Yeh Kaise Majboori Hae | Teen Auratien Teen Kahaniyan

3143
باجی بہت خوب صورت تھیں۔ سولہ برس کی ہوئیں تو رشتے آنے شروع ہو گئے۔ مگر وہ شادی کے نام سے دور بھاگتی تھیں۔ سارا دھیان پڑھائی کی طرف تھا۔ امی ابو بھی کہتے کہ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے، پڑھنے کا شوق ہے تو پڑھنے سے کیوں روکیں۔
والدین رشتے ٹھکراتے رہے۔ باجی نے بی اے کے بعد بی ایڈ کیا، پھر ایم اے کیا۔ رشتے آتے رہے مگر وہ انکار کرتی رہیں کہ ابھی نہیں۔ کچھ بنیں گی پھر شادی کریں گی۔
خدا جانے وہ کیا بننا چاہتی تھیں مگر اسکول ٹیچر ہی بن پائیں۔ کچھ عرصہ اسکول میں پڑھایا، پھر گھر بیٹھ گئیں کہ بچوں کو پڑھانا جان جوکھم کا کام ہے، دماغ تھک جاتا ہے۔
ان دنوں میں میٹرک میں تھی، نوخیز تھی۔ اب جو رشتہ آتا، وہ باجی کو نظرانداز کرتے اور میرا ہاتھ مانگتے جبکہ والدین کی آرزو تھی کہ پہلے بڑی بیٹی کے ہاتھ پیلے کریں گے۔ وقت گزرتا رہا اور رشتے واپس ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے ایف اے کر لیا۔
اب سب امی ابو کو سمجھاتے کہ تم لوگ اچھے رشتوں کو ٹھکراتے ہو۔ ایسا نہ ہو دوسری بھی بیٹھی رہ جائے۔ ان حالات سے گھبرا کر امی ابو نے باجی کے لئے رشتہ کروانے والیوں کا سہارا لیا۔
یہ رشتہ کروانے والی عورت ایک روز ایک رشتہ لائی۔ امی ابو ان لوگوں سے ملے۔ لڑکے کی تعریف میں اس کے رشتے داروں نے زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ لڑکے سے ملے۔ وہ بہت چرب زبان تھا۔ غرض میرے سادہ دل باپ نے ’ہاں‘ کہہ دی اور شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔
مہندی والے دن جب ہم لوگ لڑکے کو مہندی لگانے گئے تو میں نے پہلی بار اپنے ہونے والے دولہا بھائی کو دیکھا۔ اُف میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ پکّے سن اور معمولی شکل و صورت کا گنجا، کھوپڑی پر چمک دیکھ کر پہلے تو ہنسی آئی، پھر باجی کی قسمت پر رونا آ گیا۔ کیسی قسمت پھوٹی۔میں سوچنے لگی۔ پہلے اچھے رشتوں کو ٹھکرایا اور اب یہ اجنبی شخص انہیں ڈولی میں لینے آ گیا۔
میں نے رسم کے طور پر مہندی دولہا کے ہاتھ پر لگانی تھی۔ مہندی لگانے کو ہاتھ بڑھایا تو اس نے ہاتھ پکڑ لیا۔ میرا دل وہیں ٹوٹ گیا۔ دولہا بھائی کا جو تصور ذہن میں تھا، وہ یک دم چکناچور ہو گیا۔ میں تو کھسیا کر ایک طرف ہو گئی، تبھی دوسری رشتہ دار لڑکیاں انہیں مہندی لگانے لگیں۔
دولہا صاحب خوشی سے باچھیں کھِلائے لڑکیوں کے ساتھ بڑھ چڑھ کر مذاق کر رہے تھے۔ مجھے ایک طرف خاموش کھڑے دیکھ کر پکارا۔ادھر تو آئو۔ بھئی ہم تو سالی کے ہاتھ سے پان کھائیں گے۔ یہ فرمائش سن کر عورتیں ہنسنے لگیں۔
کہیں پان چبانے کے بہانے سالی کا ہاتھ ہی نہ چبا لینا۔ ایسی فقرے بازیاں عموماً شادیوں میں مذاق کے طور پر ہوتی ہیں۔ مگر مجھے سخت ناگوار گزرا اور میں نے مذاق کرنے والی کو گھور کر دیکھا، تبھی ایک کم عقل لڑکی فوراً پان لے آئی اور میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ لو بھئی، اپنے دولہا بھائی کی فرمائش پوری کرو۔ یہ تم سے پہلی فرمائش ہے۔ پھر تم بھی نیگ میں زیور کی فرمائش کرنا۔
تمہارے منہ میں خاک۔ میں نے جل کر سوچا مگر زبان سے کچھ نہ کہا۔ دولہا بھائی اپنا بڑا سا منہ کھولے پان چبانے کو بے تاب لگ رہے تھے۔ بار بار کہتے تھے، بھئی ہماری سالی ہو، لائوپان دو۔ میرے ہاتھ میں پان تھا مگر قدم زمین نے جکڑ لئے تھے، تبھی پان دینے والی لڑکی آگے بڑھی اور مجھے دولہا بھائی کی طرف دھکیلنے لگی۔ ناچار پان کو چٹکی میں پکڑ کر ان کے منہ کے نزدیک کیا تو انہوں نے کلائی دبوچ کر پان منہ میں رکھ لیا اور میری دو انگلیوں پر دانت مار دیئے۔ میری سسکی نکل گئی۔ آنکھوں میں آنسو بھر کے پسینہ پونچھتی میں اسٹیج سے اُتر کر بھاگی کہ اب میرا سر پیٹ لینے کو جی چاہ رہا تھا۔
رخصتی تک کھوئی کھوئی رہی۔ اب شادی کے کاموں میں بھی جی نہ لگ رہا تھا۔ اپنی پیاری باجی کو دیکھتی تو رونے کو جی کرتا۔ رخصتی کا دن آیا اور باجی اپنے دولہا کے گھر چلی گئیں۔
ان کے جانے سے گھر سونا ہو گیا تھا۔ روز یاد کر کے روتی تھی۔ ایک روز امی جان سے کہا۔ خدا جانے باجی کب آئیں گی، ان کے لئے میرا دل بہت اداس ہے۔ امی بولیں، تو چلی جائو ملنے کے لئے۔ وہ بھی تم کو یاد کرتی ہو گی۔ پھر بھائی سے کہا کہ نورین کو لے جائو، یہ بہن سے ملنا چاہتی ہے۔
بھائی نے موٹر سائیکل نکالی اور مجھے
باجی کے گھر لے گئے۔ گھر کے باہر اتار دیا اور کہا کہ جا کر مل آئو، میں باہر ہی کھڑا ہوں۔ مگر دیکھو زیادہ دیر نہ لگانا۔ بھائی اندر نہ گئے۔ میں اکیلی ہی باجی کے گھر گئی۔
اس وقت وہ اپنے دولہا ارسلان بھائی کے ساتھ بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی ارسلان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ کہنے لگے…تو آ گئی ہو نا؟ اچھا بتائو، پان لائی ہو؟ بھئی پان تو ہم تمہارے ہاتھ کا کھائیں گے۔ میں نے کوئی جواب نہ دیا، بس صبر کا گھونٹ بھر کے چپ رہی۔ باجی نے کہا۔ اچھا ہوا نورین تم آ گئیں۔ میں یاد ہی کر رہی تھی۔ یہ بتائو کھانا کھایا ہے۔ آئو ہمارے ساتھ کھا لو۔ دولہا بھائی کی حس مزاح پھڑک گئی۔کہاں کھا کر آئی ہے۔ ان کی اماں نے بھوکا ہی گھر سے بھیج دیا ہو گا، تو بھئی آئو پھر کھا لو۔ ایسے بھونڈے مذاق پر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
باجی! آپ کو دیکھنے آئی تھی، دیکھ لیا ہے، بس اب جاتی ہوں۔
کیا دیکھنے آئی تھیں۔ کیا ان کی شادی نہ ہوتی۔ عمر بھر تمہارے ساتھ رہنا تھا کیا؟ اب تو برداشت کی حد ہو گئی۔ روتی ہوئی ان کے گھر سے نکل آئی۔ باجی بلاتی رہ گئیں۔ باہر نومی کھڑا تھا۔ میں نے کہا۔ چلومل لیا ہے، آئندہ نہ آئوں گی۔ خیر تو ہے، بھائی نے حیران ہو کر پوچھا۔ کیا انہوں نے مارا ہے تم کو جو رو رہی ہو۔ ایسے میں اپنے بھائی کی یہ بات بھی اچھی نہ لگی۔
اگلے دن باجی آ گئیں۔ امی نے دعوت کی تھی۔ میری بہن خوش نظر نہیں آ رہی تھی۔ مجھ سے کچھ نہ بولیں مگر تنہائی میں جانے امی سے کیا کہا کہ وہ بھی رونے لگیں۔ مجھ سے کہا کہ اب کبھی اپنے دولہا بھائی کے سامنے نہ جانا۔
وہ کیوں؟ میں نے سوال کیا تو باجی نے جواب دیا۔ وہ کہتے ہیں یہ لڑکی مجھے اچھی نہیں لگتی، بہت بدصورت ہے اور بدتمیز بھی۔
بدتمیز اور بدصورت تو وہ خود ہیں۔ میں نے جل کر جواب دیا تھا۔
اس کے بعد جب بھی باجی آتیں، وہ ساتھ آتے اور ساتھ لے جاتے۔ مجھے لگتا باجی ارسلان کے ساتھ شادی سے خوش نہیں ہیں۔ امی ابو کی عزت کی خاطر نباہ رہی ہیں۔ امی ابو بھی اداس تھے۔ ایک روز میں نے وجہ پوچھی تو امی بولیں۔ ارسلان بہت کنجوس ہے۔ نوشین کو جیب خرچ نہیں دیتا۔ وہ کوڑی کوڑی کو محتاج رہتی ہے۔ جب آتی ہے۔ میں کچھ نہ کچھ رقم اس کے پرس میں ڈال دیتی ہوں۔ دراصل تمہارے بہنوئی کی تنخواہ زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے ہم سے جھوٹ بولا تھا کہ افسر ہیں۔ یہ افسر نہیں کلرک ہیں اور جس کوٹھی میں رہتے ہیں، ان کے چچا کی ہے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ اس انکشاف پر میرا دل ٹوٹ گیا۔ مگر کیا ہو سکتا تھا کہ جب چڑیا چگ گئی کھیت۔
اب امی ابو کو ملال ہوتا کہ نوشین کے جب اچھے اچھے رشتے آتے تھے تو ہم ٹھکراتے رہے اور ارسلان کا رشتہ فوراً منظور کر لیا۔ تحقیق بھی نہ کی۔ ایک روز ارسلان پریشان آئے، ابو سے کہا کہ چچا وطن آ رہے ہیں اور کوٹھی خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں، رہائش کا مسئلہ ہے جو میں فوری طور پر حل نہیں کر سکتا، آپ کچھ مدد کریں۔
ابو نے تسلّی دی اور اپنا پرانا مکان رہنے کو دے دیا جو عرصۂ دراز سے خالی پڑا تھا۔
باجی کو اللہ تعالیٰ نے شادی کے ڈیڑھ سال بعد بیٹا دیا اور پھر بیٹی بھی ہو گئی۔ اب وہ دو بچّوں کی ماں تھیں مگر ارسلان سے اپنی رہائش کا انتظام نہ ہو سکا۔ نوکری بھی چھوڑ دی۔ ابو سے کہا۔نوشین اور بچّوں کو کچھ دن آپ اپنے پاس رکھیں، میں کویت جا رہا ہوں، وہاں مجھے اچھی نوکری مل گئی ہے، کلرکی میں کیا رکھا ہے، آدمی اپنا گھر تک نہیں بنا سکتا۔
والد بے چارے کیا کہتے، مجبوراً بیٹی اور ان کے بچّوں کو گھر لے آئے اور ارسلان بھائی کویت چلے گئے۔ دو سال میں کافی کما لیا۔ وطن آ کر پلاٹ خریدا اور گھر بھی بنایا۔ وہ دوبارہ جانے لگے تو ابو نے کہا کہ اب اپنے بیوی، بچوں کو ساتھ لے جائو۔ ہم کب تک ان کو سنبھالیں گے۔ بچّے آپ کے بغیر اداس رہتے ہیں۔
وہ ایک ماہ رہے اور پھر نوشین باجی اور بچوں کو لے گئے۔ ایک سال کے بعد باجی اور بچّے واپس آ گئے۔ ایک اور بیٹے نے جنم لیا تھا۔ اس دفعہ میری بہن بہت افسردہ دکھائی دی۔ امّی نے پوچھا۔ ہوا کیا ہے، وہاں خوش نہیں ہو؟ کہنے لگیں، بس جی اُداس رہتا ہے۔ ارسلان روپیہ آنے سے کافی بدل گئے ہیں۔ بات بات پر الجھتے ہیں۔ بلاوجہ طعنے دیتے ہیں اور بے رخی برتنے لگے ہیں۔ پہلی بار باجی نے اپنے شوہر کی شکایت کی تھی جبکہ


بھائی بہت خوش خوش امی ابو سے ملے تھے اور بچھے بچھے جا رہے تھے۔ تبھی وہ اپنی بیٹی کی شکایت زبان پر نہ لا سکے۔
دو ماہ رہ کر باجی چلی گئیں۔ اب جب بھی وہ فون کرتیں، آواز روہانسی لگتی، جیسے ابھی ابھی روئی ہوں۔ ہر بار کہتیں کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ خدا جانے کیا ہو گیا ہے، دم گھٹا گھٹا رہتا ہے اور پوری طرح سانس نہیں آتا۔
ارسلان سے بات کی۔ اس نے کہا۔کئی ڈاکٹروں کو دکھایا ہے، علاج چل رہا ہے، دوا باقاعدگی سے اپنے ہاتھ سے کھلاتا ہوں مگر افاقہ نہیں ہے۔ کسی ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا بیماری ہے؟ لیکن آپ لوگ فکر نہ کریں، اِن شاء اللہ ٹھیک ہو جائے گی۔
باجی ٹھیک نہ ہوئیں۔ اب کے آئیں تو ہڈیوں کا ڈھانچہ اور آنکھوں میں حلقے پڑے ہوئے تھے۔ روتی تھیں اور کچھ نہ بتاتی تھیں۔ امی نے کہا کہ اب اسے میں ارسلان کے ساتھ نہ جانے دوں گی۔ کچھ عرصہ اپنے پاس رکھوں گی اور خود علاج کرائوں گی۔ تب ہی ارسلان بھائی بھی نہ گئے۔ وہ خود ڈاکٹر کے پاس لے جاتے اور خود دوائیں کھلاتے تھے۔
ایک دن اچانک باجی کی طبیعت خراب ہو گئی، انہیں ہچکی لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ ہمارے گھر قیامت کا سماں تھا۔ ان کے تین بچّے تھے جو رو رو کر ماں کو پکارتے تھے۔ ہم سب ہی روتے تھے کہ یہ کیا ہو گیا؟
ان کو فوت ہوئے ایک ماہ بھی نہ ہوا تھا کہ ارسلان بھائی نے واپس جانے کی رَٹ لگا دی۔ امی سے کہا کہ فی الحال بچّوں کو رکھیے، جوں ہی کوئی مناسب رشتہ ملا، ان کی دوسری ماں کے آتے ہی میں اپنے بچّے لے جائوں گا۔ اس پر امّی رونے لگیں تو کہنے لگے۔ اگر یہ منظور نہیں تو نورین کو مجھ سے بیاہ دیں۔ میرے بچّے سوتیلی ماں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ یہ سن کر مجھ پر تو غشی طاری ہو گئی۔ وہ انسان جس کو میں نے پہلے دن سے پسند نہیں کیا تھا، وہ اب میری طلب کر رہا تھا۔
رو رو کر جان کھو رہی تھی مگر امی ابو سر جوڑے بیٹھے تھے۔ امّی کہتی تھیں۔ نوشین کے بچّے میں سوتیلی ماں کے ہاتھوں میں نہ دوں گی اور ان کی جدائی بھی اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ بالآخر ابو نے فیصلہ کر دیا کہ نورین کا نکاح ارسلان سے کر دیتے ہیں تاکہ ہمارے نواسے محفوظ ہو جائیں۔
مجھ پر تو بجلی گر گئی لیکن والدین نے طرح طرح کے واسطے دے کر مجھے مجبور کر دیا۔ جب ارسلان سے نکاح ہوا تو اتنا روئی کہ ہچکی بندھ گئی۔ اتنے آنسو بھی تقدیر کے لکھے کو نہ مٹا سکے۔
ارسلان سے شادی کے بعد اب میں اس کی بیوی تھی۔ جس شخص سے نفرت تھی، اس کے بچّوں کو روز رات کو سینے سے لگا کر سوتی تھی کہ وہ ماں کو یاد کر کے روتے تھے اور یہ میری پیاری بہن کے جگر کے ٹکڑے تھے۔ ان کو کیسے نہ دل سے لگاتی۔ قسمت کا ستم جان کر صبر کر لیا اور ان بچّوں کی خاطر ان کے باپ کو برداشت کیا۔ لیکن ایک دن ترنگ میں آ کر ارسلان نے ایسی بات کہی کہ اب میرا رواں رواں بھی اس آدمی سے نفرت کرتا ہے اور اسے بددعائیں دیتا ہے۔
اس نے کہا۔ جانتی ہو جب پہلے روز رسم مہندی میں تم کو دیکھا تو دعا کی تھی۔ اے خدا میری دلہن جو بن رہی ہے، وہ شادی ہوتے ہی مر جائے اور میں اپنی اس سالی کو دلہن بنا کر اپنے گھر لے آئوں۔ میری دعا قبول ہو گئی، دیکھو! آج وہ مر گئی ہے اور تم میری بیوی بن گئی ہو۔
کچھ روز بعد پھر انکشاف کیا کہ میں نے تمہاری بہن کو شادی کی پہلی رات بتا دیا تھا کہ مجھے تمہاری بہن نورین سے عشق ہو گیا ہے۔ خدا کرے، تم جلد مر جائو تاکہ میں اسے اپنے پہلو کا سنگھار بنا لوں۔
آہ! کاش ارسلان کے منہ سے ایسے الفاظ سننے سے پہلے میں مر جاتی اور میری بہن زندہ رہتی، اپنے بچّوں کو پالتی اور ان کی خوشیاں دیکھتی۔
آج میں اسی ارسلان کی بیوی ہوں جس سے نفرت کرتی ہوں۔ باجی کے بچّوں سے پھر بھی پیار ہے کہ بہن کے بچّے ہیں۔ اللہ نے مجھے تین بچّوں سے نوازا ہے۔ بچّوں کے سامنے شوہر کے ساتھ احترام سے بات کرتی ہوں لیکن یہ دل ہی جانتا ہے کہ دل میں کیا ہے؟
جس شخص نے شادی والے دن یہ ارادہ کر لیا کہ بیوی کی بہن سے شادی کروں گا اور یہ باتیں وہ بیوی سے کہہ کر باجی کو بھی اذیت میں مبتلا رکھتا تھا، اس کے ساتھ کیسے خوشیوں بھری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ سوچتی ہوں اسی آرزو میں اس نے میری بہن کو نہ جانے اپنی بے رخی سے کتنی اذیت دی ہو گی کہ وہ بیمار رہنے لگیں۔ پھر نہ جانے کیسی ادویات کھلائیں کہ آخر انہوں نے
جیون سے ہی منہ پھیر لیا۔
یہ صدمہ میرے دل سے کبھی نہ جائے گا۔ کسی سے دل کی کیفیت کو بیان نہیں کر سکتی کہ عورت کا نام ہی مجبوری ہے۔ مرد تو پھر مرد ہوتا ہے۔ وہ جیسا بھی ہو، سر کا تاج رہتا ہے اور اس کی سلامتی کی دعا کرنا بھی عورت کا فرض ہوتا ہے کہ بیوگی کی چادر میں لپٹ کر بھی عورت بے وقعت اور اس کے یتیم بچّے تباہ ہو جاتے ہیں۔ (ن…سکھر)