Monday, May 20, 2024

Zindagi Saza Hogaye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سارا فساد میری اچھی صورت کی وجہ سے تھا۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے ، جس نے ڈالی بری نظر ڈالی۔ تاہم بری نظر ڈالنے والوں کی آنکھوں میں ریت جھونکنے کا حوصلہ بھی رکھتی تھی۔ بچپن گائوں کی گلیوں میں کھیلتے گزرا ، ذرا بڑی ہوئی تو نہر تک جانا محال ہوگیا ۔ سیدھے منہ کسی سے بات نہ کرتی،تبھی گائوں میں مغرور مشہور ہوگئی۔
لڑکے میری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے ڈرتے تھے۔ جانتے تھے کوئی ایسی ویسی بات کہی تو کھینچ کر جوتا مار دوں گی۔ گائوں میں لڑکے مجھے نیلم پری کہتے۔ میری آنکھیں نیلی ، رنگت گلابی اور بال سنہری تھے۔ بے شک یہ سارے بھنورے مجھ نوخیز کلی کے گرد منڈلاتے ضرور تھے مگر میں ان سے بے نیاز اپنا جیون جی رہی تھی۔ اچانک میرے غرور کو شکست دینے والا دلیر نوجوان مجھ سے ٹکرا گیا۔
یہ سانولا سلونا سانول تھا۔ نہر کنارے پانی بھرتے ہوئے آمنا سامنا ہوا ۔دو چار جملوں کی تکرار کے بعد نجانے کیا ہوا کہ اس کا پیار میری زندگی پر ایسے چھا گیا جیسے پیاسی دھرتی پر بادلوں کے پرے چھا جاتے ہیں۔
ان دنوں والدین کو میرے بیاہ کی فکر کھائے جارہی تھی اور میں تھی کہ کسی نوجوان کو خاطر میں نہ لاتی تھی۔ سانول نے جب میرے لئے رشتے کا پیغام بھجوایا تو میں خوشی سے کھل اٹھی۔ ماں باپ کی لاڈلی تھی اور وہ مجھے ہمیشہ خوش دیکھنے کے آرزومند تھے۔ سانول میں کوئی کمی نہ تھی۔ انہوں نے رشتہ قبول کرلیا تو رشتے داروں کی امیدوں پر اوس پڑگئی۔
سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ پرانے رسم و رواج کے اسیر اس معاشرے میں مجھے میری پسند کا جیون ساتھی مل جائے گا۔ واقعی میں یہاں پر اس صدی کی خوش قسمت ترین لڑکی تھی حالانکہ میرے چچائوں نے بہت شور مچایا کہ ہماری سمی کیا لاوارث ہے جو بغیر وٹے سٹے ، مفت میں لڑکی کا رشتہ دے دیا، مگر ابا نے کسی کی نہ سنی۔ ان کو اندازہ تھا کہ اگر میں خوش رہ سکتی ہوں تو صرف سانول کے ساتھ ، لہٰذا انہوں نے کسی قسم کی مصلحت یا سودے بازی سے کام نہیں لیا اور سانول کو میری زندگی کا مالک بنادیا۔ ہم دونوں کی زندگی پیار کے پھولوں سے مہک رہی تھی۔ ہمارے سنجوگ پر ہر کوئی رشک کرتا تھا۔ میں اس پر فدا ،تووہ مجھ پر جان نثار کرتا تھا۔ ہم دونوں کے درمیان اتنا پیار تھا کہ ایک دوسرے کےبغیر کھانا نہ کھاتے تھے۔ زندگی کی گاڑی یونہی رواں دواں تھی۔ اچانک کسی دشمن نے سانول پر جھوٹا کیس بنوا کر اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا۔
ہوا یوں کہ ہمارے گائوں میں کسی کا قتل ہوگیا۔ ورثا کو سانول سے پرخاش تھی ۔حالانکہ اس کا اس قتل سے کوئی تعلق نہ تھا، لیکن مخالفوں نے محض سانول کو پھنسوانے کے لئے ایف آئی آر میں اصل ملزموں کے ساتھ سانول کا بھی نام لکھوادیا۔
میرے سرتاج کو پولیس والے گرفتار کرکے لے گئے۔ میری دنیا اندھیر ہوگئی۔ یوں حالات کی ستم ظریفی نے ہم دونوں کو جدا کردیا۔ چند دن تو میری کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ کیا کروں بالآخر اپنے گہنے فروخت کرکے دلاور کے پاس گئی کہ یہ پیسے لے لو اور میرے شوہر کو جیل سے آزاد کرانے کے لئے کچھ کرو۔ دلاور میرے والد کے کزن کا بیٹا تھا اور پولیس سب انسپکٹرتھا۔ اس نے تسلی دی کہ فکر مت کرو، میں تمہاری ہر طرح سے مدد کروں گا۔ جانتا ہوں سانول بے گناہ ہے۔ اس رقم سے وکیل کرتا ہوں اور تمہاری سانول سے ملاقات بھی کراتا ہوں۔ تم بے فکر ہوجائو۔ اب سارا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔
والد نے بھی دلاور پر بھروسہ کرلیا اور ہم نے اس کیس کے تمام معاملات اس کو سونپ دیئے۔ وہ کیس کی پیروی میں ہماری مدد کرنے لگا مگر دلاور کو سزا ہوگئی۔ اس کو وہاں ضرورت کی تمام اشیاء پہنچانے کا ذمہ دلاور نے لے لیا اور وہ جیل میں ہماری ملاقات بھی سانول سے کرانے لگا تھا ۔میرے لئے اس کے سوا کوئی امید کی کرن نہ رہی تھی۔ کچہری کے چکروں کا متحمل میرا بوڑھا باپ ہرگز نہ ہوسکتا تھا۔ میں نے دلاور پر ہر معاملے میں تکیہ کرلیا۔ یہاں تک کہ اب وہ روز میرے گھر آنے لگا۔ میرے تمام گھریلو کام کرتا اور ہر طرح سے میری مدد کرتا تھا۔
میں اپنے گھر میں اکیلی رہتی تھی ۔ ایک بوڑھی ساس تھی جو بیٹے کے جیل جانے کے بعد اپنی شادی شدہ بیٹی کے پاس چلی گئی تھی۔ میری بھابی بڑی شاطر عورت تھی۔ وہ میکے میں دو دن بھی میرا رہنا برداشت نہیں کرتی تھی۔ ایسے میں دلاور نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تو سانول کی اسیری کے دنوں میں مجھے لگا میں لاچار نہیں ہوں۔ کوئی محافظ ہے اور مضبوط سہارا ہے۔
زندگی کے یہ دن پل پل گن کر سانول کی یاد میں کاٹ رہی تھی اس امید پر کہ کبھی تو سزا ختم ہوگی اور وہ لوٹ کر گھر آجائے گا۔ پھرسے خوشی کے زمانے شروع ہوں گے اور میری حیات کے اندھیرے ختم ہو جائیں گے۔ سانول بھی مجھ سے ملنے کا تصور لئے جیل کی کال کوٹھڑی میں سزا کے دن پورے کررہا تھا۔
سانول ہی نہیں ،میں بھی تنہائی کا شدید کرب سہنے پر مجبور تھی۔ ایسے میں کسی کی بری نگاہوں کے تیوروں کو کیسے نہ محسوس کرتی کہ ان دنوں بے حد حساس ہورہی تھی۔ جب دلاور آتا تو وہ مجھے میلی نظروں سے دیکھتا ۔وحشت ہونے لگتی۔ جی چاہتا کہ یہ ابھی اسی وقت میرے گھر سے چلا جائے۔ منہ سے کہنے کا یارا نہ تھا کہ اگر ایسا کہہ دیتی تو سانول سے جیل میں ملاقات کیسے کرتی۔ وہی سارے معاملات دیکھ رہا تھا اور میری ملاقات میرے محبوب شوہر سے کرانے میں پل کا کردار ادا کرتا تھا۔
ایک بھیگی شام میری ساس کو بخار تھا وہ اپنے کمرے میں بےسدھ پڑی تھی۔ درپر دستک ہوئی۔میں یہ دستک پہچانتی تھی۔ یہ دلاور کا مخصوص انداز تھا۔ جی چاہا در نہ کھولوں مگر در کھولنا بھی ایک مجبوری تھی ۔جانے وہ سانول کے بارےمیں کیسی خبر لایا تھا۔ جونہی در کھولا وہ بے دھڑک اندر آگیا۔ کہنے لگا۔ تمہارے لئے خوشخبری لایا ہو نیلم پری۔ تمہارے شوہر کی رہائی کے دن قریب ہیں چند دنوں میں وہ گھر آجائے گا۔
یہ خبر ایسی تھی کہ میں خوشی میں مدہوش سی ہوگئی۔ دھیان ہی نہ رہاکہ دلاور کی لال بھبھوکا آنکھیں کیا پیغام دے رہی ہیں ۔ اس نے یقیناً کوئی نشہ کر رکھا تھا، تبھی کاغذ مجھے دکھانے کے بہانے اس کے غلط ارادے میرے ضبط کے ساحل سے کسی طوفان کی طرح آ ٹکرائے۔ میں گھبرا کر دور ہٹ گئی اور غصے سے کہا۔ جانتے ہو کہ میں صرف دو جماعت پڑھی ہوں، پھر یہ کاغذات مجھے کیوں دکھارہے ہو؟ جو اس میں لکھا ہے پڑھ کر سنادو اور مجھ سے دور رہو… لگتا ہے تم نے نشہ کر رکھا ہے۔
اس پر میری ڈانٹ کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میری طرف دو قدم اور آگے بڑھا تو میں نے اسے دھکا دے دیا۔ ہوش کرو، میں تمہارے دوست کی بیوی ہوں۔ اگر تم نے کوئی اخلاق سے گری حرکت کی تو سوچو کل جب سانول رہا ہو کر گھر آئے گا توتم اسے کیا منہ دکھائوگے؟
دلاور آج اپنے حواسوں میں نہ تھا ۔وہ دو قدم مزید آگے بڑھا اور بولا۔ وہ آئے گا تو ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔ اس کے فرشتوں کو بھی پتا نہ چلے گا۔ اس سے پہلے کہ کچھ اور خرافات دلاور کے منہ سے نکلتی،میں آپے سے باہر ہوگئی اور اس کے منہ پر زور کا تھپڑ کھینچ مارا۔ تمہیں شرم آنی چاہئے، میں تیری بہن جیسی ہوں، چل نکل میرے گھر سے۔ ساتھ ہی میں نے گندم کوٹنے والا موسل اٹھالیا اور اس کے سر پر مارنے کو دوڑی۔
میرے ایسے سخت ردعمل کی شاید اسے امید نہ تھی ۔ وہ ڈر گیا اور دروازے کی طرف لپکا یہ کہتے ہوئے۔ تجھے یہ تھپڑ بہت مہنگا پڑے گا نیلم پری یاد رکھنا۔ تھپڑ کھانے کے بعد وہ ایک زخمی ناگ کی طرح بل کھاتا ہوا میرے گھر سے نکلا تھا۔ مجھے امیدنہ تھی کہ میں جسے سگے بھائی کی طرح سمجھتی ہوں
میرے بھروسے کو تار تار کردے گا۔ اس کو بھی امید نہ تھی کہ میں اس کے تمام احسانات بھلا کر اس طرح اس کی بےعزتی کروں گی۔
پندرہ روز بعد سانول رہا ہو کر گھر آگیا لیکن دلاور نے جس طرح مجھے دکھ پہنچایا تھا ابھی تک اس افسردگی کی دھند سے نہ نکل سکی تھی۔ سخت افسردہ اور ٹوٹی ہوئی تھی۔ سانول کو یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ اس کے استقبال کے لئے میں والہانہ اس کی طرف نہیں بڑھی بلکہ بے جان مورت کی طرح چولہے کے پاس بیٹھی اس کو حیران نگاہوں سے تک رہی تھی۔
جیل سے رہا ہونے کے بعد سانول کو میری صورت اس طرح تصور میں آنے لگی تھی جیسے اندھیروں میں کوئی روشنی چمکتی ہے۔ وہ بے قرار ہو کر گھر کی طرف بھاگا تھا ۔جونہی دہلیز پار کی تو دیکھا اس کی بیوی چولہے کے پاس بیٹھی آٹا گوندھ رہی ہے۔ اس نے آواز دی۔ دیکھو ادھر نیلم میں آگیا ہوں۔میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جیسے پہچان رہی ہوں کہ یہ کون ہے جو اس طرح بے دھڑک آگیا ہے۔میں دوڑ کر اس کی جانب نہیں لپکی اور نہ اس کا والہانہ استقبال کیا۔
وہ جہاںتھا قدم وہیں ٹھٹھک گئے۔ اسے لگا جیسے میں نے اسے پہچانا نہیں ہے یا اچانک اتنی مدت بعد دیکھ کر یقین نہیں کررہی کہ رہا ہو کر آچکا ہے۔ تبھی کہنے لگا۔ نیلم … کیا ہوا ہے ،کیا مجھے پہچان نہیں رہی ہو؟ میں ہوں تمہارا سانول ۔ اس نے اپنی داڑھی کو کچھ اس طرح سے چھوا جیسے کہ شاید حلیہ بدل جانے سے میں پہلی نظر میں اس کو سانول نہیں سمجھ رہی ہوں۔
یہ کیونکر ممکن تھا کہ میں سانول کو نہ پہنچانتی مگر دکھ تو یہی تھا کہ پہچان کر بھی نہ پہچان رہی تھی۔ خوشی کے موقع پر چہرے پہ غم کے سائے لہرا رہے تھے اور آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ وہ تڑپ کر بولا۔کس نے دکھی کیا ہے تجھے ۔میری جان کی قسم ہے بتادے ۔میں ابھی اس کی گردن تن سے جدا کردوں گا۔
اس کا ایسا کہنا تھا کہ میں واقعی دکھ سے پھپھک پڑی۔ اتنی مدت کی جدائی رہی تھی۔ ایک ایک لمحےکے فراق کا درد یاد آگیا تھا۔ سانول نے آگے بڑھ کر پیار سے گلے لگالیا۔ آہستگی سے بولا۔ سچ بتادے کس نے ستایا ہے تجھے کہ مجھ سے ملنے پر بھی تجھے خوشی نہیں ہوئی ہے۔ اپنا دکھ تو نے دلاور سے کیوں نہ کہا ۔وہ تیرا پورا خیال رکھ رہا تھا۔ میں نے تاکید کی تھی اسے کہ نیلم پری کی حفاظت کا ذمہ تیرا ہے۔ وہ میری امانت ہے اور تونے اس کا اچھی طرح خیال رکھنا ہے۔ روز میری بیوی کی خبر گیری کو گھر بھی جانا ہے تاکہ اسے کوئی پریشانی نہ ہو۔ ہاں خوب خیال رکھا ہے اس نے ۔پندرہ دن پہلے آیا تھا میرے سر سے آنچل کھینچنے۔ یہ کہہ کر میں رونے لگی۔
سانول کی ساری خوشی خاک میں مل گئی۔ اسے میں نے اپنے گھر کا پانی تک پینے کی مہلت نہ دی۔ جن قدموں آیا تھا انہی قدموں دوڑتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ میں اسے پکارتی رہ گئی۔
اب احساس ہوا کہ عجلت میں یہ میں نے کیا کردیا۔ اسے سانس تولینے دیا ہوتا، آتے ہی یہ سب بتانے کی ضرورت کیا تھی۔ شاید میرا دل غم سے پھٹ رہا تھا کہ سانول کو دیکھتے ہی یہ دکھ اس کےدامن میں انڈیل دیا۔ بغیر سوچے سمجھے کہ اس پر کیا بیتے گی۔
آہ… میں ہاتھ ملنے لگی۔ اے کاش کچھ نہ بتاتی، بتانا ہی تھا تو اتنی جلد نہ بتاتی۔ اسے آرام تو کرنے دیتی۔ کتنے سالوں بعد گھر میں قدم رکھا تھا اس نے۔ مجھے دیکھنے کی جو تڑپ تھی ایک لمحے میں دم توڑ گئی۔ سانول کھیتوں کی طرف گیا تھا۔ میں اس کے پیچھے گئی۔ نگاہیں اس کے قدموں کے نشان تلاش کررہی تھیں۔
ایک درخت تلے دلاور چارپائی پر لیٹا تھا اور آنکھیں موندے آرام کررہا تھا۔ اسے خبر نہ تھی موت اس کے سر پر پہنچ چکی ہے۔ سانول نےللکارا۔ دلاور بدبخت اٹھ تو کیا سمجھا تھا میں جیل نہیں گیا پھانسی چڑ گیا ہوں ۔بے حیا… بھائی تو بہنوںکی عزتوں کے محافظ ہوتے ہیں ۔ان کے سر کے دوپٹے کی لاج رکھتے ہیں۔ سر سے دوپٹہ تو نہیں کھینچتے اور تونے زندہ دوست کی دوستی کا دامن داغ دار کردیا۔ ایسا کہتے ہوئے سانول نےخنجر نکالا اوراس کی طرف بڑھا تو وہ بولا ۔سانول میرے بھائی رک جا ہرگز وار نہ کرنا۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس دن میں نشے میں ضرور تھا مگر میری بہن کے ایک تھپڑ نے میرا نشہ ہرن کردیا تھا۔
تو کیا نیلم جھوٹ کہتی ہے۔ کیا ضرورت ہے اسے اس قسم کا جھوٹ بولنے کی ۔ وہ بھی اپنے محسن کے بارے میں تہمت لگانے کے لئے۔ ابھی وہ یہ بات کررہے تھے کہ میں وہاں پہنچ گئی۔
نیلم ، کیا تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے، اگر لگائی ہے تو کیوں…؟ وضاحت دے مجھے اس بات کی ابھی اور اسی وقت، وضاحت چاہئے۔ میں نے جھوٹی تہمت نہیں لگائی سانول۔ اس سے قسم اٹھوالے۔ کیا اس نے میری طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تھا اور میں نے جواب میں اس کے منہ پر تھپڑ نہیں مارا تھا؟ کیا اب بھی یہ بے قصور ہے۔ بس اتنا ہی کافی تھا سانول کے لئے۔ میرے یہ بول سن کر اس کے بازوئوں میں بجلی کی سی پھرتی آگئی ۔ میںاس کو نہ روک سکی۔ اس نے خنجر سے اتنے وار کئے کہ دلاور بےجان ہو کر زمین پر گرگیا۔ یہ خنجر اس نےاپنے ہم سایے شمسو کی دکان سے اٹھالیا تھا۔ وہ بھی اس کے پیچھے چار بندے لے کر آگیا کیونکہ اکیلے آنے سے اسے خوف آرہا تھا۔
سانول کو قتل کی سزا میں پھر جیل ہوگئی۔ اس بار عمرقید کی سزا ملی ۔ایک طویل عمر پھر سے آہنی سلاخوں کے پیچھے گزار کر جب وہ واپس آیا تو میں اس کے انتظار میں بوڑھی ہوچکی تھی۔ وہ بھی کالے یرقان میں مبتلا ہوکر آیا تھا۔ صرف دو ماہ زندہ رہ سکا۔ اس کی تو سزا ختم ہوگئی مگر میں آج تک اپنی نادانی کی سزا کاٹ رہی ہوں۔ کوئی اولاد نہیں ہے۔فالج کی وجہ سے معذور زندگی کے دن گن رہی ہوں اور مرنے کی تمنا میں سسک رہی ہوں۔ اللہ مجھ سی دردناک زندگی کسی کو نہ دے۔ اے کاش میں زبان بند رکھتی۔
(ن۔ فیصل آباد)

Latest Posts

Related POSTS