Yaad e Mazi Azab Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2892
والد صاحب درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ بہت علم دوست اور لائق ٹیچر تھے، بہت سے نادار طالب علموں کی فیسیں اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور ان کو مفت ٹیوشن پڑھاتے حالانکہ ان کی تنخواہ معمولی تھی۔ ہمارے گھر میں روکھی سوکھی پر گزربسر ہوتی تھی تاہم نیت اچھی ہو تو اللہ تعالیٰ تھوڑے رزق میں بھی برکت ڈال دیتا ہے۔ پس ہم غربت میں بھی پُرسکون اور خوشحال تھے۔
میں ان کی پہلوٹی کی بیٹی تھی، والدین مجھ سے محبت کرتے تھے۔ ابو اکثر امی سے کہتے تھے۔ بیٹیوں کو پڑھانا، بیٹیوں کو تعلیم دلوانے سے زیادہ افضل ہے۔ لڑکیاں دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتی ہیں تو لوگ ان کے حقوق سلب کرلیتے ہیں، اس معاشرے میں عورت زیادہ مجبور ہے، میں شائستہ جبیں کو اتنا ضرور پڑھائوں گا کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑی ہوسکے اور خودمختار زندگی بسر کرسکے۔ والدین بیٹیوں سے محبت کرتے ہیں تو ضرور ایسی باتیں سوچتے ہیں لیکن تقدیر میں جو لکھا ہوتا ہے، پورا ہوجاتا ہے اور سوچنے والا منہ تکتا رہ جاتا ہے۔
ان دنوں والد صاحب ایک زمیندار کے بیٹے کو پڑھانے جاتے تھے۔ اس کی رہائش گاہ شہر سے باہر کھیتوں کی طرف تھی، کچھ راستہ لازمی پیدل چلنا پڑتا تھا، وہاں درختوں کے جھنڈ بھی تھے۔ ایک روز جب وہ اُدھر جارہے تھے، بارش ہوگئی اور ابو کو ایک درخت کے نیچے بارش سے بچنے کی خاطر پناہ لینی پڑی۔ بارش کے پانی سے یہ پناہ مہنگی پڑ گئی کیونکہ ان کی موت وہاں منتظر تھی۔ درخت کی ٹہنی سے ایک سانپ لٹک رہا تھا جو ان پر گر گیا اور ان کو کاٹ لیا۔ یہ سانپ اتنا زہریلا تھا کہ آناًفاناً ابو بے ہوش ہوکر گر گئے، تبھی موسلادھار بارش ہونے لگی۔ کسی کو خبر نہ ہوئی کہ ایک لائق اور دیانتدار استاد موت کے پنجوں میں درخت تلے نیم جان پڑا ہے۔ جب تک گمشدگی کا پتا چلا اور زمیندار کے ملازم ان کو ڈھونڈنے نکلے، وہاں ان کی موت واقع ہوگئی۔
یہ حادثہ ہمارے لئے جانکاہ تھا۔ میں ان دنوں میٹرک کی طالبہ تھی، چھوٹی بہن چھٹی میں اور بھائی چوتھی کلاس کا طالب علم تھا۔ امی گھریلو خاتون تھیں اور کفالت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ہم پر تو ناگہانی غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ابھی اس سانحے سے سنبھلے نہ تھے کہ مالک مکان نے گھر خالی کرا لیا۔ زمیندار کو پتا چلا، اس نے ازراہِ ہمدردی اپنا شہری مکان ہم لوگوں کو رہنے کے لیے دے دیا۔ یہ مکان عرصے سے خالی تھا اور اس پر تالا پڑا رہتا تھا۔
زمیندار کا خالی گھر آباد ہوگیا اور ہمیں بھی رہنے کا ٹھکانہ میسر آگیا مگر اب مسئلہ دال، روٹی کا تھا۔ والدہ نے پرانے پڑوسی سے معاونت کی درخواست کی جس کی گارمنٹ فیکٹری تھی۔ اس نے قمیضوں کی سلائی کا ٹھیکہ امی کو دے دیا کیونکہ میری ماں نے کٹنگ اور سلائی کا ڈپلومہ کیا ہوا تھا، تبھی امی نے پانچ چھ ضرورت مند عورتوں کو اکٹھا کیا جن کے پاس اپنی سلائی مشینیں تھیں۔ سستی اُجرت پر وہ فیکٹری کے کپڑے ان سے سلوانے لگیں۔ خدا بھلا کرے اس پڑوسی کا کہ اس طرح ہمارے لئے دال روٹی کا وسیلہ پیدا ہوگیا۔
جب زمیندار کو پتا چلا کہ مالی حالات ابتر ہونے کی وجہ سے ہم نے تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیا ہے تو انہوں نے والدہ کو کہلوایا کہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ مت روکئے، یہ خرچا ہمارا ذمہ ہے کیونکہ ماسٹر صاحب کے ہم پر بہت احسان ہیں۔ انہوں نے ہمارے تین بچوں کو بلامعاوضہ پڑھایا اور بہت اصرار کے باوجود وہ ٹیوشن فیس نہ لیتے تھے، آج ان کے احسان اتارنے کا دن آگیا ہے۔ والدہ نے اس پیشکش کو قبول کیا۔ چونکہ اب گھر کی کفالت کے لیے میرا گریجویٹ ہونا ناگزیر تھا۔ میٹرک کے بعد میں نے کالج میں داخلہ لے لیا۔ ہماری رہائش گرلز کالج کے قریب تھی لہٰذا آنے جانے کا کوئی مسئلہ نہ تھا، میں پیدل ہی چلی جاتی تھی۔ جوں توں کرکے گریجویشن مکمل کرلی، پھر کئی جگہ ملازمت کی کوشش کی مگر ہمارے شہر میں بغیر سیاسی اثر ورسوخ کے ملازمت کارِ دارد تھی۔ اس مرحلے پر بھی زمیندار صاحب کا ہی اثرورسوخ کام آیا اور مجھے ملازمت مل گئی لیکن اپنے شہر سے دور لاہور میں جہاں ملازمت کے زیادہ مواقع تھے جبکہ ہمارے شہر میں اتنے ادارے نہ تھے کہ جہاں لڑکیاں ملازمت کرسکتیں۔ مجبوری تھی، مجھے لاہور جانا تھا کہ ملازمت وہاں ایک بینک میں ہوئی تھی۔ میں کبھی گھر سے اتنی دور نہ گئی تھی، بہت گھبرا رہی تھی، شکر ہے کہ خالہ لاہور میں رہتی تھیں، ان کے سہارے والدہ کا حوصلہ ہوا اور وہ مجھے لاہور پہنچا کر آگئیں۔
ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد یہ آفس میں میرا پہلا دن تھا۔ بہت گھبرا رہی تھی، تبھی ایک بینک افسر پریشانی کو بھانپ کر میرے پاس آیا اور بولا۔ آپ نئی آئی ہیں، اگر کام میں کچھ مسئلہ ہو تو مجھے بتانا، مدد کردوں گا۔
اب کبھی کام میں کچھ مشکل ہوتی، میں اسی نوجوان سے پوچھ لیتی جس کا نام سردار خان تھا۔ وہ بہت اچھے طریقے سے ہر بات سمجھا دیتا تھا اور کبھی تو میرا کام خود کردیتا۔ اس وجہ سے سردار سے کافی مانوس ہوگئی۔ سردار کے بارے میں سوا اس کے کچھ نہ جانتی تھی کہ لاہور میں رہتا ہے اور زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا رویہ اتنا اچھا اور مثبت تھا کہ آفس کے سارے لوگ عزت کرتے تھے۔ ان ساری خوبیوں کے باوجود اس میں ایک خامی تھی کہ وہ آفس کی سبھی لڑکیوں میں دلچسپی لیتا تھا، ان کی مدد میں خوشی محسوس کرتا تھا۔ بینک کی اس برانچ میں جتنی بھی لڑکیاں تھیں، وہ ان کے نام جانتا تھا، فرداً فرداً ہر ایک سے بات کرتا، ان کے مسائل میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ یہ سب لڑکیاں خوشحال گھرانے سے اور بااعتماد تھیں۔ لاہور شہر کی رہنے والی تھیں، عمدہ لباس زیب تن کرتیں اور فرفر انگلش بولتی تھیں لیکن میں تو گائوں کی پروردہ تھی، انگریزی بھی روانی سے نہیں بول سکتی تھی، لباس معمولی زیب تن کرتی، پھر بھی میں نے یہ محسوس کرلیا کہ سردار ان سب لڑکیوں سے زیادہ میرا خیال کرتا ہے۔
ایک بار سردار نے خواہش ظاہر کی کہ وہ میرا گھر دیکھنا چاہتا ہے۔ میں نے اسے ٹال دیا کہ میرا گھر دوسرے شہر میں ہے اور یہاں خالہ کے پاس قیام پذیر ہوں، آپ کو نہیں لے جاسکتی۔ اسے کیسے بتاتی کہ ہمارا کوئی گھر نہیں ہے، ہم تو اپنے علاقے کے زمیندار کی عنایت سے اس کے مکان میں پناہ لئے ہیں۔ گھر کی خواہش کس کو نہیں ہوتی، پھر میں تو ایک جواں سال لڑکی تھی۔ فطرت کے عین مطابق گھر بسانا چاہتی تھی جبکہ بیوہ ماں کے علاوہ مجھ پر ایک چھوٹی بہن اور چھوٹے بھائی کی بھی ذمہ داریاں تھیں۔ یوں شادی کے لیے میں ان بندھنوں سے کبھی آزاد نہیں ہوسکتی تھی۔ سردار کی دلچسپی مجھ میں بڑھتی گئی اور میری الجھنوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ بے شک اس میں کوئی کمی نہ تھ، وہ خوبصورت، تعلیم یافتہ اور اچھے خاندان سے تھا۔ ایسے شخص کو جیون ساتھی دیکھنے کی ہر لڑکی خواہش کرتی ہے مگر میں اسے کیسے بتاتی کہ میرے بغیر والدہ اور بہن، بھائی کا کوئی وسیلہ نہیں۔
کہتے ہیں لگن سچی ہو تو منزل بھی مل ہی جاتی ہے۔ سردار کی بھی لگن سچی تھی۔ اس نے میرے خاندان کی کفالت کا وعدہ کرکے بالآخر مجھے شادی پر آمادہ کرلیا لیکن اس کی بھی ایک مجبوری تھی، والدین سے چھپ کر شادی کرنا … کیونکہ وہ کبھی اسے مجھ سے شادی کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کو تو اپنے خاندان کی لڑکی کو بہو بنانا تھا اور یہ لڑکی صائمہ تھی جو سردار کی چچا زاد تھی، ان کی بچپن میں منگنی کردی گئی تھی۔ شادی سے قبل سردار نے مجھے ان باتوں سے آگاہ کردیا تھا لیکن حالات سے آگہی کے بغیر بھلا کب میں اس طرح شادی پر راضی


ہوسکتی تھی۔
میں نے سوچنے کے لیے وقت مانگا اور تمام حالات سے اپنی خالہ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا رشتہ تمہیں پھر کبھی نہیں مل سکتا، تم کب تک بغیر شادی اپنے کنبے کی کفالت کرتی رہو گی، کیا عمر بھر؟ کیونکہ تمہارے بہن بھائی ابھی اتنے چھوٹے ہیں کہ تعلیم دلوانے اور پھر ان کی شادیاں کرنے تک تمہاری اپنی شادی کی عمر نکل جائے گی۔
پھر خالہ نے تجویز کیا کہ کورٹ میرج کی بجائے مجھے خالہ اور خالو کی سرپرستی میں ان کے گھر پر سردار کے ساتھ نکاح کرلینا چاہیے۔ وہ بولیں۔ میں بعد میں تمہاری ماں کو راضی کرلوں گی لیکن اس رشتے کو گنوانا غلطی ہوگی۔ پس خالو سردار سے ملے اور مطمئن ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر اس کے ساتھ شادی کی اجازت دے دی۔ رسم نکاح سادگی سے ہوئی جس میں خالو کے محلے کے چند لوگ شریک ہوئے اور میں سردار کی شریک حیات بن کر اس کے گھر آگئی۔ یہ گھر ان کے والد کا خریدا ہوا تھا جہاں ان کی تصویریں بھی آویزاں تھیں چونکہ ہمارے گائوں میں پردے کا رواج تھا لہٰذا میں نے اور امی جان نے زمیندار صاحب کو کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی سردار کو۔ مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ سردار صاحب انہی زمیندار کے بیٹے ہیں جو کہ ہمارے محسن ہیں۔
مجھے سردار کا مضبوط سہارا مل گیا تو ملازمت چھوڑ دی۔ ان کے والد صاحب نے بھی مجھے یا میری والدہ کو پردے کی سخت پابندی کے باعث کبھی نہ دیکھا تھا، تبھی وہ بھی نہ جانتے تھے کہ ماسٹر گل محمد کی بیٹی شائستہ بی بی اب ان کی بہو بن چکی ہے۔
ایک دن وہ لاہور آئے تو ان کی آمد سے پہلے ہی سردار نے مجھے میری خالہ کے گھر پہنچا دیا اور کہا کہ میں نے شادی کو والدین سے خفیہ رکھا ہوا ہے لہٰذا جب تک میں نہ کہوں، تم گھر نہیں آنا۔
جب سسر صاحب چلے گئے تو چار دن بعد سردار مجھے لینے آگئے۔ بولے کہ اب مجھے تمہاری رہائش کے لیے کوئی اور گھر لینا پڑے گا کیونکہ کبھی بھی اچانک میرے گھر والے لاہور آسکتے ہیں، بھانڈا پھوٹ گیا تو بہت برا ہوگا۔
ایسا کب تک چلے گا، کبھی تو انہیں خبر ہوجائے گی۔ میں نے سوال کیا تو وہ بولے۔ جب ہوگا دیکھا جائے گا۔ جب تک بات راز میں ہے، عافیت میں رہو، یہی بہتر ہے۔ تین برس خوشی اور سکون سے گزر گئے۔ میں سمجھ رہی تھی کہ شادی راس آگئی ہے مگر یہ میری غلط فہمی تھی۔ یہ شادی مجھ کو راس نہیں آئی کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمینداروں کے گھر معمولی لڑکیاں بہویں بن کر نہیں جاسکتیں، جب تک کہ لڑکوں کی شادی میں ان کے بزرگوں کی مرضی شامل نہ ہو۔ یہ بھی مستند بات تھی کہ میں کوئی فلرٹ قسم کی لڑکی نہ تھی۔ سردار کے لیے میرے دل میں عزت تھی اور اس کی نیت بھی صحیح تھی۔ ان کو میں پسند آگئی تھی اور پسند سے جیون ساتھی کا انتخاب کرنا ان کا حق تھا لیکن میں نے زیادہ اپنے کنبے کے بارے میں سوچا تھا کیونکہ میں مجبور تھی، ہمارا کوئی سہارا نہیں تھا۔ میری والدہ کو ایک اچھے کردار کے داماد کی سخت ضرورت تھی اور سردار ایک شریف، اعلیٰ خاندانی شخص تھا۔ خالو اور خالہ نے اس سے ملنے کے بعد مجھے حوصلہ دیا تھا کہ میں اس کے ساتھ شادی کرلوں۔ سردار نے بھی وعدہ نباہ دیا اور میرے کنبے کی کفالت کی۔ اپنے شوہر سے خوش تھی، مجھ ناتواں میں اتنی ہمت نہ تھی کہ گھر سے دور نوکری کرکے ایک طویل عرصے تک ماں اور اس کے بچوں کا پیٹ پالتی۔
سردار کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ جس خاندان کا چشم و چراغ تھا، وہ لوگ روایات کے غلام تھے اور اپنے رسم و رواج پر اولاد کی خوشیوں کی بھینٹ چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ سردار کی بہن اس کے سالے کی بیوی تھی اور بدلے میں چچا نے اپنی بیٹی اس کو دی تھی۔ یہ ایسا خطرناک رشتہ تھا کہ اگر سردار کے سالے کو علم ہوجاتا کہ سردار نے کسی دوسری لڑکی کو بیوی بنا لیا ہے تو وہ اس کی بہن کو طلاق بھی دے سکتا تھا۔
سردار نے مجھے یہ ضرور بتایا تھا کہ اس کی منگنی چچا کی بیٹی سے ہوگئی ہے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کا نکاح بھی اس لڑکی سے ہوچکا ہے، صرف رخصتی باقی تھی۔ سردار کو شاید اپنی منکوحہ پسند نہیں تھی یا مجھ سے محبت گہری ہوگئی تھی۔ بہرحال بہن کے انجام کا نہ سوچا اور اپنے گھر والوں سے چھپ کر مجھ سے شادی کرلی۔ تین سال گزر گئے۔ اس عرصے میں اپنے گھر والوں کو شادی کے بارے میں ہوا بھی نہ لگنے دی۔ بے شک اب ہم خوشیوں بھری زندگی گزار رہے تھے لیکن وہ اپنے والدین اور اس سے بھی زیادہ اپنے چچا زاد بھائیوں سے خوف زدہ تھے۔ اب بھی اپنے گھر والوں سے مجھے چھپا کر رکھا ہوا تھا بلکہ یہ سچ ہے کہ وہ تو تمام عمر ہی اس شادی کو گھر والوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے۔ میرا دل اس بات سے دکھی تھا کیونکہ اب تو میں دو بیٹوں کی ماں بن چکی تھی۔
ایک روز اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ بازار میں شاپنگ کی غرض سے گئی تو وہاں گاڑی میں بیٹھے ہوئے سسر صاحب نے ہمیں دیکھ لیا۔ وہ کسی دوست کے ساتھ آئے تھے۔ بازار میں تو کچھ نہ کہا مگر جب گھر پہنچے سردار کو بلوا لیا، پھر سخت برہم ہوئے۔ سردار نے معافی مانگی مگر انہوں نے معافی بھی قبول نہ کی بلکہ بیٹے کو جائداد سے عاق کردیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سردار مجھے طلاق دے مگر ایسا ممکن نہ تھا، میں ان کے دو بچوں کی ماں تھی۔ پس دوسرا راستہ یہ ہی تھا کہ زندگی بھر کے لیے سردار کا ان کے گھر والوں سے ناتا ٹوٹ گیا۔ اب صرف تنخواہ میں ہماری گزربسر تھی۔ سسر صاحب کی طرف سے جو خرچہ سردار کو ملتا تھا، بند ہوچکا تھا۔ وہ تو کھلا خرچہ کرنے کے عادی تھے۔ اب مجھے افسوس ہوتا تھا کہ ملازمت چھوڑ کر غلطی کی ہے لیکن میرے بچے اتنے چھوٹے تھے کہ ان دنوں ملازمت کر بھی نہیں سکتی تھی۔ ہم تو ان حالات سے نبردآزما تھے کہ ایک روز آفس میں گائوں سے سردار خان کا پرانا ملازم آیا۔ اس نے بتایا کہ آپ کی والدہ سخت بیمار ہیں اور آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ اگر آخری دیدار کرنا ہے تو گھر آجایئے۔ اسے والدہ ہی نے بھیجا تھا۔
گھر آئے تو سردار بہت پریشان تھے۔ مجھے بتایا کہ ایسی بات ہے۔ اب سوچتا ہوں کہ جائوں یا نہ جائوں۔ میں نے کہا۔ سوچتے کیا ہیں، فوراً جایئے۔ ماں جانے آپ کے لیے کتنی بے تاب ہے، ایسے وقت کوتاہی نہ کرنا ورنہ تاعمر پچھتاتے رہو گے۔ میری بات سن کر ان کو حوصلہ ہوا اور وہ والدہ سے ملنے گائوں چلے گئے۔ بدقسمتی سے جب وہ گھر کے نزدیک تھے، چچازاد مل گئے جو تعداد میں تین تھے۔ وہ سردار کو گھیرگھار کر اپنے گھر لے گئے۔ کہا کہ پہلے اپنی بہن سے ملو، پھر اس کے ساتھ والد کے سامنے جانا، ہوسکتا ہے کہ اس طرح اچانک جانے سے آپ کے والد کا غصہ بھڑک جائے اور والدہ سے ملاقات بھی نہ کرسکو۔ غرض سردار ان کی باتوں میں آکر ان کے ساتھ چلے گئے۔ انہوں نے میرے سرتاج کو گاڑی میں بٹھا لیا اور پھر جانے کہاں لے گئے۔ ان ظالموں نے ان کو جنگل میں لے جاکر گولی مار دی اور جسدخاکی بھی ایسا غائب کیا کہ لاش تک نہ ملی۔ انہوں نے سردار کی بہن کی طلاق نہ کرائی کیونکہ وہ پانچ بچوں کی ماں تھی مگر اپنی بہن کا بدلہ لے لیا۔
کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ سگے چچازاد ایسا ظلم ڈھائیں گے۔ ان کو صرف اپنی بہن کا صدمہ تھا، اپنے تایا سلیم کے دکھ کا کوئی خیال نہ تھا کہ جس کو بڑھاپے میں اس کے لخت جگر سے محروم کردیا تھا۔ سردار زندہ رہتے تو یقیناً کبھی نہ کبھی ان کی اپنے والد سے صلح ہو ہی جاتی اور میرے بچے وراثت میں حقدار بنتے لیکن ظالم لوگوں نے میرے معصوم بچوں پر رحم نہ کھایا۔ جائداد میں حصہ تو دور کی بات، باپ کے سائے سے بھی محروم کردیا۔ میں نے کافی دن تک سردار کے لوٹ آنے کا انتظار کیا۔ مجبور ہوکر بینک گئی تب ان کے ساتھیوں سے یہ قصہ معلوم ہوا کہ میں بیوہ ہوچکی


نہیں سکتی اس وقت غم سے میرا کیا عالم ہوا تھا۔ خالہ نے امی جان کو بلوایا تب پتا چلا کہ میرے سسر صاحب وہ ہی ہیں جن کے بخشے ہوئے مکان میں ہم رہتے ہیں۔ امی جان کو یہ ٹھکانہ بھی چھوڑنا پڑا۔ وہ مجاہد اور شگفتہ کو لے کر میرے پاس لاہور آگئیں۔ کچھ دن خالہ کے پاس رہیں۔ اس اثناء میں کوشش کرکے میری ملازمت دوبارہ بحال ہوئی اور مجھے اپنے مرحوم شوہر کی جگہ پر لے لیا گیا۔ اس سلسلے میں ہمارے ان ساتھیوں نے بہت زیادہ بھاگ دوڑ اور مدد کی جو کہ ہمارے ساتھ کام کرتے تھے۔ سسر صاحب کی طرف سے بہت سندیسے آتے تھے کہ بچوں کو ساتھ لے کر گھر آجائو، میں تمہاری اور اپنے پوتوں کی نہ صرف کفالت کروں گا بلکہ جائداد میں بھی ان کا حق دوں گا مگر میں وہاں جانے پر تیار نہیں تھی کہ نہ جانے وہ لوگ میرے اور میرے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کریں، مجھے ان لوگوں سے خوف آتا تھا۔ اب تو میرے بچے جوان ہوچکے ہیں، اپنے پائوں پر کھڑے ہیں، میرے دکھ دور ہوگئے ہیں اور مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ امی جان وفات پا گئی ہیں، چھوٹی بہن کی شادی ہوگئی ہے، وہ اپنے گھر میں آباد ہے اور بھائی بھی شادی شدہ اور بینک میں جاب کرتا ہے۔ زندگی میں سکون تو آگیا ہے لیکن جب سردار کی یاد آتی ہے تو دل کا سویا ہوا درد جاگ اٹھتا ہے اور یادماضی بے چین کردیتی ہے۔
(س… لاہور)