Zehar – Episode 1

345
حالات اس کے لیے سازگار تھے۔ جب وہ برساتی اوڑھے اور چھتری سنبھالے گھر سے نکلا تھا تو کسی نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ یوں بھی سڑک پر اسے دیکھنے والا کون تھا؟ یہ تصور بھی عبث تھا کہ کوئی دریچے کا پردہ سرکا کر باہر جھانکتا، سوئے اتفاق ایسا ہو بھی جاتا تو وہ اس تیز بارش اور تاریکی میں کہاں کسی کو نظر آنے والا تھا؟ وہ اندھیرے کا جزو بنا ہوا تھا۔ چھتری کو اس نے بہت نیچے کر کے تھام رکھا تھا۔ چنانچہ اس کی صورت اس سیاہ گنبد میں چھپ گئی تھی۔ ایک بار اس نے دور سے ایک کار کو موڑ کاٹتے دیکھ کر اس کی ہیڈ لائٹس سے بچنے کے لیے خود کو ایک درخت کے پیچھے چھپا لیا تھا۔ ہیڈ لائٹس کی روشنی، بارش کی وجہ سے بہت تھوڑے فاصلے تک پہنچ رہی تھی اور متحرک وائپرز کے پیچھے بیٹھا ہوا کار کا ڈرائیور صرف سامنے دیکھنے پر مجبور تھا۔ بارش کے پانی میں شیشے کی طرح چمکنے والی سڑک پر کچھ اور تھا بھی نہیں۔
ایک کار بنگلے کے دروازے کے باہر کھڑی تھی اور دوسری گیٹ کے اندر تھی۔ اس نے اطمینان سے گیٹ کو دھکیلا اور اندر کھڑی ہوئی سفید کار کی آڑ میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ وسیع و عریض کار نے دوسری طرف بہ مشکل تمام دو فٹ جگہ چھوڑی تھی۔ بارش اب بھی اسے بھگو رہی تھی۔ چھتری کو ایک ہاتھ سے تھام کر اس نے اپنے لباس سے ایک چھوٹا سا بنڈل نکالا اور پوری احتیاط کے ساتھ پہلے کمرے کی کھڑکی کی دہلیز پر رکھ دیا۔ دہلیز کے اُوپر چھجا تھا چنانچہ اسے اپنے مقابل تینوں کمروں کی دیوار کے ساتھ ایک فٹ کی خشک پٹی نظر آ رہی تھی جہاں بارش نہیں پہنچ رہی تھی۔ وہ احاطے کی دیوار کے ساتھ کھڑا تھا۔ دیوار چھ فٹ سے کچھ اونچی تھی اور اس بنگلے کو ساتھ والے دوسرے بنگلے سے جدا کرتی تھی۔ تقریباً اتنی ہی چوڑی گلی آخری حصے تک پھیلی ہوئی تھی۔
برساتی اُتارنے کے بعد اس نے چھتری کو بدستور سر پر رکھا اور خشک جگہ پر بیٹھ گیا۔ پیر پھیلا کر اس نے کیچڑ زدہ بوٹ اُتارے اور پیر فوراً سمیٹ لیے۔ اب برساتی اور بوٹ بارش میں بھیگ رہے تھے مگر وہ خود چھجے کے نیچے خشک جگہ پر موزے پہنے کھڑا تھا۔ چھتری کو اس نے یوں رکھا تھا کہ بارش کا ایک قطرہ بھی خشک سیمنٹ کے فرش پر نہ گرنے پائے۔ اس نے بنڈل اٹھا لیا جو پلاسٹک کی تھیلی میں لپٹا ہوا کھڑکی کے نیچے رکھا تھا۔ اپنے کپڑے اُتار کر اس نے بنڈل سے سیاہ چست بنیان اور ٹائٹ فٹ سیاہ پتلون نکال کے پہن لیے۔ اس کے موزے پہلے ہی سیاہ تھے۔ سر سے گردن تک سیاہ جالی دار کپڑے کی نقاب چڑھا کے سیاہ دستانے پہنے اور کھڑکی کو تھوڑا سا اندر کی طرف دھکیلا۔ اس کا ایک پٹ بغیر آواز پیدا کیے وا ہوگیا۔
گزشتہ ایک ہفتے میں اس نے گھر کے اندر بہت سے چھوٹے چھوٹے کام ’’پیشگی‘‘ انجام دیئے تھے۔ مثلاً اس نے ایک پٹ کی چٹخنی کھول کے پردہ برابر کر دیا تھا اور کھڑکی کے قبضوں میں تیل کا ایک ایک قطرہ ٹپکا دیا تھا، تاکہ چرچراہٹ کی آواز تک نہ اُبھرنے پائے۔ اسے یقین تھا کہ ہمیشہ بند رہنے والی کھڑکی کا پردہ ہٹا کے کسی نے چٹخنی بند کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہوگی۔ گھر میں رہنے والے لاکھ محتاط ہوں، سوتے وقت یا باہر جاتے وقت انہی کھڑکیوں دروازوں کو چیک کرتے ہیں جو عموماً کھولے جاتے ہیں۔
خاموشی سے اندر اُتر جانے کے بعد اس نے کھڑکی پھر بند کی اور پردہ برابر کر دیا۔ وہ کچھ دیر اندھیرے میں کھڑا کمرے کا جائزہ لیتا رہا۔ دیواروں میں بنی شیشے کے پٹ والی الماریاں کتابوں سے بھری پڑی تھیں۔ سوائے ایک الماری کے جو بائیں جانب چوڑائی کے رُخ پھیلی ہوئی تھی۔ اس میں کتابیں نہیں تھیں اور اس کے پٹ بھی مضبوط لکڑی کے بنے ہوئے تھے۔ الماری میں بہت سی ایسی چیزیں مقفل تھیں جو کسی انسان کی موت کا سبب بن چکی تھیں اور آئندہ بھی بن سکتی تھیں۔ قفل کی چابی درمیان میں رکھی میز کی سب سے نیچے والی دراز میں تھی۔ وہ دبے پائوں آگے بڑھا اور میز کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ بیچ کا دروازہ بند نہیں تھا۔ چنانچہ باتوں اور شوخ، جوان زندگی سے کھیلتے قہقہوں کی آوازوں کے ساتھ تھوڑی بہت روشنی بھی کمرے میں پہنچ رہی تھی۔ میز کے گول کناروں والے شیشے کے نیچے جو پوری میز کی سبز مخملی سطح پر پھیلا ہوا تھا، دو تصویریں لگی ہوئی تھیں۔
دونوں پوسٹ کارڈ سائز کی رنگین تصویریں تھیں۔ دونوں میں نئے شادی شدہ جوڑے فخر و انبساط سے ایک دوسرے کے ساتھ یوں کھڑے تھے جیسے اب کبھی جدا نہ ہوں گے۔ آدمی کی خام خیالی پر وہ تلخی سے مسکرایا۔ دونوں تصویروں میں مرد سوٹ پہنے ہوئے تھے اور ان کے قد و قامت اور صورت کے علاوہ کھڑے ہونے کے انداز میں بھی مشابہت تھی، دونوں عورتیں بھاری قسم کے عروسی جوڑے میں ملبوس تھیں ان چاروں میں سے ابھی تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان میں سے کس کو پہلے اس دُنیا سے رُخصت ہونا ہے۔
کرسی دیوار کے ساتھ لگا کے وہ اوپر چڑھا۔ ٹیوب لائٹ آف تھی مگر وہ پیچھے لگے ہوئے اسٹارٹر کو دیکھ سکتا تھا، تھوڑا سا ہاتھ گھماتے ہی اسٹارٹر اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ کرسی کو اپنی جگہ رکھ کے وہ میز پر چڑھا اور اس ٹیوب لائٹ کا اسٹارٹر بھی نکال لیا جو عین میز کے اوپر آویزاں تھی۔ اب اس بات کا خطرہ نہیں رہا تھا کہ کوئی اچانک اندر آ کے لائٹ جلا دے گا۔ اس نے کسی قسم کی آواز پیدا کیے بغیر آہستہ آہستہ سب سے نیچے والی دراز باہر کھینچی اور اس میں سے چابی نکال لی جو کاغذات کے انبار میں دفن تھی۔ دراز کھلی چھوڑ کے وہ الماری کی طرف بڑھا۔ کھٹکے سے کھلنے والے تالے کو اس نے چابی گھمانے کے بعد بھی اوپر سے دبائے رکھا اور پھر آہستہ سے چھوڑا۔
تالا کھلتے ہی اس نے اطمینان کا سانس لیا اور دونوں پٹوں کو ملائے رکھنے والی کنڈی کھسکا دی۔ پٹ کو تھوڑا سا ہلانے سے معمولی سی آواز پیدا ہوئی۔ یہ سلائڈنگ ڈور تھے۔ دونوں میں سے کوئی بھی ایک پٹ دائیں یا بائیں کھسکایا جا سکتا تھا۔
بارش کے شور اور گفتگو میں کسی کے کانوں تک سرسراہٹ نہیں پہنچ سکتی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ پٹ کو دو فٹ کے قریب کھسکایا۔ پھر اس نے ایک ہاتھ اندر ڈالا اور الماری کے سب سے اوپر والے شیلف پر رکھی ہوئی بوتلوں کو چھو کر شمار کرنے لگا۔ اسے قطار میں رکھی ہوئی تیسری شیشی مطلوب تھی۔ گہرے سبز رنگ کی چھوٹی سی شیشی فوراً اس کے ہاتھ میں آ گئی۔ اگر وہ ذرا بھی گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتا تو ہاتھ کی لرزش سے کوئی شیشی نیچے گر جاتی اور وہ سب باتیں چھوڑ کے بھاگے ہوئے اندر آتے۔ یوں پکڑے جانے کے بعد اس کے پاس صفائی میں کچھ کہنے کی کوئی گنجائش نہ رہتی۔
شیشی کو چست بنیان کے گلے میں ڈال کے اس نے الماری کو دوبارہ آہستہ بند کیا۔ پٹ کھسکتا ہوا اپنی اصلی جگہ کے قریب آگیا تو اس نے تقریباً ایک انچ کا فاصلہ رکھ کے درمیان کی کنڈی کو بند کیا۔ کنڈی دوسرے پٹ کے ہک میں فٹ ہونے کی بجائے اس سے دور رہ گئی۔ اگر دونوں پٹ برابر ہو جاتے تو کنڈی بند ہو جاتی مگر اس کا منصوبہ یہی تھا کہ پٹ صحیح طرح بند نہ ہوں۔ معلوم یہ ہو کہ کسی نے عجلت میں کام کیا اور اندھیرے میں یہ نہ دیکھ سکا کہ کنڈی تو ہک میں بیٹھی ہی نہیں ہے۔ ہک میں قفل لگا کر اس نے چابی کو میز کی دراز میں نہیں ڈالا بلکہ شیشے کے اوپر رکھ دیا۔ وہ اپنی اسکیم کی کامیابی پر بہت مطمئن تھا۔ اب اسے باہر نکل کے رات کی تاریکی اور ویرانی میں گم ہو جانا تھا، لیکن جاتے سمے اسے کھڑکی کے راستے باہر نہیں جانا تھا۔ دروازے سے نکلنا تھا جس میں آٹومیٹک ڈور لاک تھے جو اندر سے بغیر چابی کے کھولے جا سکتے تھے، مگر باہر سے دروازہ بند کرتے ہی مقفل ہو جاتے تھے اور بغیر چابی کے نہیں کھلتے تھے۔
یکلخت اس نے ایک آہٹ محسوس کی۔ کوئی اس طرف آ رہا تھا۔ وہ میز کے نیچے ہوگیا۔ قدم اب واضح طور پر ادھر ہی بڑھ رہے تھے۔ میز کے نیچے کی خالی جگہ سے سر جھکا کے جھانکنے پر اس کو زنانہ پیر دکھائی دیئے۔ نازک، گلابی اور چھوٹے چھوٹے، سرخ اور سنہرے رنگ کی سینڈل میں۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکا۔ قسمت یقیناً اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ وہ خود اس کے جال میں گرفتار ہونے آ گئی تھی۔ دروازے کی روشنی میں وہ پیر آگے بڑھ کے چند لمحوں کے لیے رکے۔ سوئچ دبانے کی ہلکی سی آواز آئی۔ کمرہ بدستور اندھیرے میں ڈوبا رہا۔ ایک اور سوئچ دبانے کا نتیجہ بھی کچھ نہ نکلا۔
’’کیا مصیبت ہے بھیا…!‘‘ وہ شوخی سے چلائی۔ ’’ایسے ہی لگا رکھے ہیں یہ ڈیکوریشن پیس، کوئی لائٹ نہیں جل رہی۔‘‘
دوسرے کمرے میں کوئی مرد ہنسا۔ ’’ٹیوب لائٹس پرانی ہوگئی ہیں اور وولٹیج بھی یہاں کچھ کم ہو جاتے ہیں۔‘‘ وہ دروازے میں نمودار ہوا اور پھر بولا۔ ’’چلو تم جائو… میں کھڑا ہوں یہاں…‘‘ اس کا وجود دروازے کے روشن فریم میں فٹ تھا۔
’’واہ… میں کوئی ننھی سی بچی ہوں…‘‘ وہ اٹھلا کے بولی۔ ’’آپ کا کیا خیال ہے کہ میں ڈرتی ہوں۔‘‘
مرد ہنسا۔ ’’ارے بھابھی! تم کیسے ڈر سکتی ہو، یہ بھی تو سوچو کس کی بیوی اور کس کی بھابھی ہو۔‘‘
وہ باتھ روم کے دروازے کی طرف بڑھی۔ تو مرد پلٹا اور واپس اس کمرے میں چلا گیا جہاں باقی لوگ موجود تھے۔
وہ دم سادھے میز کے نیچے بیٹھا رہا۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا۔ اندر کی لائٹ جلی اور پھر دروازہ بند ہوگیا۔ اس نے اعصاب پر قابو رکھنے کے لیے طویل گہرے سانس لینے شروع کیے اور اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔ ساتھ والے کمرے میں مرد کسی بات پر قہقہہ مار کے ہنسے۔
’’بزدل ہے نا میری بیوی…؟‘‘ ایک مرد نے کہا۔
’’اور کیا یار… اچھی خاصی روشنی جا رہی ہے اس کمرے کی، وہاں کھڑی تھر تھرکانپ رہی تھی۔‘‘ دوسرا بولا جو ابھی چند سیکنڈ پہلے اندر آیا تھا۔
’’آنے دو اسے… ابھی بتاتی ہوں کہ تم لوگ مل کر اس کا مذاق اُڑا رہے تھے۔‘‘ ایک عورت نے احتجاج کیا۔
’’تم کونسی سورما ہو۔‘‘ دوسرے مرد نے کہا اور اپنی بیوی کی بزدلی کا کوئی واقعہ سنانے لگا۔
اس نے ریڈیم ڈائل والی گھڑی دیکھی۔ اسے باتھ روم کے اندر گئے ہوئے دس منٹ ہونے والے تھے۔ جھکے جھکے اس کی کمر درد کرنے لگی تھی، معلوم نہیں کیوں اس کی ناک میں سوزش ہو رہی تھی۔ چھینک کا آنا ببانگ دہل کمرے میں اپنی موجودگی کا اعلان کر دینے کے مترادف تھا۔ دس منٹ بعد جب اس کے اعصاب جواب دینے لگے تو باتھ روم کا دروازہ کھلا اور وہ باہر آگئی۔ باتھ روم کی لائٹ آف ہوگئی۔ وہ قالین پر چلتی آگے آئی، چند سیکنڈ کے لیے اس کے قدم میز کے پاس رکے، میز کے نیچے اس کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ وہ میز کے اوپر کچھ کر رہی تھی۔ اس کے پائوں اتنے قریب تھے کہ ان کو آسانی سے چھوا جا سکتا تھا۔ اگر وہ بھول کے بھی ان پیروں کو ہاتھ لگا دیتا تو وہ الارم کی طرح چلانے لگتی۔ یہ سمجھ کے کہ اس کے پائوں پر کوئی بچھو چڑھ گیا ہے۔ بھلا اس گھر میں بچھو کہاں سے آ گیا۔ یہ عورت کی عقل میں آ سکتا ہے اور چور موجود ہوگا، یہ اس کی عقل میں نہیں آ سکتا۔
ٹیلی فون کی گھنٹی پر وہ اُچھلتے اُچھلتے رہ گیا۔ اس نے سخت جدوجہد کے بعد دل کے دھڑکنے کی رفتار کم کی۔ اسے اندیشہ سا لاحق ہو چلا تھا کہ دل کی دھڑکن کی صدا اس کے کانوں تک پہنچ جائے گی اور وہ میز کے نیچے جھانک کر دیکھ لے گی۔
پہلے والا مرد پھر دروازے میں دکھائی دیا۔ ’’بھابھی…؟‘‘ اس نے تھوڑے سے تعجب کا اظہار کیا۔ ’’اندھیرے میں کیا کر رہی ہو؟‘‘ وہ ٹیلی فون کی طرف بڑھا۔ ’’تمہارا میاں ہجر میں تڑپ رہا ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں بھیا! وہ دراصل بیگ سے چیزیں گر گئی تھیں۔‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھی۔ ’’آپ کو بس باتیں بنانے کی عادت ہے۔‘‘
یہ جھوٹ! اس نے حیران ہو کے سوچا۔ آخر کیوں؟ وہ یہاں کھڑی کیا کر رہی تھی؟
’’ہیلو…!‘‘ مرد نے ریسیور اُٹھا لیا تھا۔ ’’جی… سوری، رانگ نمبر۔‘‘ اس نے ریسیور رکھا اور عورت کے پیچھے چل پڑا۔
’’سچ بھابھی! فرقت کا ایک منٹ ایک گھڑی سے کم نہیں ہوتا اس زمانے میں…‘‘ وہ بولا۔
’’ایک گھڑی!‘‘ دوسرے مرد نے کہا۔ ’’ایک گھڑے سے کم نہیں ہوتا بھیا!‘‘ وہ سب ہنسنے لگے۔
وہ میز کے نیچے سے نکل آیا۔ کمر سیدھی کرنے کے بعد اس نے گردن کو دائیں بائیں گھمایا اور دروازے کی اوٹ سے دیکھنے لگا۔ کمرے کے روشن ماحول میں اسے چار افراد نظر آئے۔
ایک سومر خاں تھا… علاقائی ڈراموں کا فلاپ ہدایت کار … اب وہ زندگی کے اس دور سے گزر رہا تھا جب اسے یہ طے کرنا تھا کہ ہدایت کاری چھوڑ کے کاشت کاری شروع کر دے۔ تاہم وہ اپنی ناکامی سے سخت دل برداشتہ تھا۔
دوسرا اس گھر کا مالک ڈاکٹر جمعہ خاں تھا جو سومر خاں کا سوتیلا بھائی تھا۔ وہ انسانوں حیوانوں میں سے کسی کا ڈاکٹر نہیں تھا۔ میڈیکل کالج میں داخلہ نہ ملا تو اس نے نفسیات میں ایم اے کیا اور مجرموں کی نفسیات پر ریسرچ کرتا رہا۔ اس کی پہلی کتاب ’’جرم کے جراثیم‘‘ دراصل اسی ریسرچ کا نتیجہ تھی۔ دوسری کتاب ’’خودکشی‘‘ زیادہ مشہور ہوئی تھی۔ جس میں ان عوامل پر مدلّل بحث کی گئی تھی کہ جو اچھے بھلے آدمی کو خودکشی پر مجبور کرتے ہیں اور ان افراد کے کردار کا تجزیہ کیا گیا تھا جو خودکشی کے مرتکب ہوئے اور یہ بتایا گیا تھا کہ کس قسم کے لوگ جو بظاہر نارمل نظر آتے ہیں، خودکشی کرسکتے ہیں۔
اس کتاب کا جمعہ خاں کو سوائے شہرت کے کوئی معاوضہ نہیں ملا تھا۔ یہاں وہ زیادہ سے زیادہ لیکچرار بن سکتا تھا۔ چنانچہ وہ باہر چلا گیا اور کرمنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کر کے واپس آیا جو ترقی یافتہ ممالک میں بہت اہمیت کی حامل تھی مگر یہاں وہ اس کے کام نہ آئی۔ اس کی آمدنی کے دیگر ذرائع بھی تھے۔ مثلاً اس کی بیوی…!
اب وہ اپنی تیسری کتاب ’’ہم سب پاگل ہیں‘‘ مکمل کرنے کے لیے ریسرچ کر رہا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ماہرینِ نفسیات کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ’’نارمل‘‘ کوئی نہیں۔
تیسری عورت جو ڈاکٹر جمعہ خاں کے مقابل بیٹھی تھی وہ صفیہ تھی۔ اس نے انگریزی اَدب میں ایم اے کیا تھا اور ڈاکٹر جمعہ خاں کی کتاب ’’خودکشی‘‘ کو انگریزی میں منتقل بھی کیا تھا۔ وہ اٹھائیس سال کی حسین اور پُرکشش عورت تھی، جس کی سادگی میں بھی پُرکاری تھی۔ اس نے حسنِ صورت سے ڈاکٹر جمعہ خاں کے دل کو گھائل کرنے کے بعد حسنِ سیرت سے بھی اس کے ذہن کو قائل کر لیا تھا۔ تصور میں اس نے مثالی عورت اور مثالی بیوی کا جو پیکر تراشا تھا صفیہ اس کی حقیقی تصویر ہے۔
صفیہ نے دس سال خوب سے خوب تر کی جستجو میں گزارنے کے بعد سمجھ لیا تھا کہ ڈاکٹر جمعہ خاں ہی اس کی تلاش کا حاصل ہے اور اس سے بہتر شوہر اسے شاید پھر نہ ملے۔ زمانے کو دکھانے کے لیے ان کی شادی وطن واپس آ جانے کے بعد بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ دولت مند والدین نے جہیز میں یہ کوٹھی بھی دی تھی جو ضروریاتِ زندگی کے تمام لوازمات سے آراستہ تھی اور سال بھر بعد تقریباً ایک ساتھ دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنا کل اثاثہ صفیہ کے سپرد کر گئے تھے۔ صفیہ اب ایک کالج میں لیکچرار تھی اور یہ بات اچھی طرح سمجھتی تھی کہ ڈاکٹر جمعہ خاں جیسے شوہر صرف محبت سے خریدے اور اسیر کیے جاتے ہیں، دولت کی زنجیر سے نہیں…!
چوتھی عورت وہ تھی جسے وہ قتل کرنا چاہتا تھا۔ سومر خاں کی بیوی ریشماں جس کو شوہر پیار سے رشی کہتا تھا۔ رشی کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ بائیس سال کی عمر میں بیوہ ہو چکی ہے۔ اس کا پہلا شوہر شادی کے بعد صرف تین ماہ زندہ رہا تھا اور ایک حادثے میں ہلاک ہوگیا تھا، وہ کچھ عرصہ ٹی وی کے چھوٹے موٹے رول ادا کرتی رہی تھی اور ماڈل بننے کے چکر میں خاصی خوار ہوئی تھی۔ عملی طور پر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا کتابی نعرہ کتنا آسان ہے اور کام کتنا مشکل اس کا تجربہ ریشماں کو بہت جلد ہوگیا تھا۔
سومر خاں بروقت فرشتہِ غیب بن کے نمودار ہوا اور اس نے اپنی تین ڈرامہ سیریلز میں کاسٹ کیا مگر ریشماں کے لیے، سومر خاں کی طرح یہ لائن فلاپ ہی رہی، مگر ایک حقیقت یہ بھی تھی کہ ایک ناکام ہدایت کار اور ایک ناکام اداکارہ کی ازدواجی زندگی، ایک دوسرے کے ساتھ، بڑی کامیاب ثابت ہو رہی تھی۔ لیکن… محض اس وجہ سے رشی (ریشماں) کو معاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسے کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی تھی۔ وہ بہت پہلے فیصلہ کر چکا تھا کہ اس عورت کو قتل کر دے گا۔
وہ سب کھانے کے کمرے میں جا چکے تھے۔ اس نے پلٹ کر دروازے کا رخ کیا۔ یہ مرحلہ بہ خیر و خوبی طے ہو گیا تھا اور اس میں شبہے کی گنجائش نہ رہی تھی کہ آج رات تقدیر اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ باہر نکلنے سے پہلے اسے ٹیوب لائٹس کا خیال آیا۔ سوئچ آف کر کے اس نے دونوں میں اسٹارٹر فٹ کیے اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
دستانوں کے باعث اس نے کہیں بھی اپنے فنگر پرنٹس نہیں چھوڑے تھے۔ سیاہ موزے پہن کر چلنے سے کوئی نقشِ قدم نہیں بنا تھا۔ جس کھڑکی کے راستے وہ اندر آیا تھا وہ اب دوسری کھڑکیوں کی طرح بند تھی اور اس کے دونوں پٹوں پر چٹخنی چڑھی ہوئی تھی۔ دروازہ کھولنے کے لیے اس نے ہینڈل گھمایا تھا تو ہلکی سی آواز پیدا ہوئی تھی۔ لیکن وہ سب بہت دور تھے اور پلیٹوں پر چمچوں اور چھری کانٹوں کی آوازوں میں یہ آواز نہیں سن سکتے تھے۔ دروازہ بند کرتے وقت بھی معمولی سا کھٹکا ہوا مگر وہ باتیں کر رہے تھے اور کسی کا دھیان ایک معمولی سی آہٹ کی طرف نہیں جا سکتا تھا۔
پورچ سے نکل کر وہ ایک بار پھر کھلے آسمان تلے آ گیا۔ دائیں جانب گھوم کر اس نے نقاب اُتارا اور دیوار کے قریب پڑے ہوئے کپڑے، برساتی، چھتری اور جوتے سب اٹھائے، پھر وہ بھیگتا ہوا کار اور دیوار کے درمیان دو فٹ چوڑے راستے سے گزرا۔ گیٹ سے باہر آ کے اس نے سب چیزوں کی گٹھڑی سی بنا لی اور چھتری تان لی۔ اب اسے بھیگنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ کمال یہ تھا کہ اس نے شدید بارش میں گھر کے اندر داخل ہونے کے بعد کہیں کوئی گیلے پیروں کا نشان نہیں چھوڑا تھا اور پانی کا ایک قطرہ تک کسی خشک جگہ پر نہیں ٹپکایا تھا۔ ڈاکٹر جمعہ خاں کے لیے یہ خیال بھی محال تھا کہ بند کھڑکیوں اور مقفل دروازوں کو ہاتھ لگائے بغیر کوئی باہر سے اندر آیا اور اس کے اسٹڈی کہلانے والے کمرے میں داخل ہو کے موت کے عجائب خانے کی ایک چیز چرا کے لے گیا۔ یہ شیشی بحفاظت اس کی چست بنیان کے اندر اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھی۔
٭…٭…٭
چابی اب بھی ڈاکٹر جمعہ خاں کے ہاتھ میں تھی اور وہ بے یقینی سے اس الماری کو دیکھ رہا تھا۔ جس میں سے اوپر کے شیلف کی ایک شیشی غائب تھی، دوسری شیشیوں کے درمیان اس کا نہ ہونا یوں لگتا تھا جیسے صف بستہ فوجیوں کی قطار میں سے کوئی ایک فوجی نکل گیا ہو۔
چابی کو میز پر اور میز کی دراز کو کھلا پا کے اس کا ذہن خودبخود اپنے موت کے عجائب خانے کی طرف گیا تھا۔ ایک شیشی کو غائب پا کر اُسے کچھ دیر اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا تھا اور پھر اس کا ذہن حالات کا تجزیہ کرتے ہی اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ دنیا کے سب سے خطرناک زہر کی شیشی چوری ہوگئی ہے۔
اس زہر کو چرانے کا مقصد صرف قتل کرنا ہوسکتا تھا۔ شیشی میں زہر کی اتنی مقدار موجود تھی کہ اس سے سو افراد کو قتل کیا جا سکتا تھا۔ پل کے پل اس کا دل خوف اور وسوسوں کی وجہ سے ڈوبنے لگا۔
’’آخر یہ حرکت کس کی ہو سکتی ہے؟‘‘
اس نے الماری بند کرنے کے بعد کرسی پر بیٹھ کے سوچنا شروع کیا۔ صفیہ باورچی خانے میں کھانے کے برتن دھو رہی تھی، لہٰذا ابھی اس کے ادھر آنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ سگریٹ سلگا کے وہ کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے میں کسی کا آنا ناممکن تھا۔ تمام کھڑکیاں بند تھیں۔ پردے ہٹا کے اس نے ہر چٹخنی کو غور سے دیکھا، ہر چٹخنی چڑھی ہوئی تھی اور کسی دہلیز پر آنے والے کے ہاتھوں یا پیروں کا کوئی نشان نہیں بنا تھا۔ اگر دہلیز پر گرد ہوتی تو شاید کوئی نشان بن جاتا مگر صفیہ کہیں گرد کا ذرّہ تک دیکھنے کی روادار نہیں تھی۔ وہ دہلیزوں کو ہی نہیں شیشوں کو بھی صاف رکھتی تھی۔ اس نے شیشوں کو ہلا کے بھی دیکھا تھا۔ تمام شیشے مضبوطی سے فریم میں جڑے ہوئے تھے۔
باہر اب بھی بارش جاری تھی۔ لہٰذا یہ ناممکن تھا کہ کوئی اندر آئے اور گیلے پیروں کا نشان بھی نہ چھوڑے۔ اس نے محدب عدسہ لے کر دروازے اور کھڑکیوں کے قریب کی جگہ کو دیکھا۔ کہیں بھی پانی کا ایک قطرہ موجود نہیں تھا۔ دروازے اندر سے تو کھولے جا سکتے تھے، باہر سے نہیں اور دروازہ اب بھی مقفل تھا، جس کی ایک چابی صفیہ کے پاس تھی اور تیسری چابی وہ گیراج میں چھپا کر رکھتے تھے کہ کبھی کسی کی چابی گم ہو جائے تو اسے پریشانی نہ ہو۔ مگر ابھی تک اس کے استعمال کی نوبت نہیں آئی تھی اور ان دونوں کے علاوہ ممکن ہے کوئی اور بھی جانتا ہو کہ تیسری چابی کہاں ہوتی ہے۔ بے شک سومر خاں کو یہ بات معلوم تھی تو اس نے رشی کو بھی بتا دی ہوگی۔ ان کے پڑوس والے گھر میں رشی کی بہن کو علم تھا تو اس کے شوہر کو بھی علم ہوگا۔ یہ سبھی گھر کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کے گھر میں اسی طرح آتے جاتے تھے جیسے اپنے گھر میں۔ وہ خود بھی اپنے اپنے گھروں کی چابی چھپا کر رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جمعہ خاں کو معلوم تھا کہ سومر خاں اپنے گھر کی چابی ڈرائنگ روم کی پہلی کھڑکی کے اُوپر والے چھجے پر رکھتا ہے۔ رشی کی بہن یہ چابی اس گملے کے نیچے رکھتی تھی جو برآمدے میں دائیں جانب رکھا تھا۔
ڈاکٹر جمعہ خاں کا دماغ مائوف ہونے لگا۔ ان میں سے کوئی بھی ایسے خطرناک زہر کی چوری نہیں کر سکتا تھا۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ اس کے عجائب خانے میں بہت سی خطرناک چیزیں ہیں۔ یہ سب چیزیں وہ باہر سے لایا تھا۔ صفیہ ان سے بہت ڈرتی تھی۔ اس نے کئی بار کہا تھا کہ خدا کے لیے ان چیزوں کو گھر سے باہر پھینک دو۔ اب تم اکیلے نہیں ہو، کل کو ہمارے بچے ہوں گے۔ ڈاکٹر جمعہ خاں نے اُس سے اتفاق کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان چیزوں کو گھر میں نہیں رکھے گا۔
کرمنالوجی میں ریسرچ کے دوران اسے اس طرح چیزیں جمع کرنے کا شوق چرایا تھا۔ اس کے عجائب خانے میں تین مختلف قسم کے ریوالور بھی تھے۔ کیس ختم ہو جانے اور قاتلوں کو سزا ملنے کے بعد آلاتِ قتل سرکاری ملکیت ہوگئے تھے اور اہم نہیں رہے تھے۔ جمعہ خاں نے کسی طرح یہ ریوالور حاصل کر لیے تھے۔ ان میں سے ہر ریوالور کی گولی نے کسی کی جان لی تھی۔ ڈاکٹر جمعہ خاں کو چھ خنجر بھی مل گئے تھے۔ ہر خنجر کسی قاتل کا تھا۔ اس کے پاس رسی کے چار پھندے بھی تھے، جس سے چار افراد نے خودکشی کی تھی۔ زہر آلودہ انجکشن کی سوئیاں بھی تھیں اور مختلف قسم کے زہر تھے جو قتل کی وارداتوں میں استعمال ہوئے تھے۔
اس نے محسوس کیا تھا کہ جن چیزوں میں اس کی دلچسپی ہے وہ دوسروں کو خوف زدہ کرتی ہیں اور جس ذخیرے کو وہ تاریخی سمجھتا ہے وہ لوگوں کو آسیب نظر آتا ہے۔ اس نے موت کے اس عجائب خانے کی نمائش چھوڑ دی تھی۔ یہ نام بھی اسے صفیہ نے دیا تھا اور جمعہ خاں کو موزوں لگا تھا۔ تاہم یہ حقیقت اس نے تسلیم کرلی تھی کہ جو پیشہ ورانہ نقطہ نظر اس کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہو سکتا۔ ایک ڈاکٹر کسی قسم کے جذباتی ردعمل کا شکار ہوئے بغیر پوسٹ مارٹم کے لیے قبروں سے پرانی لاشیں نکلواتا ہے اور مریض کے آپریشن ٹیبل پر مر جانے کے بعد صرف آپریشن کی ناکامی پر افسوس کرتا ہے مگر لواحقین اور غیرمتعلقہ افراد کے لیے یہ کتنا دہشت ناک کام ہے۔
اس نے پھر موجودہ سنگین صورت حال پر غور کرنا شروع کر دیا۔ دوپہر کے بعد اس نے شیشی دیکھی تھی۔ اس وقت الماری میں ہر چیز اپنی جگہ پر موجود تھی۔ اگر وہ شیشی غائب ہوتی تو، جس طرح اس نے الماری کھلتے ہی دیکھ لیا تھا نہیں ہے، ایسے ہی دوپہر کے وقت بھی وہ فوراً دیکھ سکتا تھا کہ کیا چیز غائب ہے۔ یہ شیشی تو اس نے اُٹھا کر بھی دیکھی تھی اور ہمیشہ کی طرح… اس زہر کی زبردست ہلاکت خیز قوت کا خیال آیا تھا۔ یہ واحد زہر تھا جسے زبان پر رکھنے کے بعد دوسرا سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔ دنیا کی کوئی چیز چند سیکنڈ میں آدمی کا خاتمہ نہیں کر سکتی سوائے اس زہر کے۔
اس نے سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل دیا۔ دوپہر کے بعد سے وہ کہیں نہیں گیا تھا۔ صفیہ اور وہ دعوت کے انتظام میں لگے رہے تھے۔ سومر خاں نے فون کر کے کہا تھا کہ وہ رشی کے ساتھ آئے گا اور سب لوگ ہر ہفتے کی طرح اکٹھا کھانا کھائیں گے۔ شدید بارش کے باوجود وہ آئے تھے۔ سومر خاں تو اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھا رہا تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے کی نگاہ سے اوجھل ہوئے تو صرف چند سیکنڈ کے لیے، جب کسی
کی رانگ کال آئی تھی۔ اس وقت سومر خاں اُٹھ کر درمیانی دروازے تک آیا تھا اور وہیں سے لوٹ گیا تھا، پھر یہ کہ سومر خاں ایسی حرکت کیسے کر سکتا ہے؟
وہ اچانک اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس وقت رشی میز کے پاس کھڑی تھی۔ وہ باتھ روم گئی تھی۔ باتھ روم دوسری طرف بیڈروم کے ساتھ بھی تھا لیکن یہ فرض کیا جائے کہ فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے وہ اسٹڈی کے ساتھ ملے ہوئے باتھ روم میں چلی گئی تھی۔ پھر بھی ایک بات ناقابل فہم تھی کہ وہ اپنا ہینڈ بیگ کیوں ساتھ لے گئی تھی۔ اس میں ہیرے جواہرات تھے بھی تو کیا تھا، وہاں سومر خاں اور جمعہ خاں دونوں ہی موجود تھے۔ اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ رشی نے عادتاً ہینڈ بیگ اٹھا لیا تھا اور یہاں پہنچ کے اسے غلطی کا احساس ہوا تو اس نے ہینڈ بیگ میز پر رکھ دیا اور باتھ روم چلی گئی۔ باتھ روم میں وہ کتنی دیر رہی؟ شاید دس پندرہ منٹ… اس وقت صفیہ میز پر کھانا لگا رہی تھی، باتھ روم میں اتنی دیر لگ سکتی ہے مگر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے پر وہ اندر آیا تھا تو رشی نے ایک جھوٹ بولا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ بیگ کی چیزیں گر گئی تھیں، یہ جھوٹ اس نے کیوں بولا؟ وہ اس وقت وہاں کھڑی کیا کر رہی تھی؟ اگر وہ بیگ ساتھ لے آئی تھی تو میز پر رکھتے وقت بیگ بند ہوگا۔ اندھیرے میں وہ بیگ کھول کر دیکھنے سے رہی، پھر چیزیں کیسے گر گئیں؟ نہیں۔ وہ کچھ کر رہی تھی، ٹیلی فون کی گھنٹی غیرمتوقع طور پر بجنے لگی تو وہ گھبرا گئی۔ اس کے بعد وہ فوراً نکل گئی تھی۔
اسے کچھ اور باتیں بھی یاد آئیں… رشی نے لائٹ نہ جلنے کی شکایت کی تھی۔ یہ بھی جھوٹ تھا۔ جب وہ جانے لگے تھے تو اسی کمرے سے گزر رہے تھے۔ دونوں ٹیوب لائٹس فوراً جل گئی تھیں۔ یہ شاید آدھے گھنٹے پہلے کی بات ہے جب وولٹیج مزید کم ہوگئے تھے۔ اگر ٹیوب لائٹس پہلے نہیں جلی تھیں تو دوسری بار کیسے جل گئیں؟ رشی نے جانتے بوجھتے ٹیوب لائٹس کی بجائے دوسرے بٹن آن کئے تھے یا کوئی بٹن آن کیا ہی نہیں تھا۔ اس نے ذہن پر زور دیا۔ ٹیوب لائٹس تو سالہا سال چلتی ہیں۔ یہ تو ابھی چھ مہینے پہلے ہی لگائی گئی ہیں۔ بلکہ پرانی ٹیوب لائٹس کے کناروں پر سیاہ حلقے سے نمودار ہو جاتے ہیں، اس نے باری باری دونوں ٹیوب لائٹس کو دیکھا۔ ابھی تک کسی کے کنارے پرکوئی سیاہ حلقہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ رشی کو مطمئن کرنے کے لیے اس نے ایک جواز پیش کر دیا تھا، مگر جواز غلط تھا۔
جرم صفیہ پر ثابت نہیں ہوتا تھا جسے قتل کرنا ہوتا یا خودکشی کرنی ہوتی تو اس کی دسترس میں یہ سب چیزیں ہر وقت تھیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی بیوی کو اتنا ہی سمجھتا تھا جتنا اپنے چھوٹے بھائی کو۔ سومر خاں کے لیے قتل کرنا یا خودکشی کرنا دونوں بعید از امکان تھے۔ بلاشبہ وہ ہدایت کاری کے میدان میں ناکام ہوگیا تھا مگر وہ ذرّہ بھر بھی مایوس نہیں تھا۔ اس کا حوصلہ اب بھی بلند تھا۔ اس کے ذہن میں بہت سے منصوبے تھے جن کے بارے میں وہ آج گفتگو بھی کرتے رہے تھے۔ سومر خاں کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح جمعہ خاں کے سامنے تھی۔ اس کا آج تک کسی کے ساتھ اختلاف نہیں ہوا تھا۔ اس کا دشمن کون ہو سکتا ہے جسے وہ قتل کرنا چاہے گا یا اس کے متعلق ایسا سوچے گا؟
اگر ایسا کوئی مسئلہ ہوا بھی تو کم از کم اپنے بھائی کو تو ضرور بتائے گا۔ کیونکہ ان کے درمیان اعتماد کی دیوار بڑی مضبوط بنیادوں پر استوار تھی۔ خودکشی کی وہ اس لیے نہیں سوچ سکتا کہ وہ ڈاکٹر جمعہ خاں کا بھائی ہے۔ ان دونوں کی فطرت اور سرشت ایک تھی۔ ایک ماہرِ نفسیات اور خودکشی کی وارداتوں پر ریسرچ کرنے والے کی حیثیت سے وہ سو فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتا تھا کہ سومر خاں ایسا آدمی نہیں جو خودکشی کا خیال بھی دل میں لائے۔
لیکن رشی…؟ پولیس… رشی کا کردار… اس کی سابقہ زندگی… اس کی عادات و اطوار، مزاج اور شخصیت اور اس کا آج کا رویہّ… یہ سب اس امر کی دلالت کرتے تھے کہ وہ خودکشی کر سکتی ہے۔ اس کی ٹائپ وہی ہے جو خودکشی کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ اس نے اپنی کتاب کے لیے مواد اکٹھا کرتے وقت بہت سے کیس دیکھے تھے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ خودکشی کا ارتکاب کرنے والوں کے رویے پر پہلے سے نظر رکھی جائے اور ان کی شخصیت کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات قبل از وقت بھی بتائی جاسکتی ہے کہ کون خودکشی کر سکتا ہے۔ تین افراد کے بارے میں اس نے اپنی رائے کا اظہار کتاب میں نہیں کیا تھا مگر ان تینوں نے بعد میں خودکشی کی تھی۔ ایک ناکام رہا تھا۔ دو مر گئے تھے۔ رشی کے بارے میں اس کے شکوک ناقابلِ تردید ہوتے جا رہے تھے۔
’’ڈاکٹر صاحب…!‘‘ اچانک اندر آ کر اس کی بیوی نے پکارا تو وہ سوچوں کے بھنور سے یکدم نکلا۔ ’’بھئی ہمیں تو نیند آرہی ہے۔‘‘
’’تم سو جائو ڈیئر…!‘‘ وہ اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے بولا۔ ’’مجھے کچھ کام ہے، موڈ بن گیا ہے۔‘‘
’’واہ جی واہ… ایسے موسم میں کیا موڈ بنا ہے جناب کا…؟‘‘ صفیہ نے ہنس کر کہا مگر وہ مسکرا تک نہ سکا تھا۔
اسے رشی کو بچانا تھا۔ اپنے بھائی کو بتانا تھا کہ اس کی رشی؟ مگر کیا وہ یقین کرے گا؟ اس نے اُٹھ کر ٹہلنا شروع کر دیا۔ خیر اسے ہر صورت یقین کرنا پڑے گا۔ میں اس کا بڑا بھائی ہوں، دوست ہمدرد سب کچھ ہوں اس کا… اور میرا دماغ خراب نہیں ہے کہ اس کی نئی نویلی بیوی پر ایسا الزام لگائوں، وہ خود بھی جانتا ہے میں غلط بات نہیں کرتا اور منطقی نتیجہ اخذ کئے بغیر کچھ نہیں کہتا۔ مجھے رشی سے کوئی پُرخاش بھی کیسے ہو سکتی ہے۔ وہ سومر خاں کی بیوی ہے جبکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔ ان کی شادی کو ابھی چھ ہی ماہ ہوئے ہیں پھر رشی اُمید سے بھی ہے۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے۔ مگر سائنائڈ زہر کی پوری شیشی… میرا خدا… اگر پولیس کو معلوم ہو جائے، مگر یہ گھر کی بات ہے۔ پولیس کو کیسے بتائی جا سکتی ہے۔ اس نے ٹیلی فون کا ریسیور اُٹھایا اور سومر کا نمبر ملانے لگا۔
رات کے بارہ بجے تھے۔ صفیہ کو سوئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔ ان کی گفتگو کوئی نہیں سن سکتا تھا۔ نہ صفیہ نہ رشی۔ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا اور اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ ریسیور اس کے ہاتھ میں کانپ رہا ہے۔
٭…٭…٭
گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ایک پل کے لیے بھی اس کی آنکھ نہیں لگی تھی۔ اس نے پہلے سمجھا تھا کہ جمعہ خان مذاق کر رہا ہے مگر وہ اپنے بھائی کو جانتا تھا۔ وہ مذاق میں بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس نے جمعہ خان کے منطقی اور مستند فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ حقیقت کے اس بھیانک رُوپ کا سامنا کرتے ہوئے ڈرتا تھا اس نے جمعہ خان سے کہا تھا کہ اسے وہم ہو گیا ہے۔ نظریاتی اندازے غلط بھی ہو جاتے ہیں۔ اندازوں کی غلطی کے اسباب مختلف بھی ہو سکتے ہیں مثلاً کسی کے رویّے یا کسی حرکت کا غلط مفہوم اخذ کر لیا جائے۔ ایک گیلن مٹی کا تیل اور دیا سلائی لے کر جانے والے کے بارے میں یہ فرض کیوں کیا جائے کہ وہ گھر کو آگ لگانے جا رہا ہے؟ یا خود پر تیل چھڑک کر جل مرنے کا ارادہ کیے ہوئے ہے کیونکہ مٹی کے تیل اور ماچس کا اس کے لیے اور کوئی مصرف نہیں؟ اس کے گھر میں تو گیس کا چولہا اور گیس لائٹر دونوں موجود ہیں۔ مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ چولہا خراب ہو جائے یا لائن میں گیس آنا بند ہو جائے، وہ پرانے مٹی کے تیل والے چولہے کو استعمال کرنا چاہتا ہو۔ بات اس نظر کی ہے جس نظر سے کوئی کسی کو دیکھتا ہے۔ یہ نظر محبت کی نظر بھی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے ایک چڑیل بھی پری لگتی ہے۔ نفرت کی نظر ہو تو آدمی عیب دیکھتا ہے۔ شک کی نگاہ ڈالے تو بیوی کیا ماں کا کردار بھی مشتبہ نظر آ سکتا ہے۔
لیکن یہ سب دلائل بے کار تھے جو وہ مخالفت اور موافقت میں اپنے آپ کو دے رہا تھا۔ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ اس کے بھائی جمعہ خان نے سوچے سمجھے اور تمام مضمرات کو سامنے رکھے بغیر اس کو فون نہیں کیا ہوگا۔ اس کے دلائل بھی ٹھوس تھے۔ اس کی شہادت ناقابلِ تردید تھی اور اس کی رائے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ ایسا شخص تھا جس پر اعتماد نہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔
جمعہ خان نے واضح طور پر اسے بتا دیا تھا کہ رشی پر شبہے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔ اس کا کمرے میں موجود ملنا لائٹ کے بارے میں غلط بیانی، ہینڈبیگ کے بارے میں جھوٹ بولنا۔ وہ کرمنالوجی کا ماہر تھا اور اس نے پولیس سے بہتر طور پر تفتیش کرلی تھی۔ گھر کے اس کمرے میں رشی کے سوا کوئی گیا ہی نہیں تھا۔ سومر خاں انکار نہیں کر سکتا تھا کہ رشی دس منٹ تک غائب رہی تھی۔ اسے یاد تھا کہ باقی افراد ادھر گئے ہی نہیں تھے۔ اسے یاد تھا کہ روانگی کے وقت دونوں ٹیوب لائٹس جل گئی تھیں چنانچہ وہ یقین کرنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ جمعہ خان نے اسی دن شیشی دیکھنے اور اٹھا کے رکھنے کی بات بھی غلط نہیں کی۔ یہ بھی سچ ہوگا کہ اس روز بارش کے باعث دوپہر کے بعد کوئی اور ملنے والا نہیں آیا تھا اور بعد میں سب کھڑکیاں دروازے اندر سے بند ملے تھے۔
ایک نامعلوم خوف نے اس کے دل کو جیسے مٹھی میں جکڑ لیا اور اس خوف کی گرفت تنگ سے تنگ تر ہونے لگی تھی۔ جمعہ خان غلط نتیجہ بھی اخذ نہیں کرسکتا۔ ڈرتے ڈرتے اس نے رشی کے ہینڈ بیگ کی تلاشی لی تھی۔ اس نے گھر کا کونا کونا چھان مارا تھا۔ وہ تمام مقامات دیکھ لیے تھے جہاں ایک شیشی چھپائی جا سکتی ہے اور یہ سب کارروائی اس نے رشی کو بتائے بغیر کی تھی۔ رشی بہ لحاظ کریکٹر خودکشی کرنے والوں کے مزاج اور فطرت کی حامل ہے۔ کتنا عجیب اور اذیت ناک تھا یہ فیصلہ مگر جمعہ خاں کے علم، تجربے اور مشاہدے کو غلط نہیں گردان سکتا تھا۔ اسے معلوم تھا پہلے جن افراد کے بارے میں اس نے قبل از وقت پیش گوئی کی تھی وہ درست ثابت ہوئی تھی ایک نے چھ ماہ بعد، دوسرے نے سال بھر اور تیسرے نے دو سال بعد خودکشی کرلی تھی۔
پہلا شخص پہلی کوشش میں ناکام رہا تھا مگر اس نے کوشش یقیناً کی تھی اور کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ دوسری کامیاب کوشش وہ کب کرے گا۔ یہ بات ڈاکٹر جمعہ خاں نے کتاب میں مصلحتاً نہیں لکھی تھی مگر اُس کے علاوہ اور کئی لوگوں کو بتا دی تھی۔
’’لکھ لو کہ فلاں شخص خودکشی کر سکتا ہے۔‘‘ اس نے نام پتا بتا کے دعویٰ کیا تھا۔ جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا وہ خوشحال، تفکرات سے بے نیاز بہ ظاہر مطمئن زندگی گزارنے والے لوگ تھے جو بالکل نارمل بھی لگتے تھے۔ مگر یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا تھا۔ پھر رشی کے بارے میں اس کی رائے غلط کیسے ہو سکتی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ ہم سب مل کے رشی کو بچا سکتے ہیں۔ ہمیں اس جذبے کا سراغ لگانا ہے جو چوروں کی طرح لاشعور کے اندھیرے میں چھپا بیٹھا ہے جس کی موجودگی کا علم خود رشی کو نہیں مگر یہ دشمن جذبہ کسی بھی کمزور لمحے کی دیوار توڑ کے اسے مغلوب کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر جمعہ خاں کی نیت پر وہ شبہ ہی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اس کا سب سے بڑا خیرخواہ تھا۔ اس نے پورے خلوص نیت کے ساتھ کہا ہوگا کہ ہم سب مل کر رشی کو بچا سکتے ہیں اور جیسے چور کو علم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس کی شخصیت میں چھپے ہوئے قاتل کو پکڑ کے اس کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔
اچانک بیڈ روم کی طرف سے سنائی دینے والی چیخ نے ایک لمحے کے لیے اسے مفلوج کر دیا۔ وہ بے تحاشا بھاگا۔ چیخ رشی کی تھی۔ وہ بیڈ روم کا دروازہ ایک دھماکے سے کھول کر اندر داخل ہوا۔ کمرے میں صرف باتھ روم کے کھلے دروازے سے آنے والی روشنی کا اُجالا تھا اور اسے رشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ واش بیسن کا نل کھولے بری طرح چلا رہی تھی۔ سومر کو پکار رہی تھی اور خوف میں اس کے حلق سے نکلنے والی آوازیں بہت دہشت ناک تھیں۔ اس نے کمرے میں چار وال لائٹس کے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا۔ کمرے میں چاروں لائٹس کا اُجالا پھیل گیا۔ وہ باتھ روم میں داخل ہوا اور ٹھٹھک کر رُک گیا۔ واش بیسن کی سفیدی پر لہو کے داغ تھے اور یہ لہو بہہ کر پانی میں شامل ہو رہا تھا۔
’’رشی! یہ…یہ… کیا ہے؟‘‘ وہ چلایا۔
رشی نے پلٹ کر دیکھا۔ اس کا چہرہ لاش کی طرح سفید ہو رہا تھا۔ سومر نے اسے فوراً تھام لیا۔ خون اس کی کٹی ہوئی کلائی سے بہہ رہا تھا۔ پلک جھپکتے ہی سومر نے ایک رومال اس کی کلائی پر کس کے باندھ دیا اور پھر فریج میں سے برف لینے دوڑا۔ ’’دیکھو… گرنا نہیں…‘‘ اس نے پلٹ کر کہا۔ ’’میں… ابھی آیا۔‘‘
وہ ایک منٹ بعد آیا تو رشی وہیں ساکت کھڑی تھی مگر اس کا وجود طوفان کی زد میں آ جانے والے نازک پودے کی طرح لرز رہا تھا۔
’’یہ کیا ہوا رشی…؟ کک… کیسے ہوا…؟‘‘ اس نے کٹی ہوئی کلائی پر برف رگڑتے ہوئے کہا۔ پٹی نے خون بہنے کی رفتار کم کر دی تھی۔ مگر خون رومال کے اوپر بھی نمودار ہوگیا تھا اور پھیلتا جا رہا تھا۔ وہ رشی کو اُٹھا کر بیڈروم میں لے آیا۔
’’میں… مجھے کچھ نہیں معلوم سومر…!‘‘ وہ بہ مشکل تمام اپنی کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔ ’’میں… میں تو سو رہی تھی… میں سمجھی تم … تم نے میرا ہاتھ تھاما ہے… پھر… مجھے درد کا احساس ہوا۔ مگر میرے ہوش میں آنے سے پہلے وہ غائب ہوگیا تھا۔ اس طرف۔‘‘
اس نے کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ سومر نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا۔ پندرہ فٹ نیچے پھول کھلے ہوئے تھے۔ کھڑکی کے ساتھ نہ کوئی سیڑھی تھی اور نہ کوئی رسی معلق تھی لیکن یہ ممکن ہے کہ کوئی پندرہ فٹ کی بلندی سے کود جائے۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ کام خطرناک تھا۔ بارہ فٹ اُونچی چھت، تین فٹ اونچی کھڑکی کی دہلیز، وہ کودے گا تو کیاری میں اس کے نقشِ قدم صاف بن سکتے تھے اور فرار ہوگا تو گیلی مٹی کے نشانات چھوڑ جائے گا جو اس کے جوتوں سے چمٹ جائے گی۔ خیر، یہ سب بعد میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس نے الیکٹرک کیٹل کا پلگ لگایا اور تیزی سے نیچے اُتر گیا۔ فون ڈرائنگ روم میں تھا۔ اس کا ایکسٹینشن سومر کے اپنے کمرے میں موجود تھا۔ مگر ڈراموں میں کام کرنے والے شوقین لڑکوں لڑکیوں کے فون وقت بے وقت پریشان کرنے لگے تو اس نے فون ہٹا دیا تھا۔
اپنے بچپن کے دوست ڈاکٹر ارباب سکندر کو فون کرتے ہوئے اس کے ذہن میں خیالات کی زبردست جنگ چل رہی تھی۔
’’ارباب۔‘‘ اس نے پانچ منٹ بعد، ہیلو، کے جواب میں کہا۔ گھنٹی پانچ منٹ تک بجتی رہی تھی اور وہ ریسیور تھامے کھڑا رہا تھا۔ ’’یار ایک ایمرجنسی ہے۔ ایک حادثہ… نہیں مجھے کچھ نہیں ہوا، کسی نے رشی کی کلائی کاٹ دی ہے سوتے میں!‘‘
’’کیا…؟‘‘ ڈاکٹر ارباب سکندر نے چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد کہا۔ اس کے لہجے کی بے یقینی نمایاں تھی۔ ’’میں سمجھا نہیں۔‘‘
سومر نے اسے رک رک کر ساری بات سمجھائی۔ ’’معلوم نہیں یہ حرکت کس نے کی اور کیوں؟‘‘
’’یہ سب بعد میں معلوم ہو جائے گا۔ میں ابھی ایمبولینس بھیجتا ہوں تم اسے میرے پاس لے آئو فوراً۔‘‘ ارباب نے کہا۔
سومر اُوپر کی طرف لپکا۔ اس کی نگاہ کلاک پر گئی۔ رات کے دو بجے تھے۔ کھانے کے بعد سے رات کے دو بجے تک وہ ڈرائنگ روم میں اکیلا ٹہلتا رہا تھا۔ اس نے رشی سے کہہ دیا تھا کہ وہ ایک ڈرامے کے مسودے پر غور کر رہا ہے۔ رشی مطمئن ہو کر سو گئی تھی۔ روز کی طرح اس نے سونے کے بعد رشی کو آ کے دیکھا تھا۔ اس کی نیند بالکل پرسکون تھی۔ کیا خودکشی کرنے والے اتنے سکون سے سو سکتے ہیں؟ ان کے لاشعور میں چھپا ہوا چور جذبہ نیند میں مداخلت نہیں کرتا؟ جذباتی انتشار پیدا نہیں کرتا؟ نہیں، یہ ناممکن ہے، لاشعور میں مر جانے کی خواہش لے کر سونے والا ضرور نیند میں ڈرے گا، بھیانک خواب دیکھے گا۔ چونک چونک کر اُٹھے گا۔ وہ کتنی دیر تک رشی کو دیکھتے رہنے کے بعد لوٹ آیا تھا۔ کاش! وہ لوٹ کر نہ آتا، اگر وہ بھی رشی کے قریب ہوتا تو یہ حادثہ کیوں پیش آتا۔ اس نے چائے بنائی اور رشی کو دی۔ رومال کے اُوپر رشی نے ایک اور کپڑا باندھ لیا تھا۔ خون تقریباً رُک چکا تھا مگر رشی کی حالت غیر تھی۔ اس نے سہارا دے کر رشی کو گرم چائے پینے پر مجبور کیا۔ وہ اب ہسٹریائی کیفیت میں رو رہی تھی۔ آنسوئوں کے بغیر، سومر سے پوچھ رہی تھی وہ کون تھا؟ اس نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ؟
وہ اسے تسلیاں دینے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آخر کوئی ایسا کیوں کرے گا؟ جان کا دشمن ہوگا تو کلائی کو خنجر سے کاٹنے کی بجائے وہی خنجر دل میں پیوست کیوں نہیں کرے گا؟ رشی کا یقین اب متزلزل ہو رہا تھا۔ ’’ممکن ہے وہ کھلے دروازے سے نکل گیا ہو۔ مجھے اندھیرے اور نیند کی وجہ سے جاگنے کے بعد سمت کا خیال نہ رہا ہو۔ مجھے تو ایک سایہ سا دکھائی دیا۔ اُوپر جھکا ہوا۔‘‘ وہ اپنی دُھن میں بولتی جا رہی تھی جبکہ سومر خاں اس کی صورت غور سے دیکھ رہا تھا۔ (جاری ہے)