Saturday, July 13, 2024

Yeh Muhabbat Ki Mari Larkian | Teen Auratien Teen Kahaniyan

یں نے میٹرک کا امتحان دیا۔ رزلٹ کا انتظار تھا۔ دن کاٹے نہ کٹتے تھے، میں نے مناہل کو فون کیا… کیوں نہ ہم انگلش ’’امپروو‘‘ کرنے کے لئے اکیڈمی میں داخلہ لے لیں۔ وہ بھی بور ہو رہی تھی فوراً بولی… ہاں آئیڈیا تو اچھا ہے لیکن کلاسز شام کو ہوتی ہیں کیا اجازت مل جائے گی؟
ہم دونوں نے والدین سے بات کی۔ کچھ ردو قدح کے بعد اس شرط پر اجازت ملی کہ ہم ساتھ جائیںگی، ساتھ واپس آئیں گی۔ گھر پاس پاس تھے، پہلے بھی اکٹھی اسکول آتی جاتی تھیں۔ خوشی سے باچھیں کھل گئیں۔ کئی دنوں بعد ملاقات ہوتی تھی’’ اب روز ملا کریں گے‘‘ میرے گھر آکر مناہل نے خوشی کا اظہار کیا۔ میری کوئی بہن نہ تھی، تبھی بوریت ہوتی… مناہل کی وجہ سے بہن کی کمی پوری ہوجاتی۔ اس کے ابو کی آمدنی کافی اچھی تھی، یہ خوشحال لوگ تھے۔ کنبہ بھی مختصر تھا۔ ایک چھوٹا بھائی… مناہل اور ماں باپ… ان کا گھر جنت جیسا تھا۔ محلے میں ان کی بڑی عزت تھی۔
ہم روز شام کو چار بجے ساتھ اکیڈمی جانے لگیں۔ یہاں صرف انگلش پڑھائی جاتی۔ آدھا گھنٹہ انگریزی بولنے کی پریکٹس بھی کروائی جاتی تھی۔ اکیڈمی میں استاد کے پاس ان کا ایک سابقہ شاگرد بھی آیا کرتا تھا۔ جب کلاسز ختم ہوتیں وہ آجاتا، غالباً وہ اسے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے تھے۔
ایک روز جونہی ہم کلاس سے نکلیں وہ سامنے آگیا۔ ہمیں بغور دیکھا۔ مجھے برا لگا، اس کا یوں تاکنا، نظریں نیچی کر لیں۔ کچھ دنوں بعد مناہل بولی، لگتا ہے وہ نوجوان جو سر حمید کے پاس آتا ہے اب ہمارا پیچھا کرتا ہے۔ اکیڈمی تک آتا ہے اندر نہیں جاتا۔ باہر کہیں رک جاتا ہے اور جب ہم اکیڈمی سے آگے نکلتی ہیں ہمارے پیچھے چلنے لگتا ہے۔
تم مڑ مڑ کر دیکھتی ہو نا، اس لئے۔ آخر تم پیچھے کیوں دیکھتی ہو؟ اگر ایسا کرو گی تو وہ آتا رہے گا اور کبھی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ کچھ دن بعد مناہل نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر ہم نے اس سے بات کر کے تعاقب کرنے کی وجہ نہ پوچھی تو لازم ہے کسی روز گھر تک پہنچ جائے گا۔ ہمارا گھر دیکھ لے گا… ابھی تو آدھے راستے کے بعد دائیں گلی میں مڑ جاتا ہے۔
دائیںگلی سے راستہ اس کے گھر جاتا ہوگا… تبھی مڑ جاتا ہے نادان۔ وہ ہمارے گھر تک کیوں آئے گا، ہمارا اس کا راستہ ایک ہے۔ اس لئے پیچھے چلتا رہتا ہے، چلنے دو۔ کسی روز تھک کر بیٹھ جائے گا۔ نہیں، ایسا نہیں ہوگا۔ میری بات مانو نازو۔ وہ ہم سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ نہیں تم اس سے بات کرنا چاہتی ہو۔ دیکھو! مصیبت کو آواز نہ دو۔
مناہل نہ مانی۔ اس سے بات کرنے پر اصرار کرتی رہی۔ میں اسے چھوڑ کر آگے بڑھ گئی کہ اسے بڑا شوق ہے لڑکے سے بات کرنے کا تو کر لے… مجھے کیا؟ وہ میرے تیز تیز چلنے پربھی تیز نہ چلی بلکہ اپنی رفتار اور آہستہ کر لی۔ اگلے دن جب ملاقات ہوئی، اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا، میں نے بھی نہ کریدا۔ اگلے دن چھٹی تھی۔ شام کو وہ میرے گھر آگئی جیسے بات کو دل میں نہ رکھ پا رہی ہو، خود ہی بتانے لگی۔ جب تم آگے بڑھ گئیں تو وہ میری طرف آیا اوربولا۔ بہت دنوں سے آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔ آپ کی ساتھی ساتھ ہوتی ہیں موقع نہ مل رہا تھا۔ اپنا مدعا بیان کرنے کا۔ آج موقع ہے برا نہ لگے تو بات کر لوں۔
ہاں کہو… روز پیچھے آتے ہو پھر آدھے رستے سے گلی میں مڑ کر غائب ہو جاتے ہو۔بڑی الجھن ہوتی ہے۔ میں خود تم سے بات کرنا چاہتی تھی تاکہ یہ مسئلہ حل ہو۔
کیا یہاں ٹھہر کر بتائوں، سڑک کنارے یا پھر… یہ کہہ کر اس نے سامنے ایک چھوٹے سے کیفے کی طرف دیکھا جس میں فیملی روم بھی تھا۔
میں نے سوچا سڑک سے اور طالب علم بھی گزرتے ہیں جو اکیڈمی میںہمارے ساتھ پڑھتے ہیں۔ واقعی یہاں بات کرنا مناسب نہیں ہے تبھی کہا، مختصر بات کر لو۔ وجہ بتا دو ہمارے پیچھے آنے کی اور جائو۔ کیفے میں بیٹھ کر کوئی داستان تو نہیںسنانی ہے تمہیں، اور نہ میں نے سننی ہے۔
داستان ہی سنانی ہے یعنی بات تھوڑی لمبی ہے۔ دس بارہ منٹ لگیں گے۔
ایسی کون سی بات ہے؟ اپنی مشکل بتا نا چاہتا ہوں دراصل میں بہت غریب اور ضرورت مند لڑکا ہوں معلوم ہوا ہے کہ آپ کے والد محکمۂ تعلیم میں اس جگہ کام کرتے ہیں جہاں غریب طالب علموں کو وظیفے دیئے جاتے ہیں۔ یہاں ہم زیادہ نہیں ٹھہر سکتے، ادھر سے اکیڈمی کے ٹیوٹر بھی گزرتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ سامنے کیفے میں چل کر بیٹھے میں آتی ہوں۔
تو کیا تم اس کے ساتھ کیفے میں بیٹھی تھیں مناہل … ؟ ہاں تو اور کیا کرتی؟ پھر کیا بات کی اس نے۔
اس نے کہا کہ وہ بہت دکھی انسان ہے ۔ یتیم ہے۔ بی اے کے آخری سال میںرقم نہ ہونے کے سبب تعلیم کو ادھورا چھوڑنا پڑا۔ پہلے اکیڈمی آتا تھا سر بھی کچھ مالی مدد کر دیا کرتے تھے۔ اب نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کے والد مجھے محکمہ تعلیم سے وظیفہ دلوا سکتے ہیں، امید کی ایک کرن دل میں جاگی مگر بات کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا، اسی لئے آپ کے پیچھے آتا کہ کسی دن آپ خود توجہ دیں گی تو شاید مجھ غریب کو گریجویشن کرنے کا موقع مل جائے گا۔
مجھے اس کی باتیں سن کر بہت دکھ ہوا ہے ۔ تو کیا تم اس کے لئے ابو سے بات کر سکو گی؟ ابو سے نہیں امی سے بات کروں گی۔ وہ ابو کو کہہ کر وظیفہ دلوا دیں گی۔
ٹھیک ہے۔ میں نے لمبی سانس کھنچ کر کہا ۔ اللہ کرے اس نے جو کہا ہے سچ ہو، ویسے وہ لباس اور وضع قطع سے ضرورت مند لگتا نہیں ہے۔
اب تم مجھے نیکی کرنے سے مت روکنا۔ مناہل برا مان کر بولی میں نہیں روکتی۔ روکوں گی بھی تو تم کون سا رک جائو گی لیکن ایسی باتیں مصیبت لا سکتی ہیں۔ میں پھر کہتی ہوں کسی پر جلدی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے، وہ بھی ایک اجنبی پر۔
میری بات کا اس پر الٹا اثر ہوا۔ مناہل نے مجھ سے ملنا چھوڑ دیا۔ گریزاں رہنے لگی۔ وہ کوشش کرتی کہ گھر سے ساتھ چلنے کے بعد علیحدہ ہو جائے۔ کبھی کہتی آج پائوں میں درد ہے۔آہستہ آہستہ چلوں گی، تمہیں دیر نہ ہو جائے سر کی ڈانٹ پڑ جائے گی تم آگے نکلو۔ وقت پر پہنچو میں آرہی ہوں دو منٹ بعد۔ اکیڈمی زیادہ دور نہ تھی، گھر سے اکیڈمی تک درمیان میں ایک بس اسٹاپ آتا تھا، جب مناہل کا ایسا رویہ دیکھا تو مجھے دکھ ہوا۔ اب میں اسٹاپ کی طرف چلی جاتی اور بس میں سفر کر کے اکیڈمی پہنچ جاتی۔ وہ آدھ گھنٹہ لیٹ آتی یا کبھی پندرہ بیس منٹ بعد۔ میں کوئی سوال نہ کرتی، جانتی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے پھر مزید سوال کر کے کیوں اس کو پریشان کرتی۔ سوال بھی کرنا چھوڑ دیا، معلوم تھا کہ جواب مناہل سے بن نہ پڑے گا۔
وہ میری سہیلی تھی آج کی نہیں بچپن کی۔ کیسے غافل رہ سکتی تھی، انجام پر میری نظر تھی تو آغاز پر اس کی۔ بہرحال کچھ دن بعد بالآخر خود پوچھ لیا کہ مناہل تم نے رضی کو کیا جواب دیا۔
میں نے اسے کہا ہے کہ ہر حال میں تمہارا ساتھ دوں گی، مالی مدد بھی جو ہوسکی کروں گی تاکہ تم تعلیم مکمل کر سکو۔
اب یہ اس کا معمول ہوگیا روز راستے میں رک کر رضی سے باتیں کرنا۔ میں تنگ آنے لگی، دوستی ختم کرنے کی دھمکی بھی دی۔ اس پر اثر نہ ہوا۔ اس نے اپنی راہ مجھ سے الگ کر لی، روز گھر سے اکیڈمی دس پندرہ منٹ دیر سے پہنچتی، اس نے میرے ساتھ چلنا چھوڑ دیا تھا۔ ایک روز پریشان ہو کر آنٹی ہمارے گھر آئیں ۔ مجھ سے دریافت کیا تم آگئی ہو۔ مناہل کہاں رہ گئی ہے؟
مجھے آج جلدی گھر آنا تھا آنٹی، تبھی سر سے چھٹی لے کر آگئی ہوں، طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ وہ آتی ہی ہوگی۔ کیا اکیڈمی کی چھٹی کا ٹائم بڑھ گیا ہے وہ اب روز ہی لیٹ آنے لگی ہے۔
جی… آنٹی جب کبھی ٹیسٹ وغیرہ کی تیاری کرنی ہوتی ہے ہم لوگ کچھ لیٹ ہو جاتے ہیں۔ میں نے بات بنا دی حالانکہ جی نہ چاہتا تھا مناہل کا پردہ رکھوں لیکن پھر دوستی کا خیال آگیا۔ سوچا اگر سچ کہہ دیا تو اس کا اکیڈمی جانا بند ہو جائے گا۔
رفتہ رفتہ مناہل سے میری دوستی اور بات چیت ختم ہو گئی، ہمارے راستے الگ ہوگئے، ابھی کالج کے داخلے میںدیر تھی لہٰذا اس وقت کو میں ہر حال میں اکیڈمی جا کر اپنی انگلش کو بہتر کرنے میں صرف کرنا چاہتی تھی۔ امی کو بتا دیا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ اماں نے کہا۔ کیوں نہ میں صفیہ کو باخبر کردوں۔ میں نے منع کر دیا۔ نہیں امی تھوڑے دنوں کی بات ہے، ابو کو پتا چلا تو وہ مجھے بھی جانے سے روک دیں گے۔ ویسے بھی وہ اب باز آنے والی نہیں ہے، اس کا فون پر بھی رضی سے رابطہ رہتا ہے۔ جلد خود بخود اس کے والدین کو پتا چل جائے گا۔
رزلٹ آگیا۔ میں نے کالج میں داخلہ لے لیا۔ مناہل سے بات چیت نہ رہی تھی۔ اس کی امی کبھی آتیں تو کہتیں جانے اسے کیا ہو گیاہے روزانہ دیر سے گھر آتی ہے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ایک روز اس کے والد نے اسے رضی کے ساتھ کہیں باہر دیکھ لیا۔ وہ تو بھاگ گیا لیکن مناہل نہ بھاگ سکی، وہ ساتھ لے آئے اور خوب ڈانٹا۔ گھر سے باہر نکلنا بند ہوگیا۔اس واقعہ کے اگلے دن انکل ہمارے گھر آئے، ابو سے کہا میری بیٹی آپ کی بیٹی کے ساتھ جاتی تھی، کیا اس نے کبھی ذکر نہیں کیا۔
اس نے ذکر کیا تھا۔ مناہل کو بھی کافی روکا لیکن تمہاری صاحبزادی نے کسی کی بات نہیں سنی تو ناز نے اس کے ساتھ دوستی ختم کر دی۔ میں آج کل میں آپ کو آگاہ کرنے ہی والا تھا۔
ابو نے انکل کو سمجھایا، دیکھو ساجد تم نے بیٹی کا رشتہ کہیں نہ کہیں توکرنا ہے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے، روک ٹوک پر اولاد باغی ہونے لگتی ہے۔ مار سے نہیں پیار سے پوچھو بلکہ میرا مشورہ ہے کہ لڑکے سے ملو اگر اچھا لڑکا ہے شریف خاندان سے ہے تو جہاں تمہاری لڑکی چاہتی ہے وہاں رشتہ کر دو۔ کسی اور سے زبردستی شادی کی تو ممکن ہے بعد میں زیادہ مسائل کھڑے ہو جائیں یا پھر بچی ناخوش رہے۔
انکل تو غصے میں بھرے آئے تھے لیکن ابو کے سمجھانے پر غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوگیا۔ سوچ میں پڑ گئے کہ محی الدین بات تو صحیح کر رہے ہیں۔ لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کی آزادی دی ہے تو اب شادی میں مرضی کا حق بھی دینا چاہئے۔
انکل نے مناہل سے کہا اس لڑکے کے گھر کا اتہ پتہ بتا دو تاکہ میں چھان بین کر لوں، لڑکے کے والدین سے ملوں۔ اگر ٹھیک گھرانہ ہے توسوچتا ہوں کوئی اس مسئلے کا حل۔ مناہل کو امید نہ تھی کہ وہ ایسا کریں گے وہ سخت مزاج کہلاتے تھے۔ خوش ہوگئی۔ فون پر رضی کو بتایا کہ ابو مان گئے ہیں۔ تم فوراً اپنے والدین کو بھیجو، وہ ان سے ملنے کے بعد تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ ضرور لائوں گا ایک دو روز بعد بتا دوں گا کب
آرہے ہیں۔
دن پر دن گزرتے گئے، وہ بہانے کرتا رہا لیکن والدین کو نہ لایا۔ مناہل نے تنگ آکر رضی کو فون کرنا بند کردیا تو وہ خود اسے فون کرنے لگا حالانکہ مناہل نے سختی سے منع کیا تھا۔ میںموقع دیکھ کر خود تم کو فون کرلیا کروں گی تم نہ کرنا۔ کبھی بھائی اور کبھی ابو سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، انہوں نے فون اٹھا لیا تو میری شامت آجائے گی۔
رضی فون کرنے سے باز نہ آیا جب جی چاہتا نمبر ڈائل کر دیتا۔ وقت بے وقت گھنٹیاں بجتی رہتیں۔ مناہل کے والد اور بھائی موجود ہوتے تو وہ فون نہ اٹھاتی۔ وہ اٹھاتے تب جواب نہ ملتا۔ وہ فون بند کر دیتا۔ وہ شک میں پڑ گئے تب آنٹی فون اٹھانے لگیں۔ ایک روز کہا یہ کیاطریقہ ہے۔ شادی کرنا چاہتے ہو تو والدین سے ملائو ورنہ تمہاری پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں۔
خوف کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کو لے آیا۔ آنٹی نے رضی کی والدہ سے کہا بہن تم اتوار کے دن اپنے بیٹے اور شوہر کے ساتھ آجانا۔ مناہل کے والد اور تایا کو روک لوں گی۔ مردوں سے مرد بات کر لیں گے بعد میں ہم جواب دیں گے کہ آپ لوگوں سے ناتا جوڑنا ہے یا نہیں۔
اتوار کو وہ لوگ نہ آئے۔ مناہل کی امی کو بہت غصہ آیا کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی سے کہا اس سے پہلے کوئی بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے تم اپنے طور پر لڑکے کا پتا کرو اور اس کی رپورٹ دو کہ ان لوگوں کو بات چیت کے لئے گھر بلانا بھی چاہئے یا نہیں۔
ماموں نے چھان بین کی۔ رضی کے محلے میں جا کر پڑوسیوں سے معلومات لیں، پتا چلا کہ رضی کی شادی ہوئی تھی لیکن کچھ عرصہ بعد طلاق ہو گئی۔ اس کا باپ حیات نہیں ہے گھر کا خرچہ تایا چلاتا ہے، جس کی بیٹی سے یہ لوگ منگنی کر چکے ہیں۔ جانے کیوں ابھی تک لڑکی کو رخصت کر کے نہیں لا رہے۔ لڑکا ایک پرائمری اسکول چلاتا ہے۔ مزید کیا سرگرمیاںہیں معلوم نہیں…ابھی تک کوئی ایسی ویسی بات تو اس کے بارے میں سنی نہیں ہے۔ جانے پڑوسیوں نے صحیح کہا تھا یا پھر ایک اجنبی سے رضی کا پردہ رکھ لیا تھا۔
کچھ عرصہ خاموشی سے گزر گیا۔ مناہل نے ماں سے کہا رضی کے والد نہیںہیں،کوئی بزرگ رشتے دار ساتھ نہیںہوتا، اس کے تایا تو اپنی بیٹی دینا چاہتے ہیں اور رضی کی ماںآپ کے گھر آچکی ہیں دوبارہ وہی آئیں گی۔ رشتے کے لئے آپ ابو کو منا لیں کہ دیگر رشتہ داروں کو لانے کی شرط نہ لگائیں۔ رضی کی مجبوری ہے ۔ رشتہ داروں سے ان لوگوں کا جھگڑا ہے۔
لڑکی… بیٹیوں کے رشتے اس طرح طے نہیں کئے جاتے، اسے کسی نہ کسی بزرگ کو لانا پڑے گا۔ شادی ہنسی کھیل نہیں ہے، جب تک صحیح طریقہ سے وہ رشتے کے لئے نہیں آتے۔ تمہارے ابو اکیلے رضی کو منہ نہیں لگائیںگے بہتر ہے کہ تم آگ کے اس کھیل سے باز رہو ورنہ رضی سے تمہاری شادی نہیں ہو سکتی۔
مناہل ماں باپ کی طرف سے مایوس ہوگئی تو ایک روز موقع پاکر گھر سے نکل گئی ۔ صبح سے دوپہر، پھر شام ہونے کو آگئی۔ اس کے والد کے گھر لوٹ آنے کا ٹائم ہونے لگا۔ آنٹی سخت پریشان تھیں، گھبرا کر ہمارے گھر آئیں اور مجھ سے پوچھا بیٹی اب تو اس کاکالج جانا تک بند کرا دیا تھا اس کے ابو نے، تمام وقت گھر میں آنکھوں کے سامنے رہتی تھی۔ اچانک آج صبح سے غائب ہے۔ جانے کہاں چلی گئی ہے، بہت پریشان ہوں۔ تمہارے انکل آتے ہی ہوں گے وہ پوچھیں گے کیا جواب دوں گی۔ کہاں گئی ہے۔ ایک خیال تھا کہ شاید ادھر آگئی ہو تم سے ملنے لیکن یہاں بھی نہیں ہے۔ آنٹی وہ تو کافی دنوں سے نہیں آئی، مجھ سے اس کی ملاقات نہیں رہی ہے۔ تو پھر کہاں گئی ہوگی۔
وہ بیچاری ہانپتی کانپتی چلی گئیں۔ مجھے ڈر لگا کہیں آنٹی کو کچھ ہو نہ جائے۔ رات گزر گئی، مناہل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ یقین تھا کہ وہ رضی کے چکر میں نکلی ہے۔ اس کو تلاش کیا وہ بھی گھر سے غائب تھا، گھر کو تالا لگا تھا۔ اور اسکول بند تھا۔ سخت گرمی کی وجہ سے سرکار نے پرائمری اسکولوں کو پندرہ دن قبل چھٹی دے دی تھی کہ چھوٹے بچے بے ہوش نہ ہوجائیں کیونکہ اکثر اسکولوں میں پنکھے اور ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی نہیں ہوتی۔
ہفتہ گزرا کہ رضی کی ماں کا فون آگیا۔ امی سے بات کی۔ بتایا کہ ان دونوں نالائقوں نے بزرگوں کی عزت کا بھی پاس نہیں کیا اور اپنی مرضی سے کورٹ میرج کر لی ہے۔ اب مناہل آپ لوگوںکے پاس آنا چاہتی ہے، معافی مانگنے کے لئے مجھے فون کیا تھا۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ کہاں ہیں ۔میں اپنی بہن کے انتقال پر فیصل آباد گئی ہوئی تھی، میرے پیچھے انہوں نے یہ کارنامہ سرا نجام دیا ہے۔
ماں نے شوہر سے بنتی کی، پیروں کو ہاتھ لگایا کہ آنے دو مناہل کو کم از کم مزید بھٹکنے سے تو ہم اس کو بچا لیں گے۔ رضی معلوم نہیں مناہل کا کیا انجام کرے۔ پہلے انکل راضی نہ ہو رہے تھے، پھر بولے چلو آنے کا کہہ دو رضی کی ماں کو ہم تک پہنچنے دو۔ بعد میں دیکھ لیں گے۔ آنٹی نے رضی کی والدہ کو فون کر کے کہا کہ ان کو کہو آجائیں۔
دو روز بعد ایک دن در پر دستک ہوئی ۔ مناہل کا بھائی گھر پر تھا اس نے در کھولا۔ سامنے وہ بنی سنوری کھڑی تھی۔ بھائی نے دیکھ کر دہلیز پر نفرت سے تھوک دیا اور کہا خبردار اندر مت آنا۔ جہاں سے آئی ہو واپس چلی جائو تمہارے لئے اب اس گھر میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔وہ بولی میں آئوںگی دیکھتی ہوں تم کیسے روکتے ہو مجھے باپ کے گھر آنے سے۔ تبھی بھائی نے اسے دھکا دیا اور دروازہ بند کر دیا۔
آواز سن کر انکل کمرے سے باہر نکلے اور پوچھا کون ہے؟
بد بخت مناہل آئی تھی ابو۔ میں نے دھکا دے کر دروازہ بندہ کر دیا ہے آنے نہیں دیا۔ انکل نے دروازہ کھولا وہ ابھی تک کھڑی ہوئی تھی اندر آگئی۔ ماں اسے کمرے میں لے آئی۔ آنٹی روتی تھیں اور ساتھ لعن طعن بھی کرتی جاتی تھیں۔ انکل اپنے کمرے میں چلے گئے۔ بیٹی سے بات نہ کی۔ مناہل اس روز گھر سے نہ گئی۔
رات کو انکل سے بیوی نے کہا کہ اس کم عقل کو گھر سے دھکے دے کر نکالنے کی بجائے آپ عزت سے رخصت کر دیں۔ ابھی محلے میں بات نہیں پھیلی ہے۔ نکاح تو وہ اپنی مرضی سے کر چکی ہے۔ یہ بات اگر پھیل گئی آپ کی عزت مٹی میں ملے گی اور یہ بھی عمر بھر رضی کے رحم و کرم پر ایک لاوارث لڑکی کی طرح زندگی گزارے گی۔ آپ کا ہاتھ مناہل کے سر پر نہ ہوا تو جانے وہ اس کا کیا حال کرے۔ ہفتہ بعد مناہل کی رخصتی سادگی سے کر دی گئی، محلے سے چند شرفا کو مدعو کیا گیا۔ رشتہ داروں کو انکل اور آنٹی نے نہ بلایا۔ وہ رخصت ہو کر رضی کے گھر چلی گئی۔ اب ماں باپ بیٹی سے ملنے نہیں جاتے تھے۔ مناہل ہی دو ماہ بعد خود آجاتی۔ بھائی اور باپ منہ نہ لگاتے لیکن ماں ممتا سے مجبور تھی، وہ بیٹی کو گلے لگا لیتی، تاہم ابھی تک انکل نے داماد کو گھر آنے کی اجازت نہ دی تھی۔
ابھی پہلا زخم نہ بھرا تھا کہ ایک روز وہ پژمردہ نڈھال ماں کے گھر آئی اور بستر پر گر گئی۔ ماں نے پوچھا کیا ہوا خیر تو ہے روتے ہوئے بتایا کہ رضی نے مجھے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا ہے۔ جسم پر مار پیٹ کی وجہ سے نیل پڑے ہوئے تھے۔ آنٹی نے بیٹی کی حالت دیکھی تو دل پکڑ لیا۔ باپ گھر آیا بیٹی کا حال دیکھا کہا مجھے پہلے ہی خبر تھی کہ کم اصل سے وفا نہیں۔ جس لڑکے کا خاندانی پس منظر ایسا ہو وہ جو کرے کم ہے۔ عمر بھر کا گھائو لگا کر مناہل نے میکے میں پناہ لی۔ خدا کا شکر کہ باپ نے پناہ دے دی، ورنہ کہاں جاتی کہ جن لڑکیوں کے وارث نہ ہوں ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔ (ن…لاہور)

Latest Posts

Related POSTS