Woh Din Yad Hain | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2710
میں ایک زمیندار گھرانے کی بیٹی ہوں، میری شادی بھی ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی۔ سسر صاحب اپنی زمینوں کی دیکھ بھال بہت جانفشانی سے کرتے تھے لہٰذا انہیں شہر میں رہنا پسند نہیں تھا۔ گائوں میں ان کا ایک بڑا سا شاندار گھر تھا جو دو بیگھہ زمین پر بنا ہوا تھا۔ صاف ستھرے دودھ کے حصول کی خاطر اپنی حویلی کے پیچھے ایک باڑہ بھی بنوایا ہوا تھا۔
جب میری شادی ہوئی، بی اے کرلیا تھا۔ میری تعلیم کی خاطر والد صاحب شہر میں اقامت پذیر ہوئے تھے لیکن شادی کے بعد دیہات کی زندگی کا منہ دیکھنا پڑا۔ میرے شوہر پہلوٹی کے تھے۔ سسر صاحب کو یہ گوارا نہ تھا کہ بہو اور بیٹا ان سے جدا شہر میں رہیں۔ پس ان کی خواہش پر ہمیں بھی گائوں کی حویلی میں رہنا پڑا جہاں مشترکہ فیملی سسٹم کا راج تھا۔
مجھے اس سسٹم سے کوئی شکوہ نہ تھا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی برکتیں شامل تھیں۔ گائوں کا ماحول بھی میرے لیے اجنبی نہ تھا کہ ایک زمیندار کی بیٹی تھی۔ تھوڑے دنوں میں اس ماحول میں رچ بس گئی اور خوش و خرم زندگی گزارنے لگی۔
جب جی گھبراتا، میرے شوہر مِٹھا صاحب مجھے گھمانے پھرانے شہر لے جاتے تھے۔ میرے شوہر نے ایل ایل بی اور پھر ایل ایل ایم کیا تھا۔ ان کو وکالت کا شوق تھا ۔ روزانہ گائوں سے شہر جاتے تھے اور شام کو لوٹ آتے تھے کیونکہ کورٹ شہر میں تھا اور کورٹ کچہری کے سارے کام بھی وہیں ہوتے تھے۔
وقت گزرتا رہا۔ تین بچوں کی ماں بن گئی۔ بچوں نے میٹرک تک گائوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کی اور جب کالج میں داخلہ کا مرحلہ آیا تو ہم میاں بیوی سوچ میں پڑ گئے۔ مٹھا صاحب کو ہرحال میں اولاد کو پڑھانا تھا۔ وہ خود بھی گھر سے دور لاہور میں پڑھنے گئے تھے۔ ہوسٹل میں رہے اور ہوسٹل کی مشکلات جھیل چکے تھے۔ لہٰذا اپنے بچوں کو ہوسٹل میں رکھنے کے خلاف تھے۔ تب ہی انہوں نے ملتان میں گھر لے لیا اور ہم لوگ گائوں سے ملتان شہر آگئے۔
ایک دن میں اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھی دھوپ سینک رہی تھی کہ ایک جانی پہچانی صورت دیکھی۔ وہ میرے گھر میں آگئی کیونکہ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ پہلے تو میں نے اس طرح آنے پر ان کو ٹوکنا چاہا لیکن جب بغور دیکھا تو اپنی سی لگی۔ ذہن پر زور ڈالا، نام یاد آگیا، یہ چاندنی تھی۔
ارے چاندنی تم یہاں؟ ہاں بی بی پریشان ہوں، کچھ کام چاہیے۔ اس نے بھی مجھے پہچان لیا تھا۔ میں نے اُسے چارپائی پر بیٹھنے کو کہا اور پانی وغیرہ دیا۔ اس کی حالت زار دیکھ کر مجھے سب کچھ یاد آگیا۔
چاندنی کوئی اجنبی نہ تھی۔ ہمارے گائوں کی رہنے والی تھی اور ایک معمولی کسان کی بیوی تھی۔ یہ بہت غریب لوگ تھے۔ اس کا شوہر خیر دین سارا سال ہل چلاتا۔ ان کا پورا کنبہ ہی شوکت زمیندار کی زمین پر کام کرتا۔ بیج بوتے اور چلچلاتی دھوپ میں فصلیں کاٹتے تھے۔ اس کے باوجود ان کی غربت دور نہ ہوسکی۔ بلکہ دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر آتی تھی۔
شوکت زمیندار کچھ زیادہ فیاض آدمی نہ تھا۔ وہ رحمدل بھی نہیں تھا بلکہ سخت طبیعت کا مالک تھا۔ اپنے ہاریوں سے خوب محنت لیتا تھا لیکن محنتانہ کم دیتا تھا۔ تاہم خیر دین کے کنبے کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ کم اُجرت پر بھی کام کریں۔
ایک یہ بھی بات تھی کہ شوکت بہت اثر و رسوخ والا آدمی تھا۔ وہ چاہتا تو اس غریب کنبے کو ناکوں چنے چپوا سکتا تھا یا پھر ایسی جگہ پھنکوا دیتا کہ ان بیچاروں کو پانی دینے والا بھی کوئی نہ ملتا۔
صبح سویرے اٹھ کر کھیتوں میں ہل چلانا اور سخت زمین کا سینہ چیر کر مٹی کو بھربھرا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ خیردین صبح تڑکے کام پر آ جاتا اور گھنٹے دو گھنٹے کے بعد گھریلو کام سے فارغ ہوتے ہی چاندنی بھی اس کا بازو بن جاتی تھی۔ وہ سبزیوں سے جڑی بوٹیاں چھانٹتی یا گھاس الگ کرتی اور ان کی ڈھیریاں بناتی۔ فصل کی کٹائی کے دنوں میں تو وہ صبح سے شام تک درانتی ہاتھ میں لئے کھیتوں میں کام کرتی تھی۔
شوکت ان کی محنت پر اس وقت پانی پھیر دیتا تھا۔ جب اجرت دیتے سمے وہ کام میں کوتاہی گنواتا اور نقص نکالتا۔ تب وہ اس شخص کی شقی القلبی پر کڑھتی مگر سوائے صبر کیا چارہ تھا۔ خیردین اور اس کے بھائی مرد ہوکر اس مغرور کا بال بیکا نہیں کرسکتے تھے، وہ تو پھر عورت تھی۔
وہ بس یہ کرسکتی تھی کہ اپنے شوہر کے شانہ بہ شانہ رہے اور اس کا دکھ اور کام دونوں بانٹ لے۔ جو تقدیر میں لکھا ہو وہی ملتا ہے۔ ان کا بخت روکھی سوکھی تھا۔ یہ بیچارے اسی رزق پر قانع اور شاکر تھے۔ حرفِ شکایت کبھی زبان پر نہ لاتے۔ چاندنی نے کبھی اپنی زندگی میں کسی اچھی شے کی آرزو نہ کی۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنی آرزوئوں اور خواہشوں کو حسرتوں کے کفن میں لپیٹ کر دفن کردیا۔ وہ بس محنت کرنے پر ایمان رکھتی تھی، سو اس کا نازک وجود جس قدر محنت کا متحمل ہوسکتا تھا، وہ کرتی رہی۔
باوجود روکھی سوکھی کھانے کے چاندنی کی صحت قابلِ رشک تھی۔ سروقد اور ایسی دمکتی رنگت کی مالک تھی کہ جو شہری عورتوں کو بیش قیمت کریموں اور اعلیٰ ترین بیوٹی پارلرز جانے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔ وہ دیہاتی تھی، سورج کی تمازت اور کھلی فضا کی پروردہ۔ اس کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھِلا ہوا اور آنکھیں ستاروں کی طرح چمکتی تھیں۔ حالانکہ ماتھے پر سادگی کا جھومر تھا اس کا حسن پریوں کی خوبصورتی کو شرماتا تھا۔ وہ نام کی چاندنی نہ تھی، سرتاپا ماہِ تمام تھی۔ جب وہ کھیتوں سے نکلتی، اس کے حسن کی دمک دور تک جاتی تھی۔
شوکت زمیندار کا چھوٹا بھائی رفعت ایک عیاش طبیعت انسان تھا۔ وہ گائوں کی حسین لڑکیوں کے چکر میں رہتا تھا۔ مگر ابھی تک چاندنی کی طرف ہاتھ بڑھانے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ بہت دنوں سے وہ اس پری وش پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ تاہم چاندنی کے تیور ایسے تھے کہ کوئی اس کے ساتھ بات کرنے کی جرأت نہیں کر پاتا تھا۔ وہ غریب ضرور تھی مگر اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کو زندگی کا نصب العین سمجھتی تھی۔
ایک روز جبکہ وہ فصل کاٹ رہی تھی اور اردگرد کوئی نہ تھا، رفعت وہاں آگیا۔ اس نے دیکھا کہ چاندنی اکیلی ہے، اس کے پاس بہانے سے آکر ٹھہر گیا۔ وہ کام میں منہمک تھی۔ سر اٹھا کر آنے والے کی طرف نہیں دیکھا۔ اتفاق سے اس کا دوپٹہ سر سے ڈھلک کر پشت کی طرف زمین پر گر گیا۔ چاندنی کا لباس بوسیدہ تھا اور کئی جگہ سے پیوند لگے ہوئے تھے، پھر بھی اس کی خوبصورتی ماند نہیں پڑی تھی۔
چاندنی بالیاں کاٹتی جاتی تھی اور ان کی چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں بناتی جاتی تھی۔ اس کے بجلی کی سی پھرتی سے چلتے ہاتھ دیکھ کر رفعت کے پائوں تھم گئے تھے۔ وہ مبہوت کھڑا تھا۔ اچانک ہی چاندنی کی نگاہ اس کے چمکتے بوٹوں پر پڑ گئی۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ تب ہی رفعت نے جیب میں ہاتھ ڈال کر نوٹوں سے بھرا بٹوا نکال لیا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
چاندنی کی محویت ٹوٹی تو اسے احساس ہوا کہ دوپٹہ زمین پر پڑا ہے اور وہ ننگے سر بیٹھی ہے۔ اس نے جلدی سے پشت کی طرف گرا ہوا دوپٹہ اٹھا لیا اور اس میں اپنا سراپا لپیٹ لیا۔ ایسا کرتے ہوئے حجاب سے وہ زمین میں گڑھ گئی تھی۔
رفعت نے اسے مخاطب کیا۔ چاندنی جانتا ہوں کہ میرا بھائی تم لوگوں کو پوری اجرت نہیں دیتا تو تم یہ رکھ لو۔ اس نے نوٹ اس کی طرف بڑھائے۔ وہ سمجھا تھا کہ غربت کی ماری جب اتنے نوٹ دیکھے گی تو اس کی جانب مائل ہوجائے گی۔
چاندنی کو رفعت کی یہ حرکت سخت ناگوار گزری، لمحہ بھر کو جی چاہا کہ اس پر تھوک دے۔ مگر یہ ایک خطرے والی بات تھی۔ اس نے اپنے غصے کو دبا لیا اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے

تحمل سے کہا۔ مالک مجھے نوٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے جانے کا رستہ دو۔ رستہ بہت پڑا ہے آئو ادھر سے گزر جائو۔ اس نے اشارے سے اسے قریب سے گزرنے کو کہا۔ بہت سنبھل کر وہ اس کے قریب سے گزرنے لگی تو رفعت نے چاندنی کا ہاتھ پکڑ لیا۔چاندنی کے دوسرے ہاتھ میں درانتی تھی۔ جس کے دندانے کافی تیز تھے۔ اس نے خود کو چھڑانے کیلئے رفعت پر حملہ کردیا۔ درانتی اتنے زور سے ناک پر لگی کہ ناک کی نوک کٹ کر لٹک گئی اور خون کی تیز دھار سے رفعت کا دہانہ رنگین ہوگیا۔ وہ درد سے دُہرا ہوکر زمین پر بیٹھ گیا۔ تب ہی چاندنی وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔
رفعت نے اس کے خاوند خیر دین کو پکڑوا دیا اور اس پر پرچہ کرایا کہ اس نے میرے چہرے پر درانتی سے وار کیا ہے جس کی وجہ سے میری ناک پر زخم لگا ہے اور درانتی کی نوک آنکھ میں چبھ گئی ہے۔ اس نے چاندنی کا نام نہ لیا ورنہ ضرور یہ بات مشہور ہوجاتی کہ رفعت نے اس عورت پر دست درازی کی، تب ہی اس نے وار کیا۔ چاندنی ویسے ہی سخت مزاج مشہور تھی۔
خیر دین کو جیل ہوگئی اور چاندنی جان بچا کر ملتان بھاگ آئی جہاں اس کی رشتہ کی خالہ رہتی تھی۔ وہ کام ڈھونڈتی میرے گھر آئی تو اسے خبر نہ تھی کہ جس بنگلے میں قدم رکھا ہے وہ ہمارا گھر ہے۔
میں نے اسے ملازم رکھ لیا کیونکہ مجھے ان دنوں ملازمہ کی ضرورت تھی۔ پھر وہ تو میرے ہی گائوں کی تھی، اس پر میں بھروسا کرسکتی تھی۔ میں نے اسے ہدایت کردی کہ جب ہمارے گائوں سے کوئی آئے تو سامنے مت آنا ورنہ تمہارے زمیندار کو خبر ہوجائے گی تو وہ تم کو اٹھوالے گا۔ ہوسکتا ہے کہ برا حال کرے۔ سات برس بعد خیر دین کی جیل سے گلوخلاصی ہوگئی تو وہ خود آکر بیوی کو ہمارے گھر سے لے گیا اور اس کے بعد وہ لوگ کراچی چلے گئے جہاں محنت مزدوری سے روزی کمانے لگے۔
کافی عرصہ ہوچکا ہے، اب ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ رفعت نے بیرون ملک جاکر ناک کی سرجری کرالی ہے تاہم زخمی آنکھ تو بیکار ہوچکی ہے اور اب وہ ایک آنکھ والا زمیندار کہلاتا ہے۔ جس کو لوگ عرف عام میں ’’کانا‘‘ کہتے ہیں۔
(س۔ ن… ملتان)