Yeh Bandhan Tootey nahi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1916
ہم پہاڑوں کے باسی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دل بھی پہاڑوں جیسے سخت ہوتے ہیں۔ کسی کو کیا خبر ہماری مجبوریاں کیا ہوتی ہیں۔ یہاں زندگی بھی اتنی ہی کٹھن ہے جیسے ہمارے بسیرے، جو سنگلاخ چٹانوں کو تراش کر بنائے جاتے ہیں۔ بے شک زندگی کی سختیاں سہتے سہتے ہمارے دل سخت ہوجاتے ہیں مگر وہ پتھر نہیں ہوتے! یہاں … پہاڑی علاقوں میں آباد قبیلوں کے اپنے رسم و رواج اور روایات ہیں اور یہ رسم و رواج صدیوں پرانے ہیں۔ انہی میں سے ایک رواج بھولے بھٹکے مسافر کو پناہ دینا اور اس کی مہمان داری بھی ہے۔
مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتے جب میرے والد شہر سے چند کلومیٹر چڑھائی پر آباد ایک بستی میں رہا کرتے تھے۔ حیات کا گھر ہمارے پڑوس میں تھا۔ اپنی بستی سے ہم پیدل اکھٹے اسکول پڑھنے جایا کرتے تھے۔
میرے والد وہاں پرائمری اسکول ٹیچر تھے۔ وہ حیات سے اپنے بچوں جیسا پیار کرتے تھے کیونکہ والد بھی میرے بابا کی طرح ایک اسکول ٹیچر تھے۔ دونوں بزرگوں میں بچپن سے دوستی تھی۔ ان دنوں آٹھویں پاس کو ’’جے وی‘‘ ٹیچر کہتے تھے اور اس علاقے میں ’’جے وی‘‘ ٹیچر کا ملنا بھی ایک معجزے سے کم نہ تھا۔
یہاں تعلیم عام نہ تھی، تب ہی جے وی ٹیچر کو بہت عزت ملتی تھی۔
ایک قبائلی ہونے کے باجود والد صاحب کو تعلیم کی اہمیت کا احساس تھا۔ تاہم میں تیسری جماعت سے آگے نہ پڑھ سکی۔ خدا جانے کیا دشمنی تھی کہ والد صاحب ایک روز کسی کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ سرکار کی طرف سے ملا ہوا کوارٹر خالی کرنا پڑا اور ماموں ہمیں اپنے ساتھ لے آئے۔
جہاں ماموں کا گھر تھا یہ بھی ایک پہاڑی بستی تھی۔ والد کی وفات کا دکھ تو تھا مگر حیات سے جدائی کا بھی دکھ بہت تھا کیونکہ ہم نے بچپن ساتھ کھیلتے گزارا تھا۔ اس کے والد میرے بابا کے دوست تھے اور ان کا خیال تھا جب میں اور حیات پڑھ لکھ لیںگے تو ہم دونوں کو شادی کے بندھن میں باندھ دیں گے۔ بابا کو زندگی نے مہلت نہ دی، یوں ہماری شادی کے بندھن کی نوبت نہ آئی۔ میں اور حیات جیون ساتھی نہ بن سکے کیونکہ ہماری قسمت میں تو ملن کی جگہ جدائی لکھی گئی تھی ۔
ان دنوں تو ایسا یقین تھا کہ کبھی جدا نہ ہوں گے مگر جدائی کی گھڑی دبے قدموں آتی ہے اور سمندر کی تند لہروں کی طرح کہ ایک سے دوسرے سے بہا لے جاتی ہے۔
ماموں کے گھر دل نہ لگتا تھا۔ اپنا گھر اور شہر یاد آتا تھا۔ مگر میں ایک مجبور لڑکی تھی۔ اگر میرے پنکھ ہوتے تو اڑ کر… حیات کے پاس پہنچ جاتی کہ جس کو میں حیاتا کہتی تھی۔
لڑکپن بیت گیا اور پھر ماموں نے میرا بیاہ اپنی بستی کے ایک نوجوان سے کرا دیا… میں رخصت ہوکر ماموں کے گھر سے سسرال آگئی۔
بیاہ سے چند دن پہلے امی اور ماموں شہر گئے تھے میری شادی کے جوڑے خریدنے تھے۔ تب ہی اماں حیات کے گھر بھی گئی تھیں، وہاں ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کیا تھا۔
اس روز دو گھڑی کو مجھے حیات سے بات کرنے کا موقع بھی مل گیا تھا۔ اسے میرے بیاہ کا بڑا دکھ تھا۔ وہ رو رہا تھا یہ ہماری آخری ملاقات تھی، میں بھی رو رہی تھی۔
اس نے کہا تھا… گل رعنا… اگر میں تیری بستی آیا تو کیا تو مجھ سے ملے گی؟ تب میں نے کہہ دیا تھا ’’حیات‘‘ تو کبھی میری بستی مت آنا کیونکہ میں تجھ کو ہرگز نہ مل سکوں گی!
یہ ملاقات یادگار ہوگئی کیونکہ اس آخری ملاقات کے پھندے سے میں کبھی بھی آزاد نہ ہوسکی۔شادی کی رسمیں ادا ہوگئیں… لیکن میری روح نے ان رسموں کو قبول نہ کیا۔ اسی سبب کافی دنوں تک شوہر کے گھر میں جی نہ لگا… رہ رہ کر اپنے شہر کی گلیاں اور حیات کی باتیں یاد آتی تھیں۔ جی کرتا کہ شادی کے اس پنجرے کو توڑ دوں اور پرندہ بن کر اڑ جائوں۔ حیات کے پاس نہ سہی، کھلی فضا میں تو سانس لے پائوں گی۔
میری شادی کو صرف چھ ماہ گزرے تھے۔ یہ سخت سردیوں کا موسم تھا، جب ایک یخ بستہ رات کسی نے دستک دی، میرے سرتاج کا نام میر تاج تھا انہوں نے پوچھا… کون ہے …؟
مسافر ہوں… صدا آئی اور یہ صدا سن کر کانپ گئی کیونکہ اس آواز کو میں کائنات میں بکھری ساری آوازوں کے درمیان پہچان سکتی تھی… یہ حیات کی آواز تھی!
اس نے کہا تھا کہ میں ایک دن ضرور آئوں گا اور میں نے منع کیا تھا کہ کبھی مت آنا۔ تو پھر وہ کیوں آگیا تھا۔ مسافر بن کے؟
میر تاج نے دروازہ کھول دیا… کیونکہ وہ بھی ایک ’’جے وی‘‘ ٹیچر تھا۔ سفر کی مشکلات سے آگاہ تھا اور ایک قبائلی ہونے کے ناتے مہمان داری کے آداب بھی جانتا تھا۔ اس رات یخ بستہ ہوا کے جھکڑ سے چل رہے تھے اور مسافر سردی سے کانپ رہا تھا۔
اندر آجائو… بھائی… تم تو کانپ رہے ہو۔ بہت دور سے پیدل چل کر آرہے ہو؟ لگتا تو یہی ہے… مسافر کے اندر آتے ہی میر تاج نے دروازہ بند کردیا کیونکہ ٹھنڈی ہوا منٹوں میں گھر کو سردخانے میں تبدیل کر دیتی تھی ۔
میں نے اپنے حجرے کی اوٹ میں سے جھانکا… میری نگاہوں کے سامنے ایک خستہ حال مسافر تھا جس کے چہرے سے حزن و ملال ٹپک رہا تھا اور تھکن سے بدن نڈھال معلوم ہوتا تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ آتش فراق میں سلگ سلگ کر وہ سوکھ کر کانٹا ہوچکا تھا۔
میر تاج اسے انگیٹھی کے پاس لے آیا… وہاں مٹی کے دائرے میں انگارے دھک رہے تھے اور ہال کمرے میں لالٹین کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
یہاں بیٹھو… آگ تاپو۔ کہاں جارہے تھے جو اتنی رات پڑ گئی؟ بارکھاں سے چلا تھا کہ سواری رستے میں خراب ہوگئی۔ مزار پر حاضری دینے آیا تھا۔ منزل زیادہ دور نہیں تھی مگر رات پڑ گئی ہے، آج ہوا برفانی ہے۔ آگے سفر کی ہمت نہیں ہے۔ رستے میں پہلا یہی گھر ملا… سوچا رات بسر کرنے کی درخواست کروں گا۔ اجازت مل گئی تو آرام کرلوں گا پھر صبح تڑکے نکل جائوں گا۔
میرے سسر نے نماز ختم کی تو سلام پھیر کر کہا… ہاں کیوں نہیں تم مسافر ہو… اور ہمارے پاس مسافر کو ٹھہرانے کا بندوبست ہے۔ تم یہاں آج رات آرام سے گزار سکتے ہو، پھر انہوں نے مجھے پکارا۔ بیٹی… مسافر کے لئے کھانا تیار کرکے یہاں بھیجوا دو…
میں کھانا کھا چکا ہوں بزرگوار۔ توشہ ساتھ لایا تھا۔ صرف سونے کا ٹھکانہ چاہئے۔
ٹھیک ہے۔ میر تاج نے کہا۔ ہمارے گھر سے ملا ہوا ایک حجرہ باہر کی جانب ہے۔ یہ مسافروں کے لئے ہی ہے۔ کئی بھولے بھٹکے مسافر سردی یا سخت بارش کی وجہ سے جب آگے سفر جاری نہیں رکھ پاتے تو ہم ان کو ٹھہرا لیتے ہیں۔ ہمارا گھر راستے میں ایسی جگہ ہے کہ کسی بھی مسافر کو قیام کی سہولت میسر آسکتی ہے۔
میری ساس نے کہا… بیٹی کھانا نہ سہی اس مسافر کی چائے سے ہی تواضع کردیتے ہیں۔ بہت سردی میں آیا ہے۔ گرم چائے سے اسے راحت ملے گی۔ چائے بناکر میں نے ساس کے ہاتھوں میں پیالی تھما دی اور وہ پیالی حیات کے ہاتھوں میں دے کر خود مہمان کے لئے بستر درست کرنے چلی گئیں۔ میر تاج نے ایک چھوٹی انگیٹھی کو دہکتے کوہلوں سے بھرا اور وہ بھی ماں کے پیچھے چلے گئے۔ تب ہی میں اپنے سسرال والوں کا ایک اجنبی مسافر سے یہ حسن سلوک دیکھ کر حیران رہ گئی۔
جب میر تاج حیات کو مہمان خانے میں پہنچا آئے تو میں نے شوہر سے کہا۔ آپ لوگوں نے ایک اجنبی کو مہمانوں کے حجرے میں کیوں ٹھہرا لیا ہے خدا جانے یہ کون شخص ہے؟
بیٹی یہ ہمارا دستور ہے، میرے سسر نے جواب دیا تھا۔ ’’مسافر‘‘ مسافر ہوتے ہیں۔ وہ مصیبت میں ہوتے ہیں، برے نہیں ہوتے۔
اس رات میں بہت بے چین تھی۔ حیاتے کا آنا کھل رہا تھا۔ جیسے اس نے میرے دل میں چھپے ہوئے چور کو جگا دیا ہو۔ خود کو مجرم محسوس کرنے لگی… تمنا کی کہ حیات ابھی اور اسی وقت چلا جائے اور وہ مزید ایک لمحہ بھی یہاں نہ ٹھہرے۔ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس مسافرکے بارے میںکبھی ایسا نہ سوچتی۔ کیونکہ رات بہت سرد تھی مگر جانتی تھی کہ حیاتا صرف میری ایک جھلک دیکھنے کو آیا ہے۔ اس کی نیت سمجھ کر ہی تو مجھے غصہ آرہا تھا۔ ڈر تھا کہ آج رات کی پناہ کے بعد وہ کسی نہ کسی بہانے بار بار یہاں آکر دستک نہ دے، تب ہی میں نے سسر سے کہا۔
چاچا جی… اب پرانی رسمیں چھوڑئیے۔ کسی اجنبی مسافر کو یوں رات گئے گھر پر ٹھہرانے سے بستی والے کیا سوچیں گے…؟
بستی والے کچھ نہیں سوچیں گے۔ بیٹا، یہ اس بستی کی روایت ہے کہ جب کوئی مسافر یہاں سردی یا بارش میں رات گئے در پر دستک دے تو اسے ٹھہرا لیا جائے… اس دستک پر جو گھر بھی اپنا در کھول دے مگر مسافر کو نہ ٹھہرائے تو لوگ ضرور ایسے گھر کے سربراہ کو سرزنش کرتے ہیں۔
ان کا جواب سن کر دل کو دھکا لگا۔ میں رونے لگی تو میرتاج اور ساس سسر … سب ہی نے مجھے حیرت سے دیکھا۔ گویا مجھے کسی غیر کا اپنے گھر ٹھہرنا اچھا نہیں لگا تھا۔ آپ مسافر کو کہتے کسی دوسرے گھر ٹھہر جائے!
میرے رونے پر وہ پریشان ہوگئے۔ آخر میں ان کی بہو تھی اور وہ اجنبی مسافر وہ تو ایک اجنبی ہی تھا… اس کے ساتھ ان کا کیا رشتہ تھا۔ تب ہی میری ساس بولی… یہ شہر میں رہتی تھی، اسی لئے شہری لڑکیوں کی طرح سوچتی ہے۔ ہمیں تو اس مسافر سے کچھ خطرہ نہیں۔ چلو پھر بھی اسے سمجھا بجھا کر بستی کے کسی دوسرے گھر میں ٹھہرا دیتے ہیں۔
میر تاج نے حیات کو کسی دوسرے گھر مہمان ٹھہرا دیا۔ جانے وہ کس دل سے، کتنے بھاری قدموں سے، ہمارے مہمان خانے سے گیا۔ اس نے نہ جانے کتنی اہانت محسوس کی… مجھے نہیں معلوم، مگر وہ رات مجھ پر قیامت کی طرح گزری۔ مجھے یہی خیال کھا رہا تھا آج کی اس یخ بستہ رات اگر کہیں اور بھی پناہ نہ ملی تو نہ جانے اس پر کیا گزرے۔
اس رات کی صبح مجھے میرتاج نے اسی قدر بتایا کہ وہ علی الصباح ہی بستی سے نکل کر اپنی راہ چلا گیا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور میں اپنے گھر میں سکون اور بے سکونی کے درمیان والی کیفیت میں جیون بسر کرتی رہی۔ یہاں تک کہ اٹھارہ بیس برس گزر گئے اور میرے پانچ بچے ہوگئے۔
وقت کے ساتھ میرے بچے جوان ہوگئے اور ساس سسر کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب اپنے شوہر کے گھر سے میرا رشتہ ایسا ہی مضبوط تھا جیسے کہ کسی قدآور درخت کی جڑوں کا زمین سے ہوتا ہے۔ جب میرتاج وفات پا گئے تب میری چھت کے چاروں مضبوط ستون یعنی میرے بیٹے جوان تھے۔ اب تو یہی میرا گھر میرا آخری ٹھکانہ تھا۔
ان دنوں میں اپنے بڑے بیٹے سرخاب کی شادی کے خواب دیکھ رہی تھی، جب ایک سرد رات کسی مسافر نے ایک بار پھر میرے در پر دستک دی۔ سرخاب نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک بوڑھا آدمی پھٹی پرانی چادر لپیٹے تھا لیکن یہ چادر اس کے بدن کی حرارت کو قائم رکھنے کے لئے ناکافی تھی، تب ہی وہ سردی سے کانپ رہا تھا… کیا تم آج رات کے لئے پناہ کے طالب ہو؟ میرے بیٹے نے پوچھا۔ بوڑھے نے سر ہلایا تو سرخاب بولا… اچھا تو پھر جلدی سے اندر آ جائو… اور انگیٹھی کے پاس بیٹھ جائو…
بابا…آپ کہاں سے آرہے ہیں؟ سرخاب نے سوال کیا۔
میں مسافر ہوں بیٹا۔ مزار کی زیارت کے لئے آیا تھا۔ رستے میں رات پڑ گئی… اب آگے سفر جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔
ہمارے پاس ایک حجرہ ہے جہاں کبھی کبھی بھولے بھٹکے مسافر پناہ لیتے ہیں۔ یہ حجرہ میرے پردادا نے آپ جیسے مسافروں کے لئے بنوایا تھا کیونکہ ہمارا گھر رستے کے کنارے پر ہے۔ یہاں کبھی کبھار تھکے ماندے مسافر آ ہی جاتے ہیں۔ جو پہاڑوں میں پیدل سفر کرتے ہیں ان کے لئے رات کو اپنا سفر جاری رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ سرخاب نے بتایا۔
کوئلے خوب دہک رہے تھے مگر مسافر کی سردی دور نہ ہورہی تھی، وہ ابھی تک کانپ رہا تھا۔ آگ کی لپٹوں میں اس کا بوڑھا چہرہ جبر و استبداد زمانہ کا آئینہ دار تھا۔ اس چہرے کے آئینے میں اپنی جھلک دیکھی تو کانپ گئی… میں خود کو بڑی بدصورت نظر آرہی تھی کیونکہ یہ چہرہ حیاتے کا تھا۔
جب سرخاب میرے کمرے میں آیا تو اس نے مجھ سے استدعا کی کہ ماں ایک پیالہ چائے بنا دو۔ ایک مسافر آیا ہے وہ بوڑھا ہے اور سردی سے کانپ رہا ہے۔
آج سردی بہت ہے۔ آج ہر شخص ہی سردی سے کانپ رہا ہے۔ مجھے تو دیکھو… میرے بیٹے نے مجھے کانپتے دیکھ کر کہا۔
ٹھیک ہے اماں… میں خود اس کے لئے چائے بنا دیتا ہوں۔ مگر یہ تو بتائو کہ کچھ روٹی اور سالن بچا ہوا ہے؟ میں نے اپنے بیٹے سے کہا… سرخاب دیکھو… تمہارے والد کی وفات کے بعد ہم نے مسافروں کو اپنے گھر ٹھہرانا بند کردیا ہے کیونکہ مسافر کو مالک کی اجازت سے ٹھہرایا جاتا ہے جب مالک ہی موجود نہیں ہے تو مسافر کیسے ٹھہر سکتا ہے… اس لئے اس سے کہو کہ یہ یہاں سے چلا جائے اور بستی کے کسی اور گھر کے دروازے پر دستک دے۔
سرخاب نے حیرت سے مجھے دیکھا… مگر اماں جان… یہ تو بوڑھا آدمی ہے… بہت تھکا ہوا ہے۔ باہر سخت ٹھنڈ ہے میں آپ سے درخواست گزار ہوں کہ آپ اس کو ٹھہرنے کی اجازت دے دیں۔ اس وقت جبکہ وہ ہماری چھت کے تلے پناہ بھی لے چکا ہے، کیسے ہم اسے گھر سے نکال سکتے ہیں۔
جو بھی ہے مگر یہ میرا حکم ہے۔ تم میری اجازت کے بغیر یہاں پر کسی مسافر کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ سرخاب مجبور ہوگیا… وہ میری حکم عدولی کی جسارت نہیں کرسکتا تھا اور یوں وہ مسافر جو دوسری بار پناہ کی درخواست لے کر میرے در پر آیا تھا اپنے تھکے ہوئے بھاری قدموں کو گھسیٹتا ہوا چلا گیا۔
میں نے جلدی سے گھر کا دروازہ بھیڑ دیا۔ ایسا کرتے ہوئے میرے دل کی کیا حالت تھی یہ بتا نہیں سکتی… سرخاب مجھ سے ناراض تھا، اس نے کہا ماں… میں آپ کو ایسا سنگدل نہیں سمجھتا تھا۔ آپ نے ایک بوڑھے مسافر کو پناہ نہ دے کر اچھا نہ کیا۔ اس کی پیرانہ سالی کا بھی خیال نہ کیا۔ میں تو اس کی پیرانہ سالی کا سوچ کر رات بھر نہیں سو سکا۔ میں نے بیٹے کی بات سن کر سر جھکا لیا۔ کیا بتاتی کہ یہ تو وہ مسافر تھا کہ جس کے قدموں کی آہٹ سننے کوعمربھر میرے کان ترستے رہے ہیں اور جس کے لئے کبھی ایک لمحے کو بھی میں نے اپنے دل کا دروازے بند نہیں کیا۔ وہ رات بھاری تھی مگر میں نے اک وہی رات ہی نہیں عمر کی تمام راتیں اسی طرح کا عذاب سہتے ہوئے گزاری تھیں۔
ہماری زندگی ایک دنیا دکھاوے کی ہوتی ہے اور دوسری دل کی دنیا ہوتی ہے۔ دکھاوے کی زندگی کی خاطر دل کی دنیا کو قربان کرنا ہی پڑتا ہے کیونکہ شادی کے بندھن اور اولاد کے بندھن سے ایک مشرقی عورت کبھی آزاد نہیں ہوسکتی۔ خاندان کی عزت کی خاطر یہ بندھن دل کے بندھوں سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
(ایس اعجاز… ڈیرہ غازی خاں)