Aise Bhe Hote Hain Bhai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

3608
حسنہ کی ماں گھر میں اکیلی تھی اور بیمار تھی، اسے پانی دینے والا بھی کوئی نہ تھا، جبکہ فہد کئی دنوں سے نہیں آیا تھا۔ صبح بغیر ناشتہ کئے گھر سے نکلی تھی۔ حسب معمول اس کا سوکھا منہ دیکھ کر آج بھی میں نے کالج کی کینٹین سے اسے ناشتہ کرایا۔ تمام وقت وہ کھوئی کھوئی رہی۔ سمجھ گئی حسنہ کو کوئی نئی پریشانی لاحق ہے، تاہم اس نے مجھے اپنی پریشانی سے آگاہ نہ کیا۔ کالج سے واپسی پر ہم ساتھ جاتی تھیں، محلّہ ایک ہی تھا۔ پہلے اس کا گھر آ جاتا۔ آج مجھے خدا حافظ کہتے ہوئے حسنہ نے کہا۔ فائزہ میں تمہارے بھائی کو ٹیوشن پڑھانے نہیں آ سکوں گی، امّی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ کئی روز سے نہ آنے کا کہہ کر شرمندہ ہوں۔ کیا کروں مجبوری ہے۔ کوئی بات نہیں…حسنہ تم پہلے اپنی ماں کا خیال کرو، باقی باتیں بعد کی ہیں۔ وہ اپنے گھر چلی گئی اور میں سوچتی رہ گئی۔ آخر ایسا کب تک؟ بیچاری حسنہ کی بھی کوئی زندگی ہے۔ یہ کوئی سعد گھڑی نہ تھی، جوں ہی وہ گھر میں داخل ہوئی، ایک بری خبر اس کی منتظر تھی۔ اس کی ماں نیم مردہ سی لیٹی تھی۔ بیٹی کو دیکھا تو بے قراری سے اٹھ بیٹھی۔ اس سے پہلے کہ لب کھولتی حسنہ نے سوال کیا۔
آج بھی تیرا بیٹا نہیں آیا…؟ کوئی مسئلہ نہیں۔ ماں یہ اس کا معمول ہے، کیوں اس کے انتظار میں بے قرار ہوتی ہو، پریشان مت ہو، آ جائے گا۔ یہ بات نہیں ہے، واقعہ کچھ اور ہے۔ آج ہمارے در پر پولیس والے آئے تھے، وہ تیرے بھائی کا پوچھ رہے تھے، بس تب ہی سے مجھے ہول اٹھ رہے ہیں۔ ماں کی بات سن کر وہ بھی بے دم سی ہو کر چارپائی پر ڈھے گئی۔
کچھ دن پہلے ہی تو وہ ایک سیٹھ کے پاس ملازم ہوا تھا، تب ہی سے گھر میں کم آتا تھا۔ نہ جانے کیسی ملازمت تھی اس کی، تنخواہ کا پتا تھا اور نہ کام کا؟ ماں اور بہن نے پوچھا تو جواب دیا۔ تنخواہ تین ماہ بعد ملے گی۔ اس سے آپ کو کیا غرض، میں جو بھی کروں، آپ کو تو پیسے چاہئیں… مل جائیں گے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ پڑوس سے خالہ چمن آ گئیں۔ وہ دبے لفظوں یہ بتانے آئی تھیں کہ تمہارا لڑکا کوئی غلط کام کرتا ہے، تب ہی پولیس ڈھونڈ رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لئے۔ ابھی تھوڑی سی بات بتائی تھی کہ ماں نے خالہ چمن کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ خوفزدہ ہو کر خاموش ہوگئیں، لیکن ایک ادھورے جملے سے ہی حسنہ سمجھ گئی کہ وہ کیا بتانے آئی تھیں۔
خدا کرے یہ خبر غلط ہو، وہ پہلے ہی کالج سے پریشان ہو کر آئی تھی۔ آتے ہی اس عجیب سی صورتحال سے دل ڈوب گیا۔ ماں کو احساس ہوا کہ بیٹے کی چنتا میں بیٹی کے بارے سوچا ہی نہیں جو صبح بغیر کچھ کھائے کالج گئی تھی اور اب ذرا دیر بعد اسے ٹیوشن پڑھانے جانا تھا۔
کچھ کھا لو بیٹی، صبح سے بھوکی ہو۔ بھوک مر چکی ہے ماں۔ یہ کہہ کر وہ کچن میں چلی گئی۔ ماں کی خاطر صبح اس نے ناشتے میں جو تھوڑا سا دلیہ بنا کر رکھا تھا، وہ ابھی تک ویسے ہی دھرا تھا۔ گویا ماں نے بھی کچھ نہ کھایا تھا۔ اس نے جلدی سے ایک کپ دودھ ڈال کر دلیہ گرم کیا اور پیالے میں ڈال کر ماں کے سامنے رکھا اور کہا۔ اسے کھا لو ماں، تم بھی سویرے سے یوں ہی پڑی ہو، اسے کھایا کیوں نہیں؟
دلیے سے جی بھر گیا ہے، اب تو ایک چمچہ بھی حلق سے نہیں اترتا۔ وہ جلدی سے مڑی اور چاول پکانے لگی۔ دو، چار لقمے زبردستی ماں کو کھلائے کیونکہ دوا کا وقت ہوگیا تھا۔ چاول کھا کر ماں لیٹ گئی اور وہ کپڑے بدلنے چلی گئی۔ چند منٹ گزرے تھے کہ در پر دستک سنائی دی۔ وہ فہد کا انتظار کر رہی تھی، جو ہفتے بھر سے گھر نہ لوٹا تھا۔ وہ سمجھی کہ بھائی آ گیا ہے، دوڑ کر گئی مگر یہ فہد نہ تھا۔ سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا۔ آپ کون…بے اختیار حسنہ کے منہ سے نکلا۔
میں احسان صاحب کا ڈرائیور ہوں۔ اس نے گاڑی میں بیٹھے شخص کی طرف دیکھ کر کہا۔ یہ آپ کے بھائی کے بارے میں بتانے آئے ہیں۔ فہد آپ کا بھائی ہے نا؟
جی…اس نے دل تھام لیا۔ پھر سیٹھ کی جانب دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ حسنہ کی جھلک دیکھ کر گاڑی سے اتر کر آ گیا۔ فہد سے آپ کا کیا رشتہ ہے؟
وہ بھائی ہے میرا۔ تمہارا بھائی گرفتار ہوگیا ہے۔ وہ جیل میں ہے لیکن تم فکر مت کرو، میں اس کی ضمانت کروا دوں گا۔ اپنی والدہ سے کہنا کہ وہ اسے سمجھا دیں، آئندہ میں ذمے دار نہ ہوں گا۔ سیٹھ
نے جیب سے بٹوا نکالا اور نوٹوں کی گڈّی آگے بڑھا کر بولا۔ یہ فہد کی تنخواہ ہے، اس نے بھجوائی ہے۔ حسنہ نے ہاتھ آگے بڑھا کر رقم لی اور ماں کو نوٹ دے کر ساری بات بتائی۔ ماں رونے لگی اور بولی۔ ایسی تنخواہ نہ ملتی تو اچھا تھا، جس کے کارن بیٹا جیل چلا گیا۔
ماں کیسی بات کرتی ہیں، تنخواہ کا جیل جانے سے کیا تعلق…؟ تعلق ہے، ورنہ یہ سیٹھ خود ہمارے دروازے پر نہ آتا۔ آئندہ تم در پر مت جایا کرو، میں خود جائوں گی۔
ماں تمہیں اٹھنے میں دقّت نہ ہو اس لئے میں چلی گئی، کیا ہوا، پہلے بھی تو جاتی رہی ہوں۔ ہاں مگر اب نہ جانا۔ ماں تم بھی کتنی وہمی ہو، ہر دم اندیشوں میں ڈوبی رہتی ہو۔ تو ان باتوں کو نہیں سمجھتی۔ تو نے اس اجنبی سے بات کیوںکی اور رقم بھی لے لی، مجھے کیوں نہ بلا لیا؟ ماں کیوں نہ لیتی؟ آخر بھائی کی تنخواہ لایا تھا وہ۔ فہد نے تین ماہ اس کی نوکری کی ہے۔ کیا ہمیں رقم کی ضرورت نہیں ہے؟ یہ میرے بھائی کی محنت کی کمائی ہے۔
ماں کے اندیشے درست تھے، وہ جہاں دیدہ خاتون تھیں، ایک جوان بیٹی کی ماں تھیں، جانتی تھیں کہ لوگ کسی جواں سال سراپے سے کیسی خواہشات وابستہ کر لیتے ہیں۔ حسنہ نادان تھی۔ وہ سیٹھ کے سنجیدہ چہرے میں چھپی شیطانی مسکراہٹ نہ دیکھ سکی تھی۔
دو دن ان ماں، بیٹی پر قیامت کے گزرے۔ حسنہ کالج بھی نہیں آئی۔ میں اس کے لئے کافی پریشان تھی۔ تیسرے دن اس کا پتا کرنے گئی۔ ابھی وہاں بیٹھی تھی کہ اس کا بھائی آ گیا۔ یہ اس کے لئے جتنا پریشان تھیں، وہ نہیں تھا۔ وہ ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا جیسے جیل سے نہیں کہیں سے سیر و تفریح کر کے آ رہا ہو۔ ماں، بیٹی کی تو رو رو کر آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں اور وہ کھلکھلا کر ہنس رہا تھا۔ یا اللہ کیا ماجرا ہے؟ابھی میں ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ اس نے ماں سے کہا۔ماں ہمارے نصیب جاگ اٹھے ہیں، سیٹھ نے حسنہ کو پسند کر لیا ہے۔
کیا بک رہا ہے بے شرم۔ بہن کے بارے میں ایسی بات کہتے تجھے شرم نہیں آئی۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ماں۔ اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ جس گھر میں لڑکیاں ہوں وہاں رشتے تو آتے ہیں۔ اگر سیٹھ نے حسنہ کا رشتہ مانگ لیا ہے تو کونسی انوکھی بات ہے؟
تیرا کیا خیال ہے… کیا ساٹھ سالہ بڈھے سے رشتہ کرلیں۔ یہ بڈھا ہی رہ گیا ہے، میری بیٹی کے لئے۔ کیا عیب ہے ہماری حسنہ میں؟ عیب ہوتا بھی تو اس بڈھے سے تو کبھی نہ بیاہتی۔ ہم کتنے غریب ہیں امّی،کیا آپ یہ بھول گئی ہیں۔ غربت عیب ہے … ہاں غربت عیب ہے۔ فہد نے کہا…جب تک ہم غریب ہیں عیب دار رہیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ سیٹھ کا رشتہ منظور کر لیں اور اس عیب سے جان چھڑا لیں۔ بہت امیر آدمی ہے، دولت سے ہمارا گھر بھر دے گا۔ میری بھی تقدیر بدل جائے گی۔ ہاں پھر تجھے کمانے کی فکر نہ رہے گی، یہی چاہتا ہے نا تو…؟
ماں، بیٹے کی باتیں سن کر دکھ سے رونے لگیں۔ میں اور حسنہ باورچی خانے میں تھیں۔ وہ چائے بنا رہی تھی، ماں کے رونے پر وہ ان دونوں کے درمیان پہنچ گئی۔ چپ ہو جائیں…اس میں رونے کی کیا بات ہے؟بھائی کو دولت چاہئے۔ میری وجہ سے خوشیاں ملتی ہیں تو حاصل کر لینے دیں اسے خوشیاں۔ یہ سب ڈھونگ ہے…بیٹی ایسے لوگ ہم جیسے غریبوں سے رشتے ناتے نہیں کرتے۔ سیٹھ نے اسے بیوقوف بنایا ہے۔ وہ ہماری مجبوریاں خریدنا چاہتا ہے۔ ہمارا اس کا کوئی جوڑ نہیں۔
ماں تم کتنی وہمی ہو، ہماری تکلیفوں کا کوئی احساس نہیں ہے۔ گھر آئی دولت کو ٹھکرانا کہاں کی عقلمندی ہے۔ بوڑھے سے بیٹی کا نصیب پھوڑ دوں تمہاری خوشی کی خاطر؟ اس میں میری کیا خوشی ہے ماں، اپنے حالات بھی تو دیکھیں۔ حسنہ کے اچھے مستقبل کے لئے …ہم پر ترس کھائیں۔ میں ان جیسے سیٹھوں کی کب تک غلامی کروں گا۔ اس کی آواز گلوگیر ہوگئی۔ آپ کو کیا بتائوں کہ کیسے کیسے کام ان کی خاطر کرنے پڑتے ہیں۔
جو بھی کرو بیٹے مگر مجھے تم سے ہرگز یہ امید نہیں تھی کہ تم دولت کے لالچ میں اپنی بہن کی نیلامی کرو گے۔ پیسوں کی ضرورت نے تمہیں انسانیت سے گرا دیا ہے۔ یقین کرو میری بات کا…یہ شادی نہیں ڈھونگ ہوگا، میں نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے۔ ان کی باتیں سن کر میں حیرت زدہ تھی۔ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ کوئی بھائی اپنے مفاد کی خاطر اس قدر گرسکتا ہے؟وہ بہن کی شادی ایک بوڑھے دولت مند سے صرف روپے کی خاطر کرنا چاہتا تھا۔
حسنہ بت کی طرح ساکت کھڑی ماں، بیٹے