Saturday, May 18, 2024

Wohmanzar Bhoolra Nahi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ہمارا گھر دریا کنارے کچے کے علاقے میں تھا۔ تھوڑی سی اراضی کے ذریعے اللہ نے رزق میں برکت دے دی تھی۔ چھ افراد کے کنبے کو دو وقت کی روٹی میسر تھی۔ ہم غربت کے باوجود سکون کی زندگی بسر کررہے تھے۔ میرے بڑے ماموں کا گھر دس کوس کے فاصلے پر تھا جہاں کھجور کے درخت بکثرت تھے۔ ماموں قمرو شروع سے لاپروا مزاج تھا۔ وہ محنت سے جی چراتا تھا بالآخر برے لڑکوں کی دوستی میں گھر گیا۔ جب جوان ہوا تو چوروں کی ٹولی میں شامل ہوگیا۔ یہ بدقماش نوجوان قرب و جوار کی بستیوں سے مال، مویشی ہانک کر لے جاتے اور شہر جاکر بیچ آتے۔ یوں وہ دوسروں کا مال چرا کر دام کھرے کیا کرتے تھے۔
جس آدمی کا ایسا چلن ہو، بھلا وہ گھر والوں کو کیسے خوش رکھ سکتا ہے۔ قمرو ماموں نشہ کرتا تو بیوی کو مارتا پیٹتا۔ آئے دن گھر والوں سے اس کا جھگڑا رہتا۔ قمرو ماموں کی بیوی میری سگی پھوپی تھی۔ وہ بیچاری شوہر سے بڑی تنگ تھی۔ جب ہمارے گھر آتی اماں کو سارا احوال کہہ دیتی، مگر ابا کے آگے اف نہ کرتی کہ وہ غصے کا تیز تھا۔ پھوپی کو ڈر لگتا تھا کہیں میرا بھائی طیش میں آکر اپنی بیوی کو نہ گھر سے نکال دے۔ ایسی صورت میں ہم بچے تکلیف میں آجاتے۔ پھوپی کو ہم سے بہت پیار تھا، وہ ہمیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی، اسی لئے میکے میں شوہر کی شکایت نہیں کرتی تھی اور صبر سے کام لیتی تھی۔
ایک دن ماموں جوئے میں بہت سا چوری کا سامان ہار گیا۔ جس کے یہاں اس نے چوری کی تھی، وہ اثرورسوخ والا تھا۔ اسے کسی نے مخبری کردی کہ چوری قمرو نے کی ہے اور وہ مال فلاں جوئے میں ہارا ہے۔ امیر شخص نے اپنے آدمی بھیج کر میرے ماموں کو پکڑ لیا اور تھانیدار کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے ڈیرے پر سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ماموں کو ڈیرے میں الٹا لٹکا دیا اور اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ اسے زدوکوب کرو۔ ان نوکروں میں ایک نے چپکے سے ایک رشتے دار کو میرے نانا کے پاس بھیجا کہ آکر اپنے لڑکے کی خبر لو، ایسا نہ ہو کہ تشدد سے معذور ہوجائے۔ بہتر ہوگا کہ رقم دے کر اس کی جان بخشی کروا لو۔
نانا بوڑھے تھے، اس عمر میں بھی سخت مشقت کا کام کرنا پڑتا تھا کیونکہ بڑا بیٹا یہی قمرو تھا، مگر وہ آوارہ، نکما اور کام چور ہی نہیں چور بھی تھا۔ اس کی وجہ سے وہ پہلے ہی دکھی رہتے تھے۔ جب کسی نے انہیں آکر اطلاع دی کہ فلاں جگہ تمہارے بیٹے کو الٹا لٹکا رکھا ہے تو وہ صدمے سے بے ہوش ہوگئے۔ ان کی ایسی حالت نہ تھی کہ وہ صاحب حیثیت شخص کے پاس اس کے خسارے کا تاوان بھرنے جاتے نہ ہی صلح صفائی کی کوئی سبیل تھی کہ ان کا علاقے کے معززین سے بھی کچھ رابطہ واسطہ نہ تھا۔ ممتا کی ماری نانی احوال سن کر اپنے قدم نہ روک سکیں، قمرو کی بیوی یعنی ہماری پھپھو صادقہ کو لے کر ڈیرے پر جا پہنچیں اور اپنے زیور بھی ساتھ لے گئیں کہ شاید وہ قمرو کی جان بخشی کردے۔ ذیل دار سے نانی اور پھوپھی دونوں نے بنتی کی، ہاتھ جوڑے اور رو رو کر دہائی دی کہ قمرو کی جان بخشی کردیں۔ انہوں نے اپنے چھوٹے موٹے زیور بھی اس کے قدموں میں رکھ دیئے۔
ان دنوں پھوپی صادقہ کم سن اور خوبصورت تھیں۔ ذیل دار نے جو اسے روتا دیکھا تو سوچ میں پڑ گیا۔ بالآخر دل میں ایک عجب فیصلہ کرلیا۔ اس نے شرط رکھی کہ اگر قمرو کی بیوی اس کی بیوی کی خدمت کیلئے گھر رہ جائے تو وہ قمرو کی جان بخشی کرسکتا ہے۔ ذیل دارنی امید سے تھی۔ پھوپی نے جواب دیا کہ میرے شوہر سے پوچھ لیں، وہ اگر مجھے آپ کے گھر رہنے کی اجازت دے تو میں اس کی جان بخشی کی خاطر آپ کی بیوی کی خدمت گزاری کے واسطے آپ کے گھر رہ لوں گی۔ ذیل دار نے قمرو سے دریافت کیا کہ کیا اسے یہ شرط منظور ہے؟ ماموں نے جواب دیا کہ منظور ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو ذیل دار کے گھر باندی بنا کر اپنی جان بخش والی۔ جب ساس اور شوہر، صادقہ پھپھو کو ایک غیر کے حوالے کرکے چلے تو ان کی گود کا ایک سالہ بیٹا رونے لگا ،تب پھپھو بھی رونے لگیں اور منت کرنے لگیں کہ میرے بیٹے کو مجھ سے جدا نہ کرو، یہ ابھی چھوٹا ہے۔ ذیل دار نے سوچا واقعی اس کا بچہ کمسن ہے۔ اگر جدا کیا تو یہ چین سے میرے گھر نہ ٹکے گی لہٰذا نانی اور قمرو ماموں کو کہا کہ بچہ ماں کے پاس رہنے دو ورنہ یہ بیمار پڑ جائے گا۔ جب میری بیوی بچے کو جنم دے لے گی، میں صادقہ کو واپس بھیج دوں گا۔ یہ سب معاملہ میرے والد سے خفیہ طے ہوا کیونکہ ابا کبھی اپنی بہن کو ایک چور کے بدلے ذیل دار کے حوالے کرنے کی اجازت نہ دیتا۔ گھر آکر نانی نے امی کو کہا۔ ہرگز اپنے شوہر کو مت بتانا کہ ہم اپنی بہو کو کسی کے حوالے کر آئے ہیں ورنہ تمہاری خیر نہیں۔ وہ تمہیں گھر سے نکال دے گا آخر کو صادقہ اس کی بہن ہے اور وہ قمرو سے نفرت بھی کرتا ہے۔ ہر ایک سے کہتا پھرتا ہے کہ میرا بہنوئی چور اور بدقماش ہے۔ اگر یہ میری بیوی کا بھائی نہ ہوتا تو میں ضرور اس کو ٹھکانے لگا دیتا مگر مجھے رشتے کا پاس ہے۔ اسی وجہ سے اس چور کو برداشت کیا ہوا ہے۔
وہ بے چاری بھولی بھالی یہی سمجھی کہ شوہر کی جاں بخشی کی خاطر کچھ دن ذیل دارنی کی خدمت کرکے گھر لوٹ آئے گی۔ اس لئے کچھ بولنا یا احتجاج کرنا اسے بیکار لگا۔ سوچا قمرو جیسے نکھٹو کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے کہ ذیل دارنی کے پاس رہ جائوں، دو چار پیسے کا فائدہ ہی ہوجائے گا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے بعد ایک روز صبح صبح پھوپی اپنے بیٹے کو گود میں اٹھائے ہمارے گھر آگئی۔ اس دم ابا کھیتوں میں تھا۔ وہ آتے ہی رونے پیٹنے لگی۔ ماں نے بڑی مشکل سے چپ کرایا، منتیں کیں یہاں تک کہ نند کے پائوں پکڑ لئے۔ کہا۔ بھابی! تمہیں میرے ان معصوم بچوں کا واسطہ، زبان مت کھولنا ورنہ تمہارا بھائی میرا برا حشر کردے گا۔ صادقہ پھوپی بتانے آئی تھی کہ ذیل دار نے اس کے ساتھ کیا زیادتی کی ہے مگر میری ماں کے رونے پر وہ دم سادھ کر بیٹھ گئی۔ اپنے آنسو پونچھ کر وہ ہم بچوں کو تکنے لگی۔ بولی۔ تاوان تو جو اس ظالم نے لینا تھا، لے لیا۔ اب ان بچوں کو دربدر نہ کروں گی ورنہ یہ ماں کی محبت کو عمر بھر ترستے رہ جائیں گے۔
اتنا بڑا صدمہ سہہ کر بھی بچاری پھوپی نے ہماری خاطر لب سی لئے۔ اگر وہ اپنے بھائی کو کچھ بتا دیتی تو ابا میری ماں کو طلاق دے دیتے۔ سچ ہے کہ عورت کا دکھ عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔ والد گھر آئے تو پھوپی نے کہا کہ ساس اور قمرو اس سے لڑتے ہیں، تبھی وہ گھر چھوڑ کر آگئی ہے۔ ابا نے کہا تو مت جائو ان کے گھر جب تمہارے ساس، سسر یا قمرو لینے آیا تو میں خود ان سے بات کرلوں گا۔
قمرو ماموں کو پتا چل گیا کہ اس کی بیوی ذیل دار کے گھر سے واپس آگئی ہے، وہ فوراً ہمارے گھر آیا۔ میری ماں سے کہا کہ صادقہ کو کہو میرے ساتھ گھر چلے ورنہ تمہیں لے جائوں گا۔ ماں نے کہا۔ بھائی! میں اپنے گھر اور بچوں کو چھوڑ کر تیرے ساتھ نہ جائوں گی۔ صادقہ جانا چاہے تو ضرور لے جائو، نہیں جاتی تو زبردستی کیوں لے جانا چاہتے ہو اور مجھے کیوں تم اپنے جھگڑے میں گھسیٹنا چاہتے ہو؟ اس لئے کہ یہ ذیل دار کے گھر سے بھاگ کر آگئی ہے۔ وہ ضرور مقدمہ کرکے مجھے پھنسوا دے گا، اس نے معاہدہ توڑا ہے۔ ذیل دارنی کے ہاں بچہ ہونے تک اسے وہاں رکنا تھا اور یہ نہیں رکی۔ نہیں رکی تو اس کی کوئی وجہ ہوگی۔ کوئی بھی وجہ ہو، معاہدہ تو ٹوٹا ہے نا…! وہ اب مجھے نہیں بخشے گا۔ یہ نہیں جاتی تو تم چلے جائو بھائی! ماں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ زبردستی لے جانے سے جھگڑا ہوگا۔ ماں رونے لگی۔ ویر! مجھ پر ترس کھائو، خدا کا خوف کرو، میرے چھوٹے چھوٹے بچوں کی طرف دیکھو۔ مجھے اپنے گھر میں بسنے دو۔ میرے شوہر کو تم میاں، بیوی اپنے جھگڑے میں مت گھسیٹو۔ پھر میں چوری کا تاوان کہاں سے بھروں؟ میں مجبور ہوں۔ ذیل دار بااثر بندہ ہے، وہ مجھے عمر بھر کے لئے جیل بھجوا سکتا ہے۔ ماں نے ماموں کو برابھلا کہا کہ تو نے چوری کیوں کی، اب سزا تو ہی بھگت…! یہ کیوں بھگتے؟ میرا ماموں بکتا جھکتا چلا گیا۔
کچھ دن خاموشی رہی تاہم ماں کا دل کھٹک رہا تھا کہ ضرور کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ یہ اکثر دیہاتیوں کا شعار ہے کہ بات دل میں رکھ لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی سوچتے ہیں۔ ماموں سے بھی یہی خطرہ تھا۔ ابا کی پانی لگانے کی باری تھی۔ وہ کھیتوں میں چلا گیا۔ گرمیوں کے دن تھے اور یہ رات دو بجے کا وقت تھا ہم سب صحن میں چارپائیوں پر سو رہے تھے۔ اچانک دادی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا کوئی شخص سر اور منہ کو پگڑی میں چھپائے صادقہ کے سرہانے موجود ہے۔ دادی دل تھام کر اٹھ بیٹھی۔ اس نے صادقہ کو آواز دی۔ ہوشیار ہوجا…! آواز پر صادقہ جاگ پڑی اور اس سے پہلے کہ اس کے حلق سے آواز نکلتی، ماموں نے اس کو بالوں سے پکڑ کر اٹھا دیا۔ چلتی ہے یا مار دوں جان سے…؟
دادی کے شور پر ماں اور ہم بہنیں بھی جاگ گئیں۔ پھوپی صادقہ چیخی۔ نہیں جائوں گی اب میں تیرے ساتھ! بے غیرت ہے تو، مجھے ذیل دار کے حوالے کردیا۔ اس پر قمرو ماموں نے وار کیا۔ دادی نے لپک کر اس کا وار اپنے ہاتھوں پر لیا۔ ان کے ہاتھوں پر کلہاڑی لگی تو خون کا فوارہ ابلا۔ دادی گر کر بے ہوش ہوگئی۔ میری ماں، صادقہ کو بچانے لپکی۔ صادقہ پھوپی کو نکل بھاگنے کا موقع مل گیا مگر کلہاڑی کا وار میری ماں کے سر پر کاری ضرب کی صورت میں لگا۔ وہ زمین پر گر گئی اور صادقہ پھوپی بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی۔ قمرو ماموں پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے لپکا مگر وہ کھیتوں میں جاچھپی۔ رات کا وقت تھا، کتوں نے آہٹ سنی تو بھونکنے لگے۔
ماں صحن میں پڑی تھی۔ ہم بہنوں نے لالٹین کی روشنی میں ماں کو دیکھا۔ ایسا منظر تھا کہ حواس جاتے رہے۔ سگے بھائی نے اپنی بہن کو خون میں نہلا دیا تھا اور اب بیوی کی تلاش میں نکل گیا تھا۔ اس کے سر پر خون سوار تھا۔ شکر کہ صادقہ پھوپی اسے نہ ملی کیونکہ کتوں نے قمرو ماموں کا پیچھا لے لیا۔ خطرے کی بو پا کر ایک کتا اگر بھونکے تو سارے اردگرد کے کتے ساتھ بھونکنا شروع ہوجاتے ہیں اور سب غول کی صورت میں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ یہی صورتحال اس وقت ہوئی۔ سارے دیہات کے کتوں کی آوازوں سے ڈر کر قمرو ماموں کو بھاگتے ہی بنی۔ وہ کسی دیہاتی کی اوطاق میں گھس گیا جہاں ایک دیہاتی سو رہا تھا۔ وہ ڈر کر اٹھ بیٹھا۔ کون ہے تو؟ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔ چپ رہ میں قمرو ہوں۔ کیا تو قمرو کو نہیں جانتا؟
ہاں! جانتا ہوں، خوب جانتا ہوں۔ کیا چوری کے ارادے سے آیا ہے یہاں؟ میری اوطاق میں سوائے کھری چارپائیوں کے اور کچھ نہیں ملے گا۔ تجھے چوری کرنی ہے تو جا کسی مالدار کے گھر میں جا۔ خاموش ہوتا ہے کہ تجھ پر بھی کلہاڑی کا وار کروں۔ کلہاڑی کی چمک اور لہجے کی درشتی سے وہ دیہاتی سمجھ گیا کہ معاملہ سنجیدہ ہے اور یہ کوئی قتل کی واردات کرکے آیا ہے۔ وہ خاموش ہوگیا مگر اس کا لڑکا جاگ چکا تھا۔ صبح سے پہلے ہی وہ گھر سے نکلا اور تھانے اطلاع کردی۔ پولیس نے قمرو کو گرفتار کرلیا۔
قمرو نے بیان دیا کہ میری بیوی اور بہن دونوں بدچلن تھیں۔ میں نے ان کو غیر مردوں کے ساتھ دیکھا تو غیرت میں وار کردیا۔ بہن تو قابو آگئی مگر بیوی اور وہ دونوں مرد جو ان کے ساتھ ملاقات کو آئے ہوئے تھے، بھاگ نکلے۔ بہنوئی اس وقت گھر میں نہ تھا، وہ کھیتوں کو پانی لگانے گیا ہوا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں ان دونوں عورتوں کو موقع مل گیا اور انہوں نے غیر مردوں کو گھر کے اندر بلا لیا۔ میں اچانک بیوی کو لینے پہنچا تو یہ منظر برداشت نہ کرسکا۔
ابا کو پولیس نے بلا کر پوچھا اور قمرو ماموں کا بیان پڑھ کر سنایا تو وہ ہکابکا رہ گیا۔ اسے ایسی کسی بات کا علم نہ تھا۔ کہنے لگا کہ میرے برادرنسبتی نے پہلے اپنی بہن کو مارا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچا ہے۔ جو بھی معاملہ تھا میری لاعلمی میں ہوا، اس بارے میں میں کچھ نہیں جانتا۔ مقدمہ چلا۔ شواہد ایسے نہ مل سکے کہ میری ماں بدچلن ثابت ہوتی۔ پھر بھی ابا نے قمرو ماموں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ اپنی زمین فروخت کرکے مقدمے پر پیسہ لگا دیا۔ وہ پھانسی سے تو بچ گیا مگر عمر قید ہوگئی۔ عمر قید بھگتنے کے بعد آزاد ہوکر آیا۔
عجیب بات یہ کہ اس سے نفرت کرنے کی بجائے ابا نے اس کو گلے لگایا کہ جس کی بیوی کے خون سے اس نے ہاتھ رنگے تھے، بے شک وہ اماں کو مارنا نہ چاہتا تھا لیکن ماں نند کی خاطر قربانی کا بکرا بنی تھی۔ دادی وفات پا چکی تھی اور دادا بھی ورنہ وہ قمرو ماموں کو گھر میں نہ گھسنے دیتے۔ صادقہ پھوپی کی جان تو بچ گئی مگر اس کا ٹھکانہ اب کہاں رہ گیا تھا۔ ناچار وہ ذیل دار کے پاس گئی اور کہا کہ تو نے تاوان وصول کرلیا، اب پناہ تو دے دے۔ میری بھابی میرے کارن ماری گئی ہے اور اس کے بچے یتیم ہوگئے ہیں، قمرو کو بھی عمر قید ہوگئی ہے۔ اس سے اچھا تھا کہ قمرو کو تو مار دیتا، اتنے لوگ تو اس کے کئے کی سزا نہ بھگتے۔
ذیل دار نے نہ صرف صادقہ پھوپی کو پناہ دی بلکہ نکاح کی پیشکش بھی کردی۔ اس کی بیوی بیمار رہتی تھی، اسے دوسری شادی کی ضرورت تھی اور پھوپی خوبصورت تھی۔ صادقہ نے کوئی چارہ نہ دیکھ کر اس سے نکاح کرلیا، ورنہ قمرو کی دشمنی ہمیشہ اس کا پیچھا کرتی رہتی۔ قمرو کو ابا نے نہ صرف گلے لگا لیا بلکہ اپنی چھوٹی بہن اس کے نکاح میں دے دی اور بدلے میں قمرو نے اپنی طلاق یافتہ منجھلی بہن سے ابا کا نکاح کرا دیا۔ خالہ جندو میری سوتیلی ماں بن گئی۔ چلو غنیمت ہوا کسی دوسری عورت کے آجانے سے ممکن ہے کہ ہم لوگ زیادہ مصیبت میں پڑ جاتے۔ جندو ہم سے پیار کرتی تھی، ہماری دلی کیفیت کو، ہمارے دکھ درد کو سمجھتی تھی۔ اس نے آتے ہی ہمیں اپنی بانہوں میں لے لیا اور ماں کی کمی دور کرنے کی کوشش کی، تاہم ماں تو ماں ہوتی ہے۔ جس کے قتل کا منظر ہماری آنکھوں میں جم گیا تھا، وہ بھولتا ہی نہ تھا۔ نانا اور نانی بھی راہی ملک عدم ہوچکے تھے۔ قمرو کو اب کون لعنت ملامت کرتا۔ جب ماں یاد آتی تو آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے۔ میری پیاری اور ہم سے والہانہ پیار کرنے والی ماں جس کی شرافت اور پاک دامنی پر فرشتے بھی گواہی دیں، اسے قمرو جیسے درندہ صفت بھائی نے بدچلن کا خطاب دے کر اپنے کئے کو غیرت کا نام دے دیا حالانکہ غیرت میں بھی بہن کی جان لینا، اس کا حق نہ بنتا تھا۔ اب قمرو آزادانہ ہمارے گھر ابا سے ملنے آتا تھا۔ ہمارا بس نہ چلتا کہ اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دیں۔ خالہ جندو بھی کب اس کو پسند کرتی تھی۔ حقیقی بھائی ہونے کے باوجود وہ قمرو سے نفرت کرتی تھی لیکن ابا کے کہنے پر اس کی خاطر تواضع کرنے پر مجبور تھی۔
آج میری ماں کو اس جہان سے سدھارے چالیس سال ہوچکے۔ ہم دونوں بہنوں کی شادیاں ہمارے چچازادوں سے ہوچکی ہیں۔ چچا کا گھر ابا کے برابر ہے۔ صحن کی دیوار آدھی گری ہوئی ہے تاکہ میری بھابھیوں کا اپنے میکے میں آسانی سے آنا جانا رہے۔ گھر کے اندر سے ہی ہمارے گھر آجاتی ہیں، انہیں باہر سے نہیں آنا پڑتا۔ میری بھابھیاں جو میری نندیں ہیں، وہ بھی قمرو کو پسند نہیں کرتیں۔ تایا بھی ہیں اور سسر بھی…! ان کا حکم ماننا پڑتا ہے۔
آج ہمارے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔ میں خوف زدہ ہوں کہ ان کی شادی میں پھر وہی ’’وٹے سٹے‘‘ کی رسم دہرائی جائے گی۔ کاش یہاں تعلیم کی روشنی عام ہوجائے تو لوگوں کے مزاج، رہن سہن اور ریت رواج بدل جائیں لیکن تعلیم کا نور ابھی ہمارے علاقے میں نہیں پھیلا ہے۔ میں مشکل سے دو جماعتیں پڑھ پائی تھی۔ یہاں اسکول تو ہیں مگر خاصے فاصلے پر ہیں۔ کچے کے علاقے میں اسکول قائم بھی ہو تو استانیاں نہیں آتیں، عمارت خالی رہتی ہے کیونکہ ذرائع آمدورفت کا مناسب انتظام نہیں۔ لڑکے سائیکلوں یا موٹربائیک پر پڑھنے جاسکتے ہیں مگر لڑکیوں کے لئے دور جانا دشوار ہے۔ (ش… حیدرآباد)

Latest Posts

Related POSTS