Zehar – Episode 2

119
سومر خاں کے لیے یہ فرض کرنا بھی عملاً ناممکن تھا کہ رشی جھوٹ بول رہی ہے۔ اس کی کٹی ہوئی کلائی اس بات کا ثبوت تھی کہ کسی نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کی کلائی کاٹی اور فرار ہوگیا۔ کیا صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی؟ خودکشی کے مروجہ طریقوں میں سے یہ بھی ایک طریقہ تھا اور کیا کوئی مانے گا کہ یہ خودکشی کی ناکام کوشش نہیں تھی؟ اور کیا کوئی یہ مانے گا کہ اگر یہ خودکشی نہیں تھی تو خود سومر خاں نے یہ حرکت نہیں کی تھی؟ اس بات کا گواہ کون ہوگا کہ جب یہ سانحہ پیش آیا تو رشی اکیلی سو رہی تھی اور سومر ڈرائنگ روم میں تھا۔ آدھی رات کے بعد تک وہ کیوں جاگ رہا تھا؟ وہ رشی کا ہاتھ تھامے مسہری پر بیٹھا سوچتا رہا… سوچتا رہا…!
اس کا شک اب یقین میں بدل چکا تھا کہ کوئی رشی کو قتل کرنا چاہتا ہے اور دانستہ ایسے حالات پیدا کرنے میں مصروف ہے جس سے یہ قتل خودکشی نظر آئے۔ اسی لیے ڈاکٹر جمعہ خاں کے گھر سے شیشی غائب کر کے رشی کو مجرم بنا دیا تھا۔ یہ دوسری کوشش بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ شاید تیسری کوشش میں وہ کامیاب ہو جائے۔ دنیا کے ساتھ اس کا بھائی بھی کہے گا کہ رشی کی خودکشی کے بارے میں شبہے کی قطعی گنجائش نہیں۔ اس کی رائے مستند ہے اور حالات کی گواہی اس کو سچ ثابت کردے گی۔ قاتل کے پاس زہر کی شیشی موجود ہے۔ وہ کسی دشواری کے بغیر رشی کو قتل کردے گا۔
مگر وہ کون ہے؟ اور رشی کو کیوں قتل کرنا چاہتا ہے؟ بغیر وجہ کے تو کوئی بھی قتل نہیں کرتا۔ سوائے کسی خطرناک دیوانے کے… مگر یہ سب کچھ کرنے والا دیوانہ نہیں، بہت ہوشیار تھا۔ یہ تو رشی ہی بتا سکتی تھی کہ اس کی ذات سے کس کو دشمنی ہوسکتی ہے۔ وہ خود رشی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ سوائے ان باتوں کے جو گزشتہ چھ ماہ کے دوران سومر کو خود اس نے بتائی تھیں۔
اس نے اپنی زندگی کے اہم واقعات سنا دیے تھے اور سومر نے ان کی صداقت کو من و عن تسلیم کرلیا تھا۔ شک کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی جبکہ اس نے خود کہہ دیا تھا کہ مجھے تمہارے ماضی سے نہیں بلکہ تمہارے مستقبل سے سروکار ہے۔ وہ شکی مزاج تھا اور نہ ہی منفی سوچ رکھنے والا تجسس پسند شخص… اس نے رشی پر اعتماد کیا تھا۔
لیکن اب اس کے یقین کی دیوار میں رخنے پڑنا شروع ہوگئے تھے۔ قتل کی کوشش کوئی بھی بلاوجہ نہیں کرتا تو اس وجہ کا تعلق رشی کے اس ماضی سے ہوگا جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ کیا رشی نے جانتے بوجھتے کسی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا تھا یا کسی کے جذبات کا خون کیا تھا؟ اگر کوئی ایسا شخص تھا جسے انتقامی ردعمل نے قتل کرنے پر مجبور کردیا تھا تو سومر اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ رشی پہلے بھی ایک شخص کی بیوی تھی۔ اگر اس کی دوسری شادی نے سابقہ شوہر یا اس کے کسی بھائی کو روایتی غیرت کی آگ میں مبتلا کردیا تھا تو یہ بھی کوئی کم خطرناک بات نہیں تھی۔ یا پھر ایسا کوئی شخص مشتعل ہوگیا ہو جو رشی سے شادی کا خواہاں تھا یا کوئی آدمی صدمے سے پاگل ہوگیا ہو۔ اس کا کوئی تعلق دار انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ لیکن جب تک یہ ساری باتیں خود رشی یا اس کی بہن رخشندہ نہ بتائے، کیا کہا جاسکتا تھا۔
رخشندہ بھی سب کچھ نہیں جانتی تھی۔ عملاً دس سال تک اس کا اپنی چھوٹی بہن سے کوئی تعلق نہیں رہا تھا۔ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور بچپن کی اس منگنی کو توڑ دیا تھا جو محاورتاً ٹھیکرے کی مانگ کہلاتی ہے۔ والدین نے پیدائش کے فوراً بعد اس کا رشتہ اتفاق رائے سے چچازاد بھائی کے ساتھ طے کردیا تھا جو عمر میں رخشندہ سے ایک آدھ سال بڑا تھا۔
یہ پرانے وقتوں کے رسمی رشتے تھے جو اس طرح نبھائے جاتے تھے۔ رخشندہ کے باپ نے بھی اپنے بڑے بھائی کی مرضی سے شادی کی تھی اور دونوں بھائیوں کی بیویاں سگی بہنیں تھیں۔ ایک طرف دونوں کا دنیا میں ایک دوسرے کے سوا کوئی اور نہ تھا تو دوسری طرف ان کی بیویاں بھی والدین کی دو ہی اولادیں تھیں۔ ان چاروں کے اکٹھا ہو جانے سے وہ خاندان وجود میں آیا جو مثالی تھا۔ بھائی اپنے بھائی سے اتنی ہی محبت کرتا تھا جتنی ایک بہن کو دوسری بہن سے تھی۔ رخشندہ کا باپ چھوٹا بھائی تھا۔ چنانچہ اس نے رخشندہ کو بلا چوں و چرا بھائی کے حوالے کردیا۔
بڑا بھائی اس کے لیے باپ کی طرح قابل احترام تھا۔ وہ اس کی خواہش کے خلاف کچھ کرسکتا تھا اور نہ ہی اس کے حکم کو ٹال سکتا تھا مگر خود اس کے لیے بھی یہ انتہائی اطمینان اور مسرت کی بات تھی کہ بیٹی گھر میں ہی رہے۔ رخشندہ کی ماں بھی خوش تھی کہ بیٹی کو بہن نے اپنا لیا۔ ایسے مقدر کس کے ہوتے کہ بیٹی کا رشتہ اس کے پیدا ہوتے ہی طے ہو جائے۔ لڑکیاں ماں باپ کے لیے وہ بوجھ بن جاتی ہیں جسے اتارنا مشکل ہو تو اتارے بغیر مرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی صورت حال رشی کی پیدائش کے بعد پیش آئی اور تاریخ نے اس حد تک اپنے آپ کو ضرور دہرایا کہ ایک بھائی کو خدا نے دو بیٹیاں دیں تو دوسرے کو صرف دو بیٹے، لیکن اس کے بعد وقت کے دھارے نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
پہل رخشندہ نے کی اور جب اس کی شادی کا معاملہ طے ہونے لگا تو اس نے چچا کے نکھٹو اور نالائق بیٹے کو بطور شوہر قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ کالج میں پڑھ رہی تھی اور اس کے منگیتر نے میٹرک بھی پاس نہیں کیا تھا۔ اس نے دو بار میٹرک کا امتحان دیا تھا اور دونوں بار فیل ہوگیا تھا۔ تیسری کوشش میں وہ کسی معجزے سے ہی پاس ہوسکتا تھا لہٰذا اس نے یہ ارادہ ہی ترک کردیا اور کامل یکسوئی کے ساتھ آوارہ گردی اور صحبت بد میں مصروف ہوگیا۔
رخشندہ کا انکار جائز تھا مگر اس کے والدین نے رشتے کو انا کا مسئلہ بنا لیا اور قتل کر کے دفن کر دینے سے خودکشی کرلینے تک کی دھمکی دی۔ رخشندہ کا باپ چھوٹا بھائی ہونے کے باعث بڑے بھائی سے سخت شرمندہ تھا۔ اس کا بیٹا جیسا بھی تھا اپنا خون تھا مگر نئی نسل کا خون سفید ہو چکا تھا۔ کسی کی ایک نہ چلی اور رخشندہ نے اپنی مرضی سے اپنی کلاس کے ایک لڑکے سے شادی کرلی۔ والدین نے مرتے وقت تک اس کا قصور معاف نہیں کیا اور رخشندہ اس گھر سے اس طرح نکلی کہ ان کے لیے گویا مر گئی۔
ملنا تو درکنار کسی کا رخشندہ سے فون تک کا رابطہ بھی نہیں تھا۔ تاہم رخشندہ اپنے گھر میں شاد و آباد تھی۔ اس کے شوہر نے اپنے باپ کا کاروبار سنبھال لیا تھا اور اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے تمام جائداد کا وارث بن گیا تھا۔ باپ جنگلات کے ٹھیکے لیتا تھا۔ اس نے تعمیرات کے ٹھیکے لیے اور اتنا کمایا کہ ہر سال کار اور کوٹھی بدلتا گیا۔ اب وہ چار سو گز کی کوٹھی میں مقیم تھا اور اس کے پاس ایک شاندار نئے ماڈل کی قیمتی کار تھی۔ وہ رخشندہ کو دو بار اپنے ساتھ یورپ کے دورے پر بھی لے جا چکا تھا اور ان کے تین بچے ایبٹ آباد کے اسکول میں زیر تعلیم تھے جہاں سے وہ سال میں صرف ایک بار ہی موسم سرما کی چھٹیوں میں والدین سے ملنے آتے تھے اور دو مہینے ان کے ساتھ گزار کے واپس چلے جاتے تھے۔
رخشندہ اور اس کا شوہر شوکت حسین اپنی ازدواجی زندگی سے بہت مطمئن تھے۔ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور اپنے بچوں کو ہر طرح سے کامیاب مستقبل کی ضمانت فراہم کر چکے تھے۔ رخشندہ کو خونی رشتوں کے باقی نہ رہنے کا قطعی ملال نہ تھا اور اپنے کیے پر کوئی پشیمانی نہیں تھی۔ شوکت حسین بہت بڑا ٹھیکیدار نہیں تھا۔ مگر اپنے پیشے میں کامیاب تھا۔ تعلقات، جوڑ توڑ اور ہیرا پھیری کے بغیر اس کا دھندا چل ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ دیگر ٹھیکے داروں سے بنا کے رکھتا تھا جو مل بانٹ کر کھانے کے قائل تھے۔ تاہم گزشتہ سال سے شوکت حسین کا ایک کمینہ خصلت کاروباری حریف، اسے مسلسل نقصان پہنچا رہا تھا، جھگڑا تین کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ایک اسپتال کے ٹھیکے پر ہوا تھا۔ دوسرے ٹھیکیداروں نے اتفاق رائے سے یہ ٹھیکہ شوکت کو دیا تھا۔ کسی نے بھی کم لاگت کے ٹینڈر داخل نہیں کیے تھے۔ مگر جب ٹینڈر کھولے گئے تو ایک ٹینڈر طے شدہ رقم سے پانچ لاکھ کم کا نکلا۔ یہ صریحاً بدعہدی تھی۔ صرف چند لاکھ کی کمی سے یہ ٹینڈر قبول کرلیا گیا۔ باقی ٹھیکیداروں نے اسے غلط ضرور قرار دیا تھا مگر نقصان صرف شوکت کا ہوا تھا، وہ اس ٹھیکے سے کم از کم پچاس ساٹھ لاکھ ضرور کما لیتا۔ اس نے اپنے حریف کو سزا دینے کا فیصلہ کیا اور چند کرائے کے بندے لے کر اس کے گھر میں جا گھسا۔ انہوں نے اندر بہت توڑ پھوڑ مچائی اور اس شخص کو اتنا مارا کہ وہ مہینہ بھر اسپتال میں بستر پر پڑا رہا۔ اس کی بیوی بھی ہنگامے کی لپیٹ میں آگئی۔ بندوں نے اس کے زیورات بھی اتار لیے۔ شوکت کو پولیس نے تھانے میں بند رکھا اور کیس کو دبانے، مصالحت کرنے اور خود کو بلیک لسٹ سے بچانے میں اس کو مزید چار پانچ لاکھ خرچ کرنے پڑ گئے۔ بات پھر بھی ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ شوکت کا حریف کینہ پرور شخص تھا۔ وہ اپنی حرکتوں سے پھر بھی باز نہیں آیا تھا۔
رخشندہ کی چھوٹی بہن رشی نے والدین کے فیصلے کو نوشتۂ دیوار سمجھ کے قبول کرلیا تھا اور دس سال بعد جب اس کی شادی اپنے اسی چچازاد بھائی سے ہوئی جس سے رشی کی نسبت پیدائش کے بعد طے پا گئی تھی تو اس نے تقدیر سے کوئی شکوہ نہیں کیا کیونکہ بڑی بہن رخشندہ کے منگیتر یعنی چچا کے بڑے لڑکے کے برعکس چھوٹا لڑکا ہر طرح رشی کے لیے موزوں ثابت ہوا۔ وہ ذہین اور محنتی تھا۔ اسمارٹ تھا، بری صحبت سے دور رہنے والا اعلیٰ تعلیم یافتہ مہذب شخص تھا۔
بعد میں رشی کے پہلے شوہر کا ایک کار کے حادثے میں انتقال ہوگیا۔ شوہر کی موت کے بعد رشی کو احساس ہوا کہ عورت کا سہاگ اس کے گرد تحفظ کا کتنا مضبوط حصار ہوتا ہے۔ تب ہی ماڈلنگ اور سلور اسکرین کا شوق اور ایک حد تک ضرورت، اسے سومر خاں کے پاس لے آئی اور بعد میں وہ اس کی بیوی بھی بن گئی مگر گزشتہ زندگی کے تلخ ایام اس کے تحت الشعور سے محو نہیں ہوئے اور ماہر نفسیات کے مطابق یہی تلخ حالات انسان کو آگے چل کر بڑی پیچیدگیوں میں مبتلا رکھتے ہیں۔ سومر خان نے ان سارے حالات کا اپنے تئیں درست تجزیہ کیا تھا مگر اب بھی وہ اس جرم کی تہہ تک نہ پہنچ سکا تھا۔ چونکا اس وقت جب ایمبولینس کے ہارن کی آواز سنائی دی۔
رشی آنکھیں بند کیے پڑی تھی۔ وہ صورت سے ہی برسوں کی مریض لگتی تھی۔ اس کا رنگ زرد ہو رہا تھا اور چہرے کی شگفتگی اور شادابی کی جگہ ایک ایسی ویرانی نے لے لی تھی جسے دیکھ کر خوف آتا تھا۔ کوئی اور اس کو دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ وہ مر چکی ہے۔
’’رشی…!‘‘ اس نے پیار سے اس کے گالوں پر تھپکی دی۔ ’’چلو اسپتال چلتے ہیں۔‘‘
رشی نے اس کا بازو تھام لیا۔ ’’نہیں سومر! یہ زخم ایسے ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘
’’پاگل مت بنو۔‘‘ سومر بولا۔ ’’خون بہنا ابھی بالکل بند نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ یہ قاتلانہ حملے کا کیس ہے۔ مجھے اپنے دوست ڈاکٹر ارباب سے مشورے کے بعد پولیس کو بھی طلب کرنا ہے۔ رپورٹ لکھوانی ہے۔‘‘
’’نہیں… نہیں۔‘‘ وہ دہشت زدہ ہو کے چلائی۔ ’’اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا!‘‘
’’یہ فیصلہ کرنا تمہارا کام نہیں ہے۔‘‘ سومر نے سپاٹ لہجے میں کہا اور رشی کو دونوں ہاتھوں کا سہارا دے کر اٹھا لیا۔ جب وہ باہر آیا تو شوکت اپنی گاڑی کو ایمبولینس کے پیچھے روک چکا تھا۔
’’کیا بات ہے سومر خاں؟‘‘ اس نے پرتشویش لہجے میں سومر سے پوچھا۔ ’’میں نے نکلتے نکلتے دیکھا تو ایمبولینس اندر آرہی تھی۔‘‘
سومر خاں اور شوکت حسین کے درمیان ہمسائیگی اور دوستی کا رشتہ کئی سال سے قائم تھا مگر رشی سے شادی کے بعد یہ رشتہ اور قریبی ہوگیا تھا۔
’’کیا ہوا ہے ریشماں کو؟‘‘ شوکت نے سومر کو کندھے پر ہاتھ رکھ کر جھنجھوڑا، جو رشی کو اٹھائے بے حس و حرکت کھڑا تھا۔
’’کک… کچھ نہیں…‘‘ سومر نے کہا۔ ’’میرے ساتھ چلو، اپنی گاڑی میں… شاید مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔‘‘
٭ … ٭ … ٭
’’میں ڈاکٹر ارباب سکندر کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر جمعہ خاں نے کہا۔
’’حالانکہ ارباب کو ابھی یہ علم نہیں کہ رشی نے پہلی بار نہیں، دوسری بار خودکشی کی کوشش کی ہے۔‘‘
’’بھائی جان! میرا ذہن یہ بات قبول نہیں کرتا۔‘‘ سومر نے بے بسی سے کہا۔ ’’آخر رشی کو خودکشی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہے؟ وہ زندہ رہنا چاہتی ہے۔ یہ بات میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔‘‘
’’ظاہری اطمینان کا یہ خول مصنوعی بھی ہوسکتا ہے سومر!‘‘ جمعہ خاں نے کہا۔ ’’اور… رشی کی یہ حرکت غیر ارادی بھی ہوسکتی ہے۔ تحت الشعور کے کسی منفی ردعمل کا نتیجہ، ممکن ہے اس کی نفرت کا نشانہ اس کی اپنی ذات ہو۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ کچھ لوگ بلاوجہ شدید احساسِ جرم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے کسی فعل کا نتیجہ کسی دوسرے شخص کی تباہی و بربادی کی صورت میں نکلا یا اس کی موت کا سبب بنا۔ دل شکستہ عاشق سڑک پر کسی حادثے میں مر جائے تو لڑکیاں یقین کرلیتی ہیں کہ ان کے رویّے سے دلبرداشتہ ہونے والے نے خودکشی کرلی حالانکہ حادثات میں لوگ روز مرتے ہیں۔ وہ خود کو قاتل متصور کرلیتی ہیں۔ اور پھر خود کو اپنے ضمیر کی عدالت میں سزائے موت سنا کے خودکشی کے ذریعے اس پر عملدرآمد کرنا چاہتی ہیں۔‘‘
’’میں نفسیاتی باریک بینی اور موشگافی کو احمقانہ عمل قرار نہیں دے سکتا۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’مگر مجھے بتایئے کہ رشی خودکشی کرنا چاہتی تھی تو اس نے وہ زہر کیوں نہیں کھا لیا جس سے چند سیکنڈ میں اس کا کام تمام ہو جاتا۔‘‘
’’ہوسکتا ہے رشی نے میری اور تمہاری گفتگو سن لی ہو۔‘‘ جمعہ خاں نے کہا۔ ’’اور اپنا ارادہ بدل لیا ہو۔‘‘
’’مگر جب آپ کا فون آیا تو وہ سو رہی تھی۔‘‘
’’تم کو ایسا نظر آیا تھا، کیا تم نے رشی کو آواز دے کر تصدیق کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ واقعی سو رہی ہے۔‘‘ ڈاکٹر جمعہ خاں نے کہا۔ ’’اسے ڈر ہوگا کہ عین وقت پر تم اس کو زہر نہیں کھانے دو گے اور وہ اپنی کوشش میں ناکام رہے گی۔‘‘
’’بھائی جان! وہ شیشی رشی نے نہیں چرائی۔ آخر آپ کو کیسے یقین دلائوں؟‘‘ سومر نے کہا۔ ’’میں نے اس طرح تلاشی لی تھی کہ وہ گھر میں سوئی بھی چھپا کر رکھتی تو مجھے مل جاتی۔ اس بات کا قطعی کوئی ثبوت نہیں۔‘‘
’’ثبوت دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ دیکھو!‘‘ جمعہ خاں نے اپنی جیب سے پرس نکالا۔ پرس کی ایک پاکٹ کے اندر سے زپ کھول کے اس نے کاغذ کا ایک پرزہ نکالا جو سائز میں ڈاک کے ٹکٹ کے برابر تھا۔ سومر نے ہاتھ بڑھا کر وہ پرزہ لے لیا۔ جمعہ خاں نے اپنا پرس درمیانی میز پر رکھا اور سومر کی صورت کے بدلتے رنگ کو دیکھتا رہا۔
’’یہ اسی شیشی کا لیبل ہے۔‘‘ جمعہ خاں نے خاموشی کے مختصر سے وقفے کے بعد کہا۔ ’’لیبل پر میں نے اپنے ہاتھ سے ’’سائنائڈ‘‘ لکھا تھا اور اسے گوند سے شیشی پر چپکا دیا تھا۔ اس کے کناروں کو غور سے دیکھو… لیبل کھرچ کر اتارنے سے کنارے پھٹ گئے ہیں۔‘‘
سومر نے اقرار میں سر ہلایا۔ ’’یہ آپ کو میرے گھر سے ملا تھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ جمعہ خاں نے کہا۔ ’’تمہاری کار میں، اگلی سیٹ کے نیچے کار کے فرش پر۔ غالباً تم نے نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘
سومر کے لیے بھائی کی بات کو جھوٹ سمجھنا ناممکن تھا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا اور کاغذ کے اس بے وقعت پرزے کو دیکھتا رہا جس پر لکھے ہوئے الفاظ ’’سزائے موت‘‘ کا متبادل تھے۔
’’آپ کرمنالوجی کے ماہر ہیں۔‘‘ سومر نے کھوکھلے لہجے میں کہا۔ ’’آپ نے میرے گھر کی تلاشی بھی لی ہوگی۔‘‘
’’ہاں! جب مجھے اسپتال سے تمہارا فون ملا تھا تو میں پہلے یہاں آیا تھا۔‘‘ جمعہ خاں نے ہاتھ باندھ کر کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہا۔ ’’تمہاری کار گیراج میں کھڑی تھی۔ تمہارے گھر کی تیسری چابی ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے چھجے پر موجود تھی جو میں نے بعد میں وہیں رکھ دی۔ شیشی کے بارے میں میرا بھی یہی خیال ہے کہ تمہارے گھر میں موجود نہیں۔ تمہاری کار کا دروازہ میری کار کی چابی سے کھل گیا تھا۔ اس لیبل کو میں نے فوراً ہی دیکھ لیا تھا مگر شیشی مجھے گاڑی کے اندر نہیں ملی۔ غالباً رشی نے اسے ضائع کردیا۔ اسے کہاں معلوم ہوگا کہ پوٹاشیم سائنائڈ کتنا خطرناک زہر ہے۔ وہ تو شیشی پر ’’زہر‘‘ لکھا دیکھ کر اٹھا لائی ہوگی مگر بعد میں اس نے سوچا ہوگا کہ زہر کے اثرات سے وہ جسمانی درد و کرب میں مبتلا ہوئی تو تم اسے فوراً اسپتال لے جائو گے اور ڈاکٹر اسے بچا لیں گے لیکن سائنائڈ کسی کو مہلت نہیں دیتا۔ اس زہر کا تریاق اسی لیے دریافت نہیں ہوا کہ چند سیکنڈ میں جان لینے والے زہر کا تریاق کیا کرسکتا ہے۔ تریاق کی شیشی سامنے کھڑے ہوئے شخص کی جیب میں ہو تب بھی وہ مرنے والے کو نہیں بچا سکتا، لیکن یہ باتیں تمہیں معلوم نہیں تو رشی یا کسی عام آدمی کو کیسے معلوم ہوسکتی ہیں۔ اس نے زہر کھا کے مرنے کا ارادہ ترک کردیا۔ خدا کرے اس نے زہر کو فلش میں بہا دیا ہو اور اگر اس نے وہ شیشی باہر پھینکی ہے تو ٹوٹ گئی ہو، بہ صورتِ دیگر کسی نے اگر انگلی سے بھی اسے چکھ لیا تو جان سے جائے گا۔‘‘
’’چلیے میں آپ کی بات مان لیتا ہوں۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’مگر… مجھے یہ بتایئے کہ رشی نے دوسری کوشش کے بعد چیخ و پکار کیوں مچائی؟ یہ کیوں کہا کہ اس نے کسی کو فرار ہوتے دیکھا تھا۔‘‘
’’خودکشی کے ان گنت طریقے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر جمعہ خاں نے سمجھانے کے انداز میں کہا۔ ’’کچھ آسان اور کچھ مشکل، ان کا کافی صراحت کے ساتھ ذکر میں نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ بیشتر لوگ کم سے کم تکلیف اٹھا کے جان دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے خواب آور گولیاں پہلے نمبر پر آتی ہیں۔ آدمی کو خود خبر نہیں ہوتی کہ وہ کب نیند سے موت کی آغوش میں پہنچ گیا۔ دوسرا طریقہ جس سے موت کے کرب کا احساس نہیں ہوتا، کنپٹی پر ریوالور رکھ کر گولی چلانے کا ہے۔ دماغ کے پاش پاش ہوتے ہی احساس مر جاتا ہے اور جسم بھی دیر نہیں لگاتا، لیکن خواب آور گولیاں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ملتیں اور ریوالور کے لیے لائسنس کا حصول مزید مشکل ہے۔ رشی کے لیے بغیر لائسنس کا ریوالور حاصل کرنا ناممکن تھا۔ سینے میں خنجر اتارنا صرف جرأت کا نہیں قوت اور مہارت کا کام بھی ہے۔ اس کے لیے خنجر بھی انتہائی تیز دھار والا ہونا چاہیے اور ہاتھ میں اتنی طاقت ہو کہ خنجر کو مہارت سے دل تک پہنچا سکے۔ یہ بھی رشی کے لیے ناممکن کام تھا۔ اس نے سنا ہوگا کہ کلائی کاٹ لی جائے تو آدمی خون بہنے سے مر جاتا ہے مگر خون بہتے دیکھنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں… اپنا خون دیکھتے ہی اس کا حوصلہ جواب دے گیا۔‘‘
’’بھائی جان! اس نے کسی کو کمرے سے بھاگتے ہوئے…‘‘
’’یہ سب عذرِ گناہ بدتر از گناہ والی بات ہے۔‘‘ جمعہ خاں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔ ’’اس نے اپنا جرم چھپانے کے لیے کوئی کہانی تو گھڑنی ہی تھی۔ تم نے خود اعتراف کیا تھا کہ تمہیں گھر کے اندر کسی کے آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ باہر جانے کا واحد راستہ وہ کھلی کھڑکی تھی، لیکن وہ نیچے کودتا تو اس کے نقشِ قدم اور روندے ہوئے پھولوں سے معلوم ہو جاتا۔‘‘
’’بھائی جان! کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ پہلے سے اندر موجود ہو۔‘‘ سومر نے ایک اور دلیل کا سہارا لیا۔ ’’وہ جاتے وقت دروازہ بند کر گیا اور دروازہ مقفل ہوگیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی طرح اس نے بھی کھڑکی کے چھجے سے چابی اٹھا لی ہو۔ قفل کھول کے اندر آیا ہو اور بعد میں چابی اسی جگہ رکھ کر نکل گیا۔‘‘
’’یہ بالکل ہوسکتا ہے۔‘‘ جمعہ خاں کچھ دیر بعد بولا۔ ’’تمہاری بات منطقی طور پر درست لیکن حقیقت کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر ارباب سکندر نے کیا بتایا تھا۔ کلائی کیسے کاٹی گئی، کس چیز سے؟‘‘
’’ٹانکے لگانے کے بعد اس نے باہر آ کے مجھے بتایا تھا۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’کہ کلائی بہت تیز دھار والے کسی آلے سے کاٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ باورچی خانے کی چھری اتنی تیز نہیں ہوتی۔ وہ غالباً استرا یا بلیڈ ہوگا۔‘‘
جمعہ خاں نے میز سے پرس اٹھا لیا اور اسی پاکٹ سے جس سے لپٹا ہوا لیبل نکالا تھا ایک اور لیبل نکالا مگر یہ لیبل نہیں تھا، چار پانچ انچ لمبے اور دو انچ چوڑے سفید کاغذ میں لپٹا ہوا بلیڈ تھا۔
’’تم یہی بلیڈ استعمال کرتے ہونا…؟‘‘ ڈاکٹر جمعہ خاں نے بلیڈ کو ریپر سمیت ہتھیلی پر رکھ کے کہا۔ سومر کی نظریں ریپر کے ڈیزائن پر جم گئیں۔
’’ہاں۔‘‘ اس نے ذرا دیر بعد اپنے سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے کہا۔ ’’مگر… یہ بلیڈ بازار میں عام ملتا ہے۔‘‘
’’میں کب کہتا ہوں کہ نہیں ملتا۔‘‘ جمعہ خاں نے ریپر کھولتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ’’مگر اس بلیڈ پر خون کے داغ بہت واضح ہیں۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے بلیڈ کو ایک کونے سے تھام کر اسے دکھایا۔ ’’یہ بلیڈ مجھے اسی باتھ روم سے ملا تھا۔ جس کے واش بیسن میں رشی کے خون کے داغ تھے۔ تم جانتے ہو گے کہ اسٹین لیس اسٹیل بلیڈ کے کناروں پر ایک اور دو نمبر کیوں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ یاد رکھنے کے لیے کہ ایک نمبر کی سائڈ استعمال کرنی ہے یا دو نمبر کی، جب مجھے یہ بلیڈ واش بیسن کے نیچے فرش پر ملا تھا تو خون ایک نمبر سائڈ پر تھا۔ میں نے دو نمبر سائڈ پر واش بیسن کے خون کا نمونہ لیا اور تجزیہ کرنے سے مجھے معلوم ہوگیا کہ دونوں خون ایک ہی ہیں۔ بلیڈ بالکل نیا تھا۔‘‘
’’پھر تو اس پر اس کے فنگر پرنٹ آگئے ہوں گے؟‘‘ سومر کے منہ سے بے خیالی میں نکلا تھا۔
’’نہیں۔‘‘ جمعہ خاں نے کہا۔ ’’اور یہی بات مجھے شک میں مبتلا کرتی ہے۔ رشی نے دستانے نہیں پہن رکھے تھے اور یہ فرض کرنا محال ہے کہ اس نے بلیڈ کو صاف کردیا ہوگا۔ وہ اتنی احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرتی تو بلیڈ کو وہیں نہ پھینکتی۔ بلیڈ کے علاوہ مجھے باتھ روم میں ہی اس کا ریپر بھی مل گیا تھا۔ باہر والا بھی اور اندر کا مومی کاغذ بھی، دونوں بالکل نئے تھے اور اسی وقت کھولے گئے تھے۔ تم رشی کی حالت دیکھ کر بدحواس ہوگئے تھے، چنانچہ تمہیں اس کو سنبھال لینے کے بعد بھی باتھ روم میں جا کر دیکھنے کا خیال نہیں آیا تھا۔ بلیڈ کے دونوں ریپر باتھ روم کیبنٹ کے نیچے خشک جگہ پر پڑے ہوئے تھے اور بلیڈ بھی خشک تھا۔ وہ بلیڈ سیفٹی ریزر میں موجود تھا جو تم استعمال کر رہے ہو۔ مجھے پورا یقین تھا کہ بلیڈ پر اور ریپر کے اوپر واضح فنگر پرنٹ ملیں گے اور میں کسی بہانے ان کا موازنہ رشی کے فنگر پرنٹ سے کروں گا لیکن اس پر فنگر پرنٹ سرے سے موجود ہی نہیں، اگر ان کو صاف کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی تو تب بھی مجھے معلوم ہو جاتا۔ بلیڈ کے اوپر کی چکنائی صاف ہو جاتی اور لکیریں نظر آتیں۔ کسی نے دستانے پہن کے بلیڈ استعمال کیا تھا۔ اس بات نے مجھے مخمصے میں ڈال دیا کیونکہ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ بلیڈ کو رشی نے چھوا تک نہیں۔‘‘
سومر کا چہرہ مایوسی اور پریشانی کی تصویر بنا ہوا تھا، یکلخت چمک اٹھا۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ میرا خیال غلط نہیں، یہ حرکت واقعی کسی اور نے کی تھی۔ رشی جھوٹ نہیں بول رہی ہے۔‘‘
’’یہ مطلب تم نکال رہے ہو۔‘‘ ڈاکٹر جمعہ خاں نے اچانک پلٹ کر کہا۔ ’’یہ بتائو پولیس اس کا کیا مطلب نکالے گی؟ یہ حرکت رشی نے نہیں کی تو کس نے کی؟ کون موجود تھا گھر میں؟ صرف تم… اور تم جاگ بھی رہے تھے، تمہیں اطمینان سے دستانے پہن کر ہر کام اطمینان سے کرنے کی فرصت تھی، تم نے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے…‘‘
’’بھائی جان!‘‘ سومر کے صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ ’’آپ… حد سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘
’’میں؟ میں تم پر بھلا الزام لگا سکتا ہوں؟‘‘ ڈاکٹر جمعہ خاں نے دکھ کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھا۔ ’’اس معاملے کو اپنی یا میری نظر سے مت دیکھو سومر! سوچو کہ زبانِ خلق کیا کہے گی؟ پولیس کیا مفروضے قائم کرے گی؟‘‘
’’پھر آپ ہی بتائیں بھائی جان! میں کیا کروں؟‘‘ سومر نے کسی بے یار و مددگار بچے کی طرح اپنے سوتیلے بڑے بھائی کی طرف دیکھا۔
’’کچھ نہیں، تم کچھ مت کرو۔‘‘ جمعہ خاں نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔ ’’یہ ہمارے گھر کا مسئلہ ہے۔ اسے ہم گھر کے اندر ہی حل کرلیں گے۔ اس کی بھنک بھی غیر کے کانوں میں نہیں پڑنی چاہیے۔ تم رشی کو چاہتے ہو۔ میں تمہیں چاہتا ہوں، ہم سب ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے سہارے اسی طرح
قائم ہیں، جیسے کششِ ثقل پر نظام شمسی قائم ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کی عزت کو بچانا ہے اور یہ کام پولیس نہیں کرسکتی۔‘‘
’’بھائی جان!‘‘ سومر نے اچانک کہا۔ ’’کیا آپ کو یقین ہے کہ رشی آئندہ بھی خودکشی کرسکتی ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ جمعہ خاں نے تھوڑے تامل کے بعد کہا۔ ’’بے شک وہ بہت مطمئن ہے، بہت خوش ہے اور جینے کی آرزومند ہے، مگر اس کا دشمن وہ چور جذبہ ہے جس کے وجود سے وہ خود بے خبر ہے۔ جو اسے مجبور کر رہا ہے کہ اپنی زندگی ختم کر کے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرے یہ گناہ کیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اس کے ماضی کی راکھ کو کریدنا ہوگا اور ڈاکٹر ارباب سکندر جیسا ماہر نفسیات ہمارا دوست ہے۔‘‘
’’کیا اس قاتل جذبے کا تعلق زندگی کے اس دور سے ہوسکتا ہے جب وہ کسی اور کی بیوی تھی؟‘‘
’’میں رشی سے پوچھے بغیر کیا کہہ سکتا ہوں۔‘‘ جمعہ خاں نے کہا۔ ’’پہلے شوہر کے ساتھ اس کی زندگی خوشگوار رہی تھی مگر اس کی موت کا حادثہ بہت بڑا المیہ تھا۔ سگے چچا اور سگی خالہ اس کو بیٹے کی موت کا ذمہ دار کہتے رہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ تفتیش کے دوران بھی پولیس نے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا ہو، ممکن ہے حادثے کے وقت رشی کا شوہر اس کی کسی غلطی یا غلط بات پر سخت مشتعل ہو۔ لہٰذا اس کے لاشعور میں یہ خیال موجود ہو کہ بالواسطہ طور پر وہی حادثے کی ذمے دار ہے۔ اگر اس کا شوہر پرسکون رہتا تو حادثہ بھی نہ ہوتا۔ غلطی اس کی تھی، اس لیے وہ مجرم ہے۔‘‘
’’نہ جانے کیوں ان ساری باتوں کے باوجود میرا ذہن یہ بات تسلیم نہیں کرتا۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’میرا دل گواہی دیتا ہے کہ کسی نے رشی کو قتل کرنے کے لیے یہ سارا کھیل رچایا ہے۔ اس نے زہر کی شیشی چرا کے غائب کردی اور رشی کو مجرم بنایا، پھر اس نے میرے بلیڈ سے اس غریب کی کلائی کاٹی اور اپنا کوئی سراغ نہیں چھوڑا مگر بلیڈ اور ریپر کو عمداً چھوڑ گیا۔ اسی نے کار میں زہر کی شیشی کا لیبل بھی ڈالا ہوگا۔ میرے گھر میں داخل ہونا یا اندر چھپے رہنا ممکن نہیں۔ زہر کی شیشی اب بھی اس کے پاس ہے۔ وہ جب مناسب سمجھے گا، رشی کو ختم کردے گا۔ آپ معاملے کو اس نظر سے بھی تو دیکھئے۔‘‘
’’میں نے تمہارے خیال کو یکسر مسترد نہیں کیا ہے۔‘‘ جمعہ خاں نے کہا۔ ’’بلیڈ پر فنگر پرنٹ کا نہ ہونا تمہارے نظریے کی صداقت کے حق میں ایک مضبوط دلیل ہے مگر ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ رشی کی جان کا دشمن کون ہے۔ اس کے سابق شوہر کا باپ، رخشندہ کا وہ منگیتر جو ایک اوباش اور بدکردار آدمی تھا اور جو رشی کے شوہر کا بڑا بھائی تھا یا کوئی اور۔ اب چابی اپنے پاس رکھو، رشی پر بھی نظر رکھو۔‘‘
٭ … ٭ … ٭
رشی نے کلائی کی خوبصورت سنہری گھڑی میں وقت دیکھا۔ ایک ٹائر فلیٹ ہو جانے سے سارا پروگرام درہم برہم ہوگیا تھا۔ اس نے سومر سے وعدہ کیا تھا کہ ٹھیک چھ بجے وہ اسے لینے آ جائے گی لیکن وہ شاپنگ سے فارغ ہوئی اور ایک فرلانگ کے فاصلے پر کھڑی ہوئی کار تک پہنچی تو پچھلے ٹائر کو بیٹھا دیکھ کے اس کا دل بھی بیٹھ گیا۔ اس نے بنڈل گاڑی کی سیٹ پر ڈالے اور ڈکی سے جیک نکالا۔ جیک کو صحیح جگہ فٹ کر کے گاڑی کو اٹھانا پہلا مرحلہ تھا۔ پیچھے کی طرف سے گاڑیاں زن زن کرتی گزرتی جا رہی تھیں۔ اگر کوئی کار اسے چھو کر گزر جاتی تو وہ زخمی ضرور ہوجاتی۔ مشکل سے ایک فٹ کے فاصلے پر دوسری گاڑی کھڑی تھی اور دونوں گاڑیوں کے درمیان دروازہ پورا کھولنے کی جگہ بھی نہ بچی تھی، وہ کچھ دیر بے بسی سے ادھر ادھر دیکھتی رہی۔ بولٹ کھول کے پہیہ الگ کرنا خاصا محنت طلب کام تھا مگر اس سے کہیں زیادہ خود تماشا بننے کا خیال پریشان کن تھا۔ اس نے کسی فیشن ایبل اور نازک اندام خاتون کو ایسی جگہ وہیل اسپینر سے طاقت آزمائی کرتے نہ دیکھا تھا لیکن اب اس کے بغیر چارہ نہ تھا۔
ابھی اس نے اسپینر لگا کے بولٹ کھولنے کی کوشش شروع کی تھی کہ کھڑی گاڑیوں کا خیال رکھنے اور ان کو صاف کرنے والے لڑکوں میں سے ایک دوڑتا ہوا آیا۔
’’پہیہ بدلنا ہے میم صاحب؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے اطمینان کا گہرا سانس لیا اور گاڑی سے دو ٹشو پیپر نکال کے ہاتھ صاف کئے۔ زور لگانے سے اس کا سانس پھول گیا تھا لیکن بولٹ ہلا تک نہ تھا۔ اس نے پندرہ سولہ سال کے لڑکے کو بڑی مہارت اور پھرتی کے ساتھ پانچوں بولٹ کھول کے گاڑی کو جیک پر اٹھاتے دیکھا اور پانچ منٹ میں اس نے پنکچر ہو جانے والے ٹائر کو الگ کر کے ڈکی میں ڈال دیا، عین اسی وقت جب وہ بالکل مطمئن تھی کہ دس منٹ بعد وہ گاڑی لے کر روانہ ہوسکے گی اس کے کانوں میں لڑکے کی آواز آئی۔
’’آپ کے تو اسپیئر وہیل میں بھی ہوا نہیں ہے بیگم صاحبہ! لگتا ہے آپ نے بہت دن سے چیک نہیں کیا۔ ہفتے میں ایک بار اسپیئر وہیل کو ضرور دیکھ لینا چاہیے۔ رکھے ہوئے وہیل سے بھی ہوا نکل جاتی ہے۔‘‘
’’ہاں، ہاں، یہ بتائو اب کیا ہوگا؟‘‘ وہ جھنجھلا کر بولی۔
’’آپ اسپیئر وہیل کو پیٹرول پمپ پر لے جائیں۔‘‘ لڑکے نے کہا۔ رشی کچھ دیر تک سوچتی رہی۔ آج کا دن بہت برا تھا۔ اس کے سیل فون کی بیٹری بھی لو ہوگئی تھی۔ ایک دو بار بپ کی آواز ابھرنے کے بعد وہ بھی آف ہوگیا۔ پھر وہ سامنے والی ایک دکان میں داخل ہوگئی۔ دکاندار شریف آدمی تھا اس نے ٹیلیفون کرنے کی اجازت دے دی۔ اس نے سومر کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا۔
’’اب تم کیا کرو گی؟‘‘ سومر نے پوچھا۔
’’میں اسپیئر وہیل لے کر کسی پیٹرول پمپ جائوں گی، کسی ٹیکسی میں۔‘‘ رشی نے کہا۔ ’’میری واپسی تک گاڑی جیک پر ٹنگی رہے گی۔ دیکھو جانے کے لیے ٹیکسی کتنی دیر میں ملتی ہے اور واپسی میں کتنی دیر لگتی ہے۔‘‘
’’تم یہ سب دھندے چھوڑو۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’ٹیکسی میں سیدھی ڈاکٹر ارباب سکندر کے پاس چلی جائو۔ تمہیں آج اس سے ضرور ملنا ہے۔ گاڑی کو وہیں رہنے دو۔ میں دو گھنٹے سے پہلے فارغ نہیں ہوسکتا، اس لیے میری فکر مت کرو، میں واپسی میں گاڑی لیتا آئوں گا۔‘‘
’’وہ کیسے جناب۔‘‘ رشی بولی۔ ’’چابیاں گاڑی میں ہی چھوڑ جائوں کیا؟ لاک کر کے جائوں تو تم گاڑی کھولو گے کیسے ہدایتکار صاحب! دوسری چابی تو گھر پر ہے۔ میں کرلوں گی انتظام، بس تم فکر مت کرو۔ میں نے اسی لیے فون کیا تھا اور… آپ کی نئی ڈرامہ سیریل کا کیا ہوا؟‘‘
’’اس بار یہ سیریل ہٹ ہوگی۔ مجھے پوری امید ہے۔‘‘ سومر بڑے اعتماد سے بولا۔ اس کے بعد خداحافظ کہہ کر رابطہ منقطع کردیا گیا۔
اچانک رشی کو احساس ہوا کہ دکان کا مالک اسے بڑے غور سے دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے بڑے مہذب اور شائستہ لہجے میں رشی سے پوچھا۔ ’’آپ کس ہدایتکار سے بات کر رہی تھیں؟‘‘
’’میرے شوہر ہیں۔ ہدایتکار سومر خاں…‘‘ رشی نے بتایا۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی اس کے سارے مسائل حل ہوگئے۔ دکان کے مالک نے اسے عزت کے ساتھ بٹھایا۔ اس کے لیے کولڈڈرنک منگوائی۔ اپنے ایک ملازم کو دونوں ٹائر دے کر اپنی گاڑی میں پیٹرول پمپ بھیجا۔ پون گھنٹے بعد اس نے رشی کو اطلاع دی کہ آپ کی گاڑی تیار ہے اور ایک بار پھر کہا کہ وہ سومر خاں کو ایک بڑا ہدایتکار سمجھتا ہے اور یہ اس کی عزت افزائی ہے کہ اسے سومر خان کی بیوی کے لیے ایک چھوٹا سا کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
رشی اس بھلے مانس آدمی کا شکریہ ادا کر کے روانہ ہوگئی اور ڈاکٹر ارباب کے گھر پہنچی تو ساڑھے سات بج رہے تھے۔ دروازہ اس کی بیوی نے کھولا اور رشی کو وہ ڈرائنگ روم میں لے گئی۔
’’وہ ابھی ابھی باہر گئے ہیں۔ بہت انتظار کیا تمہارا بلکہ خاصے متفکر رہے کہ نہ جانے کیا بات ہے، کوئی ایمرجنسی کیس تھا ورنہ شاید وہ نہ جاتے۔ کہہ گئے ہیں کہ دس بجے تک نہ آئوں تو کھانا کھا لینا۔‘‘ ارباب کی بے حد باتونی بیوی نے مسلسل بولتے ہوئے کہا۔ ’’یہی تو مصیبت ہے ڈاکٹری کے پیشے میں… اپنا وقت کوئی نہیں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہانہ کردو، کیا ڈاکٹر بیمار نہیں ہوتے اور وقت بے وقت بلانے والوں کو نہیں ٹالتے، کہنے لگے میں ان میں سے نہیں ہوں۔ میں ایسا نہیں کرسکتا… خیر… تم بیٹھ جائو، جلدی کیا ہے؟‘‘
رشی نے انکار میں سر ہلایا۔ ’’میں اتنی دیر انتظار نہیں کرسکتی، سومر گھر پر آئے اور میں نہ ملی تو وہ پریشان ہو جائیں گے۔‘‘
’’ویسے وہ کہہ گئے تھے کہ رشی بھابی آئیں تو کہہ دینا کل صبح میں خود آئوں گا۔‘‘ ارباب کی بیوی کی زبان قینچی کی طرح چلتی رہی۔ ’’چائے پلائے بغیر میں آپ کو جانے نہیں دوں گی۔‘‘
رشی بڑی مشکل سے اس سے جان چھڑا کر ’’فرار‘‘ ہونے میں کامیاب ہوئی۔
کوٹھی کے گیٹ کی لائٹس آف تھیں اور اسٹریٹ لائٹ کا وہ بلب بھی شاید فیوز ہوگیا تھا جس کا کھمبا عین ان کے گیٹ کے ساتھ تھا۔ اندر کی روشنی بھی بجھی ہوئی تھی اور پوری کوٹھی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ رشی نے نیچے اتر کر گیٹ کھولا اور پھر کار کو تھوڑا سا آگے لے گئی۔ انجن بند کر کے وہ اترنے ہی والی تھی کہ اچانک کار کا پچھلا دروازہ کھلا اور کار کے اندر کی لائٹ جل گئی۔
رشی نے بے اختیار سر گھما کے دیکھا۔ ایک سر سے پیر تک کالے کپڑوں میں ملبوس شخص نے بڑی پھرتی سے اس کا منہ دبا لیا۔ چیخ رشی کے حلق میں گھٹ کر رہ گئی۔ وہ تڑپی مگر سیاہ پوش کی گرفت بہت سخت تھی۔ اپنے دوسرے ہاتھ سے اس نے ایک بھیگا ہوا رومال رشی کی ناک پر رکھ دیا۔ رشی کو ٹھنڈک کے ساتھ پیٹرول کی بو محسوس ہوئی۔ اس نے سانس نہ لینے کی بے سود جدوجہد کی مگر پیٹرول کے بخارات ناک کے راستے اس کے پھیپھڑوں تک جا پہنچے اور اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا اور آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ پائوں ڈھیلے پڑنے لگے۔ نیم بے ہوشی کے عالم میں اس کے کانوں نے عجیب و غریب آوازیں سنیں لیکن اس کی آنکھیں گھپ اندھیرے میں کچھ نہ دیکھ سکیں۔ اب پیٹرول کے بخارات اس کے دماغ میں بھی چڑھ گئے تھے اور اسے محسوس ہوتا تھا جیسے اس نے ایک گیلن پیٹرول پی لیا ہے اور کبھی یوں جیسے وہ پیٹرول کے سمندر میں ڈبکیاں لگا رہی ہے۔
جب اس کے ہوش و حواس بحال ہوئے تو اس نے اپنے بیڈروم اور بیڈ کے گرد کھڑے ہوئے پانچوں چہروں کو فوراً پہچان لیا۔ اس کے دائیں ہاتھ پر دونوں بھائی کھڑے تھے۔ جمعہ خان اور سومر خان۔ بائیں جانب رخشندہ کے ساتھ شوکت حسین تھا اور اس کے ساتھ والی کرسی پر ڈاکٹر ارباب بیٹھا تھا۔ ان سب کا چہرہ سوالیہ نشان تھا۔ ان سب کی آنکھوں میں تشکیک و شبہات کے گہرے سائے تھے اور ہمدردی کے جذبات بھی ہلکورے لے رہے تھے۔ ان کے بشروں سے دکھ کا احساس ہویدا تھا۔ پھر اسے ہوش میں آتا دیکھ کر بیک وقت سب کے چہروں پر حوصلہ افزا مسکراہٹ ابھری۔ پھر سب نے اپنی باتیں دہرائیں، کیا حال ہے؟ فکر مت کرو، آرام سے سو جائو، ہم سب تمہارے پاس اور تمہارے ساتھ ہیں، بعد میں بات کریں گے۔ تم بہت بہادر لڑکی ہو۔ پھر وہ دوسرے کمرے میں چلے گئے۔ ڈاکٹر ارباب نے اسے پرسکون نیند کے لیے انجکشن دینے کی کوشش کی مگر وہ اٹھ بیٹھی۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’بس، معمولی سی متلی کی شکایت ہے۔‘‘
ڈاکٹر ارباب نے مطمئن مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔ کاربن مونو آکسائیڈ گیس کے اثر سے رشی کی جلد کا جو رنگ تھوڑا سا بدلا تھا وہ اب معمول پر آ چکا تھا۔
’’کیا ہوا تھا مجھے؟‘‘ اس نے سوچتے ہوئے کہا۔ پھر جیسے پل کے پل اسے بس یاد آتا چلا گیا۔
’’سومر!‘‘
’’رشی!‘‘ سومر نے اسے ٹوک دیا۔ ’’اس مسئلے پر صبح بات کریں گے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ ضدی بچے کی طرح بولی۔ ’’میں… میں جانتی ہوں، تم کیا سوچ رہے ہو، تم سب لوگ۔ میں اس کی وضاحت کرنا چاہتی ہوں۔ تم سب غلط سمجھ رہے ہو۔‘‘
’’آل رائٹ۔‘‘ ارباب نے کہا۔ ’’اگر تم میں ہمت ہے تو ہم تمہاری بات سن لیں گے لیکن پہلے تم ایک گولی کھا لو۔ یہ نیند کی نہیں متلی کا اثر دور کرنے کی دوا ہے۔ ایک کپ بلیک کافی کا پی لو۔ دس پندرہ منٹ تو انتظار کرسکتی ہو۔‘‘
رشی آہستہ سے مسکرائی اور لیٹ گئی۔ ارباب کمرے سے نکل گیا تو اس نے سومر کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ ’’سومر…! تم نہیں مانو گے کہ میں نے خودکشی کی تیسری کوشش نہیں کی تھی؟‘‘
’’میں نے کبھی نہیں مانا کہ تم کو زندگی اور مجھ سے محبت نہیں۔‘‘ سومر نے اس کے بالوں کو تھپکا۔
آدھے گھنٹے بعد وہ سب ڈرائنگ روم میں جمع تھے۔
’’اگر تمہیں کار سے نکالنے میں صرف آدھے گھنٹے کی تاخیر ہو جاتی۔‘‘ جمعہ خاں نے متانت سے کہا۔ ’’تو نہ جانے کیا ہوجاتا۔‘‘
’’بھائی جان! یقین کیجئے، میں نے خود کچھ نہیں کیا تھا۔‘‘ رشی نے روہانسی ہو کے کہا۔ ’’کک… کسی نے مجھے قتل کرنا چاہا تھا۔‘‘
’’کتنی عجیب بات ہے رشی!‘‘ جمعہ خاں نے طنز آمیز تلخی سے کہا۔ ’’تمہیں مارنے والا بیک وقت ذہین بھی ہے اور احمق بھی۔ اس نے تمہیں پیٹرول سنگھا کر بے ہوش کردیا لیکن تمہاری بے ہوشی کے باوجود اس نے تمہارا گلا نہیں گھونٹا۔ جبکہ اس کو وہاں دیکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ تمہارے دل میں خنجر بھی اتار سکتا تھا۔ مگر اس نے کیا کیا؟ اس نے ربر کے پائپ کا ایک سرا سائلنسر میں ڈالا اور دوسرا کھڑکی کے راستے کار میں لٹکا دیا۔ پھر اس نے دروازے اندر سے بند کئے اور شیشے چڑھا دیئے۔ صرف ایک شیشہ جس نے پائپ کو دبا رکھا تھا تھوڑا سا کھلا رہا۔ یہ سب کارروائی اس نے پورے اطمینان کے ساتھ کی ہوگی کہ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ کیا اسے معلوم تھا کہ تمہاری ملاقات ڈاکٹر ارباب سے نہیں ہوگی اور تم اکیلی گھر آئو گی؟ ڈاکٹر ارباب مل جاتا تو تم دیر سے آتیں، گاڑی خراب نہ ہوتی اور سومر کی ملاقات طویل نہ ہوتی تو تم دونوں ساتھ آتے۔ کون تھا جس کے علم میں یہ سب کچھ تھا؟ صرف تمہارا شوہر ہے جسے تم نے فون کیا تھا لیکن اسے بھی یہ معلوم نہ تھا کہ تم ارباب سے ملے بغیر سیدھی گھر لوٹ آئو گی اور اس بات کے گواہ موجود ہیں کہ سومر بعد میں پہنچا۔‘‘
’’پھر آپ ہی بتایئے کہ میں کسے الزام دوں؟‘‘ رشی نے روتے ہوئے کہا۔ ’’کیا بتائوں کہ میری جان کا دشمن کون ہے۔ میں نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔‘‘
’’دیکھو رشی! رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا۔‘‘ جمعہ خاں نے سخت لہجے میں کہا۔ ’’تم کہتی ہو کہ یہ اقدامِ قتل کا کیس ہے تو میں پولیس کو فون کردیتا ہوں لیکن ایک بات یاد رکھو، جب وہ تفتیش کریں گے تو تمہارے نفسیاتی مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ تم ان کے طریقِ کار سے واقف نہیں ہو۔ ایک بار تفتیش شروع ہوگئی تو ہم سب مشکل میں گرفتار ہو جائیں گے۔ ہم سب کی حیثیت ان کی نظر میں مشتبہ ہو جائے گی۔ کیونکہ حالات کی گواہی گھر کے ہی کسی فرد کو مجرم ثابت کرتی ہے۔ کیا باہر کے کسی آدمی کو معلوم ہوسکتا ہے کہ تمہارا شوہر بلیڈ کہاں اور کس باتھ روم میں رکھتا ہے؟ کیا ایک اجنبی اندھیرے میں اس باتھ روم تک جا کے بلیڈ نکال سکتا ہے۔ یہی نہیں پھر تمہارے بیڈ روم میں پہنچ کر تمہاری کلائی کاٹنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے۔ کیا اسے یہ ڈر نہیں تھا کہ سومر جاگ اٹھے گا۔ ظاہر ہے وہ جانتا تھا کہ سومر بیڈروم میں موجود نہیں، باہر سے آنے والا اپنے ساتھ خنجر لا سکتا تھا اور کلائی کی بجائے تمہارا گلا کاٹ کے جاسکتا تھا۔ مگر اس روز بھی معاملہ صرف قاتلانہ حملے تک محدود رہا۔‘‘
’’اس سے تو پھر یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ابھی اس شخص نے قتل کا فیصلہ التوا میں رکھا ہے اور جب تک حالات و واقعات کی شہادت سے ثابت نہیں ہو جائے گا کہ رشی پر خودکشی کے رجحانات غالب تھے وہ قتل نہیں کرے گا۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’وہ ہم سب کی گواہی چاہتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہم بتا سکیں کہ رشی نے پہلے بھی تین مرتبہ خودکشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ ممکن ہے چوتھی بار وہ اپنے پروگرام کو مزید طول دینا پسند نہ کرے۔ اس مہلک زہر کی شیشی اب بھی اس قاتل کے پاس ہے جس کی چوری کا الزام بھی رشی پر لگ چکا ہے۔‘‘
’’میں تم سے سو فیصد متفق ہوں۔‘‘ ڈاکٹر جمعہ خاں نے کہا۔ ’’میرے ابتدائی اندازے غلط تھے۔ رشی کی ٹائپ کچھ بھی ہو لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ رشی کو قتل کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے، کوئی چاہتا ہے کہ قتل، خودکشی ثابت ہوجائے تو ہماری مستعد اور ذہین پولیس فوراً مقدمہ داخل دفتر کر دے۔ تفتیش کی نوبت ہی نہ آئے۔ سوال یہ ہے کہ وہ شخص کون ہے؟ یہ بات ہمیں صرف رشی بتا سکتی ہے۔ رشی کو سب سے زیادہ اس کی بہن جانتی ہے جس نے بچپن سے جوانی تک رشی کے ساتھ ایک ہی گھر میں وقت گزارہ۔ اس کے بعد سومر کا نمبر آتا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ ازدواجی زندگی کے چھ مہینوں میں وہ رشی کو ایک بیوی اور ایک عورت کی حیثیت سے اچھی طرح سمجھ چکا ہے اور رشی کی زندگی اس کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ میرے نقطۂ نظر سے یہ دعویٰ احمقانہ ہے۔ عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تمام عمر دل کا بھید نہیں دیتی اور جو اسے سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے وہ احمق ہے، لہٰذا ہم میں سے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ہے کہ کسی کو اگر رشی سے دشمنی ہے تو کیوں…؟‘‘
’’میں اپنے بارے میں سب کچھ بتا چکی ہوں بھائی جان!‘‘ رشی نے آنسو پونچھ کر کہا۔
’’تم جھوٹ بول رہی ہو رشی!‘‘ جمعہ خاں نے اچانک پلٹ کر کہا۔ ’’بہت سی باتیں تم نے سومر کو بھی نہیں بتائی ہوں گی، جن کا تعلق تمہارے پہلے شوہر سے ہے۔ کوئی عورت سابقہ شوہر کی باتیں موجودہ شوہر کے سامنے نہیں کرتی۔ اس لیے کہ موجودہ شوہر ان باتوں کو پسند نہیں کرتے اور خواہ سابقہ شوہر نے طلاق دی ہو۔ وہ سات سمندر پار جا چکا ہو یا قبر میں اس کا صرف ڈھانچہ رہ گیا ہو موجودہ شوہر اس سے حسد محسوس کرتے ہیں۔ حسد کا یہ جذبہ مرد کی فطرت کا حصہ ہے۔ وہ اپنی بیوی کے منہ سے پہلے شوہر کی اچھائی برائی کچھ نہیں سننا چاہتا۔ خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ۔ مجھے بتائو کیا تم نے سومر کو ان تین مہینوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے جو تم نے اپنے پہلے شوہر کے ساتھ گزارے تھے…؟‘‘
کمرے کی خاموشی، بوجھل ہونے لگی۔ سکوت کا ہر لمحہ ان کے اعصاب پر بارِ گراں گزرنے لگا۔ ہر نگاہ رشی پر مرکوز ہو کے گویا سوال کا جواب مانگنے لگی۔ وہ جو سب اپنے تھے، مہربان اور غمگسار تھے، نامہربان، اجنبی اور سخت گیر محتسب بن گئے تھے اور رشی کی خاموشی اس کے جرم کا اعتراف بننے لگی تھی۔ اس کی جھکی ہوئی نگاہوں کے مفہوم کو غلط سمجھنے والے منصف بھی تھے اور مدعی بھی… وہ مجرموں کی طرح اپنی فردِ جرم تھامے ان کی عدالت میں حاضر تھی۔ (جاری ہے)