیلا نہیں سمجھتیں۔ صرف شوہر کے ڈر سے نہیں بلاتیں مگر ہمارا بہنوئی کس قدر عجیب سوچ کا مالک ہے۔ وہ کسی کی عزت کرنا جانتا ہی نہ تھا۔ اسے رشتوں کے تقدس کا بھی احترام نہ تھا۔
جب اختر نے میٹرک پاس کرلیا تو والد نے اسے اکیڈمی میں پڑھنے کے لئے بھجوا دیا۔ اب میرا بہنوئی خوش تھا کہ اختر کا کانٹا نکل گیا جو اسے چبھتا تھا۔ وہ کبھی کبھی باجی کو لے کر ہمارے گھر آنے لگا۔ ایک دن باجی آئیں تو اتفاق سے ان کی گردن سے دوپٹہ ہٹ گیا۔ زخم کا نشان تھا۔ امی نے پوچھا۔ مائرہ بیٹی! یہ کیسا نشان ہے؟ بتایا کہ جب طاہر اور اختر مٹھائی دینے آئے، میں دروازے پر طاہر کو گھر کے اندر بلانے چلی گئی۔ معلوم نہ تھا کہ سامنے کھڑی گاڑی میں اختر بیٹھا ہوا ہے۔ اسی وقت نجیب آگیا تب اس نے مجھ سے کہا کہ کیا تم گھر کی دہلیز پر اختر کو دیکھنے گئی تھیں؟ سخت بازپرس کی کہا کہ جب میں نے منع کیا تھا کہ یہ نہ آئے تو کیوں میرے گھر آیا؟ تبھی میری گردن پر چھری رکھ دی تو میں خوف سے لرز گئی اور تیز چھری سے ہلکا سا زخم آگیا۔ مائرہ کے منہ سے یہ بات سن کر ہمارا کیا حال ہوا، بتا نہیں سکتی۔ والد کو شائستہ امی نے بتایا۔ انہوں نے نجیب سے پوچھا تو معافی مانگ لی اور کہا۔ میں تو یونہی ڈرا رہا تھا، میرا ارادہ اسے زخمی کرنے کا نہ تھا مگر یہ اتنے زور سے اچھلی کہ کٹ لگ گیا آئندہ کبھی ایسا نہ کروں گا آپ کے قدم چھو کر معافی مانگتا ہوں۔
والد نے بیٹی کی خاطر بات آگے نہ بڑھائی اور خاموش ہوگئے۔ اس بات کو کئی سال گزر گئے۔ طاہر اور اختر نے تعلیم مکمل کرلی۔ طاہر کو باوجود والد صاحب کی دوڑدھوپ کے اچھی نوکری نہ ملی، جبکہ اختر آفیسر بن گیا۔ والد ریٹائر ہوگئے۔ اختر کی دونوں بہنوں کی بھی انہوں نے شادیاں کردیں۔ اب گھر میں امی، ابو، اختر طاہر اور میں رہ گئے۔ میں سب سے چھوٹی تھی۔ والد صاحب چاہتے تھے پہلے دونوں بیٹوں کے سر پر سہرا دیکھیں بہویں لے آئیں پھر میری شادی کریں۔ ان کی قسمت میں بیٹوں کی خوشیاں دیکھنی نہ تھیں اچانک ایک روز بخار آیا پھر طبیعت روزبروز خراب ہوتی گئی ان کو جگر کا عارضہ لاحق ہوگیا اور جب مرض آخری اسٹیج پر تھا تب پتا چلا۔
اختر نے کافی روپیہ خرچ کیا، ان کا علاج کرایا۔ وہ ٹھیک نہ ہوئے۔ گھر کی ساری ذمہ داری اب اسی کے کندھوں پر تھی۔ زندگی کے ساتھ موت بھی ایک حقیقت ہے۔ والد کا آخری وقت آپہنچا۔ بھائی، بہن سب جمع ہوگئے۔ ایک مائرہ باجی کے سوا…! چھوٹی امی اور طاہر بھائی ان کو لینے گئے۔ ان کے سسر نے ابو کی علالت کا سنا تو بہو کو کہا۔ تیار ہوجائو۔ وہ خود ہمارے ساتھ مائرہ باجی کو چھوڑنے آئے، ابو کی عیادت بھی کی۔ تب نجیب دو روز کیلئے کسی کام سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔ مائرہ باجی آٹھ دن رہیں۔ نجیب بھائی نہ آئے۔ وہ کچھ کھوئی کھوئی سی تھیں شاید زیادہ دن میکے میں رہنے کی وجہ سے خوف زدہ تھیں کہ شوہر بازپرس نہ کرے، والد صاحب کا انتقال ہوگیا ان کے سسرال میں اطلاع گئی تو باجی کے سسر اور شوہر دونوں آگئے۔ فیاض تو ایک دن بعد لوٹ گئے، نجیب بھائی ٹھہر گئے اور مائرہ باجی کو تیسرے روز ساتھ لے گئے۔ اس بار وہ جاتے ہوئے بہت اداس اور بجھی بجھی تھیں۔ میں نے کہا۔ باجی…! ابو بہت تکلیف میں تھے، اللہ نے ان کی تکلیف ختم کی ہے۔ آپ ان کے انتقال کا اس قدر ملال مت کیجئے۔ دعا کیجئے کہ ہمارے دونوں بھائی طاہر اور اختر سلامت رہیں، اب یہی ہمارا سہارا ہیں۔
ابو چلے گئے۔ ان کے بعد مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میرے ساتھ بھی کچھ ہونے والا ہے۔ اللہ آپ کو ہر مصیبت سے امان میں رکھے باجی! ایسے کلمات منہ سے نہ نکالئے ابو کی وفات کے دکھ سے ہم سب کے دل بوجھل ہیں۔ اللہ ہم کو صبر دے۔ طاہر نے سنا تو کہا۔ امی جان! آپ باجی کو نجیب کے ہمراہ نہ بھیجئے، میں چند دن بعد جاکر خود چھوڑ آئوں گا۔ امی نے نجیب سے استدعا کی۔ وہ نہ مانا اور کہا کہ میں رکا ہی اس لئے تھا کہ ساتھ لے کر جائوں گا، اس کے بغیر گھر نہیں چلتا۔ تبھی مائرہ باجی چھوٹی امی کے گلے لگ گئیں۔ بولیں۔ امی! مجھے جانے دیجئے کب تک یہاں رہوں گی، مجھ سے کوئی بھول ہوئی ہو تو معاف کردینا۔ کیسی بات کررہی ہو میری بچی…! کس نے جینا ہے، کس نے مرنا ہے۔ اللہ جانے ان کے منہ سے ایسے الفاظ کیسے نکل گئے۔ وہ یہ کہہ کر ہم کو وقت سے قبل اداس کرگئیں۔
والد صاحب کا دکھ کیا کم تھا کہ مائرہ باجی کی فکر لگ گئی۔ انہیں گئے ایک دن گزرا تھا، لگتا تھا صدیاں گزر گئی ہیں۔ مغرب کا وقت تھا اور جمعہ کا روز…! نجیب کے گائوں سے ایک آدمی آیا۔ وہ کافی پریشان لگ رہا تھا۔ اختر بھائی اسی وقت ڈیوٹی سے لوٹے تھے، وہی دروازے پر گئے۔ پوچھا۔ آپ کون…؟ بولا۔ میں نجیب کا بھانجا ہوں، بتانے آیا ہوں کہ مائرہ ممانی اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔ کیا کہہ رہے ہو… اندر آئو اور بیٹھ کر تفصیل سے بتائو کہ کیا ہوا ہماری بہن کو…؟
جب وہ یہاں سے گئیں… ٹھیک تھیں، رات کو بھی ٹھیک تھیں، صبح ان کے گھر سے اطلاع آئی کہ انہیں گولی لگ گئی۔ اتفاق سے ماموں نجیب اپنی بندوق صاف کررہے تھے، ان کے دھیان میں نہ رہا کہ ایک گولی ابھی اس میں باقی ہے۔ بس اچانک چل گئی بندوق اور گولی مائرہ ممانی کو جا لگی۔ طاہر بھائی بھاگے ہوئے تایا ابو کے گھر گئے اور عتیقہ باجی کو خبر کی۔ اسی وقت راحیل بھائی آگئے۔ وہ بھی گھبرائے ہوئے ہمارے گھر پہنچے اور خاندان کے چند بزرگوں کو اطلاع کرائی۔ سب اسی وقت نجیب کے گائوں روانہ ہوگئے۔ وہاں جاکر پتا چلا کہ پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال لے گئے ہیں میری پیاری بہن کو…! آہ! میری باپردہ بہن جس نے کبھی دہلیز سے باہر قدم نہ رکھا تھا، آج اس کا پوسٹ مارٹم ہوا۔ نجیب نے بیان دیا کہ گولی اتفاقیہ چلی۔ اب یہ اللہ کو معلوم اس نے جان کر چلائی کہ اتفاقیہ لگی۔ اس کی شہادت اور عینی گواہ بھی اس کے اپنے تھے۔ انہوں نے بھی یہی بیان دیا۔ حتیٰ کہ ان کی بچی نے بھی پولیس کے پوچھنے پر یہی بات دہرائی کہ ابو بندوق صاف کررہے تھے۔ امی کی پشت تھی، وہ گلدان صاف کررہی تھیں اور میں کچھ دور بستر پر لیٹی تھی۔
ہم نے صبر کا گھونٹ پی لیا۔ اور کیا کرتے۔ نجیب نے ویسے ہی دولت کے زور پر بالآخر چھوٹ جانا تھا۔ طاہر نے شرط رکھی اس صورت میں راضی نامہ ہوگا کہ مائرہ کی دونوں بچیاں ہمیں دے دی جائیں، کیونکہ ہمیں نجیب پر بھروسہ نہیں ہے۔ یہ پاگل انسان نجانے کس وقت کیا کر گزرے۔ ہم ان کی بچیاں لے آئے۔ بچیوں کو میں نے پالا اور ان کی خاطر شادی بھی نہ کی، انہیں کسی کے آسرے پر چھوڑنے کو دل نہیں مانا، بڑی بھانجی جب سیانی ہوگئی تو اس نے ایک روز مجھے بتایا تھا کہ ابو کا امی کو مارنے کا ارادہ نہ تھا۔ وہ بس ڈرانے کو بندوق لائے تھے، مگر گولی اتفاقیہ چل گئی۔ یہ واقعہ میرے سامنے ہوا تھا۔ ابو یہ پوچھ رہے تھے کہ تم اتنے دن میکے میں رہیں
ضرور اختر سے بات کی ہوگی، جبکہ میں نے منع کیا تھا کہ اس سے بات مت کرنا اور پردہ کرنا۔ معلوم نہیں امی نے کیا جواب دیا تھا بھانجی کی بات میں جھوٹ کا شائبہ نہ تھا مگر میں کیسے یقین کرتی کہ یقین کرنے کو دل نہ چاہتا تھا۔ بھلا جو شخص ذہنی مریض ہو، وہ اپنے برے خیالات کو کنٹرول نہیں کرسکتا، ایسے لوگوں کو تو اپنا علاج کروانا چاہئے مگر ذہنی مریض کبھی خود کو بیمار تصور نہیں کرتے۔ ہمیشہ خود کو صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہیں۔
بہت اچھا ہوا کہ ہم اپنی بھانجیاں لے آئے تھے، کیونکہ اس واقعہ کے بعد ان کا ذہنی مرض بڑھ گیا تھا۔ اتنا کہ ایک روز انہوں نے خود کو بھی گولی مار لی۔ اگر وہاں ہماری معصوم بھانجیاں رہ جاتیں تو کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ ان کو بھی نقصان پہنچاتے۔ کاش! سارے ملک میں ایسا قانون ہو کہ شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی دونوں کا میڈیکل چیک اَپ ہونا لازمی قرار دیاجائے اور جسمانی تندرستی کے ساتھ ذہنی صحت کے بارے میں بھی ماہر معالج سرٹیفکیٹ جاری کریں کہ یہ لڑکا اور لڑکی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے صحت مند ہیں، ورنہ جسمانی عوارض کے ساتھ ذہنی عوارض بھی آنے والی نسلوں کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ (الف … شیخوپورہ)