Ye Raah Pur Khatar | Teen Auratien Teen Kahaniyan

846
میری بہترین دوست مثلِ ماہتاب تھی۔ رنگت دودھیا اور آنکھیں روشن۔ ہم اس حسنِ بے مثال کو اس کے نام کی نسبت سے چاندنی پکارتے تھے۔ اس کو مگر یہ احساس نہ تھا کہ وہ چاند کی طرح خوبصورت ہے۔
چاندنی کے گھر کا ماحول ہمارے گھرانے سے بہت مختلف تھا۔ اور وہ وہاں گھٹن محسوس کرتی تھی۔ تبھی یہ چاند گہنایا سا لگتا تھا… جبکہ میرے والد صاحب روشن خیال تھے۔ ہمیں اپنی زندگی میں کوئی مشکل درپیش ہوتی تو وہ بہترین انداز سے رہنمائی کرتے تھے۔ والدہ اونچ نیچ سمجھاتی رہتی تھیں۔ دونوں ہی تعلیم کی اہمیت کو خوب سمجھتے تھے اور اپنی اولاد کو میانہ روی کے ساتھ جدید طرزِ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ دیکھنا چاہتے تھے۔
میٹرک پاس کیا تو کالج میں داخلہ لے لیا مگر چاندنی ہر قسم کی آزادی سے محروم تھی۔ اس کے گھر والے رجعت پسند تھے۔ لڑکیوں پر ہی نہیں، انہوں نے لڑکوں پر بھی پابندیاں لگا رکھی تھیں۔
چاندنی کے والد ان کو کہیں آنے جانے نہیں دیتے تھے۔ دوست بنانے پر پابندی تھی۔ یہاں تک کہ ٹی وی دیکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ چاندنی نے میٹرک تک ہمارے ساتھ پڑھا۔ پھر اس پر گھر سے نکلنے پر پابندی لگ گئی۔ ایک روز امی اس کی والدہ سے ملنے گئیں تو چاندنی نے کہا کہ خالہ جان آپ میری امی کو سمجھائیے مجھے پڑھنے دیں، اگر کالج جانے میں قباحت ہے تو گھر کے قریب ہی جانے کی اجازت دے دیں جہاں سلائی اور کٹنگ وغیرہ سکھائی جاتی ہے۔ یہ ادارہ ان کے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔
امی نے آنٹی کو قائل کر لیاکہ گھر میں بیکار بٹھا کر رکھنے سے بہتر ہے کہ یہاں کوئی ہنر سیکھ جائیں۔ امی کے سمجھانے کا خاطر خواہ اثر ہوا اور وہ سلائی سینٹر جانے لگی۔ ادھر وہ ہنر مند ہو رہی تھی تو ادھر میں اپنے پرچوں کی تیاریوں میں لگی تھی۔ جب اس کے گھر جاتی وہ ٹھنڈی آہ بھر کر کہتی کاش! ہمیں بھی اجازت مل جاتی تو تمہارے ساتھ کالج جاتی۔ میں اسے تسلی دیتی کہ تم بھی تعلیم پا رہی ہو کیونکہ ہنرمند ہونا بڑی بات ہے۔
ایک روز میں چاندنی کے گھر گئی۔ وہ کچھ پریشان تھی، کہنے لگی۔ رابعہ میں تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ اپنے دل کی با ت اور کس سے کہوں، شکر ہے کہ تمہارے والدین اجازت دے دیتے ہیں اور تم آ جاتی ہو۔ کہو… چاندنی پریشانی کیا ہے؟ میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا تو اس نے بتایا کہ جب وہ سلائی سینٹر جاتی ہے تو ایک لڑکا جس کی عمر بائیس سال ہوگی اس کی راہ میں کھڑا رہتا ہے، وہ اسے کچھ نہیں کہتا مگر اس کے پاس سے گزر جانے کا منتظر ہوتا ہے۔ اس کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ لمحہ جان لیوا ہوتا ہے کہ جب وہ اس کے پاس سے گزرتی ہے۔
تم اس کی جانب متوجہ ہوئے بغیر خاموشی سے گزر جایا کرو۔ بالآخر خود ہی تھک کر راہ چھوڑ جائے گا۔ کوئی بات کرے بھی تو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ جب تک لڑکی متوجہ نہ ہو، کسی کی مجال نہیں اس قسم کے حربوں میں کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ میں نے اپنی دوست کو تسلی دی۔ وہ بچاری کنویں کی مینڈک تھی، ڈرتی تھی کہیں اس کے والدین سلائی سینٹر جانے سے نہ روک دیں۔
ایک روز وہ گلی سے گزر رہی تھی کہ دو آوارہ لڑکے کہیں سے آگئے اور اس پر آوازے کسنے لگے وہ گھبرا گئی کہ کیسے ان سے جان چھڑائے۔ اتنے میں وہی والا لڑکا جو اس کی راہ میں کھڑا رہتا تھا عقبی گلی سے برآمد ہوا اور دوڑتا ہوا ان بدمعاش لڑکوں کے سر پر پہنچ گیا اور ان کو للکارنے لگا۔ انہوں نے اسے گالی دی تو وہ ان پر پل پڑا اور تینوں گتھم گتھا ہوگئے۔ اس منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے چاندنی تیز تیز قدم اٹھاتی نکل گئی۔ واقعہ کے اگلے دن وہ سلائی سینٹر نہ گئی پھر چھٹیاں ہوگئیں۔
چھٹیوں کے بعد سینٹر کھلا تو اس لڑکے کو اسی طرح منتظر پایا… اس بار میری سہیلی کا دل اس کے لیے کچھ نرم ہوگیا اور جب اس نے آگے بڑھ کر اسے بتایا کہ وہ بدمعاش جیل پہنچ گئے ہیں اب کبھی تمہارے راستے میں نہ آئیں گے تو وہ شکریہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ واقعی اس کے بعد پھر کبھی وہ دونوں بدمعاش لڑکے نظر نہیں آئے لیکن وہ بدستور اس کی راہ میں کھڑا نظر آتا۔ بالآخر وہ سرخ رو ہوگیا۔ ہفتہ بھر نظر نہ آیا تو میری سہیلی کو تشویش ہوئی کہ اسے کیا ہوا ہے جو چھ ماہ سے متواتر سردی، گرمی، دھوپ، برسات میں ہمیشہ ایک جگہ بت کی مانند منتظرِ دید رہتا تھا۔ کدھر چلا گیا ہے۔ کسی حادثے کا شکار ہوا یا بیرون ملک نکل گیا۔ انسان کی فطرت ہے کہ کبھی بے نیازی اور کبھی بے قراری۔ جب کوئی منتظر ہو تو بری لگتی ہے، نہ ہو تو فکر ہو جاتی ہے کہ دشمنِ جاں کو نصیبِ دشمناں کچھ ہو تو نہیں گیا۔
میں نے تسلی دی کہ کسی کو کچھ نہیں ہوتا۔ اچھا ہے جو باعث پریشانی تھا، وہ اب نہیں رہا۔ جہاں بھی گیا ہے ہماری بلا سے… ہمیں جب اس کے ساتھ کچھ علاقہ نہیں ہے تو پھر تشویش کیسی؟
دلوں کے معاملات اللہ ہی جانے مگر دل بچارا اس بارے میں کافی بدنام ہے یہ کسی کے قابو میں آتا نہیں، اپنی من مانی کرتا ہے۔ یہ کبھی مومن ہے تو کبھی کافر ہے۔ اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل… لیکن بدقسمتی سے میرے امتحان شروع تھے اور میں باوجود چاندنی کی منت و سماجت کے ہر دوسرے چوتھے دن اس کے گھر نہیں جا سکتی تھی۔ پرچے ختم ہوگئے تو اس کی امی آئیں، کہنے لگیں چاندنی کچھ اداس سی رہنے لگی ہے۔ وہ تم کو یاد کررہی تھی، دوسری کوئی سہیلی نہیں ہے اور نہ وہ کسی کے گھر جا سکتی ہے کہ اس کے والد اجازت نہیں دیتے۔ تم کبھی کبھار آجایا کرو۔ تم سے مل کر میری بیٹی خوش ہو جاتی ہے۔
اچھا… آنٹی میں کل ہی آ جائوں گی۔
اگلے دن جب میں شام کو ان کے گھر گئی تو وہ شدت سے میری منتظر تھی کہنے لگی۔ اُف تم نے مجھے کتنا انتظار کروایا ہے۔ اب تو میرا دل شق ہونے لگا تھا۔ میں نے کہا چاندنی خدا نہ کرے۔ ایسی کیا بات ہوگئی ہے۔ بولی ذرا ٹھہرو۔ پھر اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور الماری سے ایک پرزہ نکال کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے رقعہ کھولا۔ لکھا تھا۔ ’’ڈیئر چاندنی … تمہاری بے اعتنائی نے مجھے بیمار ڈال دیا ہے۔ تپتی دھوپ میں گھنٹوں انتظار کی اذیت تم کیا جانو؟ حجاب سے جھانکتی روشن انکھیوں اور دراز پلکوں نے مجھے شاعر بنا دیا ہے۔ سارے کام چھوڑ کر اب میں تمہاری یاد میں شاعری کرتا ہوں۔ ایک ہفتہ تک جواب نہ ملا تو یہ دنیا چھوڑ جائوں گا۔ فقط شبِ دراز۔ م، ع۔
اس نے خود کو شبِ دراز لکھا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے کسی طرح چاندنی کا نام بھی معلوم کر لیا تھا۔
جب تمہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تو خودکشی کرے یا اپنی موت آپ مر جائے تم کو کیا بخار ہے؟
ہاں بخار ہے۔ تبھی تو اتنے دن بخار میں پڑی تھی اور تمہارے انتظار میں سلگ رہی تھی کہ آئو تو میرے دل کی تکلیف کو بانٹو۔
میں تو کہتی ہوں کہ جانے دو اسے دنیا سے۔ مشکل تمام ہو جائے گی ورنہ کسی مشکل میں گرفتار ہو جائو گی۔
مذاق مت کرو رابعہ… میں واقعی پریشان ہوں۔ دیکھو تمہاری چھٹیاں ہیں ایک دن میرے ساتھ سینٹر چلو… خود دیکھ لینا اسے۔ تم مجھے اس کو کیوں دکھانا چاہتی ہو محترمہ… مجھے اسے دیکھنے کی کوئی آرزو نہیں۔
میں نے اس کو گھیرا تو چاندنی نے سر پکڑ لیا۔ میں نے پوچھا۔ آخر تم چاہتی کیا ہو؟ وہ بولی میں بس تم کو چاہتی ہوں۔ اس نے کہا تو میں ہنس پڑی۔ تم اس کو جواب دینا چاہتی ہو۔ ہے نا یہی بات۔ میں کسی دن تمہارے ساتھ سلائی مرکز چلوں گی۔ چاندنی کو ڈھارس ہوئی اور اس نے تشکر بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔ جیسے اسے کسی مصیبت سے نجات دلوا دی ہو میں نے۔
ابھی ہم باتیں کر رہے تھے کہ پڑوس سے ایک لڑکی آئی۔ اس نے چاندنی سے کہا کہ آپ کا فون آیا ہے۔ میرے لیے فون؟ وہ حیرت زدہ رہ گئی۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ والد آنے والے ہیں۔ میں ان کے گھر اس وقت تو بالکل نہیں جاسکتی۔ خدارا تم چلی جائو ورنہ یہ فون اگر دوبارہ آیا اور امی ابو کو سن گن ہوگئی تو میرا حشر کردیں گے۔ سہیلی کو مصیبت میں دیکھ کر میں بغیر کچھ اور سوچے اس لڑکی کے ساتھ صدف کے گھر چلی گئی۔ میں صدف کو جانتی تھی وہ بھی ہماری دوست اور کلاس فیلو رہی تھی اور میرا گھر قریب ہی تھا، لہٰذا کبھی کبھار وہ اپنی امی کے ساتھ ہمارے یہاں آ جاتی تھی۔
کس کا فون ہے صدف؟ میں نے پوچھا۔ جس کے لیے ہے وہ خود آئی نہیں تم کو بھیج دیا ہے۔
ہاں… اتفاق سے میں چاندنی کے پاس بیٹھی تھی اور تم جانتی ہو کہ اس کے گھر کا ماحول… وہ نہیں آسکتی۔ کیا سینٹر سے کسی سہیلی کا فون آیا ہے؟ جی نہیں… یہ کوئی صاحب ہیں۔ ذرا سوچو اگر آج امی گھر پر ہوتیں اور فون اٹھا لیتیں تو کیا ہوتا؟ شکر کہ وہ بازار گئی ہیں۔ چاندنی کے والدین اتنے سخت ہیں پھر بھی اس نے ہمارا نمبر دے دیا ہے۔
کیا وہ ایسا کرسکتی ہے؟ میں نے پوچھا اسی لیے اس کے پاس دینا کو بھیجا کہ ایک بار بات کرلے، اسے کہہ دے کہ آئندہ یہاں فون نہ کرے۔ ابھی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے اٹھا کر ریسیور مجھے دے دیا۔
کون صاحب ہیں؟ میں نے پوچھا۔ میں ہوں… عادل۔ ادھر سے آواز سنائی دی۔ یہ نمبر تم کو کس نے دیا ہے؟ میں یہ نہیں بتا سکتا۔ بس سمجھ لو کہ صدف کی ایک قریبی محلے دار لڑکی سے میری بھی کچھ رشتہ داری ہے اسی سے نمبر لیا ہے۔ کیا نام ہے اس کا… نام نہیں بتائوں گا۔ بس چاندنی سے بات کرادیں۔ میں چاندنی ہی بول رہی ہوں۔ آئندہ یہاں فون مت کرنا۔ ٹھیک ہے نہیں کروں گا۔ بس ایک بار خط کا جواب دے دو۔
تحریر نہیں کرسکتی۔ جواب ابھی فون پر سن لو کہ آئندہ مجھ سے بات کرنے یا خط لکھنے کی کوشش مت کرنا ورنہ سلائی سینٹر جانا بند کردوں گی اور پھر گھر میں قید ہو کر بیٹھ جائوں گی سمجھے۔
ٹھیک ہے ایک بار مل لو۔ ضروری بات کرنی ہے پھر کبھی شکل نہ دکھائوں گا۔ سبھی لڑکے ایسا ہی کہتے ہیں، ضروری بات کرنی ہے اور پھر وہ ضروری بات لمبی کہانی میں بدل جاتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ کیا ضروری بات ہوگی۔ میرا لہجہ ذرا کھردرا تھا، تو اس نے کہا۔ جان گیا ہوں کہ تم چاندنی نہیں ہو۔ کوئی اور بول رہی ہو۔ مجھے معلوم ہو جائے گا۔ میں کچھ زیادہ دور نہیں رہتا۔ اس محلے میں سبھی کو بچپن سے جانتا ہوں۔ اچھا مطلب کی بات کہو۔ کیا کہنا چاہتے ہو۔ سینٹر سے کچھ آگے ایک چھوٹا سا آئس کریم بار ہے… ہے نا؟ کل وہاں چاندنی آجائے۔ بس دو منٹ بات کرلے۔ میرا وعدہ ہے اگر وہ نہ چاہے گی تو پھر کبھی اس کی زندگی میں نہیں آئوں گا۔
اچھا ٹھیک ہے۔ یہ کہہ کر ریسیور رکھ دیا۔ ڈر تھا کہیں صدف کی امی نہ آ جائیں۔ میں چند منٹ صدف کے پاس ٹھہر کر چاندنی کے گھر آگئی اور اس کو بتایا کہ وہی لڑکا ہے اور یہ بات کہی ہے اس نے۔
وہ پریشان نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اب کیا کروں۔ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر ترس آگیا۔ میں نے کہا۔ گھبرائو نہیں۔ میں کل چلوں گی تمہارے ساتھ۔ ہم یہ قصہ تمام کر آئیں گے۔ سمجھو کہ تم اکیلی نہیں ہو۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ شکریہ رابعہ۔ اگر تم نہ ہوتیں نجانے کیا کرتی میں؟
اگلے دن صبح سویرے اطلاع آگئی کہ دادی جان اس جہاں سے گزر گئی ہیں۔ وہ ہمارے شہر سے ستر میل دور ایک گائوں میں رہتی تھیں۔ جہاں ہمارا آبائی گھر تھا۔ ہمیں فوراً گائوں روانہ ہونا پڑا۔ میں چاندنی کو بھی اطلاع نہ کرسکی۔ میں دس روز گائوں میں رہ کر جب لوٹی تو حالات بدل چکے تھے۔
وہی سہمی سہمی پریشان چاندنی جس کا آدھا چہرہ نقاب میں چھپا رہتا تھا وہ عادل سے مل آئی تھی، اس نے بتایا جب تم نہیں آئیں تو میں خود سینٹر سے آئس بار چلی گئی کیونکہ ڈر تھا دوبارہ اس کا فون صدف کے گھر نہ آ جائے پھر تو راز کھل جاتا۔ وہ وہاں میرا منتظر تھا۔ تم ساتھ نہ تھیں، دل دھڑک رہا تھا۔ اتنی تیزی سے جیسے پہلو سے نکل کر باہر آ جائے گا۔ ہمت کر کے اس کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی اور لرزتی آواز میں کہا۔ ہاں کہو۔ وہ ضروری بات… میں آگئی ہوں لیکن اب تم صدف کے گھر فون نہ کرنا۔ عادل تم نہیں جانتے میرے والد کتنے سخت ہیں پلیز۔ میرا خیال چھوڑ دو۔ آخر میرا نام تمہیں کس نے بتایا ہے؟ یہی تجسس تم تک لے آیا ہے۔ آخر ایسا میرا کون دشمن ہے جو میری راہ میں کانٹے بو رہا ہے۔
وہ جو بھی ہے۔ اسے چھوڑو لیکن ضروری بات یہ ہے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور تمہاری راہ میں کانٹے نہیں پھول بکھیرنا چاہتا ہوں۔
یہ ناممکن ہے والد مجھ کو جان سے مار دیں گے۔ اچھا پھر ٹھیک ہے۔ جلد تمہیں میرے مرنے کی اطلاع ملے گی۔
بس اتنی ہی بات ہوئی اور میں جلدی سے گھر آگئی۔ نہیں چاہتی تھی کوئی مجھے وہاں اس کے ساتھ بات کرتے دیکھ لے۔
ٹھیک ہے میری دوست جو ہوگیا سو ہوگیا اب تم دوبارہ وہاں مت جانا اور نہ اس سے ملنا۔ نجانے محلے کی کس لڑکی سے وہ ہمارے نام پتے اور حالات معلوم کرتا ہے۔ یہ بڑی خطرے والی بات ہے۔
اس نے وعدہ کیا ہے اب دوبارہ وہ مجھے خط لکھے گا اور نہ فون کرے گا۔ یہ اچھی بات ہے مگر وہ اپنے وعدے پر قائم بھی رہے۔ میرا مشورہ ہے کہ تم سلائی مرکز جانا چھوڑ دو۔
نہیں کرسکتی سال بھر کی محنت اکارت جائے گی۔ مجھے امتحان دینے دو۔ ڈپلوما تو لے لوں۔
تمہاری مرضی۔ آگے تم خود اپنے گھر والوں سے نمٹو گی۔ میں نے تمہارے بھلے کو یہ بات کہی تھی۔
اس کے بعد میں ایک ماہ اس کے گھر نہ جا سکی اور نہ کہیں اور ملاقات ہوئی۔ وہ اس قدر ڈرپوک لڑکی تھی۔ توقع نہیں کرسکتی تھی کہ اس ایک ملاقات کے بعد دوبارہ اس لڑکے عادل سے ملنے جائے گی۔ مگر وہ سینٹر جانے کے بہانے اس سے ملنے لگی۔ دو چار ملاقاتوں میں ہی عادل نے اس کو رام کرلیا کہ دونوں چھپ کر شادی کر لیں گے۔
جب وہ سلائی سینٹر سے عادل کے ساتھ گھر سے نکلی۔ ان دنوں ہم دادی جان کے چالیسویں پر گائوں گئے ہوئے تھے۔ یہ خبر واپسی پر اس کی ماں نے امی کو بتائی تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں نے اس کے بھلے کے لیے اس کی والدہ کو آگاہ کردیا کہ جو کچھ میں جانتی تھی مگر اس آگہی سے ان کو کوئی فائد نہ ہوا، جانے والی تو ان کی عزت خاک میں ملا کر جا چکی تھی۔ تبھی آنٹی نے کہا۔ بیٹی اب وہ ہمارے لیے مر چکی لوٹ کر آئی بھی تو کون اسے قبول کرے گا۔ اچھا ہے کہ جہاں گئی ہے وہیں مر جائے، تبھی میں سکھ کا سانس لے سکوں گی۔
مجھے آنٹی کے دکھ کا پوری طرح اندازہ تھا۔ تاہم اب کیا ہوسکتا تھا۔ کاش میں اس کے جانے سے پہلے ان کو آگاہ کرسکتی۔
میں نے بی اے کرلیا اور پھر میری شادی اپنے عزیزوں میں ہوگئی۔ میں لاہور آگئی۔ والدین کے گھر سے چلے جانے کے بعد چاندنی پر جو گزری اس کا علم بعد میں ہوا۔
جب وہ سلائی سینٹر سے عادل کے ساتھ چلی گئی تو وہ لاہور لے آیا۔ یہاں دو دن ہوٹل میں رہے۔ یہ سب عادل کے دوست کالا شاہ کے توسط سے ہوا تھا۔ اس رات اس کے ساتھ بہت ظلم ہوا۔ عادل نے اس سے نکاح کا وعدہ جھوٹا کیا تھا۔ اگلے روز یہ دونوں اس کو ایک گھر لے گئے جہاں ایک مالدار عورت رہتی تھی، اسے انہوں نے اجنبی عورت کے حوالے کیا اور خود چلے گئے۔ دراصل وہ اسے اس عورت کے ہاتھ فروخت کر گئے تھے۔
عورت نے چند دن پتا نہ لگنے دیا کہ وہ اس کو فروخت کرگئے ہیں۔ وہ خود کو ان کی رشتہ دار ظاہر کرتی رہی اور چاندنی کو بہت پیار اور حسنِ سلوک سے رکھا۔ سمجھاتی تھی کہ اب صرف میں ہی تمہاری ہمدرد اور سب کچھ ہوں۔ میرا کہنا مانو گی تو سب مرادیں پا لو گی۔
وہ معصوم کچھ سمجھتی نہ تھی کیونکہ ایسا ماحول اس نے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اس دنیا میں کتنا دھوکا ہے اس بے چاری کو کیا معلوم۔
رفتہ رفتہ اس عورت نے اسے سمجھا دیا کہ اب وہ عیاش مردوں کی راحت کا ساماں بننے جا رہی ہے۔ چاندنی کا دل غم سے پھٹنے لگا مگر کوئی راہِ فرار نہ رہی تھی اس لمحے کو پچھتاتی تھی جب عادل سے ملاقات کو گھر سے قدم نکالا تھا۔
ایک سال تک وہ ایک ایسی جگہ رہنے پر مجبور رہی جہاں وہ ایک لمحہ کو بھی رہنا نہ چاہتی تھی۔ ہر وقت وہاں سے نکل بھاگنے کے بارے میں سوچتی تھی۔ بالآخر ایک روز اسے موقع مل گیا۔ وہ فرار ہو کر ریلوے اسٹیشن پہنچی اور ریل میں سوار ہوگئی۔
میرے شوہر ریلوے آفیسر تھے۔ جب وہ لاہور سے ملتان آگئی تو ریلوے کی ’’خواتین انتظارگاہ‘‘ میں چلی گئی۔ صبح سے شام تک وہاں بیٹھی رہی۔ انتظار گاہ میں ڈیوٹی پر موجود خاتون کو وہ مشکوک لگی۔ اس نے ریلوے پولیس پر اپنے شک کا اظہار کیا۔ اسی وقت میرے شوہر کا ادھر سے گزر ہوا تو انہوں نے پولیس والے سے دریافت کیا۔ مسئلہ کیا ہے؟ انہوں نے اشارہ کیا کہ ایک نوجوان لڑکی وہاں بیٹھی ہے جو مشکوک لگتی ہے۔ میرے خاوند خود اندر گئے اور مشکوک لڑکی سے سوالات کرنے لگے کہ وہ کس کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور کہاں جا رہی ہے۔ اس نے کہا کہ ٹکٹ اس کے ہاتھ سے چیکر نے لے لیا تھا اور وہ اپنے گھر جا رہی ہے۔ وہ گھبرا رہی تھی لہٰذا اصغر مزید سوالات کرنے لگے تو وہ رونے لگی اور اصغر اس کو اپنے آفس لے آئے جہاں بیٹھ کر چاندنی نے تمام احوال بتا کر التجا کی کہ اسے دارالامان بھجوا دیا جائے۔
اصغر نے کہا کہ وہاں بھجوانا مناسب نہیں ہے۔ پہلے تمہارے والد سے بات کرتا ہوں۔ وہ بولی بیکار ہے۔ وہ مجھے گھر میں داخل ہونے نہیں دیں گے لیکن بہت اصرار پر اس نے اصغر کو اپنے والد کا فون نمبر دے دیا اور پتا بھی بتا دیا۔ جب اصغر نے بات کی تو چاندنی کے ابو نے کہا کہ وہ ہمارے منہ پر کالک مل کر گئی ہے اب کیا لینے آ رہی ہے۔ ہمارے لیے مر چکی ہے۔ وہ اس محلے سے گھر فروخت کر کے کہیں اور چلے گئے تھے۔
جب محلے کا ذکر ہوا تو اصغر چونکے میرے والدین کا گھر بھی اسی محلے میں تھا انہوں نے چاندنی سے پوچھا کیا تم سلیم صاحب کو جانتی ہو۔ بولی جانتی ہوں۔ انکل سلیم کا گھر ہمارے گھر کے قریب تھا اور ان کی بیٹی رابعہ میری کلاس فیلو رہ چکی ہے تبھی دفتر سے اصغر نے مجھے فون کیا۔ چاندنی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتا دیا کہ ہاں جانتی ہوں۔ میری کلاس فیلو تھی۔ کوئی سال بھر پہلے گھر سے غائب ہوگئی تھی۔ کہنے لگے تم کہو تو اس کو گھر لے آئوں۔ میں نے فوراً کہا کہ ہاں لے آئو۔ ابو امی سے بات کروں گی شاید ان کے سمجھانے پر اس بدقسمت کے ماں باپ اس کو قبول کرلیں۔
چاندنی کو وہ گھر لائے۔ میرے گلے لگ کر بہت روئی۔ کہتی تھی اے کاش میں اس شخص کے دھوکے میں نہ آتی۔ میں نے اس کو تسلی دی۔ کھانا وغیرہ کھلایا۔ پھر سمجھایا کہ ہر حال میں تمہیں اپنے والدین کے گھر جانا ہے۔ دنیا میں اور کوئی جگہ تمہارے لیے موزوں نہیں ہے سوائے والدین کے گھر کے۔ اس نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ لیکن وہ اندر سے بہت خوف زدہ تھی۔ والد کے خوف نے اس کے دماغ کو جکڑ رکھا تھا۔ کہنے لگی کہ رابعہ کس منہ سے جائوں گی۔ اوّل تو قبول نہ کریں گے۔ کر بھی لیا تو شاید ابو مجھے زندہ نہ چھوڑیں۔ بہانے سے گائوں لے جا کر مار دیں گے۔ وہاں کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوگا کہ کیسے مر گئی۔
میں نے حوصلہ دیا کہ میں اور اصغر ساتھ چلیں گے۔ امی ابو بھی ہوں گے۔ پہلے ان کو راضی کریں گے۔ پھر تم کو لے جائیں گے تب تک تم میرے والدین کے گھر میں رہنا۔ دو روز بعد ہم اسے اس کے والدین کے حوالے کرنے کے ارادے سے ابو کے گھر پہنچے۔ ان کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ وہ خاصے پریشان تھے۔ بہرحال یہ اخلاقی فریضہ ادا کرنا تھا۔ وہ ان کے ایک رشتے دار کے گھر گئے اور چاندنی کے والد کے نئے مکان کا پتا معلوم کیا اور امی ابو دونوں وہاں گئے۔
خدا جانے کیا باتیں ہوئیں، کس طرح میرے والدین نے سمجھایا۔ وہ بمشکل اس بات پر راضی ہوئے کہ چاندنی کو آپ لوگ ہمارے گائوں اس کے چچا کے گھر پہنچا دیں، یہاں نہیں لانا۔
ہم لوگ چاندنی کو ساتھ لے کر اس کے چچا کے گھر پہنچے۔ انہوں نے ہماری آئو بھگت کی مگر چاندنی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔ اس کے ساتھ بھی عزت اور محبت سے پیش آئے۔ ہم مطمئن ہو کر لوٹ آئے مگر وہ خود مطمئن نہیں لگ رہی تھی، وہ خوف کی وجہ سے سخت پریشان تھی۔ ایک ماہ بعد ایک روز اخبار میں خبر پڑھی کہ فلاں گائوں میں ایک خاتون نے اپنے چچا کے گھر کالا پتھر پی کر خودکشی کرلی۔ والدین اس کی شادی زبردستی اس کے چچازاد سے کرنا چاہتے تھے جو پہلے ہی دو بیویوں اور چھ بچوں کا باپ تھا۔ چاندنی اس رشتے پر ناخوش تھی۔ یہ خبر پڑھ کر میں دکھ سے رو پڑی۔ وہ میری سہیلی تھی اور میں جانتی تھی کہ وہ کوئی خراب لڑکی نہ تھی، بس معصوم تھی، حددرجہ معصوم اور اسی معصومیت نے اس کو ڈبو دیا۔
اس کی خودکشی کا سن کر بھی مجھے یقین نہ آیا۔ کیونکہ وہ جینا چاہتی تھی اور موت سے بہت ڈرتی تھی، تبھی اپنے والد کے گھر لوٹ کر جانے سے ہچکچا رہی تھی۔
حقیقت جو بھی تھی اب اس کی موت کو خودکشی کا رنگ دے دیا گیا تھا۔ ممکن ہے ایسا ہوا ہو مگر کیونکر ہوا۔ یہ کوئی نہ بتا سکا۔ میرے دل میں یہ ملال بھی تھا کہ میں نے اس کو والدین کے پاس لوٹ جانے پر مجبور کیا تھا ورنہ وہ میرے پاس رہنے پر اصرار کر رہی تھی اور میرے لیے اسے اپنے پاس رکھنا دشوار امر تھا۔ تبھی اسے والدین کے پاس چلے جانے پر مجبور کر رہی تھی۔ اب سوچتی ہوں کہیں میں تو اس کی موت کی ذمہ دار نہیں، اگر اپنے پاس رہنے دیتی تو شاید وہ نہ مرتی۔ اے کاش میں حوصلے سے کام لے سکتی۔ (ثنا … گوجرانوالہ)