Saturday, May 18, 2024

Ye Mere Rab Ka Waada Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سوچتی ہوں اپنی داستان کہاں سے بیان کروں۔ مڑ کر دیکھتی ہوں تو یادوں کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے جیسے تھکی ہوئی کونجیں اپنے پروں میں چونچیں چھپائے اداس کھڑی ہوں۔
افسوس زندگی کی ریل گاڑی اس خوبصورت دنیا کے حسین مناظر کے درمیان اس تیزی سے گزرتی چلی گئی کہ بہت سے دلکش نظارے نظروں میں سمانے بھی نہیں پائے اور کسی مقام پر ذرا دیر ٹہرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
اب بھی میری عادت ہے کہ ایک مخصوص جگہ پر بیٹھ کر خالی وقت میں غوروفکر کرتی ہوں۔ ایسے میں چائے کا کپ میرے ہاتھ میں ہوتا ہے… چائے کو آہستہ آہستہ حلق سے اتارتے ہوئے گھنٹوں ایک جگہ بیٹھ کر سوچتی رہتی ہوں کہ یہ کیا زندگی تھی جو میں نے گزاری اور یہ کیا زندگی ہے جو میں بسر کررہی ہوں۔
جب ایسا کچھ سوچتی ہوں تو اس قدر انہماک سے کہ دیکھنے والوں کو کبھی کبھی تو میری اس محویت پر عبادت کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر اچھا کام جو انہماک اور استغراق سے کیا جائے، وہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ اچھے کاموں کا صلہ ضرو ملتا ہے ۔ کسی کی ذرا سی بھی نیکی رائیگاں نہیں جاتی لیکن میرے حق میں یہ بات درست نہیں نکلی۔ ممکن ہے کہ مجھے میرے نیکیوں کا صلہ دوسرے جہان میں ملنے والا ہو۔ بس اس امید پر ساری کلفت دور ہوجاتی ہے کہ اس جہاں میں نہ سہی اس جہان میں تو انسان کو اپنے کرموں کا پھل ملے گا۔
ہوش سنبھالتے ہی جو پہلی آواز ماں کی طرف سے کانوں میں رس گھول گئی، وہ یہ تھی کہ دوسروں کے کام آنا چاہیے۔ خبر نہیں کہ مجھے دوسروں کے کام آنے کی عادت کیسے پڑی، بہرحال جونہی ہوش سنبھالا، میں نے دوسروں کے کام آنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے میں نے اپنی امی کے کام میں ہاتھ بٹانا شروع کیا تھا۔ ان کے چھوٹے موٹے کام دوڑ دوڑ کر کرنے لگی لیکن جب چینی ڈبے میں ڈالتے وقت آدھی فرش پر بکھر جاتی تو دادی کمر پر کس کر دوہتھڑ مارتیں۔ اری بائولی یہ کس نے تجھے چینی کا پیکٹ ڈبے میں انڈیلنے کو کہا تھا۔
انہیں کبھی نہ بتا پاتی کہ میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھی۔ انہوں نے ازخود کبھی میری اچھی نیت کا ادراک نہ کیا۔ دراصل دادی میں ایسی صلاحیت ہی نہ تھی کہ وہ میری اس خوبی کو ستائش کی نظروں سے دیکھتیں۔
ایک دن ماں نے مجھے کچھ روپے دے کر کہا کہ جا نانی کے گھر دے آ… میری نانی ایک غریب عورت تھی اور اکثر ماں ہی ان کو خرچہ دیا کرتی تھیں۔
میں روپے لے کر گھر سے نکلی سامنے نانی کا گھر تھا، سڑک پار کرنے کے لئے اپنے قدموں کو تولا ہی تھا کہ ابا آتے دکھائی دیئے۔ چونک کر ٹھہر گئی۔ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا مگر وہاں چھپنے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ ناچار رقم کو مٹھی میں دبا کر میں نے ہاتھ پشت کے پیچھے کرلیے۔ کیونکہ ماں نے سختی سے کہا تھا کہ رقم کے بارے میں کسی کو نہ بتائوں، یہ روپے سب سے چھپا کر نانی کو دینے ہیں۔
اس رقم کو میں ابا کی تیز نگاہوں سے نہ چھپاسکی۔ بعض دفعہ انسان کا انداز ہی اس کی چغلی کھاجاتا ہے۔ اتنی معصوم تھی کہ نہ سمجھ سکی، ہاتھوں کو پشت پر رکھنے کی ضرورت بڑے سمجھ جاتے ہیں کہ ضرور مٹھی میں کوئی شے چھپائی گئی ہے۔
ابا نے قریب آکر مجھ کو پکڑلیا، پشت کے پیچھے والا ہاتھ سامنے لاکر پوچھا۔ کیا ہے اس میں؟ کیا چھپارہی ہو؟ دکھائو مجھے؟
کچھ نہیں ابا، میں نے مٹھی کو اور سختی سے بھینچ لیا اور روہانسی ہوگئی۔ ابا نے میری مٹھی جبراً کھول لی، اس میں دوسو روپے تھے۔
کہاں سے لائی ہے یہ روپے؟ اور کس کو دینے جارہی تھی؟ کیا چُرائے ہیں ماں کے پیسے؟
انہوں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔ نوٹ دیکھ کر وہ مجھ سے زیادہ گھبراگئے تھے جبکہ میں ان کے ایک بھی سوال کا جواب دینے کی متحمل نہیں تھی، تبھی ان کو میرے پکے پن پر غصہ آگیا اور انہوں نے وہیں سڑک کے کنارے دھنک کر رکھ دیا۔ لیکن جسمانی مار کی اذیت روحانی تقویت کے سامنے کیا شے ہے۔ ننھی سی جان مار کھاتی رہی مگر ماں سے کئے ہوئے وعدے کا پاس نبھاتی رہی۔ ماں کو بچانے کی خاطر الزام اپنے سر لے لیا۔ ابا کے سوالوں میں سے ہی جوابات تلاش کرلیے۔
جی اماں کے پیسے چُرائے ہیں لیکن میں یہ نانی اماں کو دینے نہیں جارہی تھی اور اماں نے تو مجھے منع بھی نہیں کیا تھا کہ آپ کو ہرگز نہیں بتانا۔ اب میں گڑبڑاگئی۔
ابا ایک کائیاں، انہوں نے مجھ معصوم کے جوابوں سے مطلب کی باتیں اخذ کرلیں کہ پیسے میں نے چُرائے نہیں بلکہ اماں نے ہی دیئے ہیں کہ نانی کو دے آئو مگر ابا کو نہیں بتانا، وغیرہ وغیرہ۔
انہوں نے نوٹ مجھ سے لے کر جیب میں ڈال لیے اور سڑک پر ہی دو چار ہاتھ رسید کرکے گھر لے آئے اور اماں کے اوپر دھکا دے کر بولے… لو سنبھالو اپنی بیٹی کو، یہ دو سو روپے کے نوٹ چُرائے نہ جانے کدھر جارہی تھی۔
اماں خوب جانتی تھیں کہ میں نے نوٹ نہیں چُرائے تھے اور میں کدھر جارہی تھی مگر اس وقت وہ یہ سب بھول گئیں اور مجھے چار چوٹ کی مار دے کر یہ ثابت کردیا کہ میں واقعی چورنی ہوں اور رقم چُرا کر نہ جانے کدھر جارہی تھی۔
میں ماں کے اس برتائو پر حیران تھی۔ ممتا کے بڑے دلفریب قصے مشہور ہیں لیکن کوئی مجھ سے پوچھے۔ آج بھی جب کوئی ممتا کی شان میں قصیدے کہتا ہے تو میرے ہونٹوں پر ایک موہوم سی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔
یقین کیجئے ایسے تلخ تجربات نے بھی میری فطرت کو نہیں بدلا اور میں نے دوسروں کے کام آنا نہیں چھوڑا۔
اسکول جانے لگی۔ سب سے پہلے جو میری سہیلی بنی اس کا نام ساجدہ تھا۔ وہ نہایت حسین مگر بہت نالائق تھی۔ مجھے وہ اپنی اچھی صورت کی بنا پر پسند آگئی۔ خوبصورتی میری روح کے لئے طمانیت تھی۔ آج بھی حسین چہرے دیکھ کر میں ان کی خوبصورتی کی تسبیح پڑھنے لگتی ہوں کہ یہ اللہ کے تراشے ہوئے ہیں جو خود جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔
ساجدہ پر تو میں جان فدا کرنے لگی۔ وہ بھی یہی ظاہر کرتی تھی کہ مجھ پر فریفتہ ہے لیکن دل سے وہ مجھ پر فدا نہ تھی بلکہ چال باز اور منافق تھی۔ میں کبھی اس کی منافقت کو نہ سمجھ سکی۔
میں شاید بہت سادہ تھی یا کم عقل تھی مگر وہ میری کم عقلی کو تعریفی جملوں میں چھپا کر عرصۂ دراز تک مجھ سے فائدے حاصل کرتی رہی۔ وہ مجھے یہ کہہ کر خوش کردیتی تھی کہ تم بڑی اعلیٰ ظرف ہو، بڑی سچی ہو۔ وہ ہر ایک سے میرے سامنے کہتی۔ یہ بڑی معصوم ہے… اور اپنے لئے اس کے منہ سے یہ فقرے سن کر میں مدہوش ہوجاتی تھی۔ پھولی نہ سماتی تھی۔ عمر بھر اس کے ہاتھوں لٹنے کو تیار ہوجاتی تھی۔
تمام سوالات میں حل کرتی، وہ نقل کرلیتی۔ میں مضمون تیار کرتی، اس کو پڑھوا دیتی، میری محنت کے نمبر اسے مل جاتے۔ اگر میں اوّل پوزیشن لے لیتی تو وہ صدمے سے بیہوش ہوجاتی اور میں سالانہ امتحان میں اسے نقل کروانے کے چکر میں اوّل پوزیشن سے ہاتھ دھولیتی۔ بعد میں اسی ساجدہ نے میرا جیون تباہ کیا۔
میری شادی ہوگئی تو دوستی نبھانے کو یہ میرے گھر آنے لگی۔ میں بہت خوش ہوتی تھی کہ ساجدہ آئی ہے، وہ جگہ گھر میں نہ ملتی کہ میں اس کو بٹھاتی۔ اپنے میاں کو دوڑاتی کہ یہ لائو، وہ لائو۔
سارا وقت میں باورچی خانے میں سر کھپاتی اور وہ میرے میاں کے پاس بیٹھی گپیں ہانکتی رہتی۔ یوں میرے گھر میں مفت کے نوالے اڑاتے اڑاتے ایک روز وہ میرے میاں کو ہی لے اُڑی۔
یہ سب اس کی حسین صورت کی وجہ سے ہوا یا کہ میری کم عقلی اور سہیلی پر اندھے اعتماد کے باعث… آخری بار میں نے یہ بھلائی اس کے ساتھ ضرور کی تھی کہ وہ گھر والوں سے جھگڑ کر آئی تھی اور میں نے اس کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی، پھر میرا گھر میرا نہ رہا، میرا میاں میرا نہ رہا اور وہ میرے میاں کی بن گئی۔
میں بے ٹھکانہ ہوگئی اور اس کو ٹھکانہ مل گیا۔ بے ٹھکانہ ہو کر میں پھر کہاں کہاں نہیں بھٹکی۔ برے وقت میں جبکہ اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، وہ سب لوگ جن کے میں کام آیا کرتی تھی، مجھ کو ملنے سے بھی کترانے لگے۔ انہیں خوف تھا کہ یہ خانماں برباد کہیں ہمارے گھر میں پناہ نہ لے لے۔
اپنی قسمت کا رزق تلاش کرنے تن تنہا نکل کھڑی ہوئی۔ پتہ چلا ایک اسکول میں کچھ آسامیاں خالی ہیں اور ان پر تقرری کا اختیار والد صاحب کے ایک دوست کو ہے۔ میں بہت خوش ہوئی۔ اسی روز ایک ہم جماعت نویدہ سے ملاقات ہوگئی۔ وہ بھی ملازمت کی تلاش میں تھی۔ میں نے اسے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو۔ وہ انسان ہی کیا کہ جو دوسروں کے کام نہ آئے۔ میں ابا کے دوست سے تمہاری بھی سفارش کردوں گی۔
ہم ایجوکیش سیکرٹری کے پاس گئے۔ ابا کی وجہ سے انہوں نے بہت احترام کیا۔ کہنے لگے بیٹی میرا وعدہ ہے کہ میں تم دونوں کی ملازمت کے آرڈر کرادوں گا۔ تم دونوں کو انٹرویو دینا ہوگا اور انٹرویو کے دن اپنی اصلی اسناد بھی دکھانی ہوں گی۔
اسناد کا لفافہ اس وقت میرے پاس تھا۔ نویدہ نے کہا، آئو ان کو فوٹو اسٹیٹ کروالیں، ہم سیکرٹری صاحب کے آفس سے فوٹو اسٹیٹ کروانے چلے گئے۔ میں نے اپنی اسناد سہیلی کو پکڑوا دیں خود اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔
فوٹو اسٹیٹ کرواکر نویدہ نے میرا لفافہ مجھے دیا اور خود بس میں بیٹھ کر چلی گئی۔ میں اپنے گھر آگئی۔ انٹرویو والے دن جب میں بورڈ کے سامنے پیش ہوئی تو میری میٹرک کی اصل سند غائب تھی۔ نویدہ کو نوکری مل گئی اور مجھ کو نہ مل سکی۔ بعد میں بڑی مشکل سے میں نے اپنی سند دوبارہ بورڈ سے نکلوائی۔ یہ صلہ دیا نویدہ نے مجھے!
ان دنوں میں بہت رنجیدہ رہتی تھی۔ اپنی بدنصیبی کا ذکر اپنی پڑوسن سے کیا۔ وہ بولی۔ سعیدہ تم غم نہ کرو، نوکری نہیں ملتی تو ایم اے کرلو، کیا ضروری ہے کہ تم ٹیچر ہی بنو، لیکچرار وکیل یا صحافی بھی تو بن سکتی ہو۔
پڑوسن کی باتوں سے امید کا چراغ دوبارہ روشن ہوگیا۔ لیکن یونیورسٹی میں پڑھنے کا خرچہ میرے پاس نہیں تھا۔ زینب نے مشورہ دیا۔ اپنا زیور بیچ کر زیور تعلیم حاصل کرلو۔ میں نے کہا کہ صرافہ بازار کبھی گئی نہیں، اگر تم ساتھ چلو تو اچھا رہے گا۔ وہ بولی ہاں ایک سے دو بھلے، یہ سنار ہیر پھیر سے باز نہیں آتے۔
میرے پاس بیس تولے سونا تھا۔ زیورات بیگ میں ڈال کر میں نے زینب کے حوالے کئے اور جب ہم صراف کی دکان پر پہنچے، تو بیگ میں زیور نہیں تھا۔ وہ کہنے لگی کہ شاید کسی نے بس میں نکال لیا ہے۔
میں اپنے نصیبوں کو رونے لگی، بعد میں پتہ چلا کہ زیور اسی زینب نے اپنے گھر میں بیگ سے نکال کر رکھ لئے تھے لیکن اب کیا کرسکتی تھی۔ بقول ساجدہ… سعیدہ تم تو نری احمق ہو۔ واقعی میں احمق ہی تھی، دوسروں کو اپنے جیسا سمجھ کر ان پر اعتماد کرلیتی تھی۔
جوں توں کرکے ایم اے کیا اور ایک رسالے کے دفتر میں ملازمت اختیار کرلی۔ ایک سال وہاں میں نے بڑی محنت سے کام کیا۔ انہی دنوں ایک لڑکی آرٹیکل لے کر آئی، بولی۔ بڑی مجبوری ہے ماں بیمار ہے، ان کا علاج کرانا ہے۔ یہ لڑکی کچھ شناسا سی لگی۔ میری بہن کی پرانی کلاس فیلو تھی۔ لکھنا لکھانا واجبی سا جانتی تھی۔ اس کی تحریر میں جان نہیں تھی، اس کے لکھے ہوئے مضمون کا معاوضہ کیسے مل سکتا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ اس کا آرٹیکل چھپ جائے تاکہ کچھ معاوضہ مل جائے تو اس ضرورت مند کی مدد ہوجائے۔
سفارش میں نہ کرسکتی تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ لکھنے والوں کے لیے سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تحریر تو اپنی آواز آپ ہوتی ہے، تحریر خود لوگوں کو بلاتی ہے، اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ الفاظ کی بھی اپنی ایک صدا ہوتی ہے کہ پڑھنے والے ان کے گرد اکٹھے ہونے لگتے ہیں۔ وہ میرے سامنے بیٹھ کر روتی تو میرا دل بیٹھ جاتا۔ آخر ایک حل سمجھ میں آیا کہ میں اس کے نام سے لکھوں اور جب آرٹیکل شائع ہوجائے تو معاوضہ اس کو مل جائے۔
میں نے اس کے نام سے آرٹیکل لکھے۔ تحریروں کو بے حد پسند کیا گیا، بے شمار فون آگئے۔ رسالے کے مالک بھی چونکے، تبھی انہوں نے مجھے بلاکر رخشندہ کے بارے میں پوچھا کہ یہ نئی لکھاری کون ہے جو اتنا اچھا لکھ رہی ہے۔ میں نے رخشندہ کا مالک سے تعارف کرایا۔ یوں سفارش ہوگئی اور رخشدہ کو انہوں نے ملازمت دے دی۔ وہ سب ایڈیٹر ہوگئی تو اس کی پی آر زبردست بن گئی۔ اس کو پی آر بنانے کا فن آتا تھا، پس ایک دن مجھے پتہ چلا کہ اس نے میرا پتہ صاف کرادیا ہے اور خود میری جگہ لے لی ہے۔
سخت ذہنی دھچکا لگا۔ لکھنے لکھانے سے جی اچاٹ ہوگیا۔ دوبارہ ملازمت کے لیے قسمت آزمائی کی، ایم اے کرچکی تھی، ایک کالج میں اپلائی کیا، جاب مل گئی، میرا سلیکشن ہوگیا تھا۔ ایک سال سکون سے کٹ گیا۔ اب بھی لکھتی تھی مگر کبھی کبھی جب موڈ ہوتا تھا ورنہ ڈائری لکھ کر اپنے نصیبوں کا رونا رو لیتی تھی اور دل کی بھڑاس نکل جاتی تھی۔
ایک روز ایک کولیگ نے بتایا کہ فلاں لڑکی فیل ہے لیکن پاس کروانے کے لیے اس نے مجھے کچھ رقم کی پیش کش کی ہے۔ یہ لڑکی میرے پاس ٹیوشن پڑھتی ہے۔
روبینہ تم کیا کروگی؟ میں نے پوچھا۔ روبینہ نے کہا۔ رقم خاصی موٹی ہے، رقم پرس میں رکھوں گی اور لڑکی کو امتحان ہال میں نقل کرادوں گی تو پاس ہوجائے گی۔
مجھے بہت غصہ آیا۔ میں نے کہا۔ اسی لیے تو معیار تعلیم گر رہا ہے، تم جیسے استاد اچھے اور ہونہار طالب علموں کا حق مارتے ہیں، اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بدامنی پھیل رہی ہے۔ نوجوان نسل بدامنی کا شکار ہو کر ڈاکا زنی پر اتر آئی ہے۔ وہ بولی۔ تم بکواس مت کرو اور اپنی دیانت داری اپنے پاس رہنے دو۔ میں تو ایسی دوچار لڑکیاں اور تلاش کروں گی، آخر مجھے مکان بھی تو بنوانا ہے۔
میں نے روبینہ کو اس قبیح فعل سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ باز نہ آئی، تو میں نے تمام معاملے سے پرنسپل کو آگاہ کردیا۔ میں بہت خوش تھی کہ اب اس مقدس ادارے کو جو میرے نزدیک عبادت گاہ کی طرح تھا، روبینہ جیسی ضمیر فروش عورتوں سے نجات مل جائے گی۔ وہ یقیناً معلمہ کہلانے کی مستحق نہ تھی۔
پرنسپل صاحبہ نے میری بات بہت غور سے سنی اور کہا کہ بہت جلد میں اس کے خلاف ایکشن لینے والی ہوں، پھر ایک روز میری معطلی کے آرڈر آگئے کہ میں نے کسی طالبہ سے رشوت لی ہے۔ خود پرنسپل صاحبہ اور روبینہ اس کی گواہ تھیں۔ اُف میرے خدا… مجھ پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ دراصل پرنسپل صاحبہ بھی روبینہ کے ساتھ دولت سمیٹنے میں شامل تھیں۔
میرے ضمیر نے بھی گوارا نہ کیا کہ میں ایسے تعلیمی ادارے کی رکن رہوں کہ جہاں امراء کے بچوں کو دولت لے کر نقل کرائی جاتی تھی اور محنتی بچوں کو اس لئے پیچھے رکھا جاتا تھا کہ وہ غریب والدین کے بچے تھے۔
اس کے بعد میں نے اپنا اسکول کھول لیا جس کی فیس برائے نام تھی اور جو غریب والدین کے محنتی بچوں کے لیے کھولا گیا تھا۔ اسی دن سے میں نے اپنے ویران گھر میں امید کا ایک دیا جلالیا۔ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ایمانداری اور نیکی کا درس بھی دیتی۔ تاکہ جب وہ بڑے اور سمجھدار ہوجائیں تو وہی اس گرتے ہوئے معاشرے کو سنبھال لیں۔ کیونکہ بالآخر اخلاق کی اعلیٰ اقدار کی پامالی سارے سماجی نظام کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ اب میں تہی دامن نہ رہی تھی۔ یہ بچے اور بچیاں میرا سرمایہ تھے جنہوں نے کل اس وطن کی باگ ڈور سنبھالنی تھی۔
مجھ پر یہ ذمہ داری تھی کہ ان کے ذہنوں کو صحیح سمت میں چلانا تھا۔ ان کو بددیانتی اور تخریب کاری سے بچا کر دیانت کے رستے پر لے جانا تھا تاکہ ان کی زندگیاں کھوکھلے تصورات پر استوار نہ ہوں۔
جب یہ بچے پڑھنے میرے گھر آتے ہیں تو میرا آنگن ان ننھے منے جگنوئوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔ لیکن جب چھٹی کے بعد میں اکیلی ہوجاتی ہوں تو ہُو کا عالم ہوجاتا ہے اور قبرستان ایسی خاموشی چھا جاتی ہے۔ پھر میں ہوتی ہوں اور میری یادیں ہوتی ہیں جو مجھ سے پوچھتی ہیں کہ تم نے تمام عمر لوگوں کے لئے سوچا تو کیا پایا… صرف یہی تنہائی؟ اور میں ان سے کہتی ہوں کہ نہیں… نیکی کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔ اس جہان میں نہ سہی دوسرے جہان میں سہی… کیونکہ خدا کسی کی ذراسی نیکی کو بھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور بے شک وہ رب عظیم وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
(ن۔م… ڈیرہ غازی خان)

Latest Posts

Related POSTS