Sunday, May 19, 2024

Ye Gham Bhulana Mumkin Nahi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

فہد میرا چچازاد تھا۔ اس کی منگنی میری بہن سائرہ سے ہوچکی تھی مگر نوکری نہ ملی تو شادی ملتوی کرنی پڑ گئی۔ ظاہر ہے بیوی کی ذمہ داری کیلئے برسرروزگار ہونا ضروری تھا۔ والد صاحب نے چچا سے کہا کہ فہد کو شہر بھیج دو، وہاں قسمت آزمائی کرے گا تو روزگار مل جائے گا۔ بڑے شہروں میں ملازمت کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں جہاں ملیں اور فیکٹریاں ہوتی ہیں، اسپتال اور پلازے، کالج، اسکول، یونیورسٹیاں! کہیں نہ کہیں کسی جگہ بیروزگار بندہ کھپ ہی جاتا ہے۔
فہد نے بی اے پاس کیا تھا، اس امید پر کہ اپنے علاقے میں بوائز اسکول میں استاد لگ جائے گا۔ بہت کوشش کی مگر اپنے گائوں میں تو کیا آس پاس کے دیہاتوں میں بھی کہیں نوکری نہ ملی۔ جب روزگار کے مسئلے نے سر اٹھایا تو چچا جان کو اپنا ایک پرانا پڑوسی جان عالم یاد آگیا، جسے سب گائوں میں جانو پکارتے تھے۔ وہ کافی عرصہ قبل روزگار کے سلسلے میں کراچی چلا گیا تھا پھر وہیں کا ہورہا تھا۔ چچا جان نے جانو کو خط لکھا کہ فہد نے بی۔ اے پاس کرلیا ہے، اب ملازمت کیلئے پریشان ہے، کراچی آنا چاہتا ہے مگر اس شہر میں تمہارے سوا کوئی دوسرا بندہ شناسا یا واقف کار نہیں ہے۔ اگر تم فہد کی کچھ مدد کرسکو تو میں اسے تمہارے پاس بھیج دوں۔
جان عالم اچھا آدمی تھا۔ اس کی گائوں والے تعریف کرتے تھے کہ مہمان نواز اور بااخلاق ہے۔ کوئی اگر اپنے گائوں والا اس کے پاس چلا جائے تو نہ صرف خاطرتواضع کرتا ہے بلکہ رہنے کو جگہ بھی دے دیتا ہے۔ حسب توقع خط ملتے ہی اس نے جواب ارسال کردیا۔ لکھا تھا۔ چچا جان! آپ فکر مت کیجئے۔ فہد میرے چھوٹے بھائی جیسا ہے، اسے فوراً کراچی روانہ کردیجئے۔ کوچ نمبر اور وقت بتا دیجئے، میں خود اڈے پر جاکر اسے اپنے ٹھکانے پر لے آئوں گا اور جو کچھ بن پڑا نوکری کے سلسلے میں ضرور کروں گا۔
فہد کے دل میں بھی ہر نوجوان کی طرح گھر بسانے کا ارمان کروٹیں لیتا تھا۔ اس نے ابا جان کی شرط مان کر بڑی محنت سے بی اے پاس کرلیا تھا اور ملازمت کے لئے بھی کافی تگ و دو کرچکا تھا، مگر سرکاری نوکری کا حصول آسان نہ تھا، مجبوراً وہ کراچی جانے پر آمادہ ہوگیا۔ وہ جاتے وقت کافی اداس تھا کیونکہ وہ سائرہ سے اتنی دور نہیں جانا چاہتا تھا، تاہم یہ جدائی بھی سائرہ کی خاطر برداشت کرنی تھی۔ کراچی پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس وسیع و عریض شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانے کے لئے بسوں کے اخراجات برداشت کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے، تبھی دفتری بابو بننے کا ارادہ ترک کردیا اور جانو کے مشورے پر ایک مل میں معمولی کام پر لگ گیا تاکہ فوری طور پر تو معاشی مسئلہ حل ہو۔
جانو کا ٹھکانہ شہر سے کافی دور ایک کچی آبادی میں تھا۔ یہ گھر کیا تھا، سیمنٹ کے بلاکوں کی چار دیوری پر سیمنٹ ہی کی چادروں کی بنی چھت ڈالی گئی تھی۔ بغیر پلستر کی چار دیواری میں چھوٹا سا صحن تھا، جس میں تین لوہے کی چھوٹی چار پائیاں پڑسکتی تھیں۔ جانو نے بھائی فہد سے کہا کہ تمہیں کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے، یہیں رہو۔ تم میرے گائوں کے ہو اور میں بھی اس بڑے شہر میں اکیلا ہوں، تم ساتھ رہو گے تو اچھا رہے گا، البتہ جب نوکری مل جائے تو کرائے میں تھوڑے سے پیسے ڈال دیا کرنا۔ فہد بھائی بھی یہی چاہتے تھے کہ اس بھرے شہر میں کوئی ایک تو اپنا شناسا ہو، ورنہ بالکل تنہا اجنبیوں میں رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
میرے چچازاد بھائی کو مِل میں نوکری مل گئی۔ معمولی تنخواہ کی وجہ سے جانو نے پہلے تین ماہ کرائے کی مد میں ایک پائی نہ لی۔ فہد چونکہ محنتی اور دیانتدار نوجوان تھا۔ اس کے باس نے پرکھ لیا کہ بندہ کام کا ہے اور بی۔اے پاس بھی ہے۔ جب کلرک کی اسامی خالی ہوئی تو ڈگری کام آگئی اور اسے کلرک رکھ لیا گیا۔ اب تنخواہ پہلے سے بہتر تھی، تبھی کرائے کی مد میں بھائی بھی حصہ ڈالنے لگا۔ جب کچھ واقفیت ہوگئی اور اچھی نوکری مل گئی تو فہد آدھی تنخواہ گھر بھجوانے لگا، مگر ایک سال میں ایک بار بھی وہ گائوں نہ آسکا، تب والدین کے دل میں خدشات سر اٹھانے لگے۔ چچا جان نے بیٹے کو خط لکھا۔ چھٹی لے کر جلد آنے کی کوشش کرو تاکہ تمہاری شادی کردی جائے۔
فہد خود بھی یہی چاہتا تھا۔ جب سال بھر کے بعد بونس ملا تو رختِ سفر باندھا اور گھر آگیا۔ چچا جان نے جھٹ پٹ شادی کی تاریخ رکھ دی۔ میرے والدین بھی چاہتے تھے کہ جلد ازجلد سائرہ کے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔ چھٹی دس روز کی تھی۔ آناً فاناً شادی ہوگئی اور دس دن پلک جھپکتے میں گزر گئے تو فہد بھائی نے واپس جانے کی تیاری پکڑ لی۔ ان کا جی تو نہ چاہتا تھا کہ اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر شہر چلے جائیں لیکن مجبوری تھی۔ اگر ایک بار نوکری چھوٹ جاتی، دوبارہ ایسی ملازمت کا حصول مشکل تھا۔ کراچی جاتے ہی فہد بھائی کو والدہ کے خطوط ملنے لگے کہ سائرہ تیرے لئے بہت اداس ہے۔ اس کو بھی اپنے پاس بلوا لو۔ وہ تمہارے پاس آنا چاہتی ہے۔ وہ اس بات کا کیا جواب دیتا کہ خود سائرہ کے لئے اداس تھا مگر مجبوری تھی کہ جانو کے ٹھکانے پر سر چھپا رکھا تھا۔ بیوی ساتھ ہو تو دوست کے گھر نہیں رہا جاتا، علیحدہ گھر لینا ضروری ہوجاتا ہے۔
پہلے والدہ خط لکھتی رہیں، پھر سائرہ نے خط لکھوانے شروع کردیئے کہ خود گائوں آجائو یا مجھے بلوا لو۔ گائوں میں مزدوری کرلینا مگر میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہ مجھ سے چھوٹی تھی اور خط بھی مجھ سے لکھواتی تھی۔ فہد بھائی شہر والی نوکری کسی حال میں چھوڑنا نہ چاہتا تھا اور سائرہ کے مطالبے کو بھی نظرانداز نہ کیا جاسکتا تھا، آخر کو وہ دلہن تھی۔ اس کا بھی دل چاہتا تھا کہ بیوی ساتھ رہے۔ فہد دو دن کی چھٹی لے کر گائوں آیا۔ سائرہ اسے دیکھ کر نہال ہوگئی اور ساتھ چلنے کی ضد پکڑ لی۔ مجبوراً میرا بہنوئی بیوی کو ہمراہ لے کر کراچی چلا گیا۔
کراچی پہنچتے ہی فہد نے جانو سے کہا۔ دوست! اب میرے لئے علیحدہ مکان کا بندوبست کرو، آپ کی بھابی دو چار دن مہمان رہے گی۔ جانو نے فوراً بھاگ دوڑ کرکے ایک کوارٹر حاصل کرلیا اور ایک ماہ کے کرائے کی ایڈوانس رقم بھی اپنی جیب سے ادا کردی تاکہ یہ پریشانی بھی فوری طور پر حل ہوجائے۔ کوارٹر تو اچھا مل گیا تھا مگر جانو کے ٹھکانے سے ذرا دوری پر تھا۔ بظاہر اردگرد ٹھیک لوگ رہتے تھے، تاہم بڑے شہروں میں ایسی آبادیوں میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اطراف میں جو چند گھرانے آباد تھے، وہ شریف لوگ تھے جو بال بچے دار تھے۔ کچھ معمولی ملازمت پیشہ تھے اور دو چار دکاندار تھے جن کی کریانے کی دکانیں تھیں۔ جب پڑوس کی عورتوں نے آنا جانا شروع کیا تو فہد کو تسلی ہوگئی۔ پڑوسی مردوں سے بھی دعاسلام ہوگئی تھی۔ سائرہ کے پاس محلے کی دو بچیاں سپارہ پڑھنے آنے لگیں کیونکہ وہ اکیلی ہوتی تھی۔ اس نے ہمسایہ عورت سے کہا تھا کہ اپنی بچیوں کو میرے پاس بھیجا کریں، میں انہیں سپارہ پڑھا دوں گی۔ نئے مکان میں رہتے چھ ماہ گزر گئے، کسی قسم کی پریشانی نہ ہوئی تو فہد نے شکر کیا کہ جانو کی مہربانی سے وہ ایک بڑی پریشانی سے بچ گیا۔ اگر وہ نہ ہوتا تو مکان کی تلاش میں نجانے کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔
ایک روز جبکہ فہد حسب معمول نوکری پر گیا ہوا تھا، کسی نے دروازے پر دستک دی۔ پڑوسی کی سات سالہ بچی جو قاعدہ پڑھنے آئی ہوئی تھی، اس نے در پر جاکر پوچھا۔ کون ہے؟ دستک دینے والے نے کہا کہ میں فہد کا فلاں رشتے دار ہوں اور گائوں سے آیا ہوں۔ اس نے اپنا نام انعام بتایا جو ہمارے ایک عزیز کے بیٹے کا نام تھا۔ سائرہ، انعام کے نام سے واقف تھی اور جانتی تھی کہ وہ رشتے دار بھی ہے لیکن پردہ کرتی تھی لہٰذا اس نے انعام کو کبھی دیکھا تھا اور نہ کبھی بات کرنے کا اتفاق ہوا تھا، تاہم پردیس میں رشتے داری نباہنے کی وجہ سے اس نے بچی سے کہا کہ اس آدمی کو کہو فہد گھر پر نہیں ہے، وہ نوکری پر گیا ہوا ہے۔ شام پانچ بجے کے بعد آجانا۔ بچی جس کا نام کوثر تھا، اس نے آنے والے کو پیغام دے دیا۔ تب وہ بولا کہ باجی سائرہ سے کہو میرا بیگ رکھ لیں اور میں رات بھر کا سفر بس سے کرکے آرہا ہوں اور پانی پلا دیں۔ تب سائرہ کو یقین ہوگیا کہ یہ چچا قادر کا لڑکا انعام ہی ہے جو اس کا نام بھی جانتا ہے۔ وہ بولی۔ کوثر! تم اسے بیٹھک میں بٹھا دو اور سامنے کی دکان سے ایک ٹھنڈی بوتل لاکر اسے دے دو۔ فہد کے آنے میں تھوڑی سی دیر ہے، یہ اب کہاں جائے گا۔ ایسا نہ ہو کہ میرا شوہر ناراض ہوجائے کہ تم نے گائوں کے رشتے دار سے چلے جانے کا کیوں کہا، جبکہ وہ دور سے آیا تھا۔ مہمان سے بدسلوکی ٹھیک نہیں۔
بچی نے اس شخص کو بیٹھک والے کمرے کا دروازہ کھول دیا اور بیٹھنے کو کہا۔ وہ بھاگ کر گئی دکان سے ٹھنڈے مشروب کی بوتل لاکر اسے دے دی۔ ذرا دیر بعد بچی اپنے گھر چلی گئی، جبکہ سائرہ کچن میں مصروف ہوگئی۔ اس نے کوثر سے کہا۔ تم اب کل آنا، میں کھانا بنا لوں۔ میرے شوہر کے آنے تک کھانا تیار ہوجانا چاہئے کیونکہ مہمان بھی آیا ہوا ہے، کھانا بنانا ضروری ہے۔
فہد جب دو گھنٹے بعد گھر آیا۔ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کوارٹر کے بیرونی دروازے کو باہر سے کنڈی لگی ہوئی ہے، تاہم اس نے یہی سمجھا کہ کوئی بچی جو سپارہ پڑھنے آئی ہوگی، غلطی سے باہر سے کنڈی لگا گئی ہے یا پھر محلے کے کسی شرارتی بچے نے ایسا کیا ہوگا۔ گرچہ پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا کہ بیرونی دروازے کو باہر سے کنڈی لگائی گئی ہو۔
سائرہ تو کہیں جاتی نہ تھی، جاتی بھی تو تالا لگا کر جاتی۔ کنڈی کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا۔ کچن اور نہ کمرے میں جہاں ان دونوں کی چارپائیاں بچھی تھیں، سائرہ نہیں تھی بلکہ کمرے میں فرش پر پڑی تھی اور کسی نے تیز دھار آلہ اس کی گردن پر پھیر دیا تھا۔ وہ خون میں لت پت تھی۔ فہد کی چیخ نکل گئی۔ وہ ہراساں باہر آیا اور دکان والے سے پوچھا۔ کیا گھر میں کوئی آیا تھا؟
میں نے کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ ہاں! تمہارے پڑوس کی بچی آئی تھی ٹھنڈی بوتل لینے، کہہ رہی تھی کہ آپا جی کے گھر ایک مہمان گائوں سے آیا ہے، اس کے لئے بوتل لینے بھیجا ہے۔ پڑوس سے فہد نے معلومات کیں۔ بچی نے بتایا کہ آپ کے گائوں سے آپ کا رشتے دار انعام آیا تھا اور آپ کا پوچھا تھا۔ اس نے تمام بات دہرا دی۔ یہ بھی بتایا کہ آپا جی نے کہا آپ چلے جائو بعد میں آنا جب میرا شوہر آئے گا مگر وہ بولا۔ میرا بیگ رکھ لیں، دور سے آیا ہوں۔ پانی بھی مانگا تو آپا جی نے مجھے کہا کہ اس کو بیٹھک میں بٹھا دو اور دکان سے ٹھنڈی بوتل لا کر دے دو، ابھی فہد آنے والے ہوں گے، میں تب تک کھانا بناتی ہوں تو انہوں نے مجھے چھٹی دے دی اور میں گھر آگئی۔ مجھے نہیں معلوم مہمان بیٹھا رہا یا چلا گیا۔
تھانے فہد کے ساتھ جاکر پڑوسیوں نے احوال دیا۔ پولیس آگئی، تحقیق اور تفتیش بھی کی مگر اصل آدمی کا علم نہ ہوسکا کہ کون آیا تھا اور سائرہ کے ساتھ کیا ہوا۔ وہ آدمی کون تھا جس نے دشمنی نکالی۔ انعام کا بھی معلوم کرنے پولیس گائوں آئی۔ اس سے بیان لیا، اسے ساتھ لے کر کراچی آئے۔ بچی سے شناخت کروائی۔ اس نے کہا کہ یہ آدمی نہیں آیا تھا، وہ کوئی اور تھا۔ انعام کے بارے میں گائوں والوں نے بھی گواہی دی کہ وقوع کے روز اس سے پہلے اور بعد میں انعام گائوں میں موجود تھا، یہ کہیں نہیں گیا، یہ کارروائی کسی اور کی ہے۔ یہ بات ثابت ہوگئی انعام کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ لاعلم اور بے گناہ ہے، تاہم یہ معمہ حل نہ ہوسکا کہ یہ ظلم کس ظالم کا ہے اور وہ کون تھا جو سب کے نام جانتا تھا۔
سائرہ اس دنیا سے چلی گئی۔ ہم روتے رہ گئے۔ فہد بھی نوکری چھوڑ کر گائوں واپس آگیا۔ بھلا اب وہاں وہ کیونکر رہ سکتا تھا اور کس کے لئے رہتا۔ آج اس واقعے کو چالیس برس ہوگئے ہیں۔ آج بھی جب ہمیں اپنی بہن سائرہ یاد آتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ فہد بھائی کے ساتھ میری تیسرے نمبر والی چھوٹی بہن کی شادی کرکے ابا جان اور چچا جان نے اس کا تو گھر دوبارہ آباد کردیا لیکن ہم جب تک جئیں گے، اپنی بہن کا یہ غم نہ بھلا سکیں گے۔
(ف… لاہور)

Latest Posts

Related POSTS