Yeh Ghaao Bharte Nahe | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1391
ثمینہ اور میں ایک ہی آفس میں ملازم تھے۔ وہ نہایت بااخلاق ، مہذب اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ میں نے اس لڑکی میں ایسی خوبیاں دیکھیں کہ جی چاہتا اس کی والدہ کو سلام کروں جس نے اپنی بیٹی کی اتنی اچھی تربیت کی تھی۔ اس سے میری جلد دوستی ہوگئی۔
انہی دنوں امی جان بھائی احسن کے لئے رشتہ تلاش کررہی تھیں۔ ایک روز ثمینہ آفس سے میرے ساتھ آگئی ۔ بہت اصرار کرکے اسے اپنے گھر لائی تھی۔ چاہتی تھی امی ایک نظر دیکھ لیں تو میں ان کو کہوں کہ احسن بھائی کے لئے ثمینہ کا رشتہ لے لیں۔
والدہ نے ثمینہ کے ساتھ دوچار باتیں کیں۔ ان کو پہلی نظر میں یہ لڑکی بھاگئی۔ امی یہ بہت اچھی ہے۔ اگر ہم بھائی کے لئے اس کا رشتہ لیں تو… آپ کاکیا خیال ہے۔ سال بھر سے ہم ساتھ کام کررہے ہیں، میں نے اس میں بہت سی خوبیاں دیکھی ہیں۔ صنوبر بیٹی تم نے میرے منہ کی بات چھین لی۔ مجھے بھی لڑکی پسند آئی ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کا رشتہ ثمینہ کے والدین ہمیں دے دیں۔
اماں… میں نے ثمینہ سے پوچھا ہے، ابھی اس کی کہیں منگنی نہیں ہوئی ہے اور والدین بیٹی کے رشتے کی تلاش میں ہیں۔ اس کے لائق ابھی تک انہیں کوئی لڑکا نہیں ملا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ہمارے احسن بھائی کے رشتے کو رد نہ کریں گے۔ باتوں باتوں میں مجھے اندازہ ہوا ہے کہ ثمینہ اب ملازمت سے اوب گئی ہے۔ وہ گھر بسانا چاہتی ہے۔ اکثر اس کے منہ سے سنتی کہ جانے ہمارے نصیب کب کھلیں گے۔ کہیں ملازمت کے اس خارزار میں وقت سے پہلے بوڑھے نہ ہوجائیں۔
ایسا کرو کہ ایک دن احسن کو اپنے ساتھ بینک لے جائو اور ایک جھلک ثمینہ کی دکھادو، بلکہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لیں گے تو رشتے میں آسانی رہے گی۔
اماں، احسن بھائی کئی بار میرے پاس بینک آچکے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ثمینہ کو دیکھا ہے بلکہ اس سے مل بھی چکے ہیں۔ دونوں کے راضی ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تب ٹھیک ہے۔ ثمینہ سے کہہ دو کہ میری والدہ تمہارا رشتہ مانگنے گھر آنا چاہتی ہیں۔ وہ راضی ہوگی تو ہم ان کے گھر چلے جائیں گے۔
میرا اندازہ درست تھا جب میں نے ثمینہ سے صاف لفظوں میں کہا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی بولی۔ جب چاہو آجائو، مجھے کیا اعتراض… رشتہ دینا نہ دینا میرے والدین کا کام ہے۔ میں امی کو آج بتادوں گی۔ بہت یقین اور اطمینان کے ساتھ ہم اگلی شام کو اس کے گھر چلے گئے۔ خوش تھی اس کے گھر والوں نے بھی خوب آئو بھگت کی اور ہماری امید کے چراغ پوری طرح جل اٹھے، ہمیں اثبات میں جواب ملا تھا۔
کیوں نہ ملتا کہ میرے بھائی میں کیا کمی تھی۔ وہ خوبصورت ، تعلیم یافتہ اور اچھے عہدے پر فائز تھے۔ ہمارا ذاتی بنگلہ تھا اور ہم لوگ بہت خوشحال تھے۔ ایسے رشتے فی زمانہ جلد نہیں ملتے۔ چھ ماہ کے اندر اندر شادی کی تیاریاں مکمل ہوگئیں اور ثمینہ بھابی بن کر ہمارے گھر آگئی، ہم سبھی خوش تھے خاص طور پر میں جس لڑکی کو چاہتی تھی وہ ہمارے گھر کی فرد بن گئی تھی۔ احسن بھائی کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا جیسے ثمینہ کی صورت میں انہیں کوئی خزانہ مل گیا ہو۔
ابتدائی دنوں ثمینہ بھابی خوش نظر آئیں۔ بھائی نے ان کی ملازمت چھڑوادی کیونکہ وہ خود بھی ملازمت کرنا نہ چاہتی تھیں بلکہ آرام کرنا چاہتی تھیں۔ تین سال کنٹریکٹ پر کام کیا تھا۔ ان کا مزاج ملازمت کے لئے موزوں نہ تھا ۔ وہ آر ام طلب تھیں اور گھریلو زندگی بسر کرنا چاہتی تھیں۔ نوکری مجبوراً کی تھی کہ چھوٹا بھائی زیر تعلیم تھا۔ وہ ایسے ادارے میں پڑھ رہا تھا جس کی فیس بہت زیادہ تھی اور اتنی بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت اس کے والد میں نہ تھی، ورنہ مجھے یقین تھا کہ وہ روکھی سوکھی کھا کر بھی خوش رہنے والی لڑکی ہے۔ لباس پر بھی فضول خرچی نہ کرتی تھی، وہ قناعت پسند تھی۔ شادی کے بعد بھائی کی بھابی کے والدین نے دعوت کی اور پھر دعوتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ باری باری ثمینہ کے ماموں ، خالہ، پھپھو اور تایا نے بھی دولہا دلہن کو مدعو کیا۔ میں ان کے ساتھ نہیں جاتی تھی گرچہ دونوں کہتے تھے صنوبر تم بھی چلو۔ میں سوچتی بھابی کے رشتے دار ہیں ان کے میکے والوں کے یہاں بار بار جانا مناسب نہیں لگتا تھا۔
ایک روز بھابی اپنے کسی رشتے دار کے یہاں دعوت سے واپس آئیں تو کچھ
پریشان اور اداس لگیں۔ خیال کیا شاید تھک گئی ہیں لیکن یہ موڈ ان کا دوسرے دن بھی قائم رہا۔ پھر تو جیسے اداسی کے بادلوں نے ان کے وجود کو مستقل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ پہلے روز ہی سے نہا دھوکر نیا جوڑا پہنتی تھیں۔ ہار سنگھار کرتیں اور خوش نظر آتیں۔ ہمارے ساتھ ہنستی بولتیں، بھائی جان سے مذاق چلتا لیکن اب چہرے پر ویرانی آگئی تھی۔ کئی دن تک میک اَپ کے سامان کو ہاتھ نہ لگایا۔
مجھے گمان نہ تھا کہ ان کے ساتھ ماضی میں کوئی ناکام رومان جڑا ہوا ہے اور ناکامی کی اذیت سہ سہ کر بالآخر انہوں نے شادی کرکے اس غمزدہ کیفیت سے نجات حاصل کرنے کی ٹھانی تھی۔ جس میں وہ عارضی طور پر کامیاب ہوگئیں، کچھ دن ہی خوش رہ سکیں۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ لڑکی کتنی گہری تھی کہ سال بھر تک میرے ساتھ کام کرتی رہی لیکن ایک لمحے کو بھی مجھے یہ اندازہ نہ ہوا کہ ہر دم ہنستی مسکراتی لڑکی اندر سے کتنی دکھی ہے۔ اسے اللہ نے کمال ضبط عطا کیا تھا۔ اپنے دکھ کی ہوا تک کسی کو لگنے نہ دیتی تھی۔ یہ بعد میں اندازہ ہوا جب اصل حقیقت سامنے آئی کہ اس کے وجود میں ہر لحظہ یادوں کی صف ماتم بچھی رہتی ہے۔
ہمارا سارا گھرانہ ان پر ایسے فریفتہ تھا جیسے پروانے شمع کے گرد پھرتے ہیں۔ جھولی بھر بھر خوشیاں بھائی جان ان کے دامن میں بھرتے لیکن وہ خوش نہ ہوتیں اور لمبی لمبی آہیں بھرتیں۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ اچانک ان کو کیا ہوگیا ہے۔ شادی مرضی اور پسند سے ہوئی تھی، زبردستی کسی نے نہ کی تھی۔ ادھر ہم پریشان تھے کہ کیسے ثمینہ کو خوش کریں، ادھر انہوں نے ایک او رروش اپنالی۔ ذرا سی بات کا بہانہ بنا کر روٹھ کر میکے چلی جاتیں اور ہفتوں لوٹ آنے کا نام نہ لیتیں۔
امی ابو، میرے بہن بھائی اور احسن بھائی سبھی ان کو چاہتے تھے۔ غرض گھر کا ہر فرد پریشان تھا۔ ہمارے خوشیوں بھرے گھر میں اب ہر دم مایوسی کی گھٹائیں چھائی رہتی تھیں۔ میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی کیونکہ وہ میری سہیلی تھی اور چہیتی بھابی … بھابی کہتے کہتے میرا منہ نہ سوکھتا تھا مگر انہوں نے گھر آباد نہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ اس بار میکے گئیں تو کہلوادیا کہ مجھے کوئی لینے نہ آئے۔ میں اب واپس نہیں آئوں گی۔
پریشانی کی بات تو تھی مگر زیادہ حیرانی اس وجہ سے تھی کہ آخر وہ کیوں ایسا کررہی ہیں ۔ ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے اور ان کے اس منفی رویے کا سبب کیا تھا یہ معلوم نہ تھا جبکہ انہیں ہم سے کوئی شکایت تھی اور نہ ہم سے کوئی ایسی خطا سرزد ہوئی تھی جس پر وہ ایسا شدید ردعمل ظاہر کرتیں۔
امی ابو نے ان کے والدین سے دریافت کیا۔ اگر بہو کو ہم سے کوئی شکایت ہے تو بتادیں ہم ہر طرح معاونت کے لئے تیار ہیں۔ احسن بھائی کو ثمینہ سے اتنی محبت ہوگئی تھی کہ وہ اپنی پیاری بیوی کی جدائی برداشت نہ کر پا رہے تھے۔ کبھی سوچتی کہیں ان کے دل میں پہلے سے تو کوئی آباد نہ تھا کہ جو اپنا بنا بنایا گھر اب ویران کرنا چاہتی ہیں۔ یہ تو یقین ہوگیا کہ وہ اب ہمارے گھر میں رہنا نہیں چاہتیں۔ کہتی تھیں بے شک میرا سارا جہیز رکھ لو جو زیور مجھے چڑھایا ہے بری میں وہ واپس لے لو۔ حق مہر بھی معاف کرتی ہوں۔ بس مجھے واپس گھر آنے پر مجبور نہ کرو… ان کے اور ہمارے گھر والوں نے منتیں کرکے دیکھ لیں۔ وہ سسرال آنے پر راضی نہ ہوئیں۔ بھائی ان کے میکے جاتے وہ کمرہ لاک کرلیتیں یا پڑوس میں جا بیٹھتیں۔
میں کسی طرح ملی… پائوں پر ہاتھ رکھ دیئے کہ ہمیں ویران نہ کرو۔ میرا بھائی اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ بہت پریشان ہیں۔ خدارا گھر برباد نہ کرو۔ جواب دیا۔ مجھے آباد دیکھنے کی کوشش میں کہیں تم برباد نہ ہوجائو ۔ میں دلگرفتہ واپس آگئی۔ انہی دنوں ابو کو ہارٹ اٹیک ہوگیا۔ ہم نے ثمینہ کے والدین کو اطلاع کی وہ فوراً اسپتال آگئے۔ نجانے کیسی منتیں کی ہوں گی کہ ثمینہ کو بھی ساتھ آنا پڑا۔ وہاںبھائی جان کو دیکھا۔ احسن کی حالت دیکھ کر ثمینہ کے والدین کو دکھ ہوا۔ بیٹی سے کہا اگر ہمارا مان رکھنا ہے۔ اور اپنے اوپر ہمارا حق جانتی ہو تو اپنے شوہر کے ساتھ ابھی گھر جائو۔ اور اس کی پریشانی میں شریک ہوجائو ورنہ تم ہماری بیٹی نہ ہوگی۔ غرض مارے باندھے مجبور ہو کر وہ احسن بھائی کے ہمراہ گھر آگئیں۔ شاید اپنے دل میں چند دنوں کا سمجھوتہ کرکے ہمارے درمیان
رہنے لگیں۔
پندرہ دن بعد ان کی بہن کی شادی تھی، وہ شادی میں شرکت کے لئے گئیں، ہمیں بھی بلایا تھا۔ امی نے مجھے کہا کہ تم چلی جائو تمہارے والد کو ابھی دیکھ بھال کی ضرورت ہے میں نہیں جاسکتی۔ مگر چاہتی ہوں کہ ہماری طرف سے کوئی ضرور شادی میں شریک ہو تاکہ بہو کے میکے کے ساتھ تعلقات استوار رہیں۔
رات دیر تک شادی کی رسومات چلیں تو رات ان کے گھر ہی رکنا پڑا۔ شادی میں بھابی کے کزن بھی آئے ہوئے تھے۔ ان میں ایک کزن جو ماموں کا بیٹا تھا جس کا نایاب نام تھا وہ بھی آیا ہوا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت چپ چپ ہے جیسے مسکرانا جانتا نہ ہو، آنکھوں میں بھی حسرت بھری تھی۔ وہ جب بھابی پر نگاہ ڈالتا یہ نظریں چرالیتیں اور ٹھنڈی آہ اس نوجوان کے لبوں سے نکل جاتی۔
ایسا متعدد بار ہوا تو میرا شک یقین میں بدل گیا کہ ان دونوں کے بیچ ماضی کی کوئی بھولی بسری کہانی ہے بلکہ ایسی یادیں جو کبھی بھلائی نہیں جاسکتیں۔
مجھے ٹوہ لگ گئی۔ بھابی کی ایک رشتہ دار لڑکی سے پوچھا یہ کون لڑکا ہے۔ بولی۔ آپ نہیں جانتیں ثمینہ کا کزن ہے۔ ان سے شادی کا کہتا تھا پھر شادی نہیں کی تو ہماری بی بی کا دل ٹوٹ گیا، بہت بیمار ہوگئی تھیں آخر اللہ نے صبر دے دیا۔ سب کچھ بھلا کر نوکری کرلی اور شادی بھی اللہ نے اچھے گھر میں کرادی ہے۔ اب اس ہیرو کے دل میں دوبارہ ثمینہ کی محبت جاگ اُٹھی ہے۔ باسی کڑہی میں اُبال آگیا ہے ۔ ضد کرنے لگا ہے ثمینہ کو طلاق دلوائیں، میں شادی کروں گا۔ وہ میری تھی اور میری رہے گی۔ ان کے ماں باپ نے سمجھایا کہ جب ہم چاہتے تھے ثمینہ کو بہو بنا کر لائیں تو تم اکڑتے تھے۔ منگنی کرکے شادی سے منکر ہوگئے، اس بچاری کو ایسا صدمہ دیا کہ مرتے مرتے بچی، تب سبھی نے سمجھایا تھا کہ ایسا مت کرو لیکن تم پر جانے کس کے عشق کا بھوت سوار تھا۔ اس وقت ثمینہ اچھی نہ لگتی تھی اب جبکہ وہ شادی کرکے اپنے گھر چلی گئی ہے اب اس کے لئے مرے جاتے ہیں۔
یہ عجیب قصہ تھا کہ سابقہ منگیتر اب اس کے بغیر جینے سے انکاری تھا۔ شاید وہ نفسیاتی طور پر حسد کی آگ میں جل اٹھا تھا۔ اس کے گھر جب ثمینہ کی دعوت تھی اس نے موقع پاکر کہا اگر تم نے طلاق لے کر مجھ سے شادی نہ کی تو میں جان دے دوں گا کیونکہ تمہارے بغیر سانس لینا محال ہوگیا ہے۔ اب پتا چلا ہے کہ تم میرے لئے کتنی اہم ہو۔
سچ کہتے ہیں کہ دور چلے جانے سے انسان کی قدر ہوتی ہے یا پھر مرجانے کے بعد قدر آتی ہے۔ ثمینہ بھی اصل میں نایاب ہی کو دل سے چاہتی تھی مگر اب مجبور ہوگئی تھی اور شادی کے بندھن میں بندھ گئی تھی اور شادی کا بندھن کچے دھاگے سے تو نہیں باندھا جاتا، کہ ایک جھٹکے سے ٹوٹ جائے۔
نایاب کے بار بار تقاضوں سے وہ پریشان رہنے لگی اور جب اس نے اپنا گھر بچانے کے لئے ملنے سے انکار کردیا تو اس نے زہر پی لیا، جان کنی کے عالم میں اسپتال جا پہنچا۔
اس واقعے نے ثمینہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میں جس سے محبت کرتی ہوں اور جو دل کی گہرائیوں سے ابھی تک مجھے چاہتا ہے، کیوں نہیں اسی کو منتخب کرلوں، مصنوعی زندگی گزارنا خود کو اپنے ہاتھوں سولی چڑھانے کے مترادف ہے۔ پس اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ احسن سے طلاق لے کر اپنے محبوب سے شادی کرکے اسے نئی زندگی دے دے گی، اس میں خود اس کی اپنی خوشی مضمر تھی۔
یہ حالات جان کر میں سکتے میں آگئی۔ داد دینی پڑی اس لڑکی کے حوصلے کی۔ اپنی شخصیت پر خول چڑھا کر مہارت سے دل کی نگری کو چھپا کر دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی۔ ہم سادہ لوح لوگوں کو بے وقوف بنادیا۔
ایسی بات بھی نہ تھی… شاید محبوب بے وفا سے مایوس ہو کر سوچا ہوگا کب تک اس کی یاد میں سسک سسک کر زندگی گزاروں گی جبکہ اسے میری پروا بھی نہیں ہے، خود ٹھکرارہا ہے مجھے اور ٹھکرائے جانے کا درد وہی جانتے ہیں کہ جن کو ان کے پیارے پہلے پیار کا یقین دلاتے ہیں پھر چوٹی پر لے جاکر اوپر سے دھکادے کر غموں کی گھاٹیوں میں گرادیتے ہیں۔
ثمینہ کے دل میں اس قدر نایاب کی محبت راسخ ہوگی اسے خود معلوم نہ تھا اتنا بڑا دکھ سہ کر بھی وہ اس کی محبت کو اپنے دل سے نہیں نکال سکی تھی۔
میرے بھائی سے شادی کا فیصلہ اس نے ایک وقتی جذبے کے تحت کیا تھا۔ نایاب کو جلانے کے لئے، رقابت کی آگ میں سلگانے کے لئے یا پھر وہ خود اس مسافر کی مانند تھی۔ جو دنوں میلوں شدید دھوپ


تپتی ریت پر ننگے پائوں چلتے چلتے اس قدر تکلیف سے گزرتا ہے کہ ذرا دیر کو کسی چھائوں تلے رک کر دم لینا چاہتا ہے۔ چاہے وہ چھائوں اس کے لئے ببول کے درخت ایسی ہی کیوں نہ ہو اور اب جیون ساتھی اس کے لئے ببول کانٹا بن گیا تھا کہ جس سے وہ ہرحال میں اپنا دامن چھڑانا چاہ رہی تھی تاکہ محبوب کی جنت میں آباد ہوسکے۔ یہ تھے اس کے عجیب و غریب رویے اور ماضی کی کہانی کا خلاصہ۔
وہ بزدل تھی۔ بہادری کے ساتھ حقیقت سے ہم کو آگاہ کرنے کی ہمت اس میں نہ تھی۔ وہ کھلے منہ سے بھائی جان سے طلاق نہیں مانگتی تھی مگر حالات ایسے پیدا کرنا چاہتی تھی کہ وہ خود تنگ آکر اسے آزاد کردیں تاکہ اس پر کوئی الزام نہ آئے۔
تین سال وہ میکے میں بیٹھی رہی۔ ہمارے گھر لوٹ کر نہ آئی۔ بھائی جان صبر سے اس کا انتظار کرتے رہے کہ کبھی تو واپس آنے کا سوچے گی لیکن ثمینہ نے جو ٹھانی تھی اسے وہی کرنا تھا۔ چاہے یونہی عمر بیت جاتی۔ بالآخر میں نے زبان کھولی اور اپنے بھائی کو بتایا کہ ثمینہ کسی اور کو چاہتی ہے۔ وہ خود کو کسی اور کی امانت سمجھتی ہے۔ آپ سے شادی نادانی یا مایوسی اور غصے کی کیفیت میں کرلی تھی۔ اس کا محبوب لوٹ آیا ہے وہ اب اسی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہے۔
انسان کسی کے جسم کو ملکیت بنا بھی لے تو ایسی ملکیت بے کار ہے جب تک کہ اس کی روح آپ کی ساتھی نہ بنے۔ جب روح کسی اور کی ہو اور جسد خاکی کسی اور کے نکاح میں ہو تو شادی میں حقیقی خوشیاں نہیں مل سکتیں۔
جب تک حقیقت کا علم نہ تھا ہم سب نے انہیں واپس لانے کی بہت کوشش کی خلوص دل اور نیک نیتی کے ساتھ۔ مگر اب حقیقت معلوم ہوگئی ہے تو انہیں آزاد کرنے میں ہی سب کا بھلا ہے۔ آنکھوں دیکھی مکھی نگلی نہیں جاتی۔
کافی دن احسن بھائی پریشان رہے۔ بالآخر انہوں نے فیصلہ کرلیا اور خود پر جبر کرکے ثمینہ کو آزاد کردیا۔ طلاق کے بعد عدت پوری کرتے ہی اس نے اپنے سابقہ منگیتر نایاب سے شادی کرلی۔ وہ خوش و خرم زندگی گزارنے لگی مگر افسوس میرے بھائی کے دل پر ایسا گہرا زخم لگا گئی کہ جو آج تک نہیں بھر سکا ہے حالانکہ اس سارے فسانے میں احسن بھائی کا کوئی دوش نہ تھا۔ (ص… ملتان)