Zehar – last Episode

139
یکلخت رشی نے اپنا سر اٹھایا اور بولی۔ ’’میں تسلیم کرتی ہوں کہ میں نے تمہیں کچھ نہیں بتایا اور بتائوں گی بھی نہیں کیونکہ وہ باتیں اب غیر اہم ہوگئی ہیں جو میں نے اپنے پہلے شوہر سے خلوت میں کی تھیں۔ یہ باتیں ہر عورت اپنے شوہر سے کرتی ہے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جسے میں ابھی تک کسی کو نہیں بتا سکی سوائے رخشندہ کے… اسے میں نے بہت پہلے یہ بات بتا دی تھی، مگر… رازداری کے وعدے کے ساتھ۔‘‘
’’تو تم نے مجھے بھی قابلِ اعتماد نہیں سمجھا رشی؟‘‘ سومر نے رنجیدہ لہجے میں کہا۔ ’’کیا تمہیں ڈر تھا کہ میں تم سے نفرت کرنے لگوں گا؟ کیا تمہیں ابھی تک اندازہ نہیں ہوسکا کہ میں تم سے نفرت کرنا بھی چاہوں تو نہیں کرسکتا۔‘‘
’’یہ… کوئی ایسی بات نہیں ہے سومر!‘‘ یہ کہتے ہوئے رشی نے اپنا آبدیدہ سا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ پھر اس نے خود کو سنبھال کے بتانا شروع کیا۔ ’’جب میں تم سے ملی تھی تو میں بیوہ ضرور تھی مگر گناہ گار نہیں تھی۔ میں ماڈل اسی لیے نہ رہ سکی تھی کہ میں نے ہر مطلب پرست کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ تم میری زندگی میں آنے والے دوسرے مرد ہو، تیسرا کوئی نہیں جو یہ دعویٰ بھی کرسکے کہ میں نے اسے پیار سے مسکرا کے دیکھا تھا۔ تم نے مجھے اپنی نیت کے خلوص سے متاثر کیا تھا۔ اگر مجھے احساس ہوتا کہ تم ترس کھا کے مجھ سے شادی کررہے ہو تو میں فوراً انکار کردیتی۔ ترس کھانے اور چاہنے میں بڑا فرق ہے۔ میں نے نکاح ثانی کا اقرار کرنے سے پہلے چار ماہ تک تمہیں پرکھا تھا اور قطعی جواب دینے سے گریز کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے تم سے وہ بات بھی چھپائی جو رخشندہ کو معلوم تھی۔ اگر وہ بات دوسروں کو معلوم ہوجاتی تو میرے چاہنے والوں میں کئی لوگ شامل ہوجاتے اور میرے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا کہ ان میں سے کس کو واقعی مجھ سے محبت ہے اور کس کو میری دولت سے۔‘‘
’’دولت…؟‘‘ ڈاکٹر جمعہ خان نے حیرانی سے کہا۔ ’’کون سی دولت! وہ جو تمہیں والدین سے ورثے میں ملی تھی یا شوہر کی چھوڑی ہوئی دولت… میرا خیال ہے اس کے متعلق تم بتا چکی ہو۔‘‘
رشی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’اسے دولت نہیں کہا جاسکتا۔ میرے والدین نے جو گھر چھوڑا تھا وہ حیدرآباد میں مقفل پڑا ہے۔ وہ رخشندہ کو عاق کرچکے تھے لیکن میں نے بھی ابھی تک اس کا حقِ وراثت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ وہ چھوٹا سا پرانا گھر ہے، جس کی قیمت چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ جب میرے پہلے شوہر کا انتقال ہوا تو میں اسی گھر میں تھی۔ اس کی جیپ تباہ ہوچکی تھی اور میرے تھوڑے بہت زیورات کے علاوہ جو رقم میرے اور اس کے مشترکہ اکائونٹ میں تھی وہ دس ہزار کے قریب تھی۔ اس کے چہلم کے بعد مجھے ڈاک سے ایک رجسٹرڈ لیٹر ملا جو ایک وکیل نے لکھا تھا۔ لیٹر پیڈ پر اس وکیل کا مکمل پتا تھا اور اس میں مجھ سے درخواست کی گئی تھی کہ میں اوّلین فرصت میں اس سے ملوں… لیکن اس ملاقات کو صیغۂ راز میں بھی رکھوں۔ اسی روز میں نے شام کے وقت وکیل کا دفتر تلاش کیا اور اس کے چیمبر میں پہنچی۔ اس نے مجھے رشی بھابھی کہہ کے مخاطب کیا تو میں حیران ہوئی کیونکہ میں نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن وہ یقیناً مجھے جانتا تھا۔
’’آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا۔ ’’اگر آپ میرے شوہر کے دوست تھے تو کبھی گھر کیوں نہیں آئے؟‘‘
وہ مسکرایا اور بولا۔ ’’آپ کے مرحوم شوہر کے ایسے بہت سے دوست ہیں جو کبھی گھر نہیں آئے ہوں گے لیکن وہ آپ کو پہچانتے ہیں۔‘‘
’’یہ فرمایئے کہ مجھے آپ نے کس لیے طلب کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا۔ اس کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
’’میں عام حالات میں اپنے موکلوں کو زحمت نہیں دیتا۔ خصوصاً خواتین کو۔‘‘ وہ بولا۔ ’’لیکن… یہ مسئلہ ایسا تھا کہ میں آپ کے گھر پر حاضر نہیں ہوسکتا تھا۔ آپ کے مرحوم شوہر میرے دوست تھے اور مجھ پر آپ سے زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ معاف کیجیے گا یہ بات آپ کو بری تو لگے گی مگر حقیقت یہی ہے کہ ان کے کاروباری معاملات کے بارے میں آپ کی معلومات بہت محدود ہیں۔‘‘
’’یہ غلط ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’وہ ایک چھوٹی سی سوپ فیکٹری کے مالک تھے۔ ان کے والد نے بڑے بیٹے کو نافرمانی اور غیر شریفانہ چال چلن کے باعث عاق کرکے اس کے حصے سے محروم کردیا تھا لیکن میرے شوہر کی وفات کے بعد انہوں نے عاق نامہ منسوخ کردیا۔ یہ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے کہ عاق نامے کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ کارخانے کا مالک کون ہے۔ میرے شوہر کا بڑا بھائی یا میں… یا ہم دونوں۔ فیکٹری بند پڑی ہے، مقدمے کا فیصلہ ہونے میں شاید کئی سال لگ جائیں۔‘‘
’’رائٹ۔‘‘ وہ بولا۔ ’’اس کے باوجود میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ آپ کے شوہر نے شادی کے فوراً بعد ایک وصیت نامہ مرتب کیا تھا۔ جس کی رو سے تمام منقولہ و غیر منقولہ جائداد کے حقوق آپ کو دیے گئے تھے۔ اس وصیت نامے کو وہ اپنی زندگی میں ہی رجسٹر کرا چکے تھے۔ لہٰذا قانونی طور پر جو کچھ ان کا تھا اب آپ کا ہے۔ یہ وصیت نامہ ایک لاکر میں محفوظ ہے جس کی چابی میرے پاس ہے اور بہتر ہے کہ میرے پاس ہی رہے۔ ان کا ایک بینک اکائونٹ وہ تھا جس میں پچاس ہزار روپے تھے اور جو آپ بھی نکلوا سکتی تھیں اور آپ نے نکلوا کر اپنے سسر کو دے دیے ہیں ان کے دبائو میں آکر… مجھے معلوم ہے یہ بھی کہ شوہر کے انتقال کے بعد آپ کے ساتھ ان لوگوں کا رویہ کتنا بدل گیا ہے۔ اسی لیے میں نے آپ کو یہاں بلوایا ہے اور جو بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، وہ ان کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’’میری سمجھ میں کوئی بات نہیں آئی وکیل صاحب!‘‘ میں نے کہا۔ ’’نوجوان آدمی کو وصیت نامے کا خیال کہاں آتا ہے اور اگر کوئی شادی کے صرف تین ماہ کے اندر اندر یہ بندوبست کرنے لگے کہ اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی بیوی کو پریشانی نہ ہو تو اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے؟ یہی کہ اس کو موت کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔‘‘
’’آپ نے بالکل صحیح نتیجہ اخذ کیا۔‘‘ وہ بولا۔ ’’اس کی زندگی کو ہر وقت، ہر جگہ خطرہ لاحق تھا اور اس کی وجہ اس کے کاروبار کی نوعیت تھی۔‘‘
’’کسی سوپ فیکٹری کے مالک کو بھلا کیا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’میں عرض کرچکا ہوں کہ آپ کی معلومات محدود ہیں۔‘‘ وہ متانت سے بولا۔ ’’ایک دو باتوں پر غور فرمایئے۔ آخر آپ کے شوہر کار کیوں نہیں رکھتے تھے۔ بہترین قسم کی جیپ بھی معمولی کار سے زیادہ آرام دہ نہیں ہوتی۔ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ جدید ترین ماڈل کی کوئی بھی قیمتی کار خرید لیتے۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ انہیں جیپ چلانے میں زیادہ لطف آتا تھا۔‘‘ میں نے کہا۔
وکیل معنی خیز انداز میں مسکرا کر بولا۔ ’’دوسری بات یہ کہ وہ کاروباری دوروں پر دادو، سیہون ہی کیوں جاتے تھے؟ خیر چھوڑیئے ان باتوں کو! اب آپ کو کسی تردد یا تجسس میں مبتلا ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کا ایک اکائونٹ دوسرے بینک میں بھی تھا۔ اس کا آج کا بیلنس اسّی لاکھ ترانوے ہزار سات سو تئیس روپے ستر پیسے ہے… چیک بک میرے پاس ہے لیکن ابھی آپ کے کام نہیں آسکتی۔ آپ کی طرف سے حقِ وراثت کے سرٹیفیکیٹ کے لیے کیس فائل کردیا گیا ہے اور ایک دو مہینے کے اندر اندر آپ کو عدالت سے سرٹیفیکیٹ مل جائے گا تو آپ اپنی مرضی سے یہ رقم اپنے دستخطوں کے ذریعے نکلوا سکیں گی۔ ان کا ایک کاروبار اور بھی تھا۔ میں ان کے رفقائے کار کی طرف سے آپ کو بیس لاکھ کا ایک چیک الگ دے رہا ہوں۔ اسے آپ اپنے اکائونٹ میں جمع کرا سکتی ہیں یا کیش کرا سکتی ہیں۔ ان کے کاروباری شریک آپ کے غم میں برابر کے…‘‘
’’دیکھیے وکیل صاحب!‘‘ میں نے اس بار برہم ہوکر کہا۔ ’’یہ کاروباری شریک کون ہیں۔ یہ کاروبار کیا تھا۔ جب تک آپ یہ ساری باتیں مجھے نہیں بتائیں گے میں یہ رقم قبول نہیں کروں گی۔‘‘
’’جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ریشماں بھابھی!‘‘ وہ بولا۔ ’’کاروبار تھا منشیات کی اسمگلنگ اور ان کے شریک کار تھے اسمگلر! جو آپ کے سامنے نہیں آسکتے۔ میں ان کا نام بھی نہیں بتا سکتا اور بہتر ہے آپ بھی اس ملاقات کا ذکر کسی سے نہ کریں اور خاموشی سے اس رقم کو اپنا جائز حق سمجھ کے قبول کرلیں۔ مرنے والے کی نیکی، بدی اس کے ساتھ گئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیا نظر آتا تھا اور کیا تھا۔ ہنگامہ آرائی بے مقصد ہی نہیں خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے رفیقِ کار آپ کے ہمدرد ہیں۔ وہ آپ کے دشمن بھی ہوسکتے ہیں۔ میرا نام لینے سے بھی آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میں ان سب کا وکیل ہوں۔ لیکن میرے پیشے کا تقاضا ہے کہ کسی موکل کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں اسے اپنے تک ہی محدود رکھوں۔ ہر موکل میرے لیے صرف موکل ہے۔ پولیس اسے مجرم ثابت کرے یا جیل میں بند کرا دے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ رقم کو حرام سمجھ کے اپنی ذات پر خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں تو میں آپ کو ایک آسان نسخہ بتاتا ہوں۔ آپ اسپتال، اسکول یا یتیم خانہ جو چاہیں بنوا دیں۔ شاید اس طرح آپ کے شوہر کی مغفرت کے اسباب فراہم ہوجائیں۔ انکار کرکے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘‘
اس کی بات میری سمجھ میں آگئی۔ میں نے وہ چیک اپنے اکائونٹ میں جمع کرا دیا۔ وراثت کا سرٹیفکیٹ ملنے میں ایک دو مہینے کی بجائے چھ مہینے لگ گئے۔ اس دوران میں نے فیصلہ کرلیا کہ اس تمام رقم سے ایک خیراتی اسپتال بنوا دوں گی۔ مگر میں یہ سب نہ کر پائی اور یہ کام التواء کا شکار رہا، تاہم میں اس وکیل کو اپنے طور پر سارے اختیار دے چکی ہوں، نیز یہ کہ اس رقم پر اب میرا کوئی اختیار نہیں جو اب ایک کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اب آپ لوگ بتایئے کہ یہ سب نہ بتا کر میں نے کوئی ناقابلِ تلافی گناہ کیا ہے؟‘‘ رشی یہ ساری کتھا سنا کر چپ ہورہی۔
’’نہیں! تم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔‘‘ اس کے شوہر سومر خان نے تلخ و تند لہجے میں کہا۔ ’’تم خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہیں کہ تمہارے شوہر کا کیریئر ختم ہورہا ہے۔ محض اس لیے کہ وہ اپنے سرمائے سے ایک ٹی وی سیریل بنا کے ان لوگوں کو نیچا نہیں دکھا سکتا۔ اس سرمائے سے میں ایک نہیں تین کامیاب سیریلز بنا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتا تھا۔ لوگوں کو بتا سکتا تھا کہ اچھی سیریلز کیسی ہوتی ہیں۔ مگر میری بدبختی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ خود میری بیوی نے مجھے دوسروں کا دستِ نگر دیکھنا منظور کیا کیونکہ تمہیں اپنے سابقہ شوہر کی مغفرت کا زیادہ خیال تھا۔ ستر، اسی لاکھ… میرے خدا! میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا رشی…!‘‘
’’سومر… سومر!‘‘ رشی نے روتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے معلوم تھا تم یہی کہو گے۔ مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ دولت ہماری محبت کے بیچ دیوار بن جائے گی۔ میں اس منحوس دولت کا سایہ بھی تم پر نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی۔‘‘
’’منحوس…؟‘‘ سومر نے چلا کر کہا۔ ’’دولت صرف دولت ہوتی ہے۔ جس کے لیے منحوس تھی وہ مر گیا۔ اگر وہ وکیل تمہیں نہ بتاتا کہ یہ دولت کس طرح کمائی گئی تھی تو تم اس کو مالِ حلال اور اپنا حق سمجھ کے قبول کرلیتیں۔ مگر حقیقت جان لینے کے بعد بھی تمہیں اس کمینے اسمگلر سے نفرت نہیں ہوئی۔‘‘
’’سومر!‘‘ جمعہ خان نے اسے ٹوکا۔ ’’مر جانے والے کو گالی نہیں دیتے۔ غلطی اگر رشی نے کی تھی تو تم اسے قصور وار کہہ سکتے ہو۔‘‘
’’میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ میں نے اس دولت کو خیرات کرنے کے لیے قبول کیا تھا۔‘‘ رشی نے تلخی سے کہا۔
’’شاید تم جانتی نہیں کہ اس میں سے آدھی رقم ٹھیکیدار کھا جاتے۔ تمہارے ان ستر، اسّی لاکھ سے کوئی خیراتی عمارت کھڑی بھی ہوجاتی تب بھی کیا ہوتا؟ سازوسامان کہاں سے آتا؟ مریضوں کو وہی سرکاری دوائیں دی جاتیں جو اب بھی خیراتی اسپتالوں میں دی جاتی ہیں۔ ایک یتیم خانہ بنوا کے کیا تم ان سب کا مستقبل درخشاں کرسکتی تھیں جو اس یتیم خانے میں داخل ہونے کے لیے آتے؟‘‘
’’مجھے یہ سب سوچنے کی کیا ضرورت تھی؟ بس! وہ حرام کی کمائی تھی جو میں نہیں رکھنا چاہتی تھی۔‘‘ رشی نے کہا۔
بحث بڑھتی جارہی تھی۔ رفتہ رفتہ سب لوگ اپنے گھروں کی راہ لینے لگے۔ رشی نے آخر میں کہا تھا کہ کوئی مجھے بتائے کہ ’’اس میں وہ عنصر تم لوگوں کو کہاں نظر آتا ہے جو مجھے خودکشی پر مجبور کرتا ہو؟‘‘
’’خودکشی کرنے کا جی تو اب میرا چاہتا ہے۔‘‘ سومر نے جھنجھلا کر کہا۔
٭…٭…٭
سومر تھکے تھکے قدموں سے خواب گاہ میں داخل ہوا جہاں رشی انگاروں کے بستر پر لیٹی جاگ رہی تھی۔ انتظار کررہی تھی کہ اب کون آتا ہے؟ اسے شدت سے اس سفاک مسیحا کا انتظار تھا جو اسے زندگی کے عذاب سے نجات دلا دے۔ دروازہ کھلا اور اس نے سومر کو سائے کی طرح دروازے پر نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ آنکھیں بند کیے انتظار کرتی رہی۔
وقت کا ایک ایک لمحہ اسے اپنے عدم وجود کا اعلان کرتا گزرتا گیا۔ ایک طویل مدت… ایک منٹ شاید ایک گھڑی یا ایک صدی کے بعد اس نے پھر آنکھیں کھولیں۔ وہ اب تک وہیں کھڑا تھا۔ تذبذب کیسا مرے مہربان قاتل! مرے دلدار… آئو اور مجھے اجل کی نیند دے دو۔ دائمی سکون دے دو۔ ایک کروڑ… ایک کروڑ… حرام دولت، منحوس دولت… میاں بیوی کے پاکیزہ رشتے کے بیچ دراڑ ڈالنے والا مالِ حرام!
پھر وہ دبے پائوں رشی کے بیڈ کی طرف بڑھا۔ چند سیکنڈ چاندنی میں وہ اس کے دلکش وجود کو دیکھتا رہا پھر اس نے سرگوشی میں کہا۔ ’’رشی…! میری جان! مجھے معاف کردو… میں پاگل ہوگیا تھا۔ میں صرف تمہیں چاہتا ہوں۔ تمہارے سوا کسی کو نہیں چاہتا۔ کچھ نہیں چاہیے مجھے۔ سوائے تمہارے!‘‘
’’مجھے معلوم ہے… مجھے معلوم ہے۔‘‘ رشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
٭…٭…٭
اب سے چھ ماہ قبل وہ سمجھا تھا کہ اس نے بازی ہار دی ہے۔ اس کا پھینکا ہوا ہر پانسہ الٹا پڑ رہا تھا اور تقدیر سے لڑنا اس کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔ مگر ایک اتفاق نے اسے ازسرنو قسمت آزمائی پر مجبور کردیا۔ یہ زندگی کا سب سے بڑا جوا تھا۔ تخت یا تختہ… اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ گھر بار بیچ کر قرض اور مقدمات سے نجات پانے کی کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
وہ عیش بھری زندگی کا عادی ہوچکا تھا۔ وہ ان چیزوں سے دستبردار نہیں ہوسکتا تھا۔ رشی کو دیکھ کر وہ بھونچکا رہ گیا تھا۔ ذرا سی کوشش سے اس کے تمام دلدّر دور ہوسکتے تھے اور اس ’’کوشش‘‘ کا آغاز اس نے فوراً کردیا تھا۔ یہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی تھی جس کو زیرِ دام لانے کے لیے عقل اور صبر و تحمل سے کام لینے کی ضرورت تھی۔ وہ کتنی مظلوم اور ستم رسیدہ غریب اور لاوارث بن کے پہنچی تھی۔ وہ حیران ہوا تھا۔ رشی کے اس ڈرامے کا مقصد کیا ہے۔
وہ اپنے ایک پرانے وکیل دوست سے قانونی مشورے لینے گیا تھا جو حیدرآباد میں پریکٹس کرتا تھا۔ خلافِ معمول اسے اندر نہیں جانے دیا گیا اور ایک ماتحت وکیل نے بڑی شائستگی سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ بڑے صاحب کے پاس کوئی خاتون بیٹھی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کسی کو اندر مت آنے دینا۔ وہ انتظار کرتا رہا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد جب تنگ آکے وہ اٹھنے ہی والا تھا کہ دروازہ کھلا اور بیس بائیس برس کی ایک خاصی حسین لڑکی اس کے سامنے سے گزر گئی۔
اس کے دوست نے معذرت کے بعد اسے اندر بلا لیا اور جب اس نے مذاق میں پوچھا کہ یہ کیا چکر ہے تو وکیل نے ایک سرد آہ بھر کر کہا کہ یہ تقدیر کا چکر ہے جو اس لڑکی کی صورت سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔ پھر اس نے مختصراً بتایا تھا کہ کس طرح اس لڑکی کو بیوہ ہوجانے کے بعد اسّی لاکھ ملے ہیں جن کا اس کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا۔ وہ مزید حیران اس بات پر ہوا تھا کہ لڑکی ایسے سنسنی خیز انکشاف پر خوشی کے مارے پاگل کیوں نہیں ہوئی۔ اس کی تو چال بھی اتنی نارمل تھی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اس کے بعد یہ بات ختم ہوگئی تھی۔ اس نے لڑکی کا نام پوچھا تھا نہ اس کے شوہر کا… وہ اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے تھے اور حیدرآباد سے آنے کے بعد اس نے ایک بار بھی رشی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ وہ اپنی پریشانیوں میں ایسا الجھا ہوا تھا کہ اسے کسی اور کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہ تھی۔
تقدیر اب مہربان ہوئی تھی۔ اس کے لیے یہ انکشاف حیرت کا باعث تھا کہ سومر کی بیوی بن کر آنے والی لڑکی وہی تھی جس کے اسمگلر شوہر کی موت اس کے لیے اسّی لاکھ کی لاٹری ثابت ہوئی تھی اور خوش قسمتی سے سونے کا انڈا دینے والی یہ مرغی کوئی اور نہیں اس کی سالی تھی۔ کسی دوسرے کی بیوی ہونے کے باوجود رشی اس کی دسترس سے باہر نہیں ہوئی تھی۔ وہ اس کے پڑوس میں چند قدم کے فاصلے پر موجود تھی۔ دونوں کوٹھیوں کو جدا کرنے والی صرف چھ فٹ اونچی دیوار تھی جو آسانی سے عبور کی جاسکتی تھی۔ شوکت حسین نے بڑی احتیاط سے منصوبہ بندی کی تھی۔
وہ سومر کے گھر اکثر جاتا رہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اپنے دروازے کی ایک فاضل چابی گھر کے باہر کہاں چھپا کے رکھتے ہیں۔ اس چابی کی مدد سے اس نے ایک اور چابی بنوا لی تھی۔ وہ کئی بار جمعہ خان کے گھر بھی جا چکا تھا اور موت کے عجائب خانے کو دیکھ کر اسے یوں لگا تھا کہ قسمت نے اسے واقعی موقع فراہم کردیا ہے۔ اس نے ڈاکٹر جمعہ خان کے گھر کا نقشہ اور موت کے اس عجائب خانے میں رکھی ہوئی ہر چیز کو ذہن نشیں کرلیا تھا۔ جمعہ خان نے قاتل اشیا کی نمائش کے بعد اس الماری کی چابی سب کی موجودگی میں میز کی دراز میں ڈال دی تھی۔ اس کو یقین تھا کہ دیکھنے والے قابل اعتماد لوگ ہیں۔
شوکت کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ڈاکٹر جمعہ خان کے گھر میں داخل ہونے اور زہر چرانے کا تھا۔ جب رشی اور سومر خان نے ہر ویک اینڈ کو ڈاکٹر جمعہ خان اور صفیہ کے ساتھ شام گزارنے اور رات کا کھانا کھا کے لوٹنے کا سلسلہ شروع کیا تو شوکت کی ایک بڑی مشکل آسان ہوگئی۔ اس نے اپنے منصوبے پر نظرثانی کی اور جب جزئیات کو ذہن میں رکھ کر ہر پہلو پر غور کیا تو اسّی لاکھ اسے اپنی جیب میں محسوس ہونے لگے اور دل سے قانون کی گرفت میں آنے کا خوف بالکل ختم ہوگیا۔
ڈاکٹر جمعہ خان کے گھر میں ایک غیر متوقع اتفاق رشی کا اس کے کمرے میں آنا تھا جہاں وہ میز کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا۔ وہ واحد موقع تھا جب شوکت بے یقینی کے عذاب میں مبتلا ہوا تھا۔ اگر وہ پکڑا جاتا تو یہی خوشگوار اتفاق جو اس کے پلان کی کامیابی کی ضمانت بنا تھا، اس کی ساری امیدوں کو خاک میں ملا دیتا۔ ڈاکٹر جمعہ خان کے گھر سے نکل آنے کے بعد ناکامی کے سارے اندیشے مٹ گئے تھے اور جو کچھ بعد میں ہوا تھا عین اس کے پروگرام کے مطابق تھا۔ اس نے رخشندہ کو ایک ہفتے کے لیے میکے بھیج دیا تھا جو درحقیقت شوکت کے والدین کا گھر تھا اور رخشندہ کی سسرال! لیکن شوکت کے نیک دل والدین نے کہا تھا کہ یہ ہماری بہو نہیں بیٹی ہے۔ رسماً تو یہ بات سب ہی ساس سسر کہتے ہیں مگر انہوں نے عملاً ثابت بھی کیا تھا۔
سومر کے گھر میں داخل ہوکے اس کے باتھ روم سے بلیڈ نکالنا بہت آسان کام تھا۔ وہ مقفل دروازے کو چابی سے کھول کے گھر میں داخل ہوا تھا۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ سومر ڈرائنگ روم میں ہے۔ شوکت سر تاپا سیاہ لباس میں تھا جو جمعہ خان کے گھر سے زہر کی شیشی چراتے وقت کام آیا تھا۔ زہر کی شیشی کا لیبل اس نے سومر کی کار کی سیٹ کے نیچے خود ڈالا تھا۔ اس نے بلیڈ کے بیرونی ریپر بھی غسل خانے میں ڈال دیئے تھے اور جب اس نے اندھیرے میں رشی کی کلائی کاٹی تھی تو اس کی توقع کے مطابق رشی بدحواسی کے باعث کچھ نہیں دیکھ سکی تھی اور شوکت گھر کے ایک کونے میں چھپا کھڑا رہا تھا۔
اسے یقین تھا کہ سومر پہلے رشی کی مرہم پٹی کرے گا۔ جب وہ رشی کو اٹھا کر کمرے میں لے گیا تو سومر نے خون آلود بلیڈ بھی باتھ روم میں ڈالا اور اطمینان سے چلتا ہوا باہر نکل گیا۔ درمیان کی دیوار عبور کرتے ہی وہ اپنے گھر میں تھا۔ چند منٹ بعد وہ لباس بدل کر بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔ جب اس نے ایمبولینس کی آواز سنی تو گاڑی لے کر نکلا اور سومر کے بنگلے میں جا پہنچا۔ وجہ بہت معقول تھی۔
’’میں نے ایمبولینس آتے دیکھی تھی، خیریت تو ہے؟‘‘ وہ سومر کے ساتھ اسپتال گیا تھا اور جب سومر نے وہاں اپنے بھائی کو فون کیا تھا تو شوکت نے سوچا کہ اب کرمنالوجی کا ماہر کیا کرے گا؟ سیدھا دوڑتا ہوا یہاں آئے گا یا پہلے سومر کے گھر جاکر تفتیش کرے گا۔ اس نے پہلے تفتیش کی تھی اور ان سب چیزوں کا سراغ لگا لیا تھا جو شوکت نے عمداً چھوڑی تھیں، رشی پر خودکشی کی ناکام کوشش کا الزام ثابت کرنے کے لیے!
تیسری کوشش کے الزام کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے شوکت کو تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا تھا اور پھر مناسب موقع مل گیا تھا۔ اس نے دیکھا تھا کہ سومر کی کوٹھی میں اندھیرا ہے۔ وہ اپنے گھر کے احاطے سے دیکھتا رہا۔ اچانک اس نے رشی کو کار لے کر آتے دیکھا۔ سومر اس کے ساتھ نہیں تھا۔
وہ تیزی سے بھاگا۔ اس نے رومال گیراج میں رکھے ہوئے پیٹرول کے ڈبے کو الٹ کر بھگویا اور درمیانی دیوار سے دوسری طرف اتر گیا۔ اس وقت تک رشی کار لے کر اندر پہنچ چکی تھی۔ شوکت کے لیے سیاہ لباس اور نقاب پہننے کا وقت نہ تھا۔ حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے اس نے سیاہ سوٹ کا کوٹ سر پر اوڑھ لیا اور اس کے سامنے کے بٹن بند کرلیے اور ابھی رشی کار سے اتری بھی نہ تھی کہ شوکت نے اسے دبوچ لیا اور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جب کار کا دروازہ کھلنے سے اندر کی لائٹ جل گئی تھی تو رشی کو اپنے مقابل صرف ایک سیاہ پوش نظر آیا۔ اس سیاہ پوش کا نقش اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھا۔ چنانچہ وہ اور کچھ نہ دیکھ سکی۔ شوکت نے ایک ہاتھ سے اس کا منہ بند کیا اور دوسرے ہاتھ سے پیٹرول میں بھیگا ہوا رومال ناک پر رکھ دیا۔ اس نے کہیں پڑھا تھا کہ پیٹرول بھی ایتھر کی طرح بے ہوش کرسکتا ہے۔ اگرچہ اس کا اثر فوراً نہیں ہوتا اور نہ دیر تک رہتا ہے۔ چند منٹ میں اس نے لان پر پڑے ہوئے پانی کے پائپ کا ایک حصہ سائلنسر میں ڈالا اور دوسرا سرا کھڑکی میں پھنسا دیا۔ رشی انجن بند کرچکی تھی۔ وہ کار کے قریب کھڑا انتظار کرتا رہا۔
بیس منٹ بعد اس نے ایک ٹیکسی کو سامنے سے آتے دیکھا۔ اس میں سے سومر اترا اور میٹر دیکھنے لگا۔ شوکت نے فوراً رشی کی کار کا انجن اسٹارٹ کیا اور دیوار سے کود کے اپنے گھر پہنچ گیا۔ سومر نے اندر آنے کے بعد کار کے انجن کو اسٹارٹ اور ہیڈ لائٹس کو آف دیکھا تو اس نے رشی کو آواز دی اور جواب نہ پا کے آگے بڑھا۔ اس وقت تک انجن کو چلتے ہوئے تقریباً پانچ منٹ ہوگئے تھے اور رشی کی کار میں سائلنسر سے خارج ہونے والا ہلکا نیلگوں دھواں بھر گیا تھا۔ جس میں کاربن مونوآکسائڈ گیس شامل تھی۔ اگر شوکت نے آدھے گھنٹے پہلے ہی انجن اسٹارٹ کرکے چھوڑ دیا ہوتا تو رشی مر چکی ہوتی۔ مگر وہ ابھی رشی کو مارنا نہیں چاہتا تھا۔
وہ دیوار کے پیچھے کھڑا سب دیکھتا رہا اور جب سومر نے رشی کو گاڑی سے نکال لیا تو شوکت اطمینان سے اپنے گیراج کی طرف گیا اور کار لے کر چل پڑا۔
سومر کی کوٹھی کے گیٹ میں گاڑی موڑتے ہی پورا منظر اس کے سامنے آگیا۔ ایک بار وہ ایمبولینس کی آواز سن کر آیا تھا۔ اس مرتبہ وہ گھر میں خلافِ معمول مکمل اندھیرا دیکھ کر ادھر سے گزرا تھا کہ اسے اندر کھڑی ہوئی کار اور کھلا ہوا گیٹ دیکھ کر شبہ ہوا اور وہ دیکھنے چلا آیا۔
اسے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی تھی کہ رشی پر تیسری بار خودکشی کی ناکام کوشش کا الزام لگ چکا تھا۔ اس نے سومر کے ڈرائنگ روم میں رشی کی زبانی وہ باتیں بھی سنی تھیں جو سومر نے کی تھیں۔ اس نے رشی کو روتے ہوئے اور ہسٹریا کے شدید دوروں کا شکار ہوتے ہوئے بھی دیکھا تھا اور اسی وقت اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ یہ رات اس کے مقاصد کی تکمیل کے لیے انتہائی سازگار اور موزوں ہے۔ آج کی رات اگر رشی مر جائے گی تو اسے شدید جذباتی بحران کے باعث خودکشی کی چوتھی کامیاب کوشش قرار دیا جائے گا۔ بے شک اس طرح رشی کی دولت شوکت کو نہیں اس کے شوہر سومر کو ملے گی پھر سومر کا سڑک کے کسی حادثے میں ہلاک ہوجانا بعید از قیاس تو نہیں۔ اس کے بعد اس تمام دولت کی وارث اس کی بیوی رخشندہ ہی رہ جائے گی… دور کہیں کلاک نے رات کے تین بجائے۔
اس نے رخشندہ کی طرف دیکھا جو ایک جذباتی بحران اور ذہنی انتشار کے بعد اپنے ہمدرد اور غمگسار شوہر کے ہاتھوں خواب آور گولیاں کھا کے اب سکون سے سو رہی تھی۔ صبح ہونے کے بعد
بھی وہ دیر سے ہی جاگے گی۔
شوکت اپنے گھنائونے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ خواب گاہ سے باہر آکر اس نے اسٹور کا رخ کیا جہاں لکڑی، گتے اور ٹین کے بہت سے خالی ڈبے، کار کے پرانے ٹائر، ایک ناکارہ بیٹری، ٹوٹی ہوئی دو کرسیاں، ایک بے مصرف ٹرائیسکل اور جانے کیا کیا الم غلم بھرا ہوا تھا۔ اس نے پوری احتیاط کے ساتھ گتے کے ڈبے ہٹائے۔ سب سے نیچے ٹی وی کا ڈبہ تھا۔ اس کے اندر سفید کارک جیسے پیکنگ میٹریل کے سوا کچھ نہیں تھا۔ شوکت نے ہلکے پھلکے سفید ٹائل جیسے ٹکڑے بنائے اور نیچے سے پلاسٹک کی ایک تھیلی برآمد کی۔ سب چیزیں اسی طرح اپنی جگہ رکھنے کے بعد اس نے پلاسٹک کی تھیلی کو کھولا۔ اس میں پوٹاشیم سائنائڈ کی شیشی موجود تھی۔
وہ شیشی کو ٹائم بم کی طرح سنبھالے اپنے گھر سے نکلا اور گیراج میں پہنچ کے اس نے کار کی ڈکی سے سیاہ پتلون اور جرسی نکال کر پہنی۔ ربر سول جوتے اور سیاہ موزے پہنے، ہاتھوں پر کالے دستانے چڑھائے اور منہ پر سیاہ جالی دار نقاب چڑھا کے وہ آخری مرحلے کے لیے تیار ہوگیا۔
اس نے شیشی کو دیوار پر رکھا اور خود دیوار پر چڑھ کے آہستہ سے سومر کے گھر میں اتر گیا۔
یکایک اسے یوں لگا جیسے اس کے کانوں نے ایک ہلکی سی آواز سنی ہے۔ کوئی دروازہ کھلنے کی آواز! جس کے قبضوں میں زنگ آچکا ہو۔ اس نے محتاط ہوکے ادھر ادھر دیکھا۔ کوئی دروازہ، کوئی دریچہ وا نہیں ہوا تھا۔ یہ آواز ایسی تھی جیسے کوئی چھوٹی سی ڈرل مشین چل رہی ہو۔ پھر یہ آواز بند ہوگئی اور رات کے آخری پہر کے سکوت میں چوکیدار کی سیٹی گونجی جو سائیکل پر اطمینان سے گشت کررہا تھا۔ شاید اس کے پہیوں میں کوئی خشک ٹہنی وغیرہ اڑ گئی تھی۔
شوکت مطمئن ہوکے آگے بڑھا۔ جیب سے چابی نکال کر اس نے سومر کے مقفل گھر کا دروازہ کسی آواز کے بغیر کھول لیا۔ دروازے کو آہستہ سے دہلیز کے ساتھ اڑا کے مختصر سی راہداری میںآگے بڑھا۔ دائیں ہاتھ پر ڈرائنگ روم تھا۔ بائیں طرف دو بیڈ روم تھے۔ رشی اور سومر کا بیڈ روم پہلا تھا اور اس کا دروازہ بند تھا۔ اندر نائٹ بلب کا مدھم اجالا تھا جبکہ باہر مکمل اندھیرا تھا۔ راہداری کے آخر میں دائیں جانب اسٹور تھا اور بائیں جانب کچن۔ وہ کچن کے فلائی روف دروازے سے اندر داخل ہوا تو اس نے ایک ہلکا سا کھٹکا سنا۔ اس کے قدم رک گئے۔ کیا سومر جاگ رہا ہے۔ وہ دروازہ کھول کے پانی یا کوئی اور چیز لینے کے لیے کچن کی طرف تو نہیں آرہا ہے۔ وہ دھڑکتے دل کو سنبھالے بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ اگر سومر آگیا تو یہاں اس کے لیے کوئی چھپنے کی جگہ ہے نہ فرار ہونے کی راہ۔ اس کے لیے واحد راستہ یہی رہ جائے گا کہ وہ سومر کو اندر آتے ہی دھکا دے اور خود باورچی خانے سے نکلتے وقت باہر سے کنڈی لگا جائے۔ رشی کے پہنچنے تک وہ باہر نکل جائے گا اور ایک منٹ بعد اپنے گھر میں ہوگا۔ وہ ہمہ تن گوش قریب آتے قدموں کی آواز سننے کی کوشش کرتا رہا، مگر چند لمحوں میں گھر کے اندر گہری خاموشی پھر مسلط ہوگئی تھی۔ سومر نہیں آیا تھا۔
اس نے فریج کھولا۔ اندر کی لائٹ فریج کا دروازہ کھولتے ہی جل اٹھی تھی مگر یہ روشنی باہر نہیں پہنچ سکتی تھی۔ اس نے فریج کے اندر رکھی ہوئی چیزوں کا جائزہ لیا۔ پھل، گوشت، مکھن، ڈبل روٹی اور سالن وغیرہ کے ساتھ دودھ کا گلاس رکھا تھا۔ رشی صبح ناشتے میں دودھ پیتی تھی۔ سومر ناشتے میں بلیک کافی پینے کا عادی تھا۔ یہ سب باتیں وہ پہلے سے جانتا تھا۔ یہ دودھ وہ صبح استعمال کرے گی۔ اس نے دودھ کو چکھ کے دیکھا۔ دودھ تازہ اور میٹھا تھا لیکن یہ مٹھاس چینی کی نہیں تھی۔ یہ گلوکوز کی مٹھاس تھی۔ شاید سومر نے سلانے سے پہلے بیوی کو دودھ پلانے کی کوشش کی تھی۔ صبح وہ ناشتہ کرے نہ کرے دودھ کا گلاس ضرور پیئے گی ورنہ سومر زبردستی پلا دے گا۔
یہ سب سوچنے کے بعد شوکت نے جیب سے زہر کی شیشی نکالی اور اس کا ڈھکنا کھولا۔ ایک بار پھر اسے ہلکے سے کھٹکے نے متوجہ کیا۔ پھر یہ آواز دوسری طرف سے مسلسل آنے لگی۔
چوہا یا کوئی بلی ہوگی۔ اس نے سوچا۔ گلاس اٹھا کے اس نے تقریباً ایک چائے کے چمچے کے برابر پوٹاشیم سائنائڈ اس میں انڈیل دیا۔ چوہے باورچی خانے میں مسلسل کھٹ… کھٹ کررہے تھے۔ اس نے ایک چمچ اٹھا کے گلاس میں زہر گھولنا شروع کردیا۔ اس کے کانوں نے ایک بار پھر وہی آواز سنی جیسے ذرا سی دیر کے لیے کوئی چرخی چلی اور بند ہوگئی۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ گلاس کو فریج میں رکھ کے وہ کچن سے باہر آگیا۔ باہر کوئی بھی نہیں تھا۔ یہ اس کا وہم تھا جو بے وجود آوازوں سے اسے ڈرا رہا تھا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اگر وہ زہر آلود دودھ رشی نے نہ پیا تو کیا، کل پھر کوشش کی جاسکتی ہے۔ اگر رشی کی جگہ سومر نے پی لیا تب بھی کچھ نہیں ہوگا۔ زہر کی چوری کا الزام ابھی تک رشی کے سر ہی ہے۔
گھر کی دیواروں سے باہر آکے اس نے احتیاطاً ہر طرف دیکھا۔ کہیں ایک پتا تک نہیں ہل رہا تھا اور تھکی ہوئی رات صبح کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دور کہیں کتے بھونک رہے تھے۔ چوکیدار بھی وسل بجاتا، سائیکل پر پیڈل مارتا گزرا۔ اسی وقت گھنٹے نے ساڑھے تین بجے کا اعلان صرف ایک گھنٹہ بجا کے کیا۔
وہ اطمینان سے دیوار کی طرف چلنے لگا۔ اگر صبح پولیس نے وہ گلاس قبضے میں کرلیا جس کے دودھ میں زہر ملا ہوا ہے تو وہ شیشی کو سومر کے گھر کے احاطے میں کسی ایسی جگہ ڈال دے گا جہاں سے تلاش کرنے پر بہ آسانی مل جائے۔ اس نے شیشی کو دیوار پر رکھا اور خود اوپر چڑھا۔ تیسری بار اس نے پھر چرخی چلنے کی آواز سنی۔ صرف چند سیکنڈوں کے لیے اور اسے اپنے کانوں کا دھوکا سمجھ کے نظر انداز کرکے اپنے گھر میں اتر گیا۔ کار کی ڈکی اب بھی کھلی ہوئی تھی اور اس کا لباسِ شب خوابی اوپر ہی رکھا ہوا تھا۔ اس نے بلاخوف نقاب ہٹایا اور تب ہی اچانک وہ آواز بہت قریب سے آئی۔
’’اس وقت ڈرل مشین کون چلائے گا؟‘‘ اس نے سوچا۔ یہ کسی جانور کی آواز بھی نہیں تھی۔ ’’کرررر… کررررر!‘‘ سیاہ لباس اتارتے اتارتے اس کا ہاتھ رک گیا۔ یہ آواز اس نے پہلے بھی سنی تھی۔ یہ بہت جانی پہچانی سی آواز تھی۔ وہ اندھیرے میں بے لباس کھڑا رہا۔ آواز بند ہوگئی تھی۔ ابھی اس نے شب خوابی کے لباس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دیوار پر ایک سایہ نمودار ہوا۔ وہ خوف سے منجمد ہوگیا۔
ٹارچ کی روشنی سیدھی اس پر پڑی۔
’’بس! شوکت حسین! شوٹنگ ختم ہوچکی۔‘‘ کسی نے کہا۔ ’’آدھے گھنٹے کی یہ فلم ہمارے پاس محفوظ ہے۔‘‘ یہ آواز ڈاکٹر جمعہ خان کی تھی۔
’’اب تم اطمینان سے کپڑے پہن لو۔‘‘ اس بار سومر خان کی آواز ابھری۔
’’یہ خیال رکھنا کہ اب بھاگنے کی کوشش بے سود ہے۔ ویسے بھی تم اس حالت میں بھاگ کے کہیں نہیں جاسکتے۔‘‘
’’اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں ایک ایسا ریوالور ہے جو پہلے بھی ایک جیتے جاگتے انسان کا خاتمہ کرچکا ہے۔ تم یقیناً اس کا دوسرا شکار بننا پسند نہیں کرو گے؟‘‘
شوکت نے یوں محسوس کیا جیسے وہ پھانسی کے تختے پر کھڑا ہے اور ان دونوں میں سے ایک جلاد ہے جو دوسرے کے اشارے پر لیور کھینچنے کے لیے تیار ہے۔ یہ سوچ کر اس کے جسم سے جان نکل گئی۔
’’دیر کرو گے تو ہم لائٹس آن کردیں گے۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’اور… تمہاری بیوی باہر آکے تمہیں اس حال میں دیکھے گی تو خوش نہیں ہوگی۔‘‘
شوکت نے مردہ ہاتھوں سے کپڑے اٹھائے۔ ’’تم کب سے… میرا مطلب ہے تمہیں کیسے معلوم ہوا؟‘‘
’’ہماری کھوپڑی میں اگر تم سے بہتر عقل نہیں ہے تو تم سے ناقص بھی نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر جمعہ نے کہا۔ ’’کیا تمہیں یہ خیال نہیں آیا کہ رشی کے لیے خودکشی کے امکانات آج کی رات بہت زیادہ ہیں۔ وہ شدید ترین ذہنی ہیجان اور اعصابی کشیدگی کا شکار تھی۔ ہسٹریا کی کیفیت میں اس کا دماغی توازن درست نہیں تھا، لہٰذا ہم نے اسے خواب آور گولیاں دے کر سلا دیا۔ لیکن ہم جانتے تھے کہ وہ شخص جو رشی کے قتل کو خودکشی ثابت کرنا چاہتا ہے اور پہلے تین بار ناکام کوششوں کا ڈرامہ کرچکا ہے، آج رات اس سے ضرور فائدہ اٹھائے گا۔ ابھی تک مجھے علم نہیں تھا کہ تمہارا کاروبار اس حد تک بیٹھ چکا ہے کہ تمہارا گھر بھی اب تمہارا نہیں رہا۔ یہ خیال مجھے پہلے نہیں آیا تھا کہ رشی کی دولت کی ایک وارث اس کی بہن بھی ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ رشی کے بعد اس کا شوہر بھی نہ رہے۔ اور اوّل تو سومر کا رشی کے قتل کے الزام میں پھانسی پانا عین ممکن تھا۔ لیکن اسے پھانسی نہ ہوتی تب بھی تم اسے بعد میں کسی نہ کسی طرح ضرور ٹھکانے لگا دیتے۔ بیوی نے خودکشی کرلی۔ شوہر کچھ عرصے بعد حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس میں ناقابلِ یقین بات کیا ہوتی۔ ایسا دنیا میں ہوتا ہی رہتا ہے۔ میرا شک اس وقت بڑھا جب تم نے رشی سے پوچھا تھا کہ کیا ان ہدایات کی کوئی قانونی حیثیت ہے جو اس نے وکیل کو دی ہیں۔ اور اس کے جواب میں تمہاری صورت پر اطمینان کا اظہار میں نے نوٹ کرلیا تھا۔ تمہارے جانے کے بعد میں تھوڑی دیر کے لیے گھر گیا تھا اور اپنے ساتھ موت کے عجائب خانے سے یہ ریوالور نکال لایا تھا جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی میں ایک اور چیز بھی لایا تھا جو زندگی کے عجائب خانے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ مووی کیمرا جو اندھیرے میں بھی تصویر اتار سکتا ہے۔ انفراریڈ شعاعوں کی مدد سے جو آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ تم نے موت کا عجائب خانہ دیکھتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ زندگی کے عجائب خانے میں اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز چیزیں موجود ہیں اور مارنے والے سے بچانے والے کا ہاتھ زبردست ہے۔‘‘
شوکت نے اچانک قہقہہ لگایا۔ ’’میں نے جوا کھیلا تھا جمعہ خان! اور جوا کھیلتے وقت میرے پیشِ نظر دو ہی چیزیں تھیں۔ تخت یا تختہ…! تخت میں حاصل نہ کرسکا، تختے تک تم مجھے نہیں پہنچا سکتے۔‘‘ اس نے بڑی پھرتی سے قاتل زہر کی شیشی کھولی اور حلق میں انڈیل لی۔ سومر اور جمعہ خان کے کود کر دوسری طرف پہنچنے تک شوکت کی صرف لاش رہ گئی تھی۔ وہ دونوں کچھ دیر تک لاش پر نظریں جمائے کھڑے رہے۔
’’صفیہ ٹھیک کہتی تھی۔‘‘ جمعہ خان نے بالآخر کہا۔ ’’مجھے اس موت کے عجائب خانے کو زندہ انسانوں کی دنیا میں نہیں رکھنا چاہیے۔ حفاظت میں بھول چوک بھی تو ہوجاتی ہے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ سومر نے کہا۔ ’’میرا خیال ہے آپ واپس جائیں اور ان سب چیزوں کو ضائع کردیں۔ صبح ہونے سے پہلے ان کو سمندر میں پھینک آئیں۔ بس یہ کیمرا میرے پاس چھوڑ جائیں۔ میں پولیس کو فون کرتا ہوں۔‘‘
جمعہ خان نے پرسوچ انداز میں اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے سر کو اثباتی جنبش دی تھی۔ پھر وہ دیوار عبور کرکے سڑک کی طرف چلنے لگا جہاں اس کی گاڑی کھڑی تھی۔ اس نے صبح کا ستارہ دیکھا۔ جس کی روشنی زندگی کی علامت بن گئی تھی۔
تم نے رشی کی زندگی بچا لی۔ ایک شوخ کرن نے کہا۔ جمعہ خان مسکرایا۔ میں نے نہیں اللہ نے…!
اس نے اپنی کار اسٹارٹ کی تو چوکیدار پھر سائیکل پر اس کے سامنے سے گزرا۔ اس نے سیٹی بجا کر آواز لگائی۔ ’’جاگتے رہو…!‘‘
لیکن سونے والے سوتے رہے۔ ان میں سے ایک رشی تھی جس کو نئے سورج کے استقبال کے لیے اٹھنا تھا اور نئی زندگی کی صبح کو خوش آمدید کہنا تھا۔ موت کے خوف سے بے نیاز ہو کے امید اور عزم کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھنا تھا۔ جو اس نے سومر کی رفاقت میں شروع کیا تھا۔ جمعہ خان کو پھر اسّی لاکھ کی اس رقم کا خیال آیا جس کے بارے میں رشی نے اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ محبت کی راہ میں دیوار بن جائے گی۔ کیا دولت کبھی محبت کے مقابل دیوار بنی ہے؟ نہیں… سومر اس سے اپنی جذباتی غلطی کی معافی مانگ چکا تھا۔ شاید رشی خود بھی مجبور ہوجائے گی کہ اپنا سب کچھ سومر کے مستقبل کے حوالے کردے۔ اسے اپنا شوہر، اس کی محبت اور اس کا مستقبل کسی اور چیز سے زیادہ عزیز کیسے ہوسکتا ہے لیکن ممکن ہے سومر اب یہ دولت ہی ٹھکرا دے۔ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تو ہونا چاہیے۔
حل بہت آسان ہے۔ ستارہِ سحر خیزی نے کہا۔ سومر یہ رقم قرض لے۔ اس کی بنائی سیریلز بزنس کریں گی تو وہ اسّی لاکھ کی رقم دو تین سال میں واپس ادا کردے گا اور اس کے بعد رشی وہ اسپتال بنوا سکے گی جو اس کی خواہش کی تکمیل کردے گا۔
’’تھینک یو…‘‘ اس نے صبح کے ستارے سے کہا اور کار کی رفتار بڑھا دی۔
(ختم شد)