Zindagi Ki Shaam Hogaye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

951
ابا ایک زمیندار کے منشی تھے لیکن ان کے نزدیک بھائیوں جیسے تھے کیونکہ میرے دادا بھی زمیندار کے منشی رہے تھے۔ گویا یہ سلسلہ نسل در نسل چلا آرہا تھا۔ اسی سبب صاحب داد ابا کا بہت خیال رکھتے، ہم جب ان کے گھر جاتے۔ زمیندار کی بیوی ہمیں کھانا کھلاتیں اور پیار سے پیش آتیں۔ ان کے دکھ سکھ میں میری ماں بھی ان کی خبر گیری کے لئے دوڑی جاتی تھیں۔ زمیندار سے بہتر تعلقات کی وجہ سے ہم خوشحال تھے اور اچھا گزارہ ہو رہا تھا۔ میں نے گائوں کے پرائمری اسکول سے چار جماعتیں پاس کیں پھر تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ہمارے تمام رشتے دار غریب تھے، غریب تو ہم بھی تھے لیکن زمیندار کی عنایتوں سے غربت کے عذاب سے دورتھے۔ سال کا اناج، گرمیوں سردیوں کے لحاظ سے جوڑے اور معقول تنخواہ وہ والد کو دیا کرتے تھے۔ یہ سہولتیں ہماری زندگی میں خوشیاں لانے کے لئے کافی تھیں۔
گائوں میں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی سے ہی انسان سکھ اور سکون کی زندگی بسر کرلیتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم جیسے سفید پوشوں کے لئے، نمودونمائش کوئی معنی نہ رکھتی تھی۔ وقت گزرتا گیا اور ہم بہن بھائی خو درو پودوں کی طرح بڑھتے گئے۔ اسی اثناء میں صاحب داد کے بچے بھی جوان ہوگئے۔ ان کے بڑے بیٹے کا نام بے مثال تھا۔ بے مثال لاہور کے ایک بڑے کالج میں زیر تعلیم تھا۔ وہ کبھی کبھار چھٹیوں میں گھر آتا ۔ مجھ سے عمر میں تین چار سال بڑا تھا۔ بچپن میں ہم ساتھ کھیلتے بڑے ہوئے تھے۔ اب وہ جب گھر آتا میں اس کے ساتھ بات بھی نہیں کرتی تھی۔ گائوں میں جوان لڑکوں کے ساتھ میری عمر کی لڑکیوں کو دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ پھر مالکوں سے بات کرنے کا رواج بھی نہیں تھا۔ بے مثال بھی تو ہمارے مالک کا بیٹا تھا اور ہم ان کے ہم پلہ نہیں تھے۔
مالکن کو ہم بڑی بی بی کہتے تھے۔ وہ بہت نرم مزاج تھیں۔ ہم میں سے کوئی بیمار ہو جاتا تو یوں پریشان ہوجاتیں جیسے ہماری سگی ماں ہوں، فوراً ہمیں ڈاکٹر کے پاس بھجواتیں، علاج کے لئے رقم بھی دیتیں اور صاحب داد اپنی بیوی سے زیادہ غریبوں کا خیال رکھنے والا شخص تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بہت دیا ہوا تھا کہ دن رات دولت لٹاتے، تب بھی کم نہ ہوتی۔ اللہ کی رضا سے ایک دن صاحب داد کو بخار آگیا اور وہ اللہ کو پیارا ہوگیا۔ موت سے کسی کومفر نہیں، وہ قبر میں میٹھی نیند جا سویا۔ ابھی اس کا ولی عہد پڑھ رہا تھا۔ باقی بچے چھوٹے تھے۔ زمینوں کا انتظام سنبھالنے کے قابل نہ تھے۔ بڑی بی بی نے میرے والد پرتکیہ کرلیا۔
والد میٹرک پاس اور پرانے تجربہ کار اور ان کے نمک خوار تھے۔ انہوں نے بہت جاں فشانی سے زمینوں کا انتظام سنبھالا ہوا تھا۔ بے مثال کے تایا کبھی کبھار آتے اور عدالتی امور اگر کچھ ہوتے وہ انہیں دیکھ لیتے۔ کیونکہ میرے ابا کو کورٹ کچہری سے کچھ علاقہ نہ تھا۔
انہی دنوں امی ہمیںداغ مفارقت دے گئیں۔ ابا کو دوسری شادی کرنا پڑی۔ سوتیلی ماں لالچی قسم کی عورت تھی۔ وہ والد کو اکساتی کہ تم مالک کی فصلوں میں سے اناج وغیرہ لے آیا کرو، ان کو کیا پتا چلے گا۔ مگر ابا ایسا کرنے سے گریز کرتے تھے۔ وہ صاحب داد کی بیگم کی نظروں میں اپنی عزت گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ جو اپنے بیٹے کی تعلیم مکمل ہو جانے کا انتظار کر رہی تھیں۔
دن گزرتے گئے ایک روز پتا چلا کہ ہمارا مالک لوٹ آیا ہے۔ ابا کو کھیتوں میں کھانا دینے جارہی تھی کہ میری مڈبھیڑ بے مثال سے ہوگئی اور میں سمٹ کر ایک طرف ہوگئی، مجھے اس کا ادب کرنا لازم تھا۔ میرا ادب سے نگاہیں جھکالینا اور شرم و حیا سے سمٹ جانا، شاید بے مثال کو اچھا لگا۔ وہ میری طرف آیا اور باتیں کرنے لگا۔ اس نے میری والدہ اور بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کی، میں نے اسے بتایا کی ماں وفات پاگئی ہے۔ اب دوسری ماں آگئی ہے جو اچھی ہے اور نہ بہت بری ہے۔ میں اس کے ساتھ مل کر گھر کا کام کرتی ہوں تو وہ مجھے کچھ نہیں کہتیں، بس گزارہ کررہے ہیں۔
بے مثال کو اماں کی وفات کا دکھ ہوا، وہ بولا۔ مجھے تو کسی نے نہیں بتایا، میں نے کہا آپ کئی ماہ بعد گائوں آئے ہیں۔ یہاں تو زندگی پل بھر میں بدل جاتی ہے۔ اس نے مجھ سے تعزیت کی اور ہمدردانہ الفاظ کہے۔ وہ میرا خیال رکھنے لگا جب ان کے گھر جاتی، کچھ نہ کچھ دے کر کہتا یہ اپنی ماں کو دے دینا، وہ خوش ہوگی۔ سوتیلی ماں یہ چیزیں لے کر واقعی خوش ہوتی۔ روز ہی مجھے ان کے گھر بھیجنے لگی۔ جب میں بڑی بی بی کے کچھ کام کاج نمٹا کر گھر لوٹتی بے مثال میرے ہمراہ باہر آجاتا اور ساتھ ساتھ چلنے لگتا۔ کبھی کبھی ہم باتیں کرتے ابا کے سامنے پہنچ جاتے۔ کئی بار ایسا ہوا مگر ابا نے کچھ نہ کہا۔ نہ ہی مجھے اس کے ساتھ چلنے یا باتیں کرنے سے منع کیا۔
ماں البتہ کرید کرید کر ہر بات پوچھتی۔ بے مثال کے بارے میںسوال کرتی مثلاً تم سے کیا باتیں کرتا ہے، جب تم لوگ باتیں کرتے ہو تو بڑی بی بی، تم لوگوں کو کن نظروں سے دیکھتی ہے؟ مجھے ان باتوں کی سمجھ نہ تھی۔ ہر بات سوتیلی ماں کو بتادیتی۔ بے مثال کبھی کبھی ہمارے گھر بھی آجاتا۔ صحن میں چارپائی پر بیٹھ کر ابا سے باتیں کرنے لگتا۔ یہ چھوٹا سا کچا مکان ان کے دادا نےہی ہمیں اپنی زمین پر بنوا کردیا تھا۔ ہم برسوں سے یہاں رہتےتھے۔ میری یہ سوتیلی ماں دوسرے گائوں کی تھی، تبھی اسے کچھ باتیں پتا تھیں اور کچھ پتا نہیں تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں بڑی بی بی کے گھر جائوں اور وہاں سے پھل فروٹ، شیمپو، صابن اسی قسم کی اشیاء لے کر آئوں جو میں ان کودے دیا کرتی تھی۔
بےمثال کو اس بات کا افسوس تھا کہ میرے والدین نے مجھے پڑھنے نہیں دیا تھا، جبکہ ہمارے گائوں میں میٹرک تک اسکول تھا۔ ماں کہتی تھی کہ غریبوں کے بچے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرتے، ورنہ وہ کھیتی باڑی کے کام سے جی چرانے لگتےہیں۔ چار جماعتیں پڑھ کر مجھے تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا آگیا تھا۔ بے مثال کے دل میں کیا ہے، شاید میرے ابا جان چکے تھے۔ تبھی جب وہ آتا والد کی خوشی دیدنی ہوتی، حتی المقدور اس کی خاطر تواضع میں لگ جاتے اور ایسے بے قرار نظر آتے جیسے انہیں کسی ایسی بات کے ہونےکا انتظار ہو جو، انہونی لگتی۔ بالاخر ایک دن بے مثال نے وہ بات کہہ دی جس کا شاید میری ماں اور باپ دونوں کو انتظار تھا۔ وہ مجھ سے شادی کا آرزومند تھا۔ ابا نے کہا۔ بیٹے بےمثال… مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن تمہاری والدہ نہ مانیں تو؟ وہ مان جائیں بھی تو تمہارے خاندان والے ہرگز میری بیٹی کو قبول نہیں کریں گے۔
زمانہ بدل گیا ہے چاچا… آپ کی بہت خدمات ہیں۔ اب بھی زمین کے معاملات آپ سنبھال رہے ہیں۔ والدہ کو منانا میرا کام ہے اور خاندان والوں کی مجھے پروا نہیں۔ میں تعلیم یافتہ، خودمختار ہوں، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میں امیری غریبی کے فرق کا بھی قائل نہیں ہوں۔ دراصل وہ شادی کرکے مجھے اپنے ساتھ شہر لے جانا چاہتا تھا۔ اسی دوران بڑی بی بی بیمار پڑگئیں۔ وہ شوگر کی مریض تھیں۔ بلڈ پریشر بھی ہوگیا۔ ایک دن ان پر فالج کا حملہ ہوگیا۔ میں ان کی خدمت پر مامور ہوگئی۔ رفتہ رفتہ وہ ٹھیک ہوگئیں، مگر ٹانگوں سے معذور ہوگئیں۔ وہ اب وہیل چیئر پر رہتیں، چل پھر نہیں سکتی تھیں۔
میں نے جس توجہ سے ان کی خدمت کی، ان کا دل جیت لیا۔ وہ تبھی اپنے بیٹے کی آرزو کو رد نہ کرسکیں اور شادی کی اجازت دے دی۔ پہلے بیٹے کی شادی تھی، دھوم دھام سے نہ کرسکیں، خود اپنی معذوری اور شوہر کے وفات پاجانے کی وجہ سے سادگی سے نکاح کرادیا۔ اس کے بعد میری سوتیلی ماں نے ان کی خدمت کا فریضہ اپنے ذمے لے لیا تو انہوں نے مجھے اپنے بیٹے کے ہمراہ شہر بھجوادیا۔
شہر میں ان کا بنگلہ تھا۔ جس میں نوکر چاکر رہتے تھے۔ میرے آجانے سے وہ آباد ہوگیا اور میں بے مثال کے ساتھ رہنے لگی۔ ساس یہی چاہتی تھیں کہ میں زیادہ تر شہر میں رہوں تاکہ لوگ باتیں نہ بنائیں، جب تک کہ خاندان کے لوگ میری بے مثال سے شادی کو قبول نہ کرلیں۔ بے مثال مجھےپاکر بہت خوش تھے۔ خوب سیروتفریح کرائی۔ بیرون ملک بھی لے گئے۔ ہم دونوں میاں بیوی میں پیار بے مثال تھا۔ کہتے تھے کہ بچپن میں مجھے تم اچھی لگتی تھیں، تبھی سے سو چا تھا کہ تم سے شادی کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کہ اس نے ہمیں ملادیا۔ سوچا کرتا تھا کہ یہ آسان نہیں ہوگا۔ والد نہ مانیں گے، مگر وقت نے ہمیں ملانا تھا سو ملادیا۔ اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جدا نہیں کرسکتی۔ ایسا کہتے ہوئے شاید انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ بڑا بول نہیں بولنا چاہئے۔
ہماری شادی کو چھ ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ ایک روز ابا کا خط آیا کہ تمہاری چھوٹی بہن کی شادی ہے، اس کی رخصتی کے لئے رقم درکار ہے، اگر تم کچھ مدد کرسکوتو عزت سے رخصتی ہو جائے گی۔ خط ڈاکئے سے بے مثال نے وصول کیا۔ کھول کر پڑھا، دراصل اس خط کے لکھنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اسے میرا شوہر پڑھ لے۔ ظاہر بات ہے کہ خط پڑھنے کے بعد یقیناً وہ ابا کی مدد سے انکار نہ کرتے۔
ایسا ہی ہوا انہوں نے ابا کو کافی رقم بھجوائی تاکہ بآسانی بیٹی کا جہیز بناسکیں اور شادی کے اخراجات بھی بہ حسن و خوبی ادا کرسکیں۔ میں نے شہر سے اپنی بہن کے لئے خوب شاپنگ کی۔ یہ شاپنگ خود بے مثال نے اصرار کرکے کروائی تاکہ میرے غریب باپ کی عزت بڑھے اور کوئی کمی نہ رہ جائے۔ مقررہ وقت پر شادی بہ خیرو خوبی انجام پاگئی۔ ابا بہت خوش تھے بلکہ خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے کہ غریب رشتے داروں میں ان کی پگڑی اونچی ہوگئی تھی۔
بہن کی شادی کے چھ ماہ بعد ایک روز فائزہ کا خط ملا۔ لکھا تھا ’’سسرال میں بہت عزت ہوئی ہے سبھی میرا جہیز دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ شوہر نے سب کو بتایا کہ جو فائزہ سامان لائی ہے وہ ان کے بہنوئی بے مثال نے بنا کر دیا ہے۔ تمہارا نام تو ویسے ہی اللہ نے اونچا کردیا ہے لیکن میرا نصیب ویسا نہیں ہے۔ میاں غریب اور بے روزگار ہے، اگر فاضل کو چھوٹا موٹا کاروبار کرنے کے لئے رقم کا بندوبست کرا دو تو میری زندگی سدھر جائے گی۔ ورنہ تمام عمر سسک سسک کر غربت میں گزرے گی۔ اس بار بھی خط میرے جیون ساتھی نے وصول کیا اور پھر مجھے بتائے بغیر انہوں نے میری بہن فائزہ کے شوہر کو کاروبار کروانے کے لئے اچھی خاصی رقم ابا کو بھجوادی۔
یہ بات انہوں نے مجھے نہ بتائی۔ اس کے بعد سوتیلی ماں کی طرف سے خط پہنچا۔ لکھا تھا۔ پیاری بیٹی علاج کے لئے رقم درکار ہے، بہت پریشان ہوں، تمہارے ابا تو شرم سے نہیں مانگ رہے۔ سوچا خود ہی تمہیں خط لکھوا کر بھیج دوں۔ یقین ہےکہ مایوس نہ کروگی۔
بے مثال کسی کام سے قریبی شہر گئے تھے۔ نوکر نے خط مجھے لاکر دیا۔ میں نے سوتیلی ماں کا خط شوہر کو دکھانا مناسب نہ سمجھا اور ایک پڑوسن کے ذریعے رقم بذریعہ منی آرڈر انہیں بھجوادی، یہ سوچ کر کہ بے مثال کو میرے میکے والوں کی طرف سے کہیں یہ آئے دن کے مطالبے ناگوار نہ گزرنے لگیں۔
بے مثال نے نئی کوٹھی خریدی تھی۔ خوشی خوشی اسے سجانے میں لگے تھے کہ ایک روز اچانک بہن بہنوئی اور سوتیلی والدہ آگئے۔ بے مثال نے ان کو بہت عزت دی، آئو بھگت میں کمی نہ کی۔ میں بھی خوش ہوگئی کہ اتنی دور ہم سے ملنے آئے ہیں۔ شام کو فائزہ نے بتایا کہ میرے خاوند کو کاروبار میں گھاٹا آگیا ہے، اگر کچھ سرمایہ اور نہ لگایا تو رہا سہا روپیہ بھی ڈوب جائے گا اور پھر میں مفلسی کے اندھیروں میں گم ہو جائوں گی۔
میںپریشان ہوگئی ہکا بکا بہن کی صورت تکنے لگی، بے مثال کے پاس بے شک پیسے کی کمی نہ تھی لیکن ہر وقت اس طرح میکے والوں کے لئے رقوم کا مطالبہ کرنا مجھے گوارا نہ تھا۔ سوچتی تھی ان کی نظروں میں تو گروں گی ہی، کہیں اپنی نظروں میں نہ گر جائوں… لیکن ان لوگوں کے تو جیسے حوصلے بلند ہوگئے تھے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بے مثال کیا خیال کریں گے ، مطالبے پر مطالبے کرتے جاتے تھے۔ بہن سے کہا۔ فائزہ کچھ دن صبر کرو… مجھے بے مثال کے سامنے تم لوگوں کے لئے ہاتھ پھیلانے سے لحاظ آتا ہے۔ ابھی تم تھوڑا انتظار کرو۔ موقع دیکھ کر بات کروں گی مگر یہ تو آئے ہی اسی غرض سے تھے۔ خالی دامن کیسے جاتے، خود میرے بہنوئی نے یہ بات بے مثال سے کردی۔ انہوں نے کاروبار کا پوچھا تو کچھ بتا نہ سکے۔ کاروبار کیا ہوتا تو بتاتے، نجانے اتنا روپیہ کہاں گم کردیا تھا۔ تبھی والدہ نے موقع کی نزاکت کو بھانپ کر بات بنادی کہ بے مثال بیٹے، روپیہ دینے کی بجائے فائزہ کے شوہر کو دبئی کا ویزا لے دو اورٹکٹ وغیرہ کا بندوبست کردو۔ فاضل کو وہاں سیٹ ہونے کا موقع مل گیا تو فائزہ سکھی ہو جائے گی۔
میرے شوہر نے اپنے ایک دوست کو دبئی فون کیا، فاضل کے لئے بات کی، پھر ویزا خرید کر اس کو دبئی بھجوادیا۔ نوکری کا بندوبست بھی کرادیا۔ ابھی فاضل کو گئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے تھے کہ ابا کا سندیسہ آگیا۔ تمہاری ماں شدید بیمار ہے، اسے اسپتال میں داخل کرانا ہے، آپریشن کا بتایا ہے ، اب تم ہی کچھ کرسکتی ہو۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گئی یا اللہ کیا کروں یہ تو مجھے سکھ کا سانس لینے نہیں دے رہے۔ ضرور ایک روز بے مثال مجھ سے بدظن ہوجائیں گے، تب کیا کروں گی۔ آخر پہلے بھی تو یہ ان حالات میں گزارہ کررہے تھے، حیرت یہ تھی کہ ابا لالچی نہ تھے، ان کی طبیعت میں غیرت و حمیت تھی، کسی سے کبھی کچھ نہ لیا تھا مگر اب وہ بھی سوتیلی ماں کے رنگ میں رنگ گئے تھے۔
میں نے کسی کو کچھ نہ بتایا خاموشی اختیار کرلی، تب ابا خود آگئے۔ بولے۔ تمہیں یقین نہیں ہے تمہاری ماں کو لے آتا ہوں خود اسے اسپتال میں داخل کرائو اور علاج کروادو۔ اسے ڈاکٹر نے گردے میں پتھری بتائی ہے۔ میں نے اپنے زیورات کا ایک سیٹ انہیں دے دیا اور کہا کہ بے مثال کو یاد نہیں رہتا، میرے پاس کتنے زیورات ہیں، وہ اکثر کوئی نہ کوئی اپنی پسند کا زیور لے آتے ہیں۔ آپ یہ لے جائیے اور اپنی بیوی کا علاج کروائیے۔ بے مثال نے پوچھا بھی تو کوئی بہانہ کردوں گی کہ زیور کہیں الماری میں پڑا ہے مل نہیں رہا ہے،ا ٓپ کی مشکل تو آسان ہو، میری خیر ہے۔
ابا چلے گئے اور میں سوچتی رہ گئی یہ کیسے میرے عزیز ہیں کہ یک دم اپنا وقت بھول گئے ہیں۔ ابھی ابا کو گئے تھوڑے دن ہوئے تھے کہ سوتیلا ماموں آگیا۔ میں نے سوچا کہ اپنے رشتے کی وجہ سے یہ کچھ نہ مانگیں گے، انہیں مہمان خانے میں ٹھہرادیا۔ کھانا وغیرہ کھلایا، شام کو جانے کو ہوئے تو کہا کہ بہت مشکل میں ہوں، کچھ رقم چاہئےتھی۔ قرض مانگ رہا ہوں جلد لوٹا دوں گا۔ اشد ضرورت پڑنے پر آیا ہوں ورنہ یوں اتنی دور کون آتا ہے۔ میرا سر چکرانے لگا۔ انہیں کیا جواب دوں؟ ظاہر ہے ماں نے انہیں سکھا پڑھا کر بھیجا تھا، میں اس قدر اداس ہوگئی کہ کھانا بھی نہ کھایا گیا۔ سوچنے لگی اگر میری شادی اپنے جیسوں میں ہوتی تب کیا یہ روز آکر مجھے اس طرح تنگ کرتے۔ یہ لوگ تو روپوں کی خاطر میری عزت خاک میں ملانے پر تلے تھے، میرا گھر برباد کرنے کے درپے تھے۔
رات کو جب مجھے اداس دیکھا تو بے مثال نے اپنی قسم دے کر کہا کہ وجہ بتادو کیوں افسردہ ہو۔ مجھے بتانا پڑا کہ ماموں روپے مانگنے آئے ہیں۔ قرضے کے طور پر کہتے ہیں تمہارا بڑا احسان ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ انہیں میری سوتیلی ماں نے بھیجا ہے۔ آپ ہرگز انہیں کچھ مت دینا۔ بولے۔ مجھے معلوم ہے، مگر تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ایسے کئی مطالبے مجھ تک پہلے بھی آئے ہیں اور میں نے کبھی ان لوگوں کا سوال رد نہیں کیا، البتہ تمہیں نہیں بتایا، کہیں تم پریشان نہ ہوجائو۔
شرم سے پانی پانی ہوگئی اے کاش میری ان سے شادی نہ ہوئی ہوتی۔ میرے رشتے دار تو آپے سے باہر نہ ہوتے۔ بے مثال نے کہا۔ اس بار تو تمہارے ماموں کو رقم دیئے دیتا ہوں مگر کب تک ان کا منہ بھروں گا، ایسا کرو کہ تم ان لوگوں سے ملنا چھوڑ دو۔ ان کی بات سن کر میں سکتے میں آگئی۔ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، میرے عزیزوں کی ضروریات بڑھتی جارہی تھیں اور ان کے مطالبات ہزاروں میں تھے۔ ماموں کے جانے کے بعد میں نے سوتیلی ماں کو کہلوادیا کہ اب کوئی ہمارے گھر پیسوں کی خاطر نہ آئے، ورنہ میری آپ لوگوں سے رشتے داری ختم ہو جائے گی۔
سوتیلی ماں نے ابا کو خوب بھڑکایا، کچھ دنوں بعد وہ مجھے لینے آگئے۔ کہا کہ تمہارا چھوٹا بھائی درخت سے گر پڑا تھا، حالت خراب ہے، میرے ساتھ چلو، تکلیف میں یاد کرتا رہتا ہے۔ مجھےچھوٹے بھائی سے بہت پیار تھا۔ میکے جانے کی اجازت مانگی۔ بادل نخواستہ انہوں نے اجازت دی کیونکہ جب سے میری شادی ہوئی تھی ابا پہلی بار لینے آئے تھے۔ میکے آئی تو بھائی ٹھیک ٹھاک تھا۔ جامن کے درخت کی ٹہنی سے لٹک گیا اور وہ ٹوٹ گئی مگر چوٹ معمولی سی آئی تھی۔ بھاگ دوڑ رہا تھا۔ سوتیلی ماں نے والد کو اکسایا تھا، بہانے سے بلوایا پھر سبھی اس طرح کی باتیں کرنے لگے کہ یہ لوگ مربوں کے مالک ہیں، کروڑوں کی جائداد ہے۔ کیا ہوا جو تھوڑا سا روپیہ تمہارے ضرورت مند رشتہ داروں کو انتہائی ضرورت پڑنے پر دے دیا ہے۔ ہمارا بھی حق بنتا ہے۔ ہم نے پالا پوسا، تمہیں پروان چڑھایا۔ دکھ سکھ میں تم سے نہ کہیں گے تو کس سے کہیں گے۔
دن رات اس قسم کی باتیں سن کر میں بھی سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ واقعی یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ غریب رشتے داروں کا بھی حق ہوتا ہے ضرورت مند ہیں۔ بے مثال مجھ سے پیار کا اتنا دعویٰ کرتےہیں اور ذرا سی امداد دے کر کس قدر کم ظرفی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ پندرہ دن گزر گئے اپنے گھر کی یاد ستانے لگی۔ میں نے والد سے کہا کہ اب میں واپس جانا چاہتی ہوں اپنے شوہر کے پاس، مجھے گھر چھوڑ آئیے۔ کہنے لگے۔ ابھی ذرا ٹھہرو، شوہر کو اپنی قدر کا احساس دلوائو۔ اگر تم سے پیار کرتا ہے تو خود آئے گا۔ میں نے کہا۔ تو پھر مجھے بڑی بی بی کے پاس چھوڑ آئیں۔ ماں بولی۔ میںتو روز ہی ان کے پاس جاتی ہوں۔ انہیں بتایا ہے کہ تم آئی ہو۔ انہوں نے نہیں کہا کہ عافیہ ہمارے گھر آجائے۔بن بلائے جائوگی تو اپنی توقیر گھٹائوں گی۔
ماں آپ کیسی باتیں کرتی ہیں وہ میری ساس ہیں ان کے پاس ازخود جانا میرا فرض بنتا ہے۔ بلائیں یا نہ بلائیں وہ گھر بھی بے مثال کا ہے مجھے وہاں جانا چاہئے۔ کہنے لگیں۔ آج کل ان کے کچھ رشتے دار آئے ہوئے ہیں۔ میں کل جاکر بڑی بی بی سے کہوں گی کہ تم وہاں آنا چاہتی ہو۔ اگر انہوں نے اجازت دی تو تمہیں میں خود لے کر جائوں گی۔ ایک دن صبر کرلو۔ مجھے ان کا کہا مانتے ہی بنی۔
اگلے روز وہ وہاںگئیں اور آکر کہا کہ بڑی بی بی نے کہا ہے ابھی عافیہ نہ آئے ورنہ رشتے دار جھگڑا کریں گے کیونکہ ان کی بیٹی جو بے مثال کی منگیتر تھی وہ ہم نے نہیں لی۔ وہ بہت قریبی رشتے دار ہیں۔ بیٹی تم چلی گئیں تو تمہارا گھر خراب ہو جائے گا۔ ماں نے جھوٹ کہا تھا اور میں نے سچ جانا ادھرساس منتظر تھیں کہ میں جائوں گی ان کے پاس۔ ادھر بے مثال کو توقع تھی کہ میںان کی والدہ کی عیادت کےلئے ضرور گھر جائوں گی۔ انہیںیہ غلط فہمی کہ میں خود نہیں جارہی اور مجھے یہ باور کرایا گیا کہ وہ منع کررہی ہیں گھر مت جانا۔ اسی غلط فہمی میں یہ نہ سوچا کہ میں ساس اور شوہر کی نظروں میں خود کو کتنا گرا رہی ہوں۔
سچ ہے بڑے لوگوں کا دل جلد آتا ہے تو جلد بھر بھی جاتا ہے۔ میں میکے والوں کے اکسانے پر غرور میں آگئی تھی کہ اگر مجھ سے محبت ہے تو بے مثال مجھے لینے خود آئیں ، انہیں وہاں تنہائی میں سوچنے کا موقع ملا کہ بے اوقات لوگوںسے رشتہ کیوں کیا، جو اب بیوی بھی میکے جاکر اکڑ دکھا رہی ہے، کہتے تھے۔ میں نے اس کے لئے کیا نہیں کیا۔ یہ میکے والوں کی باتوں میں آگئی۔ میری عزت رکھ لیتی۔ ساس سے بھی ملنے نہ گئی تو انہوں نے بیٹے کو کہلوادیا کہ عافیہ اور ان کے گھر والے اپنی اوقات بھول گئے ہیں، تمہاری خوشی پوری کرنے کی خاطر تمہاری پھوپی کو ناراض کیا اور ان کی بیٹی کا رشتہ نہیں لیا۔ برادری الگ ناراض ہے۔ بہتر ہے کہ ان لوگوں سے ناتا ختم کرلو۔
ماں کے حکم کے آگے بے مثال بے بس ہوگئے یا خود ان کا دل مجھ سے بھرچکا تھا، مجھے ہمیشہ کے لئے خود سے دور کرلیا۔ یوں نادانی میں، میں نے اپنی جنت کو گنوادیا۔ آج بھی جب اپنے گھر کی یاد آتی ہے، دل خون کے آنسو روتا ہے۔ حق مہر میں جو اراضی انہوں نے لکھ کر دی تھی اس کا قبضہ میرے والد کے ذریعے مجھے دے دیا، جس کی پیداوار پر میرے میکے کا سارا کنبہ چین کے دن بسر کرتا ہے مگر میں اپنے پیارے محبوب کی جدائی میں انگاروں بھرے بستر پر کروٹیں بدلتی تھی، یونہی زندگی کی شام ہوجائے گی۔ (ع… قصور)