Saturday, May 18, 2024

Yaad Ka Diya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ابھی میں چار برس کی تھی کہ ابا نے مجھے ماں سے چھین کر دادی کے حوالے کردیا۔ انہوں نے امی پر بدکرداری کا الزام دھرا۔ یہ الزام صحیح تھا یا غلط میں نہیں جانتی لیکن میری ماں اس تہمت کو نہیں مانتی تھی، وہ بہت روئی لیکن والد اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔
ماں میکے میں تھی۔ ابا بہت پریشان تھے کیونکہ ماموں نے ان پر کیس دائر کردیا تھا۔ اس مقدمے بازی میں ان کا کام دھندا چوپٹ ہوگیا اور وہ معاشی لحاظ سے کمزور ہوگئے۔ بالآخر انہوں نے بیوی کو طلاق دے دی۔ تاہم مجھے ان کے حوالے نہ کیا۔ وہ مجھے امی سے ملنے بھی نہ دیتے تھے۔
ایک بار امی میری دادی کے پاس آئیں انہوں نے ان کو دروازے سے ہی دھتکار دیا۔ وہ کہتی رہیں بس ایک نظر میری بیٹی کو دکھادو۔ دادی نے جوتی دکھا کر کہا تھا۔ چل بھاگ یہاں سے بڑی آئی بیٹی والی … چل جا… اپنے اس یار کے پاس رہ… جس کی خاطر تو نے میرے بیٹے سے طلاق لی ہے۔
دادی بوڑھی تھیں۔ ابا کو گھر چلانا تھا اور میری پرورش کا مسئلہ بھی تھا۔ انہیں دوسری شادی تو کرنی تھی ۔ سوتیلی ماں میری چچی کی بہن تھی۔ شروع میں تو پیار کیا لیکن جب ایک بیٹے کی ماں بن گئی تو مجھ سے بیزار رہنے لگیں۔
ایک روز مجھ سے اپنے چھوٹے بھائی کا دودھ غلطی سے گرگیا تو ماں نے مجھے بطور سزا مرغیوں کے ڈربے میں بند کردیا… گرمیوں کے دن تھے۔ سخت حبس تھا اوپر سے ڈربے میں مرغیوں کی بیٹوں کی بدبو سے میں بے ہوش ہوگئی۔
اس روز شاید میں مرجاتی لیکن اللہ کو میری زندگی منظور تھی کہ ابا کی دکان پر ایک گاہگ آگیا اور اس نے کچھ سامان طلب کیا۔ اتفاق سے وہ سامان گھر پر رکھا تھا۔ گاہک کو دکان پر چھوڑ کر وہ دوڑتے ہوئے گھر آئے، سامان کا ڈبہ لینے۔ مرغیوں کا ڈربہ دروازے کے قریب تھا۔ میرے حلق سے عجیب و غریب آوازیں نکلتی سنیں تو چند لمحے ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ معاملہ کیا ہے۔ ڈربے کو کھول کر اندر جھانکا تو میں اس میں بیہوش ملی۔
والد نے جلدی جلدی مجھے وہاں سے کھینچ کر نکالا، منہ پر پانی کے چھینٹے دیئے اور پڑوسی کی گاڑی میں اسپتال لے گئے۔ فوری طبی امداد مل گئی۔ یوں میری جان بچ گئی ہے۔ اسپتال سے واپس آکر والد صاحب نے بیوی کو مارا کہ تم نے میری معصوم بچی پر اتنا ظلم ڈھایا، اگر میں تاخیر سے پہنچتا تو یہ مرچکی تھی۔ بہرحال اس کے بعد والد صاحب نے دوسری بیوی کے پاس مجھے رکھنا مناسب خیال نہ کیا ان کا اعتماد عورت سے اٹھ گیا تھا۔
میرے تین چچا تھے اور سب ساتھ رہتے تھے۔ ان میں چھوٹے چچا کی بیوی میری ماں کی خالہ زاد تھیں۔ والد نے مجھے اس چچی کو سونپ دیا کہ اب تم زارا کی پرورش کروگی۔ وقت کیسے بیت گیا یاد نہیں لیکن جب سات برس کی ہوگئی تو یادوں کے چراغوں کی لو اونچی ہونے لگی۔
ان دنوں میں تینوں چاچیوں کا کام بھاگ بھاگ کر کرتی تھی۔ یہاں تک کہ ٹانگیں شل ہوجاتیں جو رات کو درد کرتی تھیں۔ میری سب چاچیاں اچھی تھیں، ڈانٹتی تھیں نہ مارتی تھیں ، کھانے کو بھی اچھا دیتیں مگر کام بہت کراتی تھیں۔
مجھے پڑھنے کا شوق تھا مگر کسی کو میری پڑھائی سے دلچسپی نہ تھی حالانکہ میری عمر پڑھنے کی تھی۔ تمام چاچیوں کے بچے اسکول جاتے تھے مگر مجھے تین جماعتوں تک بمشکل اسکول میں پڑھنے دیا گیا اور پھر اسکول سے اٹھالیا گیا۔
میں اس گھر کی بچی تھی مگر زندگی غلاموں جیسی تھی۔ کبھی کبھی ان کی غلامی سے تنگ آجاتی، تب سوچتی تھی یا اللہ میرا کیا قصور ہے؟ تونے کیوں مجھے میری ماں سے دور کردیا۔ چھپ کر روتی تھی۔ آنسو پونچھنے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ میں بڑی ہوگئی۔ سارے خاندان میں سب سے زیادہ رشتے میرے آئے۔ میری صورت اچھی تھی مگر تعلیم یافتہ تھی اور نہ کوئی ہنر آتا تھا۔ بس گھر کا کام کاج خوب آتا تھا۔
چھوٹی چچی مجھ پر زیادہ مہربان تھیں جب کام سے ذرا فرصت ہوتی، کہتیں زارا کاپی پینسل لے آئو۔ وہ مجھے تھوڑا تھوڑا پڑھا دیتیں۔ ان کا یہ احسان میں زندگی بھر نہ بھلا سکوں گی۔
میری منجھلی چچی کے بھائی احمد علی کبھی کبھار آتے، وہ مجھے ہمہ وقت کام کرتے دیکھتے، تو اپنی بہن سے کہتے یہ کمزور سی لڑکی ہے اس پر رحم کیا کرو۔ اتنا کام مت لیا کرو… لیکن چچی اپنے بھائی کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتی ۔ ایک بار اپنے بھائی سے بولی۔ احمد تم یہ فضول سوچ ذہن سے نکال دو۔ یہ لڑکی ہمارے ٹکڑوں پر پل رہی ہے، اگر میں نے ترس کھایا تو کیا فرق پڑے گا۔ دوسرے تو نہیں کریں گے نا…
ایک روز احمد نے موقع دیکھ کر مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی مگر میں نے ان کی بات کا جواب نہ دیا۔ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی مجھے، میری ماں کی طرح برا کہے اور جیسی تہمت ماں پر لگی تھی مجھ پر لگ جائے۔
ان دنوں میرے لئے رشتوں کا تناتا بندھا تھا، مگر چچا سب کو منع کردیتے تھے، شاید میری شادی نہ کرنا چاہتے تھے کہ مفت کی نوکرانی ہاتھ سے چلی نہ جائے۔
رفتہ رفتہ رشتے آنے بند ہوگئے۔ احمد کو مجھ پر ترس آگیا۔ اپنی ماں کو لے کر آگئے۔ دادی نے یہ رشتہ نہ ہونے دیا۔
وقت گزرتا رہا۔ میری عمر ڈھلنے لگی۔ اب میں چھبیس برس کی ہوچکی تھی اور بیمار رہنے لگی تھی۔ زندگی ایک مشین بن چکی تھی۔ میرا دل گھر میں نہ لگتا۔ جی چاہتا گھر سے نکل بھاگوں۔ بہت گھٹن محسوس ہوتی تھی۔
شروع میں ابو میری خبر گیری کے لئے آتے تھے۔ رفتہ رفتہ آنا کم کردیا۔ اب تو عید پر بھی، دوسرے دن آتے۔ دو گھڑی بات کرتے اور چلے جاتے۔
دوسری ماں سے چار سوتیلے بہن بھائی ہوگئے ۔ ابا اپنے ان بچوں میں کھوگئے۔ مجھے کبھی گھر نہ لے جاتے حتیٰ کہ اپنے بچوں کی سالگرہ پر بھی نہ بلاتے، شاید سوتیلی ماں کی یہی مرضی تھی کہ میں ان سے دور رہوں۔ سوچتی تھی اگر میری چاچیاں اچھی نہ ہوتیں تو میرا کیا بنتا۔
کبھی کبھی امی کا خیال آجاتا۔ وہ کیسی ہوں گی۔ کہاں رہتی ہوں گی؟ مجھے تو ان کی صورت بھی یاد نہ رہی تھی۔ کیا ان کو میری شکل و صورت یاد ہوگی؟ اگر کبھی اچانک سامنا ہو جائے تو کیا ہم ماں بیٹی ایک دوسرے کو پہچان پائیں گی۔ یہ سوالات ذہن میں ہلچل سی مچادیتے تھے۔ سنا تھا کہ میری ماں نے پھر شادی نہ کی، نجانے وہ کس آس پر جی رہی تھیں، شاید مجھ سے ملنے کی آس پر؟
موت کی طرح شادی کا بھی ایک روز مقرر ہوتا ہے۔ ڈھلتی عمر میں میرے لئے بالآخر ایک رشتہ آگیا۔ یہ میرے والد کے دور کے رشتے دار تھے۔ محلے میں ایک گھر برائے فروخت تھا اور ان لوگوں کو مکان کی تلاش تھی لہٰذا ابا کے توسط سے انہوں نے مکان خرید لیا۔ انہیں ہم چچا قاسم کہتے تھے۔
چچا قاسم کا ایک بیٹا ولید تھا۔ وہ میرے چچازاد سے ملنے آتا تھا۔ اسی کا ہم عمر تھا۔ جب آتا مجھے کام کرتے دیکھتا۔ ایک روز اس نے اپنی ماں سے کہاکہ زارا بہت اچھی لڑکی ہے سارا دن گھر کا کام کرتی ہے۔ مجھے اس لڑکی پرترس آتا ہے۔ آپ میرے لئے اس کا رشتہ مانگ لیں۔
اس کی والدہ بھی جب سے آئی تھیں، کئی بار ہمارے گھر آچکی تھیں۔ مجھے ایک بے زبان جانور کی مانند کام کرتے دیکھتی تھیں۔ افسوس کرتی تھیں۔ انہوں نے ابا سے رشتہ مانگا۔ والد صاحب نے ہاں کردی۔ جان گئے تھے کہ اب بھی انکار کیا تو بیٹی عمر بھر بن بیاہی رہ جائے گی۔
میری شادی چند دنوں میں ولید سے ہوگئی۔ تینوں چچائوں نے مل کر جہیز دیا تو میرے پاس کسی شے کی کمی نہ رہی۔ ساس خوش کہ اچھی لڑکی ملی اور ساتھ بھاری جہیز بھی لائی ۔ وہ میری قدر کرنے لگیں۔ مجھے تو اطاعت فرمانبرداری اور خدمت گزاری کی عادت تھی۔ شادی کے دوسرے دن سے چولہا ہانڈی سنبھال لیا اور جیسے میکے میں کام کرتی تھی اپنے گھر میں بھی کرنے گی۔
ساس کو میرے آنے سے بہت آرام ملا۔ پہلے وہی سارا کام کرتی تھیں۔ نند بیاہی جاچکی تھی۔ گھر میں دوسری کوئی عورت نہ تھی۔ وہ خوش تھیں۔
دو سال بہت آرام و سکون سے کٹے، پھر جب بچے کی ولادت کے دن قریب آگئے تو لیڈی ڈاکٹر نے کام کرنے سے منع کردیا۔ ساس سے سارا گھر تو سنبھالا نہ جاتا تھا۔ ولید نے کہا کہ کوئی اچھی عورت بطور ملازمہ مل جائے تو رکھ لیتے ہیں اس طرح ہم سب کو آرام مل جائے گا۔
ایک دو عورتیں ملیں مگر اچھی نہ تھیں۔ پہلی نے ستھرا کام نہ کیا۔ اسے نکال دیا، دوسری چور نکلی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، اسے بھی چلتا کرنا پڑا۔
گھر میں پریشانی بڑھ گئی۔ سچ ہے کہ اچھی ملازمہ کا ملنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ سسر صاحب نے کئی دوستوں سے ذکر کیا۔خود ولید نے بھی کوشش کی۔ ان کے ایک دوست دارالامان کے انچارج تھے، ان سے بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عورت ہے تو سہی … لاوارث ہونے کے سبب دارالامان میں پناہ گزین ہے۔ وہ گھر جیسا ماحول چاہتی ہے، بہت شریف اور اچھے خاندان کی ہے اور حالات کی ماری ہے۔ میں اس سے بات کرتا ہوں تمہارے یہاں آنے پر راضی ہوگئی تو اس کو رکھ لینا۔
عقیل صاحب نے اس عورت سے بات کی۔ اس نے کہا کہ اگر شریف لوگ ہیں اور فیملی مختصر ہے تو میں وہاں رہنے پر راضی ہوں۔ آپ ان لوگوں سے ملوائیے۔ میری ساس اور سسر ملنے گئے اور انہوں نے اس عورت کو پسند کرلیا ۔ اس عورت نے بھی ہمارے ساس سسر کو اچھا پایا۔ یوں قانونی کارروائی کے بعد وہ اس کو گھر لے آئے۔
عورت کی عمر پینتالیس سال تھی۔ بہت نیک طبیعت لگی۔ جب پہلی نظر میں نے اس کو دیکھا، چہرے میں ایسی کشش محسوس کی جیسے اس صورت میں خود میرا اپنا ہی پر تو موجود ہو۔ بے اختیار جی چاہا کہ گلے لگ جائوں پھر دل کو سمجھایا۔ یہ مجھے کیا ہوا ہے ۔ نجانے کون ہے… دو چار دن میں عادت کا تو پتا چلے۔ خبر نہیں، رہتی ہے کہ نہیں۔ ابھی تو دور ہی رہنا مناسب ہے۔
دو دن میں اس خاتون نے ہر کسی کا دل موہ لیا۔ وہ واقعی حالات کی ماری تھی۔ لاوارث تو نہ تھی۔ دو بھائی تھے، بھاوجیں اور ان کے بچے بھی تھے۔ ان سب رشتے داروں کے ہوتے، وہ لاوارث تھی کہ ماں باپ کے مرنے کے بعد بھاوجوں نے اتنا برا سلوک کیا کہ اس عورت کو دارالامان میں پناہ لینا پڑی۔ بھائیوں نے بھی پروا نہ کی۔
ایک دن اماں جی نے اپنی کہانی سنائی کہ شوہر نے تہمت لگا کر میکے بھجوادیا تھا۔ بچی چھین لی تھی اس وقت میری بچی بمشکل چار برس کی تھی۔ بہت معصوم سی تھی۔ اس واقعہ کو لگ بھگ تیس برس ہونے والے ہیں اب تو مجھے میری بچی کی صورت بھی یاد نہیں۔ کبھی اتفاق سے مل جائے تو شاید پہچان بھی نہ سکوں۔ ہماری ساس نے پوچھا بہن تمہارے سسرال والے کہاں رہتے تھے۔ وہ بولی اسی محلے میں ان کا گھر تھا۔ جانے اب یہیں رہتے ہیں یا علاقہ چھوڑ گئے ہیں۔
اپنے شوہر کا نام بتائوگی۔
خاتون نے نام لیا تو میرے کان کھڑے ہوگئے، وہ ابا کا نام لے رہی تھی، وقاص…
یہ تو میرے ابو کا نام ہے۔
اور تمہارا نام کیا ہے بیٹی ؟ آنکھوں میں چمک آگئی ۔
میرا نام تو زارا ہے۔ سب فرحی کہتے تھے۔ لیکن میرے خاوند اور ان کی والدہ فرحی نہیں فرح کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے تم ہمارے دلوں کے لئے باعث فرح، ہو۔
تم … میری زارا تو نہیں ہو؟ فرح… مجھے آج ایسا لگ رہا ہے جیسے میری برسوں سے کھوئی ہوئی بیٹی مجھے مل گئی ہو۔ پھر انہوں نے میرے چچاؤں اور ان کی بیویوں کے نام لئے تو میں دنگ رہ گئی۔ وفور جذبات سے بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
امی نے آگے بڑھ کر گلے سے لگایا۔ زور سے بھینچا تو لگا کہ ممتا کے ان گنت پھول مجھ پر برس گئے ہوں۔ مدتوں سے پیاسی روح کو آج سکون ملا تھا۔ وہ عورت جو ملازمہ بن کرمیرے گھر آئی تھی، میری بچھڑی ہوئی ماں تھی۔ قسمت نے ہم دونوں کی جھولی ایک ایسی مسرت سے بھردی تھی جس کا دنیا میں کوئی مول نہ تھا۔
ماں نے مجھے بتایا کہ جب ان کے ابا زندہ تھے تو انہوں نے بہت چاہا کہ ان کی دوسری شادی کردیں لیکن یہ راضی نہ ہوئیں، اس امید پر قائم رہیں کہ شاید بچھڑی ہوئی بیٹی سے کبھی ملن ہو جائے۔ ساری زندگی بھائی اور بھاوجوں کی خدمت میں بسر کردی، جب انہوں نے خدمت کا صلہ نفرت سے دیا تو دارالامان چلی گئیں۔
امی نے بتایا کہ وہ ہر نماز کے بعد دعا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی بیٹی سے ملادے۔ بالآخر اللہ نے دعا قبول کرلی۔ اتنے برسوں بعد امید بر آئی اور ملن بھی کیسا ہوا کہ داماد کے گھر نوکر ہونے جارہی تھیں۔
قدرت کے معجزے عجیب ہوتے ہیں۔ عقل حیران اور انسان دنگ رہ جاتے ہیں۔ میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ میری ماں اس طرح میرے گھر آجائیں گی۔
اس کے بعد وہ ہمیشہ میرے پاس رہیں۔ میں نے مرتے دم تک، خود سے انہیں جدا نہ کیا۔ والد تو پہلے ہی مجھ سے ناتا کم ہی رکھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ میری ماں آگئی ہیں تو بالکل ہی کنارا کرلیا لیکن مجھے والد کی اب پروا نہ تھی۔ میرے شوہر، ساس سسر نے ساتھ دیا اور بہت خوشی سے امی جان کو اپنے ساتھ رکھا۔ میں آج بھی دعا کرتی ہوں۔ میرے فرشتہ سیرت ساس اور سسر کو اللہ تعالیٰ ان کی نیکی کا اجر دے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ (ز۔

Latest Posts

Related POSTS