Ye Sir Phiri Larki | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1622
شنیلا میری کلاس فیلو تھی، اس کے ساتھ دوستی ہوگئی اچانک آٹھویں میں اس نے اسکول آنا بند کر دیا۔ میں اس بارے میں کافی پریشان تھی لیکن اس کے گھر نہیں جا سکتی تھی کیونکہ والد اور چچا کی اُس کے والد سے کچھ مخالفت چل رہی تھی۔ تقریباً بیس برس قبل جب الیکشن ہونے والے تھے، میرے چچا اورشنیلا کے والد حفیظ صاحب دونوں ہی الیکشن کی کمپین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔
جس دن ووٹ پڑنے تھے اس سے ایک روز پہلے میری یہ سہیلی ہمارے گھر آ گئی۔ کہنے لگی کہ والد صاحب پولنگ پر میری ڈیوٹی لگانا چاہتے تھے لیکن مجھے ان کے الیکشن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، کل سب ووٹ ڈالنے جائیں گے گھر پر تالا ہوگا۔ اس لیے بوریت سے بچنے کے لئے تمہارے گھر آ گئی ہوں۔ ٹھیک ہے بیٹی اگر تمہارے والدین نے اجازت دے دی ہے ہمارے یہاں رہنے کی تو ضرور رہو۔ امّی نے کہا۔ آنٹی، میں کل شام کو چلی جائوں گی کیونکہ ہمارے گھر کی خواتین پولنگ ختم ہو جانے کے بعد شام کو گھر آ جائیں گی، آپ پریشان نہ ہوں۔ اس نے وضاحت کر دی۔
ابو گھر آئے تو انہوں نے شنیلا کے بارے میں پوچھا۔ امّی نے جب بتایا کہ حفیظ صاحب کی بیٹی ہے تو اُن کے کان کھڑے ہوگئے۔ اُسی وقت حفیظ صاحب کو اطلاع کر دی کہ آپ کی بیٹی ہمارے گھر آئی ہوئی ہے۔ میری بیٹی کی کلاس فیلو تھی، تبھی دونوں میں دوستی ہے۔ بہرحال آپ اپنی بچی کو لے جایئے۔ حفیظ صاحب نے کہلوایا۔ میں بہت مصروف ہوں الیکشن سے فارغ ہو جائوں تو لے جائوں گا۔ میری بیٹی آپ کی بیٹی ہے، آپ کے یہاں رہے تو مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ والد کو اطمینان ہوگیا۔ اس رات شنیلا ہمارے گھر میں رہ گئی۔ اگلے روز ووٹ کاسٹ ہوگئے اور الیکشن والا دن تمام ہوگیا۔ شام ہوگئی مگر شنیلا کو لینے کوئی نہیں آیا۔ والد صاحب نے دوبارہ حفیظ صاحب سے رابطہ کیا کہ آ کر اپنی بیٹی کو لے جایئے۔ انہوں نے کہلوایا کہ ابھی اپنے گھر میں رہنے دیجئے۔ یہ بہتر اور محفوظ جگہ پر ہے جب تک رہنا چاہتی ہے، رہ سکتی ہے۔ مصروفیت ختم ہو جائے تو ہم لینے آ جائیں گے۔
ایک دن مزید گزر گیا۔ سب کا ماتھا ٹھنکا کہ ایسا ہوتا نہیں ہے وہ بھی قصبے نما چھوٹے شہروں میں لڑکیوں کو کب سہیلیوں کے گھر رہنے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ رشتے داری بھی نہ ہو۔ ابو نے شنیلا سے کہا۔ بیٹی چلو میں اور تمہاری آنٹی تمہارے گھر پہنچا آتے ہیں۔ حفیظ صاحب کے دوست الیکشن جیت گئے ہیں انہیں مبارک باد بھی دے دیں گے لیکن اس نے گھر جانے سے صاف انکار کر دیا۔ کہنے لگی۔ میں یہیں رہوں گی، اس جہنم میں ہرگز واپس نہیں جائوں گی۔
عجیب صورت حال پیدا ہوگئی۔ آخر کیا معاملہ ہے۔ گھر والے لینے نہیں آ رہے اور لڑکی جانے سے انکاری ہے، آخر معاملہ کیا ہے؟ میں نے امّی سے کہا۔ صبر کریں… اُن کی بیٹی ہے بالآخر لینے آ جائیں گے۔ میں معلوم کرتی ہوں کیا معاملہ ہے۔ شنیلا سے پوچھا اس نے مختصر بات کی۔ کہا کوئی معاملہ نہیں ہے بس سکون کے لئے تمہارے پاس آ گئی ہوں ایک دو دن بعد گھر چلی جائوں گی۔
اگلے روز بات ایک حیران کن موڑ اختیار کرگئی، جب پتا چلا کہ حفیظ صاحب نے تھانے میں اغواء کی رپورٹ درج کرا دی ہے، جبکہ رپورٹ میں میرے والد اور چچا کا نام نہیں تھا بلکہ ایک شریف آدمی احسان اور اس کے بیٹے کا نام تھا۔ جب والد نے گھر پر شنیلا کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو وہ رونے لگی… اس پر امّی نے کہا کہ تم شنیلا کو اپنے کمرے میں لے جائو اور اسے اعتماد میں لے کر پوچھو کہ اصل معاملہ کیا ہے؟
میں نے شنیلا سے پوچھا۔ پہلے تو نہیں بتا رہی تھی بالآخر بتا دیا۔ کہنے لگی۔ پہلے ہم دبئی میں رہتے تھے جہاں والد صاحب کا کاروبار تھا لیکن چچا اور تایا نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بھائی پردیس میں رہے۔ بہت منت سماجت کر کے انہوں نے ابو کو دبئی سے بلوا لیا۔ امّی نے کہا کہ اگر دبئی میں نہیں رہنا تو وطن میں کسی بڑے شہر سکونت اختیار کرنا ورنہ بچوں کی پڑھائی متاثر ہوگی۔ والد، امّی کے کہنے پر کراچی آ گئے لیکن یہاں انہیں سکون محسوس نہ ہوا، بالآخر وہ اُسی چھوٹے شہر میں آ بسے جہاں ان کے والدین کا آبائی گھر تھا اور جہاں تایا چچا اور ابو کی تمام برادری ابتدا سے ہی رہائش پذیر تھی۔
والدہ کو مشترکہ فیملی سسٹم میں رہنے کی عادت نہ تھی۔ وہ بے چینی محسوس کرتی تھیں۔ یہاں دوسروں کا خیال بہت زیادہ رکھنا پڑتا تھا اور شہر جیسی آزادی میسر نہ تھی۔ ہم رشتے داروں کی ریت روایات میں بُری طرح گھر گئے۔ بات بات پر دادی اور پھوپھیاں ہدایات کرتی تھیں کہ یہ کرو، وہ نہ کرو۔ امّی اور میں برقعے نہیں پہنتے تھے، یہاں سب خواتین برقع یا چادر میں باہر نکلتی تھیں مجھے بھی دادی نے برقع پہنا دیا، جس سے میں سخت بے چینی محسوس کرتی تھی۔ اب ہم بیوٹی پارلر بھی نہ جا سکتے تھے اور نہ بال بنوا سکتے تھے۔ اس دقیانوسی ماحول میں میرا دم گھٹنے لگا۔ اس پر امّی اور باجی بھی اپنا غصہ مجھ پر نکالتی تھیں جس کا میرے دل پر اثر ہوتا تھا۔
ہمارے گھرکے نزدیک ایک فیملی رہتی تھی۔ یہ اچھے لوگ تھے لیکن ہماری دادی، پھوپھیاں ان کے گھر نہیں جاتی تھیں۔ میں جب گھر کے ماحول سے تنگ آتی ان کے گھر چلی جاتی۔ یہ بات چچی اور پھوپھیوں کو ناپسند تھی، وہ دادی کو اُکساتیں کہ شنیلا ان چھوٹے لوگوں کے یہاں جاتی ہے کسی دن ہماری سبکی کرائے گی، اسے روکو دادی مجھ پر سختی کرتیں اور بُرا بھلا کہتیں۔ وہ اکثر میری شکایت ابو اور چچا سے کر دیتیں تو والد ڈانٹتے۔
میری نظروں میں سب انسان برابر تھے جبکہ ہمارے گھر والے تکبّر میں مبتلا تھے کہ کم حیثیت لوگوں سے ناتا نہ رکھنا چاہئے، وہ مجھے بھی کہتے کہ تم کم حیثیت لوگوں کے گھروں میں آنا جانا رکھتی ہو جس سے ہماری عزت گھٹتی ہے۔ میری دادی نے تو حد کر دی، ہر کسی سے کہتی تھیں کہ یہ ہماری سگی بیٹی نہیں ہے، ہم اسے یتیم خانے سے لائے ہیں۔ تبھی یہ نافرمان ہے اور ہمارا کہنا نہیں مانتی، گھر میں بھی نہیں ٹکتی۔ اسے اپنے خاندانی رُتبے اور چچا کی عزت کا خیال نہیں ہے۔
ان دنوں میری عمر دس گیارہ سال تھی اور میں اُن باتوں کی باریکیوں کو نہیں سمجھتی تھی، لیکن یہ باتیں مجھے بے حد غصہ دلاتی تھیں اور میں اندر سے سلگ جاتی تھی۔ سوچتی تھی کہ جو باتیں بُری نہیں ہیں یہ لوگ انہیں کیوں معیوب سمجھتے ہیں۔ بار بار سب کے منع کرنے کے باوجود میں پڑوس میں اپنی سہیلی عارفہ سے ملنے ضرور جاتی تھی۔ میں نے عارفہ کی دوستی کو ترک نہیں کیا۔ بالآخر دادی اور پھوپھیوں نے خاموشی اختیار کرلی اور مجھے روکنا ٹوکنا چھوڑ دیا۔
عارفہ کے گھر اس کا ایک کزن گائوں سے پڑھنے آیا ہوا تھا اس کا نام جنید تھا۔ عارفہ نے مجھے بتایاکہ اس کا یہ کزن بہت دُکھی ہے، اس کا اس دُنیا میں کوئی نہیں ہے، تبھی پڑھائی کے لئے ہمارے گھر میں رہتا ہے۔ ایک دن جنید نے مجھ سے بات کی۔ میں نے یہ سوچ کر کہ بیچارا دُکھی ہے اس سے بات کرلی اور اس کا دل نہیں توڑا۔ جنید میں کچھ ایسی کشش تھی کہ رفتہ رفتہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ سالانہ امتحان ختم ہوگئے تو جنید اپنے گائوں لوٹ گیا لیکن اس نے وعدہ کیا کہ وہ جب ملازمت حاصل کرلے گا تو مجھ سے ضرور شادی کرے گا۔
اس کی پڑھائی پوری ہوچکی تھی، گھر گیا تو اُس کے والدین نے جنید کی شادی کی تیاریاں شروع کردیں۔ اِدھرمیں اُس کے جانے کی وجہ سے بے حد پریشان تھی، اپنی سہیلی سے روز پوچھتی تھی کہ جنید کب واپس آئے گا، بالآخر ایک روز عارفہ نے واضح کر دیا کہ گائوں میں اس کی شادی ہونے والی ہے لہٰذا اب وہ نہیں آئے گا اور وہ یتیم لڑکا نہیں، میں نے تمہیں یونہی کہہ دیا تھا۔ میں نے عارفہ کو بتایا جنید نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا ہے وہ کیسے شادی کر سکتا ہے کسی اور سے۔ وہ خود شادی نہیں کر رہا بلکہ اس کے بزرگ کر رہے ہیں۔ وہ بزدل ہے اتنی جرأت نہیں ہے جنید میں کہ تمہارے بارے میں اپنے بزرگوں کو آگاہ کرے لہٰذا تم اسے بُھول جائو۔ عارفہ کی بات سُن کر میں گھبرا گئی۔ مجھے لگا عارفہ جھوٹ بول رہی ہے، لیکن جب اس نے قسم کھا کر یقین دلایا تو میں نے سوچا کہ خود جا کر حالات معلوم کرنا چاہئیں۔
جنید کا گائوں زیادہ دُور نہ تھا۔ ایک دن ہمت کر کے لاری اڈّے چلی گئی۔ لاری تیار تھی اس میں بیٹھ گئی۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد جنید کا گائوں آ گیا۔ لاری سے اُتر کر تانگے والے کو جنید کے والد کا نام بتایا تو اس نے دس منٹ میں اس کے گھر کے سامنے اُتار دیا۔ میں بے دھڑک اندر چلی گئی۔
صحن میں بڑی چارپائی پر جنید بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے اپنے گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک لڑکی اتنی جرأت کر سکتی ہے کہ اکیلی اس کے گھر تک آ گئی۔ وہ اُٹھ کر کمرے میں چلا گیا لیکن اس کی والدہ نے مجھےبیٹھنے کو کہا اور پوچھا۔ بیٹی کون ہو اور کہاں سے آئی ہو۔ میں نے سوچا کہ اُس بزدل سے بات کرنے کی بجائے براہ راست اس کی والدہ سے بات کرنی چاہئے۔ میں نے پوچھا۔ آنٹی کیا آپ کے بیٹے کی شادی ہونے والی ہے۔
ہاں بیٹی ہمارا یہی ارادہ ہے لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو۔
تب میں نے انہیں اصل بات بتا کر کہا کہ آپ کے بیٹے نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا اور آپ لوگوں سے میرا ذکر تک نہیں کیا۔ آپ میرا ساتھ دیں تاکہ اس کا وعدہ پورا ہو۔ یہ ایک بچکانہ بات تھی، تاہم جنید کی امّی سمجھدار اور بہت شفیق خاتون تھیں۔ انہوں نے تسلی دی اور یقین دلایا کہ وہ جنید کے والد سے بات کر کے انہیں قائل کرلیں گی۔ پھر اپنے شوہر کو بلا کر تمام بات گوش گزار کر دی۔ وہ بھی شریف انسان تھے۔ مجھ سے کچھ نہ کہا۔ اپنے گھر میں رکھ لیا اور خود شہر چچازاد یعنی عارفہ کے والد کے پاس گئے انہیں بتایا کہ پڑوسی کو آگاہ کر دو کہ ان کی بیٹی بحفاظت ہمارے گھر میں موجود ہے، وہ آ کر لے جائیں۔
شام ہو چکی تھی۔ میں اسکول سے گھر نہیں پہنچی تھی، ظاہر ہے کہ گھر والے پریشان تھے ایسے وقت میں جبکہ والدین پریشانی کی انتہا پر ہوں لڑکی کی خیریت مل جانا ان کے لئے نئی زندگی کی نوید ہوتی ہے۔ والد اور چچا نے اپنا غصہ دبا لیا اور عارفہ کے والد کے ہمراہ جنید کے والد کے گھر پہنچے۔ مجھے پیار سے سمجھا کر گھر لے آئے لیکن گھر آ کر بہت سختی سے پیش آئے۔ دہلیز سے قدم باہر رکھنے پر بھی پابندی لگا دی۔
جنید کے والد نے ابو اور چچا کو بتایا دیا کہ آپ کی لڑکی میرے بیٹے سے شادی کے لئے کہتی ہے، ہم مجبور ہیں جنید کی منگنی بچپن میں ہوگئی تھی۔ آپ اپنی لڑکی کو سمجھایئے تاکہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہ کرے اور نہ ہمارے گھر آئے۔
یہ بات بھی ہمارے خاندان کے لئے سبکی کا باعث بنی تھی۔ انہوں نے میرا اسکول جانا بند کرا دیا، تب میں غصے میں اپنے والد کے ایک عزیز چچا افتخار کے گھر چلی گئی۔ ان کی بیوی نے مجھے بہت سمجھایا کہ تم میرے ساتھ اپنے گھر چلو وعدہ کرتی ہوں کہ تمہارے ابو اور چچا سے یہ بات منوا لوں گی کہ وہ تم پر تعلیم کا دَر بند نہ کریں اور اسکول جانے کی اجازت دے دیں۔ چچا افتخار اور ان کی بیگم کے ہمراہ میں دوبارہ والدین کے گھر آ گئی لیکن تین روز اُن کے گھر رہنے کے بعد۔ اس بار میرے گھر والوں کو مجھ پر اتنا طیش تھاکہ مارنے پر تیار تھے۔ چچا افتخار اور ان کی بیوی کے سمجھانے پر انہوں نے اپنا غصہ دبا لیا۔
تین روز تک وہ یہی سمجھتے رہے تھے کہ میں دوبارہ جنید کے گھر چلی گئی ہوں۔ پہلے روز افتخار چچا آئے اور مجھے اسکول لے گئے لیکن بعد میں ابو نے اسکول نہ جانے دیا وہ مجھے بُرا بھلا کہتے اور نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ چچی اور ان کی لڑکیوں نے تو حقارت آمیز سلوک کر کے میری زندگی اجیرن کر دی۔ بمشکل ساتویں کا امتحان دیا، پھر یہ لوگ میرے پیچھے پڑ گئے کہ اس کا اسکول جانا بند کر دو۔ میں گھر سے اب فرار چاہتی تھی، لیکن موقع نہ ملتا تھا۔ جس روز الیکشن تھا اس سے ایک دن پہلے مجھے گھر سے نکلنے کا موقع مل گیا کیونکہ سبھی الیکشن میں مصروف تھے، لہٰذا میں نے سوچا یہ دن تمہارے ساتھ سکون سے گزار سکوں گی۔ پس یہاں آ گئی۔ میں صرف سکون حاصل کرنے کو یہاں آئی تھی اور کہیں جانے کا ارادہ نہ تھا۔ واقعی تمہارے گھر مجھے بہت سکون ملا ہے اور اب نہیں چاہتی کہیں جائوں۔ گھر واپس لوٹ کر اس جہنم میں جانے کو بالکل دل نہیں چاہتا۔
لیکن تمہیں گھر توجانا ہی ہے شنیلا اپنے والدین کی عزت کی خاطر… میرے والدین ہمیشہ تمہیں نہیں رکھ سکتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر تم والدین کا کہنا نہیں مانو گی اور گھر نہیں جائو گی تو بے چارے وہ لوگ جن پر تمہارے ابو اور چچا نے اغوا کی رپورٹ کرا دی ہے وہ جیل چلے جائیں گے، حالانکہ ان شریف لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔
یہ بات البتہ اس سر پھری لڑکی کی سمجھ میں آ گئی اور وہ گھر جانے پر آمادہ ہوگئی میں نے اپنے والدین کو آگاہ کر دیا کہ شنیلا کے ابو کو بلوایئے وہ اپنے گھر جانے پر راضی ہے۔ والد نے اس کے والدین کو فون کیا تو انہوں نے حیرت انگیز طور پر ایسا جواب دیا جس کی ہمیں ہرگز توقع نہ تھی۔ انہوں نے کہا ہمیں ایسی بیٹی کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اسے اپنے پاس رکھیں اور جہاں چاہیں اس کی شادی کر دیں۔
سیاسی مخالفت کے باوجود میرے چچا اور والد… شنیلا کے والد کے پاس گئے اور سمجھایا کہ بچی سے ناراضگی ختم کر دیں، بچّے نادان ہوتے ہیں… یہ ضرور ہماری بیٹی ہے رشتہ کرنے پر بھی ہم راضی ہیں لیکن آپ کی شمولیت لازمی ہے۔
یوں نادان شنیلا کو ایک بار پھر اس کے والد کے گھر کی چار دیواری میں پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اُس کی شادی چچا کے بیٹے سے ہوگئی اور وہ سکون سے اپنے گھر میں آباد ہوگئی۔ میرے والد نے حفیظ صاحب کو آمادہ کیا اور جنید کے والد پر درج پرچہ انہوں نے ختم کروا دیا، لیکن اس سر پھری لڑکی کی وجہ سے میرے ابو اور چچا کی برسوں کی حفیظ صاحب سے سیاسی مخالفت بھی ختم ہوگئی۔ (ک، ر… لاہور)