Ye Rawajoun Kay Ameen | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1528
میں، فرزانہ اور شاہ میر… میری کہانی ہم تینوں کے گرد گھومتی ہے۔ بتاتی چلوں کہ ہمارا ایک بڑا سا گھر تھا جس کو دادا جان نے بنوایا تھا۔ سب اسی گھر میں رہتے تھے۔ جب پھپھو بیوہ ہو گئیں تو دادا نے حویلی سے ان کا حصہ علیحدہ کردیا اور درمیان میں دیوار اٹھا کر اس کے بیچ دروازہ کھلوا دیا، جو ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ پھپھو اپنی بیٹی فرزانہ کے ساتھ اسی حصے میں رہائش پذیر ہوگئیں۔
دادا اور دادی کی وفات کے بعد تایا اور ابو نے بھی اپنا اپنا حصہ الگ کردیا۔ درمیان میں ایک سات فٹ اونچی دیوار اٹھا کر اسی طرح دروازہ رکھا جیسا کہ پھپھو کے مکان کی دیوار میں تھا۔ یوں علیحدہ ہونے کے باوجود ہم سب بے دھڑک ایک دوسرے کے گھروں میں آجاسکتے تھے، گویا الگ ہوکر بھی الگ نہیں تھے۔
شاہ میر کی منگنی بچپن میں فرزانہ سے ہوئی تھی لیکن اسے فرزانہ پسند نہ تھی کیونکہ وہ سانولی سلونی تھی اور شاہ میر کو گورا رنگ پسند تھا لہٰذا اس نے شادی سے انکار کردیا تو یہ منگنی توڑ دی گئی۔
میرا رنگ گورا تھا۔ میں خوبصورت بھی فرزانہ سے زیادہ تھی۔ تب ہی ہوش سنبھالنے کے بعد سے شاہ میر کی نظریں مجھ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ والدین نے بہت چاہا کہ وہ اپنی بچپن کی منگیتر سے شادی کرلے مگر وہ بھی ضد کا پکا تھا۔ اَڑ گیا کہ شادی کروں گا تو گل بہشت سے ورنہ کسی سے نہ کروں گا۔
آپس کے رشتے تھے۔ بہن بھائیوں میں محبت بھی خوب تھی۔ پھپھو نے کہہ دیا کہ اگر شاہ میر کی خوشی گل بہشت سے شادی کرنے میں ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ گل بھی میری ہی بچی ہے۔ میں اس رشتے پر راضی ہوں بلکہ انہوں نے شاہ میر کی خوشی کے لیے میرا اس کے ساتھ رشتہ کرانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دونوں بھائیوںکو سمجھا بجھا کر بالآخر میری منگنی شاہ میر سے کرا دی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تو نصیب کا لکھا ہوتا ہے۔ جہاں میری بیٹی کانصیب لکھا ہوگا وہیںاس کی بھی شادی ہوجائے گی۔ اپنے اللہ پر یقین ہے تو پھر قلق کس بات کا؟
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ شاہ میر نے ایل ایل بی کیا تھا اور میں میٹرک کے بعد گھر بٹھا دی گئی تھی۔ربیع کی فصل کے بعد ہماری شادی کی تاریخ رکھ دی گئی۔
ان دنوں فرزانہ کا چہرہ کچھ اُترا اُترا سا تھا تاہم اب بھی ہمارے گھر کے وہ دن میں کئی چکر لگاتی تھی۔ آخر میری سگی پھوپھی کی بیٹی تھی اور ہم ایک حویلی کے مکین تھے۔ سو ایک دوسرے سے غافل نہیں رہ سکتے تھے۔
وہ ہر کام میں امی کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔ یہ پھپھو کی ہدایت تھی کیونکہ میری کوئی بہن نہیں تھی لیکن میں اس کی سانولی صورت دیکھ کر دل ہی دل میں اِترا رہی تھی کہ شاہ میر نے اسے چھوڑ کر مجھے پسند کیا تھا۔ ایسے میں لڑکیوں کو اپنے حسن کا غرور تو آ ہی جاتا ہے۔
جس دن میرے جہیز کے جوڑے ٹانکے جارہے تھے، سہیلیاں گیت گا رہی تھیں، ان میں فرزانہ پیش پیش تھی۔ مایوں والے روز وہ مجھے ابٹن لگانے میں محو تھی کہ جانے ایک سکھی کو کیا سوجھی، اس نے میرا وہ گوٹے بھرا سرخ دوپٹہ مذاق میں فرزانہ کو اوڑھا دیا جو نکاح کے وقت مجھ پر ڈالا جانے والا تھا۔
فرزانہ اس حرکت پر سٹپٹا گئی تو ساری سکھیوں نے یک زبان ہوکر کہا۔ اری نادان ، یہ تو ایک شگن ہے کہ جس لڑکی پر یہ دوپٹہ ڈالا جاتا ہے، اس کا بھی نکاح جلدی ہوجاتا ہے۔ یہ مذاق تھا مگر اس مذاق نے میری قسمت کی بساط اُلٹ دی۔
دیوار کے بیچ دروازہ کھلا رہنے سے شاہ میر جب چاہے ہمارے گھر آسکتا تھا۔ دولہا کو فی الحال دلہن کے کمرے میں جھانکنے کی تو ممانعت تھی مگر وہ منچلا باز نہ آیا۔ جھانکا بھی اس لمحے کہ جب سکھیوں نے ازراہ مذاق میرا سہاگ دوپٹہ فرزانہ کے سر پر سجا دیا تھا۔
شاہ میر نے اس لمحہ سرخ دوپٹہ میں لپٹا… فرزانہ کا چہرہ دیکھا تو نجانے اس پر کیسا جادو ہوگیا کہ یہ لمحہ اس کے ذہن پر نقش ہوکر رہ گیا۔ شاید یہ مذاق کسی ایسی منحوس گھڑی ہوا کہ فرزانہ کی ایک جھلک دیکھ کر اپنی اصلی دلہن کا عکس اس کے دل کے آئینے میں دھندلا گیا۔
رخصتی کی گھڑی آگئی۔ میں دلہن بنی، تایا کے گھر، ان کی بہو کے روپ میں پہنچا دی گئی۔ میں تو مسرور تھی مگر مجھے لگا کہ وہ خوش نہیں ہے جبکہ شادی سے ہفتہ بھر پہلے تو چہکتا پھر تا تھا۔ میرے دل میں تو اس کی تصویر ایسی نقش تھی کہ مر کر بھی مٹا نہ سکتی تھی۔ سمجھتی تھی کہ میرے جیون ساتھی کے دل میں بھی میری چاہ کے نقوش اتنے ہی گہرے ہوں گے۔
یہ میری بھول تھی۔ شادی کے ایک ماہ بعد ہی احساس ہوگیا کہ وہ دل سے میرا نہیں ہے۔ پھپھو کے بیٹے کمال سے شاہ میر کی دوستی تھی اور یہ دوستی اب بھی برقرار تھی۔ وہ پہلے کی طرح پھپھو کے گھر جاتے اور کمال سے باتیں کرتے۔ تب ہی فرزانہ کا بھی ان سے مذاق چلتا جس سے لگتا نہ تھا کہ اسے منگنی ٹوٹنے اور میری شاہ میر سے شادی ہو جانے کا قلق ہے۔ ان دونوں نے کبھی آپس میں اظہار محبت نہیں کیا تھا تو قلق کیسا؟ یہ تو بس بزرگوں کے فیصلے تھے۔ کبھی وہ رشتے جوڑتے اور کبھی توڑتے تھے۔
ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو زیادہ پڑھانے کا رواج نہ تھا۔ ملازمت تو دور کی بات تھی لیکن پھپھو کی شادی جس گھرانے میں ہوئی تھی، وہ نسبتاً ترقی پسند لوگ تھے، تب ہی فرزانہ نے بی اے تک تعلیم پائی تھی۔
جب میری اور شاہ میر کی شادی ہوئی، اس کے چھ ماہ بعد اس نے ملازمت کی ضد پکڑ لی۔ پھپھو نے بیٹی کی خوشی کے لئے اجازت مانگی اور وہ نزدیکی شہر کے ایک بینک میں جاب کرنے لگی۔ یہ روایت سے بغاوت تھی لیکن تایا اور ابو، پھپھو کی وجہ سے فرزانہ کو اجازت دینے پر مجبور ہوگئے۔
شاہ میر کو ملازمت کی ضرورت نہ تھی۔ وکالت بھی شوقیہ کرتے تھے۔ وہ اور فرزانہ ایک ہی وقت میں گھر سے شہر جانے کو نکلتے تھے لہٰذا کبھی سواری کا مسئلہ ہوجاتا تو وہ فرزانہ کو اپنی کار میں بٹھا لیتے اور اس کے بینک تک ڈراپ کردیتے۔ آپس کے رشتے اتنے گہرے تھے کہ اس بات پر کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا اور مجھے تو یوں بھی نہیں تھا کہ اب سے پانچ برس قبل انہوں نے فرزانہ کو ناپسند کرکے خود ہی اپنی منگنی تڑوائی تھی۔ اسی گھمنڈ میں تھی کہ جس لڑکی کو میرے سرتاج نے ازخود رد کیا ہے، وہ بھلا میرا کیا بگاڑ سکتی ہے۔ خبر نہ تھی کہ مایوں والے دن کا وہ لمحہ پھر سے انہیں جوڑنے کے حوالے سے ایک زنجیر بن چکا ہے۔
وقت گزرتا رہا۔ اب میرا شوخ و چنچل دولہا ایک سنجیدہ اور بردبار وکیل کا روپ دھار چکا تھا۔ وہ مجھے بدلے بدلے سے لگتے تو بھی میں خود کو یہ سوچ کر تسلی دے لیتی تھی کہ شادی شدہ ہیں، وکالت کے باوقار پیشے سے منسلک ہوچکے ہیں۔ شخصیت میں بدلائو تو آنا ہی ہے۔ اس بنیاد پر شک و شبہے میں پڑنے کی کون سی بات ہے۔
ایک روز تائی، پھپھو کے گھر سے آئیں تو کچھ فکرمند تھیں۔ کہنے لگیں۔ بیٹی تم بے فکر رہو، میں کبھی شاہ میر کو دوسری شادی نہ کرنے دوں گی۔ تائی کی اس بات پر حیران رہ گئی کہ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں اور یہ سب کہنے کی کیا ضرورت ان کو پیش آگئی ہے۔
میں نے تائی سے دریافت کیا۔ آپ کس کے بارے میں بات کررہی ہیں۔
فرزانہ کے بارے میں۔ انہوں نے جواب دیا۔ لیکن تم اس بات کا تذکرہ، شاہ میر سے نہ کرنا ورنہ تم سے اس کا حجاب ٹوٹ جائے گا تو وہ تمہاری پروا کرنا بھی چھوڑ دے گا۔
میں نے اپنی ساس کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیا کہ بزرگ کبھی کبھی دوراندیشی میں ابہام کی سمت چلے جاتے ہیں۔
چند دن گزرے کہ پھپھو کے شہر میں شفٹ ہونے کی باتیں ہونے لگیں۔ ان کا کہنا تھا میری بیٹی کی جاب شہر میں ہے، اسے وہاں آنے جانے میں دقت ہوتی ہے۔ تایا ابو کا ایک مکان شہر میں تھا جو مدت سے خالی تھا، پس پھپھو وہاں منتقل ہوگئیں۔ درمیان والی دیوار گرا کر تایا ابو نے اپنا گھر بڑا کردیا اور شہر والا مکان پھپھو کو دے دیا۔
ہمارا گائوں شہر سے صرف بیس کلو میٹر دور تھا۔ وہاں تک پہنچنے میں آدھا گھنٹہ بھی نہیں لگتا تھا۔ جاب پر جانے کی دقت ایسی کوئی مجبوری نہ تھی۔ پھپھو کے شہر میں جا بسنے کے کچھ اور ہی مقاصد تھے جن کو میں نہیں سمجھ سکی تھی۔
میرا دل تو تسلی میں تھا کہ شاہ میر مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ بھلا کوئی دو چار ماہ کی من پسند دلہن سے دھوکا کرسکتا ہے۔ لیکن آدمی کو بدلتے دیر نہیں لگتی۔
میں تو اتنی نادان تھی کہ آخر وقت تک اصل معاملے کو نہ سمجھ سکی۔ پورا سال شاہ میر کے انتظار میں راتوں کو جاگ کر گزارتی تھی۔ جب بھی پھپھو آتیں، تائی کو قسم دے جاتیں کہ گل بہشت کو نہ بتانا۔ اسی اثنا میں، میں ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔
میں اسپتال میں تھی جب شاہ میر بیٹے کو دیکھنے آئے تو پہلی بار میں نے ان کے چہرے پر سچی خوشی کے آثار دیکھے۔ لوٹ کر گھر آئی تو لگا کہ میرے بیڈروم میں کسی نے راج کیا ہے۔ کسی کونے میں کانچ کی چوڑی کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے، تو کہیں سنگھار میز پر بالوں میں لگانے والی پنیں پڑی تھیں، کچھ مرجھائے ہوئے گجرے بھی تکیے تلے موجود تھے ۔
تائی کے ہوتے بھلا کون میرے کمرے میں یوں آکر رہ سکتا تھا۔ کسی غیر عورت کی کیا مجال۔ یہ اکیلا گھر تو نہیں تھا۔ سسر ساس، نند دیور سب ہی اس میں رہتے تھے، پھر برابر میں ابو کا مکان تھا جس میں میرے بھائی اور اماں بھی رہتی تھیں۔
اگلی شب جب تمام رات شاہ میر نہ آئے تو میرے صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔ انہوں نے دوسرے روز شام کو دہلیز پر قدم رکھا۔ میں جو شب بھر کی جلی ہوئی تھی، دہلیز پر ہی ان سے الجھ پڑی۔ اس قدر بلک کر روئی جیسے کوئی اپنا مر گیا ہو۔ وہ مجھے بازئوں میں بھر کر کمرے تک لائے تو میں نے سسک کر کہا کہ شاہ میر کیوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے میرا سب کچھ کھو گیا ہے اور میں لُٹ گئی ہوں۔ جب میں رو رو کر نڈھال ہوگئی تو انہوں نے کہا ’’سنو گل مجھ سے خفا ہونے سے پہلے اپنے والد سے جاکر پوچھ لو کہ جنہوں نے مجھے خود فرزانہ سے شادی کی اجازت دی تھی کیونکہ وہ اپنی بیوہ بہن اور یتیم بھانجی کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ یہ سن کر تو جیسے مجھے سکتہ ہوگیا اور رونا ہی بھول گئی۔
اب تم سچائی سے سمجھوتہ کرلو اور کچھ دن صبر سے کام لو، وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تم نے اپنی ماں کو نہ بتایا تو میں میں فرزانہ کو طلاق دے دوں گا۔ مجھے وہ آج بھی پسند نہیں ہے، بس مجبوری کی وجہ سے شادی کی ہے۔ مجھے ان کے منہ سے ایسی باتیں سن کر یقین نہ آرہا تھا۔ لگتا تھا کہ کوئی بھیانک خواب دیکھ رہی ہوں۔
میں نے لب سی لئے۔ ساس اور نند ہمدردی کرنے آئیں تو ان سے بھی کہہ دیا کہ کس بات کی ہمدردی؟ یہ سب جھوٹ ہے۔ شاہ میر نے مذاق کیا ہے۔ وہ میرے ہی ہیں، مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
اب شاہ میر کا معمول ایسا بن گیا کہ ایک دن اور رات وہ میرے پاس رہتے اور دوسرے روز شہر میں رہ جاتے۔ چھ ماہ اسی طرح گزر گئے تو میں نے ان کو وعدہ یاد دلایا۔ انہوں نے دلاسا دیا، بس تھوڑے دن کی بات ہے۔ یہاں تک کہ سال گزر گیا اور میں ایک بیٹی کی ماں بن گئی۔
زمیندار گھرانوں میں دوسری شادی کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔ ہمارے خاندان کی عورتیں اپنے خاوند کی دوسری شادی تو ایک ممکنہ امر کے طور پر پہلے ہی دن سے قبول کرلیتی تھیں اور واویلا کرنے کو خاندانی شرافت و روایت کے منافی سمجھتی تھیں۔ اگر کوئی عورت ایسا کرتی تو وہ اپنے مقام اور رتبے سے گر جاتی تھی لیکن مجھے قلق تو یہ تھا کہ میری سوتن میری سگی پھوپی کی بیٹی تھی اور میرے خاوند کی وہ سابقہ منگیتر تھی کہ جس کو انہوں نے رد کرکے مجھے اس پر فوقیت دی تھی اور اب زیادہ دکھ والی بات یہ تھی کہ والد صاحب نے بھی اپنی بھانجی کی زیادتی کو سہہ لیا تھا۔ سہہ ہی نہیں لیا تھا اسے اپنے داماد سے شادی کی اجازت بھی دے دی تھی… تھی نا یہ دکھ والی بات؟
اب فرزانہ بھی ایک بچے کی ماں بن گئی تھی۔ جب یہ خبر مجھے ملی تو مجھ پر بجلی گر گئی۔ یقین ہوگیا کہ شاہ میر نے کہا تھا، وہ اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ ویسے بھی ہمارے خاندان میں طلاق کا رواج عام نہیں تھا۔
میں نے والدہ کو اس امر سے آگاہ کردیا۔ وہ میرے ابو کی تایا کی بیٹی تھی اور صاحب جائداد تھیں۔ انہوں نے احتجاج کیا اور والد سے بھی جھگڑا کیا کہ تم نے اپنی بیٹی پر خود سوتن لا بٹھائی ہے تو اب تمہارا میرا کوئی واسطہ نہیںہے۔
وہ روٹھ کر میکے چلی گئیں۔ میرے بھائیوں سے بھی کہہ دیا کہ اب میں اپنی جائداد اپنی زندگی میں ہی گل بہشت کے نام کردوں گی اور تم لوگوں کو ایک مرلہ بھی نہ دوں گی کیونکہ تم نے میری بیٹی کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔
مردوں کی اپنی سوچ ہوتی ہے، عورت کی اپنی۔ وہ سمجھانے لگے کہ فرزانہ بھی ہماری بہن ہے، یتیم ہے اور اس کی ماں بیوہ اور ہماری پھوپی ہے۔ خاندان میں فرزانہ کا کوئی رشتہ موجود نہ تھا، اسے غیروں میں دینے سے اس کے حصے کی جائداد بھی تو غیر لے جاتے، پھر ان غیر لوگوں کا اپنے گھر میں آنا جانا برداشت کرنا پڑتا۔ ظاہر ہے جب ایک غیر شخص داماد بن جاتا ہے تو پھر اس سے پردہ تو نہیں کیا جاتا۔ گھر کی خواتین کو اس کے سامنے بھی تو جانا پڑتا ہے۔
یہ عجیب منطق تھی جس کی وجہ سے میری زندگی کی خوشیاں بھینٹ چڑھ گئیں۔ بظاہر بھائی کہہ رہے تھے کہ ٹھیک ہے تمہارے ساتھ دھوکا ہوا ہے تو ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن وہ دل سے میرے ساتھ نہیں تھے بلکہ وہ تو جائداد اور ملکیت کے ساتھ تھے۔
پہلی بار کسی عورت نے مقابل آنے کی ہمت کی اور وہ میری ماں تھیں۔ انہوں نے خاندان کی روایت سے بغاوت کردی اور اپنے حصے کی جائداد اپنی زندگی میں میرے نام لکھ دی جس پر میرے باپ کے گھر کا دَر ان پر بند ہوگیا۔ انہیں طلاق نہیں دی گئی کیونکہ یہ بھی رواج کے خلاف بات تھی لیکن وہ اکیلی ہوگئیں۔ وہ اپنے بھائی کے گائوں چلی گئیں اور وہیں رہائش اختیار کرلی۔
اب میرا بھی شاہ میر کے ساتھ زندگی بسر کرنے کو جی نہ چاہتا تھا، تب ہی تہیہ کیا کہ اپنی ماں کے پاس ہی رہوں گی، طلاق نہ لوں گی مگر شاہ میر کے ساتھ بھی زندگی بسر نہ کروں گی کیونکہ یہ منافقت کی زندگی ہوگی اور منافقت مجھے پسند نہ تھی۔
میں اپنی ماں کے پاس چلی گئی مگر سکون وہاں بھی نہ ملا ۔ ایک دن بھی شاہ میر کی یاد نے دامن نہ چھوڑا۔ رو رو کر نڈھال ہوگئی۔ چند دنوں میں برسوں کی بیمار نظر آنے لگی۔ والدہ سے میری حالت دیکھی نہ گئی تو تائی کو بلوایا۔ انہوں نے آکر گلے سے لگایا، تسلی دی اور پیار و محبت جتلا کر ساتھ لے آئیں۔ کہتی تھیں شاہ میر کو سمجھالوں گی، وہ اب تمہارے پاس رہے گا۔ وہ بیچاری خود رواجوں کی ماری تھیں، بیٹے کو کیا سمجھاتیں۔
فرزانہ نے تو ایسا جادو شاہ میر پر کیا تھا کہ مجھے یکسر بھول گئے تھے۔ وہ کئی کئی روز گائوں نہ آتے تھے۔ کورٹ کچہری شہر میں واقع تھے اور اب ان کی وکالت بھی چل نکلی تھی، تب ہی عذر گزارتے کہ میں اپنی وکالت کے کارن شہر میں رہتا ہوں، فرزانہ کے لیے نہیں رہتا۔
امی میکے تھیں۔ ساس کا بھی انتقال ہوگیا۔ نندیں اپنے گھروں کو بیاہی گئیں۔ گائوں میں تایا کے گھر صرف میں رہ گئی یا دو بچے۔ بھائیوں اور ابو سے تو بات نہ کرتی تھی۔ تایا کی بھی بادل ناخواستہ خدمت کرنے پر مجبور تھی کہ انہی سے مالی فوائد حاصل تھے۔ بچے تو ان کے بیٹے کے تھے اس لئے وہ اخراجات اٹھاتے تھے۔ بچے بڑے ہوگئے، وہ اسکول جانے لگے، ان کے لیے گاڑی ڈرائیور اور شہر میں اچھے تعلیمی ادارے کا بندوبست تایا جی نے ہی کیا۔
شاہ میر مہینوں گھر نہ آتے۔ میری تو کیا اپنے بچوں کی بھی صورت نہیں دیکھتے تھے اور کوئی بھی انہیں یہ بات کہنے والا نہ تھا کہ تم نے کیوں گل بہشت پر اتنا ظلم کیا ہے۔ اگر فرزانہ سے اتنا ہی اُنس تھا تو اسے چھوڑ کر کیوں گل بہشت سے شادی کرلی، اس کی قسمت پھوڑ کر پھر سے فرزانہ کی جانب مڑ گئے۔ آخر کیا تھا یہ کھیل تماشا!
مرد کی زندگی سہانی ہوتی ہے۔ یوں کہ وہ اپنی زندگی کا آپ مالک و مختار ہوتا ہے، جو چاہے کرے۔ رسم و رواج سے بغاوت بھی کرے تو کوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا لیکن عورت؟ وہ تو ماتحتی کے تمام اصولوں کی پابند رہتی ہے۔ وہ کسی ایک اصول سے بھی روگردانی کرتی ہے تو قابل تعزیز ٹھہرتی ہے۔
یہی وجہ تھی کہ شاہ میر اب بھی سر اونچا کرکے چلتا تھا۔ گائوں آتا تو کوئی بھی اسے نہیں سمجھاتا تھا کہ تم یہ کیا ستم کررہے ہو۔ ہر کوئی مجھ کو ہی کہتا۔ دیکھو تم عورت ہو اور سمجھوتے عورت کو ہی کرنے پڑتے ہیں، ہمت کرو، جینا سیکھو، ان بچوں کو پُرسکون رکھنے کی خاطر، اپنے خاندان کی شرافت کی خاطر، اپنے خاندان کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہی ہوگا تمہیں۔
مجھے؟ صرف مجھے ہی کیوں، میرے شوہر کو کیوں نہیں، شاہ میر کو کیوں نہیں؟ کیا اس لیے کہ وہ مرد ہے، خود مختار ہے، صاحب حیثیت ہے؟ یہ سوال مجھے ہر لمحہ ڈنگ مارتا تھا۔ صاحب حیثیت تو میں بھی تھی مگر محض مرد نہ تھی، خودمختار نہ تھی، میں عورت تھی، کمزور اور مجبور۔
اب تو امی بھی ایسا ہی کہتی تھیں کہ جو تمہارے شوہر کا گھر ہے، اسے چھوڑ کر کہیں مت جانا۔ کبھی نہ کبھی اسے اپنے بچوں کا خیال ضرور آئے گا۔ تب تمہارا گھر پھر سے ایک اکائی بن جائے گا۔ بچے باپ کی نگرانی اور شفقت سے محروم نہ رہیں گے۔ خود کو سنبھالو کہ اکیلی شادی شدہ عورت کا کوئی ساتھی نہیں ہوتا اپنے شوہر کے سوا۔
اپنا شوہر؟ کیسا، شوہر؟ جو میرے ساتھ نہ رہتا تھا جس نے شہر میں میری کزن کے ساتھ شادی کرکے اپنا اصلی گھر آباد کرلیا تھا اور اب اپنے اور اس کے چار بچوں کے ہمراہ وہاں وہ ہنسی خوشی زندگی گزار رہا تھا۔
اصلی گھر تو وہی ہوتا ہے مرد کا جہاں وہ اپنی من پسند بیوی اور اس کے بچوں کے ہمراہ رہتا ہے، نہ کہ اس بیوی کا جس کی رفاقت کو وہ چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ لوگ پھر بھی یہی سبق رٹاتے رہتے ہیں کہ صبر کرو، ہمت کرو، شرافت سے اپنے شوہر کے پلٹ آنے کا انتظار کرتی رہو… یہ کیسا صبر ہے؟ اور یہ کیسا عذاب ہے؟
بچے اسکول سے کالج جانے لگے۔ میں تنہا زندگی کے عذاب سمیٹتی رہی۔ سسرال والوں نے اور میکے والوں نے بھی میری سوتن کو قبول کرلیا کیونکہ فرزانہ بھی تو ان کی قریبی رشتہ دار تھی۔ اب تو بچے بھی اپنے باپ سے پیار لینے لگے ہیں اور ان سے ہی زیادہ پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے دونوں بیٹوں کو لاہور کے اعلیٰ ادارے سے تعلیم دلوائی ہے۔ ان کو نئے زمانے کی ہر شے لے کر دی، اپنا گرویدہ بنا لیا اور پھر ان کو اعلیٰ تعلیم کی خاطر لندن بھجوا دیا۔
آج میری اولاد بھی مجھ سے جدا ہے۔ دونوں بیٹے لندن میں ہیں اور میں اکیلی نوکرانیوں اور نوکروں کے ساتھ گائوں میں زندگی کے باقی دن جی رہی ہوں۔
(گ۔ب… ڈیرہ غازی خان)